اک کاروبار ہے اب یہ مسیحائی۔۔

(Shaista Abid, Lahore)
اب روایت قائم ہو چکی ہے کہ جب بھی کسی کے مطالبات نہ مانے جائیں تو سارے کام کاج چھوڑ کر کسی سڑک کا گھیراؤ کر کے بیٹھ جاؤ۔اس ڈگر پر اب سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مسیحا بھی چل نکلے ہیں۔سب سے باعزت سمجھا جانے والا ڈاکٹری کا یہ شعبہ بھی اب ایک کاروبار بن کر رہ گیا ہے۔اس پیشے سے منسلک ہوتے جانے والے ان نوجوانوں کواپنے پیشے کا لحاظ نہیں رہا ہے ۔ینگ ڈاکٹرز کی طبیعت میں وہ سنجیدگی اور لحاظ و احساس جو اس پیشے کا تقاضا ہے،اب بہت کم رہ گیاہے ۔ان ڈاکٹرز نے تو شہر شہر تہلکہ مچا رکھا ہے۔ان کے غیر سنجیدہ رویے علی اعلان کہتے ہیں کہ دھیان رہے ہمیں کسی قسم کا مسئلہ مت ہونے دیا جائے ورنہ بہت برے نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔اور اگرسچ کہا جائے تو ان کے علاج سے دل مطمئن نہیں ہوتا۔مریض کو دیکھنے آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان پر کوئی تجربہ کیا جا رہا ہے۔ان کے چہرے کے تاثرات میں مریض کے درد و تکلیف میں دلچسپی کے عنصر کی خاصی کمی محسوس ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ،ینگ ڈاکٹروں نے اس شعبے کو جیسے کاروبار بنا لیا ہے ۔ یہ بن مسیحائی،مسیحا ہیں۔خدارا مریضوں کی تکلیف کی شدت کا احساس کرتے ہوئے ان پر مرہم رکھیں ۔اپنے پروفیشن سے بے غرض لگاؤ پیدا کریں۔اپنے پروفیشن کے مرتبے کا کچھ خیال کیجئے۔ مریضوں کو احساس دلائیں کہ آپ کو ان کے درد کا احساس ہے اور آپ ان کی زندگی کے محافظ ہیں ۔آپ لوگ اس بات کو سراسر فراموش کرتے جا رہے ہیں کہ یہ تو ایک مقدس پیشہ ہے کہ جس کے لئے اﷲ نے آپ کو منتخب کیا ہے تا کہ آپ دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کر کے ان گنت نیکیاں سمیٹ سکیں۔یہ باعزت واعلی درجے کاپیشہ تو ذاتی مفاد سے منہ موڑکراجتماعی سطح پر اخلا ق و احساس بانٹنے کا درس دیتا ہے۔لا ابالی طبیعت کے ان جذباتی ینگ ڈاکٹرز سے مریضوں کی گزارش ہے کہ جیسے آپ کا بیمار عزیز آپ کو پیارا ہوتا ہے ویسے ہی ہم بھی کسی کے پیارے، اکلوتے یا واحد سہارا ہیں چنانچہ احساس میں اس کمی بیشی کے معیار سے بالاتر ہو کر سوچیے اور اپنے پروفیشن کو مذاق بننے سے بچا کر اصل مقصد و عمل کو پہچان کر آگے بڑھیے!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shaistabid

Read More Articles by shaistabid: 28 Articles with 14185 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2016 Views: 349

Comments

آپ کی رائے