یوم سقوط جونا گڑھ

(Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)
قیام پاکستان کے وقت جوناگڑھ کے نواب مہابت خانجی نے 15 اگست 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کااعلان کیااوراس ضمن میں معاہدے پردستخط کیے، اس دستاویزپرقائداعظم کے بھی دستخط ہیں تاہم بھارتی فوج نے اس پرقبضہ کرلیا۔ آج اس کے تسلط کو 69 برس ہوگئے ہیں اور اس ضمن میں قرارداد سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں اب بھی موجود ہے، پاکستان کشمیر کی طرح یہ معاملہ بھی عالمی سطح پراٹھائے جبکہ اقوام متحدہ بھارتی تسلط ختم کرائے۔ نواب مہابت خانجی نے الحاق کے وقت دفاع ،خارجہ اور مواصلات کے شعبے پاکستان کے حوالے کیے تھے
ریاست جوناگڑھ جو چار ہزار میل پر مشتمل ہے۔ یہ سمندر کے راستہ کراچی سے صرف دو سو میل کے دوری پر ہے۔ تقسیم ہند کے وقت یہاں نواب مہابت خانجی کی حکومت تھی۔ انہوں نے 15 ستمبر 1947 کو پاکستان کیساتھ الحاق کے دستاویز پر دستخط کئے لیکن ہندوستان نے اس الحاق پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ جب نواب مہابت خانجی کراچی گئے تو ہندوستان نے 9 نومبر 1947کو جوناگڑھ میں فوجیں داخل کردیں اور بزور طاقت جوناگڑھ کو اپنی عملداری میں داخل کرلیا۔جوناگڑھ پر ہندوستانی تسلط کے 69 برس پورے ہو گئے لیکن کراچی میں مقیم جوناگڑھی عوام اس جبر و تسلط کو بھول نہ سکے۔ نواب مہابت خانجی کے پوتے نواب جہانگیر خانجی اب بھی جوناگڑھ کی آزادی کیلئے کوشاں ہیں۔ ہندوستان جب دو قومی نظریہ کی بنیاد پر دو واضح حصوں میں تقسیم ہوا تو قانون آزادی ہند 1947کی رو سے ہندوستان کی مقامی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جغرافیائی حیثیت اور عوامی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں۔ تقسیم کے وقت ہندوستان 582 ریاستوں پر مشتمل تھا، جن میں سے محض 14 ریاستیں پاکستان سے متصل تھیں۔ اس بنا پر ریاستوں کے الحاق کا مسئلہ ہندوستان کیلئے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ سرحدوں کی حد بندی کے دوران ایک طرف برطانوی ماہر قانون سر ریڈ کلف نے انتہائی جانب داری سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بد دیانتی کا مظاہرہ کیا، تو دوسری طرف ہندوستان نے بھی ریاستوں کے الحاق میں نت نئے مسائل کو جنم دیا۔کہا جاتا ہے کہ جنوبی ہند کی دو بڑی ریاستوں ٹراونکور اور حیدر آباد دکن نے خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا لیکن ہندوستان نے قانون آزادی ہند 1947کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ان ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔مزید یہ کہ جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور کشمیر کی ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا لیکن ہندوستانی سرکار ان فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوئی۔

قیام پاکستان کے وقت جوناگڑھ کے نواب مہابت خانجی نے 15 اگست 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کااعلان کیااوراس ضمن میں معاہدے پردستخط کیے، اس دستاویزپرقائداعظم کے بھی دستخط ہیں تاہم بھارتی فوج نے اس پرقبضہ کرلیا۔ آج اس کے تسلط کو 69 برس ہوگئے ہیں اور اس ضمن میں قرارداد سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں اب بھی موجود ہے، پاکستان کشمیر کی طرح یہ معاملہ بھی عالمی سطح پراٹھائے جبکہ اقوام متحدہ بھارتی تسلط ختم کرائے۔ نواب مہابت خانجی نے الحاق کے وقت دفاع ،خارجہ اور مواصلات کے شعبے پاکستان کے حوالے کیے تھے، حکومت پاکستان نے نواب مہابت اور دلاورخانجی کے انتقال کے بعد نواب جہانگیر خانجی کو اگلا نواب تسلیم کیا۔

جونا گڑھ کے موجودہ نواب جہانگیر خانجی نے 2010 میں پاکستان کی وزارت خارجہ کو خط لکھا،جس کے جواب میں اس نے واضح کیاکہ ہم جوناگڑھ کومقبوضہ ریاست گردانتے ہیں اور اس مقدمے کی حمایت کرتے ہیں۔ 1972 کے صدارتی آرڈرمیں قیام پاکستان کے وقت موجود تمام ریاستوں کے حکمرانوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیالیکن جوناگڑھ کا مقدمہ مختلف ہے کیونکہ دیگر ریاستوں کی طرح اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہیں ہوسکا حالانکہ وہ آئینی طور پراس کاحصہ ہے جبکہ حکومت ہمیں جو وظیفہ دے رہی ہے وہ شرم ناک ہے۔آج جونا گڑھ پر بھارتی تسلط اور ناجائز قبضے کو 69 سال ہوچکے لیکن کراچی میں مقیم جونا گڑھی عوام بھارتی جبر و تسلط کو آج بھی فراموش نا کرسکے ان کا زخم آج بھی تازہ ہے ۔ پہلے پہل جونا گڑھ پاکستان کے نقشے پر کشمیر کی طرح شامل تھا مگر اب نجانے کیوں اسے پاکستانی نقشے سے نکال دیا گیا ہے۔پہلے تعلیمی نصاب میں بھی اس کا ذکر ملتا تھا اب وہ بھی نہیں ہے۔ریاست جونا گڑھ کا معاملہ آغاز ہی سے سیاسی سردمہری کا شکار ہے۔ کشمیر کیلئے تحریک حریت پوری دنیا میں معروف ہے مگر جونا گڑھ کیلئے کوئی خاص اہتمام پاکستانی حکومتوں کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ریاست جونا گڑھ کے نواب مہابت خان کے بعد ان کے بیٹے اور اب پوتے نواب محمد جہانگیر خانجی تک ایک ایسی مرکزی شخصیت ہیں کہ وہ خود اکیلے ایک تحریک حریت کی طرح ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے استحقاق پر قائم ہیں اور جونا گڑھ کے الحاق کو ہی اپنی زندگی کا مقصد و منشاء سمجھتے ہیں۔ یہ معاملہ ان کی وجہ سے زندہ ہے۔ وہ جہاں ہوں جس محفل میں ہوں نواب آف جونا گڑھ کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 128 Articles with 80617 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
06 Nov, 2016 Views: 286

Comments

آپ کی رائے