گلستان جوہر میں پانی کی چوری۔۔۔ واٹر بورڈ ملوث؟

(Riaz Aajiz, Karachi)
گلستان جوہر میں ایک طویل عرصے سے پانی کی چوری جاری ہے جس کی وجہ سے گلستان جوہر بلاک 7سمیت دیگر بلاکس میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔پانی کی اس چوری میں واٹر بورڈ کے متعلقہ افسران اوروالو مین سمیت دیگر عملہ ملوث بتایا جاتا ہے۔ یہاں پانی ایک دن کے وقفے کی بعد سپلائی کیا جاتا ہے لیکن کچھ عرصے سے چار چار دن بعد کچھ دیر کے لئے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ پانی چوری ہو رہا ہے اور ٹینکر مافیا کے ذریعے فروخت کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں ٹینکر مافیا روز بروز مضبوط ہو رہی ہے اور شہر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہو تا دکھائی دے رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کراچی میں روزانہ لاکھوں روپے کے پانی کے ٹینکرز فروخت کئے جاتے ہیں۔ اگر موٹا موٹا حساب لگایا جائے تو ایک مہینے میں یہ رقم کروڑوں روپے میں بنتی ہے اور ایک سال میں یہ رقم اربوں روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔کراچی کے ہر علاقے میں واٹر بورڈ کے افسران ، ملازمین اور ٹینکرز مافیہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلائے جا رہے ہیں۔ جب بھی میڈیا اور عدالتوں کی وجہ سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلانے والوں پر دباؤ بڑھتا ہے تو یہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس کچھ عرصے کے لئے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شہر کے کچھ حصوں میں پانی کی چوری کم ہو جاتی ہے تاہم بہت سے ایسے علاقے بھی موجود ہیں کہ جہاں کے غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلانے والے اتنے طاقتور ہیں کہ وہ نہ تو میڈیا کی پروا کرتے ہیں اور نہ ہی عدالتی احکامات کو خاطر میں لاتے ہیں لہذا کراچی کے ان مخصوص علاقوں میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کھلے عام چلتے رہتے ہیں اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سمیت کوئی بھی ان کو کچھ کہنے کی جرات نہیں کرتا ۔ ظاہر ہے کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس چلانے والوں کی اس طاقت کی وجہ ان کی وہ دولت ہے جو انھوں نے اس غیر قانونی کاروبار سے کمائی ہے۔ یہ طاقت پولیس ، واٹر بورڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے منہ بند کرنے کے استعمال کی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اربوں روپے سالانہ کے اس غیر قانونی کاروبار میں سرکاری افسران، پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت میں شامل با اثر افراد اور وزراء تک ملوث رہے ہیں۔ جن علاقوں میں میڈیا یا عدالتی دباؤ کی وجہ سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس توڑ دیئے جاتے ہیں تو ان با اثر افراد کا اشارہ ملتے ہی یہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس دوبارہ تعمیر ہو جاتے ہیں اور پیسہ بنانے کی ان مشینوں کو دوبارہ فعال کر دیا جاتا ہے اور شہر میں پانی کی چوری کا یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ واٹربورڈ کے کرپٹ افسران اور عملہ اس پورے عمل کے پیچھے ہوتا ہے تاہم ان افسران اور عملے کے پاس ایسی جادو کی چھڑیاں ہیں کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائی کے وقت نا صرف یہ منظر سے مکمل طور پر غائب ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات سلمانی ٹوپی پہن کر اسی مقام پر موجود بھی ہوتے ہیں کہ جہاں غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے خلاف آپریشن ہو رہا ہوتا ہے لہذایہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو مسمار کروانے میں اپنا حصہ بھی ڈال رہے ہوتے ہیں تاہم کسی کو نظر نہیں آتے ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں واٹر ٹینکر کی مختلف قیمتیں ہیں ۔ گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں سنگل ٹینک اور ڈبل ٹینک والے ٹینکر کی قیمتیں ڈھائی ہزار سے چار ہزار روپے تک ہے جبکہ ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقوں میں یہ قیمتیں پانچ سے آٹھ ہزار وپے تک ہیں۔کراچی میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں واٹر ٹینکر موجود ہیں جو پوری کراچی کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس وقت کراچی میں غیر قانونی کاروباروں میں منشیات کے بعد سب سے زیادہ منافع بخش بزنس غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کو سمجھا جاتا ہے جس میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہوتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے گلستان جوہر کے بلاک 7میں پانی کی فراہمی معمول کے مطابق تھی اس کی وجہ چند ماہ قبل واٹر ٹینکر اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کیا گیا آپریشن تھا تاہم اب یہ مافیا دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے اور بھر پور طریقے سے ایک مرتبہ پھر ان بلاکوں کے حصہ کا پانی چوری کر کے فروخت کئے جانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے ۔ اس چوری میں واٹر بورڈ کا عملہ ملوث ہے۔ چوری کے نتیجے میں گلستان جوہر بلاک 7سمیت متعدد بلاکوں کے مکینوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور انھیں اپنے ہی حصہ کا چوری شدہ پانی خرید کر استعمال کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہاں ایک مرتبہ پھر ٹینکر مافیا کی چاندی ہے اور بے چارے کراچی کے شہری ان طاقتور جنوں کے سامنے بالکل بے بس۔ نئے میئر کراچی وسیم اختر صاحب نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیاہے۔ اگرچہ واٹر بورڈ کو حکومت سندھ نے ایک الگ ادارہ بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود ان سے کراچی کے عوام اور خاص طور پر گلستان جوہر کے لوگوں کی اپیل ہے کہ وہ اس معاملے پر ایکشن لیں اور یہاں کے مکینوں کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح اس شہر کے بلدیاتی ادارے اور نئے میئر کراچی اپنی موجودگی کا کچھ تو ثبوت دیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40709 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2016 Views: 410

Comments

آپ کی رائے