غلامی کے آثار ۔۔

(Shafqat Ullah, )
ہاتھی کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اسے ایک زنجیر کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے وہ بہت زور لگاتا ہے بہت کوشش کرتا ہے لیکن اس زنجیر کو توڑ نہیں سکتا کچھ دنوں بعد جب وہ اس بار ہا کوشش میں مسلسل ناکام رہتا ہے تو وہ زنجیر توڑنے کو ترک کر دیتا ہے اور اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لیتا ہے کہ یہ زنجیر کبھی نہیں ٹوٹنے والی ۔جب وہ بڑا ہو کر مکمل طاقتور ہاتھی بن جاتا ہے تب بھی اسے اسی زنجیر سے باندھا جاتا ہے اسوقت وہ زنجیر اسکی طاقت کے مقابلے میں بہت کمزور ہوتی ہے جسے وہ با آسانی توڑ سکتا ہے لیکن اس کے ذہن میں بیٹھی بچپن کی بات اسے کوشش کرنے پر مجبور نہیں کرتی اور وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ یہ زنجیر نہیں ٹوٹے گی کیونکہ وہ ذہنی طور پر غلامی کو قبول کر چکا ہوتا ہے ۔ہمارا حال بھی اس ہاتھی سے کچھ مختلف نہیں انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے ستر سال گزر چکے ہیں ایٹمی پاور ہونے کے باوجود ذہنی طور پر ہم اب بھی انگریزوں کے غلام ہیں اور اس غلامی سے چھٹکارانہ پانے کیلئے کبھی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ہمارے قانون ،آئین اور تعلیمی نصاب پر انگریزوں کی گہری چھاپ ابھی تک قائم ہے جو کبھی مٹتی ہوئی نظر نہیں آتی جسکی سب سے بڑی مثال اردو پر انگریزی زبان کو ترجیح دینا ہے ۔ لسانیت زندگی میں ایک اکائی کی حیثیت کی حامل ہے اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق ذہنی ارتقاء سے ہے ۔جب انسان ایک زبان پر عبور حاصل کر لیتا ہے تو اس کیلئے اسی لسانی دائرہ کار میں محدود رہتے ہوئے تمام علوم و فنون تک رسائی بہت آسان ہو جاتی ہے اور وہ ترقی کی وہ منازل طے کر جاتا ہے جو کوئی اور نہیں کرسکتا ۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو کئی ریاستیں لسانیت کی بنیاد پر آباد ہوئیں اور کتنی ہی نیست و نابود ہوئیں اور کتنی ثقافتیں اپنا وجود صرف اسی لئے برقرار نہ رکھ سکیں کیونکہ ان کی زبان کو اپنایا نہ گیااور فروغ نہ دیا گیا ۔زیادہ دور نہ جائیں بیسویں صدی کے نصف سے سے زیادہ کے مرحلے کے دوران ایک معرض وجود میں آنے والی ریاست کے دو ٹکڑے ہو گئے اور مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہو گئی اگر اس علیحدگی کے پس منظر میں وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زبانی تعصب اس میں ایک بڑی وجہ تھی اور آج بھی اسی ریاست میں لسانی تعصب کو ہوا دے کر سیاست میں قدم جمائے جاتے ہیں ۔مسئلہ کشمیر بھی کافی حد تک لسانی فراق کی وجہ سے حل ہونے کا نام نہیں لے رہا بانی پاکستان اور بابائے قوم محترم محمد علی جناح قائد اعظم ؒ نے دور اندیشی سے ہی ہمارے ملک پاکستان کی قومی و سرکاری زبان کو اردو قرار دیا تھا حالانکہ پاکستان کا قومی ترانہ فارسی زبان میں لکھا گیا لیکن وہ ہمیں اجنبی اور سمجھ سے بالا تر اس لئے محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اردو ایک لشکری زبان ہے اور اس میں سنسکرت ،فارسی ،عربی اور دیگر ایسی زبانیں زم ہو گئیں ہیں ۔اگر ہم دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اور شرح خواندگی میں کافی حد تک بلندپایہ کے حامل ممالک کا جائزہ لیں تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی ترقی کا راز کیا ہے !مغربی ممالک اس لئے ہم سے زیادہ ترقی یافتہ اور کامیاب ہیں کیونکہ وہ باقی زبانیں تو سیکھتے ہیں لیکن ان کا نصاب تعلیم صرف انکی اپنی قومی زبان میں ہے جو انہیں اچھی طرح سمجھ بھی آتا ہے اور پڑھ کر عمل کرنا بھی آسان ہے ۔عرب ممالک سعودیہ عرب ،دبئی ،قطر ،ابو ظہبی ،کویت ،مسقت اور دیگر اسی لئے مستحکم ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنی زبان کے فروغ کیلئے کام کیا اور اسی لسان میں سیکھا ہے انہوں نے شریعی قوانین کے نفاذ کو اوّلین ترجیح دیتے ہوئے اپنے ملکوں میں رائج کیا اور مغربی ثقافت کو اتنا ترقی یافتہ ہونے کے باوجود پنپنے نہیں دیا یہی وجہ ہے کہ وہاں آج بھی شریعت محمدی کی بالا دستی قائم ہے ۔دبئی کو آزاد ریاست کی حیثیت سے وجود میں آئے چند سال ہی گزرے ہیں لیکن وہ ہمارے ملک کی نسبت کئی گنا معاشی طور پر مستحکم ہے چین آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے بڑا ملک ہے اور اسی بدولت اسے بہت سارے عوامی چیلنجز کا سامنا بھی رہتا ہے لیکن اس کے باوجود اس وقت دنیا میں ترقی یافتہ ممالک میں سرفہرست ہے یہاں تک کہ امریکہ جو اس وقت سپر پاور ہے نے بھی اس کا قرض دینا ہے !اسکی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ وہاں کا نصاب تعلیم ،قانون اور آئین سبھی ان کی قومی زبان میں ہیں جس پر مغربی ثقافت کا کوئی اثر نہیں ہے ۔آج تک کبھی ایسا ہوا کہ کوئی مغربی ملک کا ذمہ دار سیاستدان یا بیوروکریٹ کسی ملک میں گیا ہو اور اسنے وہاں اسی ملک کی زبان میں لوگوں سے بات چیت کی ہو ؟اسی طرح آپکو کبھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملے گا کہ کوئی عربی شہزادہ کسی مغربی ملک میں جائے اور وہ وہاں انکی زبا ن میں بات چیت کرے یا عوام سے گویا ہوا ہو !لیکن حیف اس بات کا ہے کہ پاکستان میں انگریزی زبان کو اس قدر ترجیح دی گئی کہ نہ صرف نصاب تعلیم بلکہ آئین و قوانین بھی انگریزی زبان میں ہیں جسکی وجہ سے پاکستانی انگریزی زبان سیکھنے پر مجبور ہیں اور زبان سیکھتے سیکھتے انگریزی ثقافت کی طرف بھی مائل ہو گئے اور آج ان نو جوانوں کیلئے مغرب سے بڑھ کر کوئی ترقی یافتہ اور مہذب قوم نہیں ہے ۔لسانیت کے فرق کی وجہ سے ہی عوام بڑے پیمانے پر ثقافتی و مذہبی شعور اور آگہی سے بہت حد تک دور ہے اور آگہی کے نا ہونے کی وجہ سے ہی آج پاکستانی عوام بیچارگی اور مظلومیت ، بے بسی وبے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ہمارے حکمران جس ملک میں بھی جائیں انگریزی زبان میں خطاب کرتے دکھائی دیکھتے ہیں اور صرف حکمران ہی نہیں عوام بھی انگریزی زبان میں بات چیت کرنے کو اپنا فخر سمجھتی ہے ۔پاکستان میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے دورہ کیا اور پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب کیا لیکن یہاں حیران کن بات یہ تھی کہ انہوں نے اردو پارلیمنٹ سے ترکش زبان میں خطاب کیا جس کیلئے ایک الگ سے مترجم موجود تھا اس خطاب میں سیکھنے کیلئے تو بہت کچھ ملا لیکن سب سے بڑا سبق جو ہمیں سیکھنے کو ملا وہ یہ کہ انسان کی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں ہی کیوں نہ چلا جائے ۔اگر ہم دیگر زبانوں کو محض سیکھنے تک اور اردوزبان کو اپنا اصل و اسلوب جان لیں تو جو ستر فیصد قابلیت ملک میں ضائع ہو رہی ہے بہت حد تک کام آ سکتی ہے ۔ جو انجینئیرز ہمیں دوسرے ممالک سے بلوانے پڑتے ہیں اور ہمارے ملک میں جتنی بے روزگاری ہے انکی جگہ ہمارے اپنے لوگ کام آئیں گے ۔1867 میں جب اردو زبان اور اردو رسم الخط کو بر صغیر پاک و ہند سے ختم کر کے ہندی رسم الخط کو سرکاری قرار دئیے جانے پر جی توڑ کوششیں کی جا رہیں تھیں اس وقت سر سید احمد خان ہی تھے جنہوں نے ہندوؤں کے ناپاک ارادوں کو شکست دی اور اردو زبان کے وجود برقرار رکھا حالانکہ وہ اس وقت بھی انگریزی زبان میں اچھی طرح مہارت رکھتے تھے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 212 Articles with 90982 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
21 Nov, 2016 Views: 463

Comments

آپ کی رائے