"سماع موتی"مقتولین بدر سے خطاب اور اقوال آئمہ شارحین

(syed imaad ul deen, samandri)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین بدر کو تین دن تک پڑے رہنے دیا، پھر آپ ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے اور ان کو پکار کر فرمایا اے ابوجہل بن ہشام ! اے امیہ بن خلف، اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن ربیعہ ! کیا تم نے اپنے رب کے کیے ہوئے وعدہ کو سچا پا لیا، بیشک میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا میں نے اس کو سچا پایا ہے، حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کو سن کر عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ کیسے سنیں گے اور کس طرح جواب دیں گے حالانکہ یہ مردہ اجسام ہیں، آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، لیکن یہ جواب دینے پر قادر نہیں ہیں، پھر آپ کے حکم سے ان کی لاشوں کو گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ (صحیح مسلم صفۃ الجنۃ 77 (2874) 7090)

1۔علامہ ابوالعباس احمد بن عمر القربطنی المالکی الموفی 656 ھ لکھتے ہیں :

چونکہ عادتاً مردوں سے کلام نہیں کیا جاتا تھا اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مردوں سے کلام کرنے کو مستبعد جانا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا یہ جواب دیا کہ وہ زندوں کی طرح آپ کے کلام کو سن رہے ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے سننے کی یہ صفت دائمی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی یہ صفت بعض اوقات میں ہو (المفہم ج 7، ص 151، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

2۔ علامہ ابی مالکی متوفی 828 ھ نے قاضی عیاض مالکی سے اس حدیث کی یہ شرح نقل کی ہے :
جس طرح عذاب قبر اور قبر کے سوال و جواب کی احادیث سے مردوں کا سننا ثابت ہے اس طرح ان کا سننا بھی ثابت ہے، اور یہ اس طرح ہوسکتا ہے ان کے جسم یا جسم کے کسی جز کی طرف روح کو لوٹا دیا جائے، علامہ ابی مالکی فرماتے ہیں جو شخص یہ دعوی کرے کہ بغیر روح کے لوٹائے ہوئے جسم سن لیتا ہے، اس کا یہ دعوی بداہت کے خلاف ہے۔ اور شاید جو لوگ سماع موتی کے منکر ہیں ان کی یہی مراد ہو کہ روح کو لوٹائے بغیر جسم نہیں سن سکتا اور جو اس کے قائل ہیں وہ اعادہ روح کے ساتھ سماع کے قائل ہیں اور اس صورت میں یہ اختلاف اٹھ جاتا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج 7، ص 322، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

3۔علامہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی الحسینی المتوفی 895 ھ لکھتے ہیں :
اگر علامہ ابی کی روح سے مراد حیات ہے تو پھر تو واضح ہے کہ بغیر حیات کے جسم کے سننے کا دعوی کرنا بداہت کے خلاف ہے اور اگر روح سے وہ متعارف معنی مراد ہے جس کا جسم میں حلول ہوتا ہے اور جس کے نکلنے سے جسم مردہ ہوجاتا ہے اور جسم میں اس کے حلول کی وجہ سے جسم عادتاً زندہ ہوتا ہے تو پھر یہ لازم نہیں ہے کہ اگر روح کو جسم میں نہ لوٹایا جائے، تو جسم نہ سن سکے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم میں روح کو لوٹائے بغیر اس میں حیات پیدا کردے اور سماعت کا ادراک پیدا کردے۔ (اکمال اکمال المعلم ج 7، ص 322، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

4۔علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں :
علامہ مازری نے کہا اس حدیث سے بعض لوگوں نے سماع موتی (مردوں کے سننے پر) استدلال کیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ اس حدیث سے عام حکم ثابت نہیں ہوتا یہ صرف مقتولین بدر کے ساتھ خاص ہے، قاضی عیاض مالکی نے ان کا رد کرتے ہوئے لکھا جن احادیث سے عذاب قبر اور قبر میں سوالات اور جوابات ثابت ہیں اور ان سے سماع موتی ثابت ہوتا ہے اور ان کی کوئی تاویل نہیں ہوسکتی، اسی طرح اس حدیث سے بھی سماع موتی ثابت ہے دونوں کا ایک محمل ہے، اور یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کردیا ہو یا ان کے جسم کے کسی ایک عضو میں حیات پیدا کردی ہو اور جس وقت اللہ ان میں سماعت پیدا کرنا چاہے وہ سن لیتے ہوں، یہ قاضی عیاض کا کلام ہے اور یہی مختار ہے اور جن احادیث میں اصحاب قبور کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا بھی یہی تقاضا ہے۔ (صحیح مسلم بشر النووی ج 11، ص 7091، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

5۔علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :
یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ موت عدم محض اور فناء صرف نہیں ہے بلکہ موت روح کے بدن سے منقطع ہونے اور اس کی بدن سے مفارقت کا نام ہے اور وہ ایک حال سے دوسرے حال میں اور ایک دار سے دوسرے دار میں میں منتقل ہونا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 338، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)
علامہ ابو عبداللہ قرطبی نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے :
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بندہ کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اصحاب پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کی جوتیوں کے چلنے کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کے بعد قبر میں سوال و جواب کا ذکر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1338، 1374 ۔ صحیح مسلم کتاب الجنۃ : 71 (2870) ۔ سنن النسائی، رقم الحدیث : 2048)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed imaad ul deen

Read More Articles by syed imaad ul deen: 144 Articles with 157695 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Nov, 2016 Views: 599

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ