کراچی: بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016ء

(عابد محمود عزام, Lahore)

کسی بھی قوم و ملک کی حفاظت و سلامتی کا دارومدار اس کے دفاعی نظام کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ دفاعی نظام جتنا مضبوط اور مستحکم ہوگا، اتنا ہی دنیا میں وقار بلند اور دوسرے ممالک کی نظر میں عزت ہوگی۔ جدید دفاعی نظام ہر ملک کا استحقاق ہے، اپنی سلامتی اور بقا کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار رہنا ہر ریاست کے لیے ضروری ہے، جبکہ پاکستان کو دوسرے ممالک کی بنسبت اندرونی و بیرونی زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ ایک طرف دشمن ممالک کے ایجنٹ پاکستان میں دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے بے گناہ لوگوں کا خون کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کشمیری عوام کے ہمت و حوصلہ کے سامنے بری طرح ناکام ہونے کے بعد جنگی جنون میں مبتلا بھارت کئی روز سے سرحد پر سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ کئی بار یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے جانے کے باوجود بھی بھارت مسلسل کشیدگی بڑھانے اور پاکستان کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت اسلحے کے ڈھیر لگائے جارہا ہے تاکہ کسی طرح پاکستان سے جنگ چھیڑ کر خطے کا امن برباد کیا جائے، ان حالات میں پاکستان کے لیے جدید اور مضبوط دفاعی نظام کی اہمیت و ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر کراچی ایکسپو سینٹر میں دفاعی ساز و سامان سے متعلق چار روزہ نویں بین الاقوامی نمائش آئیڈیاز 2016ء بھرپور طریقے سے جاری ہے، جس کا آغاز کل بروز منگل کو ہوا، جو 25 نومبر تک جاری رہے گی۔ یہ نمائش ہر دو سال کے بعد منعقد کی جاتی ہے، اس سے پہلے 2014ء میں کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش منعقد کی گئی تھی۔

9 ویں چار روزہ بین الاقوامی دفاعی نمائش و سیمینار (آئیڈیاز) 2016ء کا کراچی کے ایکسپو سینٹر میں آغاز ہوگیا۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اﷲ اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان کے ہمراہ آئیڈیاز 2016ء کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا۔ افتتاح کے بعد وزیر اعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام نے مختلف اسٹالز کو دورہ بھی کیا۔ اس نمائش میں 43 ممالک کے تقریباً 90 وفود شرکت کررہے ہیں، جبکہ اس نمائش کا انعقاد ڈیفنس ایکسپورٹ اینڈ پروموشن آرگنائزیشن کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اس سال آئیڈیا نمائش ’ہتھیار برائے امن‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی جارہی ہے۔ افتتاحی تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین، وزیر دفاع خواجہ آصف بھی شریک ہوئے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے شرکت کرنے والے غیر ملکی مندوبین کوخوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، دفاعی نمائش کے کامیاب انعقاد پرتمام متعلقہ اداروں اور افراد کو مبارکباد دیتا ہوں۔ نمائش میں غیرملکی وفود کی بڑی تعداد میں شرکت حوصلہ افزا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلحہ برائے امن کی پالیسی پر گامزن ہے، دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت ترقی کے مراحل تیزی سے طے کررہی ہے۔ آئیڈیاز 2016ء دفاعی صنعت کی نمایاں کامیابیوں کا ثبوت ہے۔ غیر ملکی وفود کی شرکت نے ہمارا حوصلہ مزید بڑھایا۔ قبل ازیں ڈی جی ڈیفنس ایکسپو میجر جنرل آغا مسعود اکرم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی سامان بنانے میں بتدریج بہتری لارہے ہیں۔ انہوں نے نمائش میں شرکت کرنے والے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں، وفود اور خصوصی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ 9ویں بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016کو ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن (DEPO)منعقد کررہی ہے۔ پاکستان کی تمام فورسسز کی حمایت اس 3نمائش کو حاصل ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (TDAP)کی نمائش کو مکمل تائید حاصل ہے۔ مذکورہ نمائش کا ایونٹ مینجر بدر ایکسپو سلوشن ہے۔ ان تمام کے ساتھ حکومت پاکستان ، دفاعی نمائش کے کامیاب انعقاد اور نتائج کے حصول کے لیے ساتھ ہے۔

اس سال آئیڈیا نمائش ’’ہتھیار برائے امن‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی جارہی ہے۔ نمائش میں 43 ممالک کے 90 وفود شرکت کررہے ہیں۔ مجموعی طور پر 261 غیرملکی اور 157 پاکستانی فرمز شریک ہوں گی، جب کہ 34 ممالک کی 418 فرمز نمائش میں اپنی مصنوعات پیش کریں گی۔نمائش میں 21 غیر ملکی، جبکہ 157 قومی کمپنیاں اپنے دفاعی مصنوعات پیش کررہی ہیں، جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ جے ایف 17 تھنڈر، کے 8 ایئرکرافٹ، الخالد ٹینک، فاسٹ اٹیک کرافٹ میزائل بوٹ اور دیگر دفاعی ساز و سامان پیش کیے جارہے ہیں۔ چار روزہ نمائش کے لیے ملکی اور غیر ملکی سامان حرب و ضرب سجا دیا گیا، جبکہ ترکی کے جدید طیارے اور ایئر ڈیفنس سسٹم بھی نمائش کو چار چاند لگا رہے ہیں اور روس کی تین کمپنیاں بھی جدید ترین اسلحے کے ساتھ موجود ہیں۔ نمائش میں پاکستان کے الخالد ٹینک، جے ایف 17 تھنڈر، سپر مشاق، کے 8 ائیر کرافٹ، فاسٹ اٹیک ائیر کرافٹ میزائل بوٹس، آرمرڈ پرسنل کیریئر اور ملٹری ہارڈویئرز بھی خریداروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ آئیڈیاز میں مجموعی طور پر 14 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے، جن میں پہلے دن چار، دوسرے روز تین، تیسرے روز چار جبکہ نمائش کے آخری دن تین مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ڈائریکٹرمیڈیا ڈیفنس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں منعقد کی جانے والی آئیڈیازنمائش کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی ملی ہے، جس کی وجہ سے اس بار نمائش میں مدعوکیے گئے فارن ڈیفنس ڈیلی گیشنزکامثبت جواب آیا ہے۔ ایکسپو سینٹر کی زیادہ تر جگہ مختلف ملکوں کی دفاعی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں نے حاصل کرلی ہے۔ ان ملکوں میں ترکی، چین، روس، شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، ایشیا، مشرق بعید وغیرہ شامل ہیں۔ اس بار ایکسپوسینٹرکے 8 ہالزمیں نمائش کی جارہی ہے، کیوں کہ گزشتہ نمائش کے مقابلے میں 9 ممالک زیادہ شرکت کررہے ہیں، جن میں لکسمبرگ، ڈنمارک، بیلاروس، پولینڈ، چیک ریپبلک، سوئٹزر لینڈ، بیلجیئم، نائیجیریا اور رومانیہ شامل ہیں۔

ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) نے کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی دفاعی نمائش و سیمینار 2016ء (آئیڈیاز 2016) کے موقعے پر اپنی نئی اور ’’پاکستان کی پہلی مقامی بکتر بند گاڑی (اے پی سی)‘‘ پیش کرنے کی تیاریاں بھی مکمل کرلی ہیں۔ اگرچہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے اپنی نئی اور ’’مکمل پاکستانی‘‘ بکتر بند گاڑی کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں دفاعی پیداوار کے حوالے سے خودکفالت اور خود مختاری کا ایک نیا دور شروع ہوگا، کیونکہ HIT کو بھاری دفاعی ساز و سامان بنانے میں مہارت حاصل ہے، جس میں ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ بکتر بند گاڑیوں کے ذیل میں HIT کو ’’ایم 113‘‘ فیملی کی اے پی سیز پر کام کا طویل تجربہ ہے۔ طلحہٰ، سعد، حمزہ اور سکب اے پی سیز اسی تجربے اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جنہیں عالمی معاہدوں کے تحت پاکستان میں تیار کیا جارہا ہے۔ خیال ہے کہ HIT کی مذکورہ نئی اے پی سی میں یہی تجربہ اور مہارت استعمال کیے جائیں گے۔ آئی ایچ ایس جینز نے جون 2016ء میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستان میں دفاعی پیداواری فنڈ کا نمایاں حصہ ایک نئی مقامی بکتر بند گاڑی کی تیاری کے منصوبے پر صرف کیا جائے گا جس کی ممکنہ لاگت 1.1 ارب ڈالر ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ پاک فوج میں دفاعی خودمختاری کے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان کی ہتھیار سازی کی صلاحیت دنیا میں تسلیم کی جا چکی ہے، اس نمائش کے ذریعے گزشتہ 2 سال کے دوران پاکستانی ایکیوپمنٹ میں کی جانے والی ڈیولپمنٹ اور اپ گریڈیشن کو ڈسپلے کیا جائے گا۔ یہ نمائش دنیا میں دفاعی لحاظ سے مضبوط اور مستحکم پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اچھا تاثر پھیلانے کا بھی سبب بنے گی۔ جدید اور بہتر مسلح افواج پاکستان کی خود مختاری اور سا لمیت کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہر ریاست کو اپنی سلامتی اور بقا کے لیے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہردم تیار رہنا ہوتا ہے۔ اپنے محل وقوع کی بنیاد پر پاکستان کو بہت سے ممالک کے مقابلے میں زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ جدید ترین دفاعی نظام صرف ترقی یافتہ ملکوں کا استحقاق نہیں۔ محدود وسائل کے باوجود ہمارے ماہرین نے اسلحہ سازی کے میدان میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آئیڈیاز متاثر کن دفاعی نمائش ہے اور اب یہ خطے کی سب سے بڑی دفاعی نمائش بن چکی ہے۔پاکستان بجا طور پر جدید ترین دفاعی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس جدید ترین دفاعی نظام موجود ہے۔ پاکستان میں تیار ہونے والے ہتھیار اور دفاعی آلات اعلیٰ معیار کے ہونے کے ساتھ ساتھ کم قیمت کے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ بہت سی بین الاقوامی کمپنیاں بھی ان میں دلچسپی لے رہی ہیں۔

ایکسپو سینٹر میں ہونے والی ہر نمائش ہی کراچی کے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتی ہے، نمائش کنندگان کو اپنے مقاصدکا حصول ہوتا ہے وہیں پر عوام کی بڑی تعداد ان نمائشوں میں شریک ہوتی ہے۔ تاہم دفاعی نمائش جو گزشتہ 8 برسوں سے منعقد کی جارہی ہیں، ان کی اہمیت ایکسپو سینٹر کی تمام نمائشوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ نمائش میں بین الاقوامی مندوبین اور دفاعی آلات تیار کرنے والی مختلف ممالک کی کمپنیاں آئیڈیاز2016 میں شرکت کرتی ہیں۔ اب تک ہونے والی ان دفاعی نمائشوں نے ہر سال سابقہ نمائشوں کے ریکارڈز کو توڑ کر نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ اس سال ہونے والی نمائش کی اہمیت سابقہ نمائشوں سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ عالمی قوتوں سمیت دیگر معاشی اور دفاعی طور پر طاقتور ممالک کی نظریں پاکستان کے سی پیک منصوبے پر مرکوز ہیں۔اس سال پاکستان نے دفاعی ہتھیاروں کی نمائش آئیڈیاز 2016ء کے ذریعے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی افادیت اورآپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 9ویں انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزی بیشن اینڈ سیمینار میں خطے میں بڑی معاشی تبدیلی کا سبب بننے والے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی پاکستان کی بڑی کامیابی کے طور پر اجاگر کیا جائے گا جس کے تحت حال ہی میں تجارتی قافلے نے محفوظ طریقے سے کاشغر تا گوادر کا طویل سفر طے کرکے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سی پیک کی افادیت اور خطے میں معاشی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے آئیڈیاز نمائش کے پلیٹ فارم کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے گا، اس مقصد کے لیے نمائش میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا خصوصی اسٹال بھی قائم کیے گئے ہیں۔

شہر قائد کے جناح ایئر پورٹ سے لے کر ایکسپو سنیٹر اور اس کے ساتھ ہی قرب و جوار کے علاقوں سمیت پورے شہر قائد میں آئیڈیاز کی نمائش کے دوران سیکورٹی کا خصوصی خیال رکھا گیاہے۔نمائش میں شرکت کے لیے مندوبین کی آمدورفت کے ساتھ دفاعی آلات کی ایکسپو سینٹر تک رسائی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے۔ عوام کی بڑی تعداد دفاعی نمائش کو دیکھنے کی خواہش رکھتی ہے، تاہم مذکورہ نمائش چونکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کی جاتی ہے ، نمائش میں درجنوں ممالک کے اہم شعبوں کے معززین شرکت کرتے ہیں اور دفاعی نوعیت کے سمجھوتوں پر دستخط ہوتے ہیں۔ نمائش کے دوران شہر بھر میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایکسپو سینٹر پر سیکورٹی اداروں کا سخت پہرہ ہے، جبکہ سیکورٹی کے پیش نظر ٹریفک کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016ء کا سیکورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی نمائش کے دوران ٹریفک کی روانی بحال رکھنے کے لیے بھی پلان بنالیا گیا ہے۔ ایکسپو سینٹر کراچی میں 22 سے 25 نومبر تک جاری رہنے والی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016ء کے مرتب کیے گئے سیکورٹی پلان کے مطابق 2 ایس پیز اور 4 ڈی ایس پیز سمیت دو ہزار سے زاید پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی پلان کے مطابق ریپڈ رسپانس فورس کی 4 کمپنیاں بھی اطراف کے علاقے میں سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ تاہم یہ انتظامات پہلے روز ہی ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ شہر کی اہم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے، جبکہ ٹریفک پولیس نے اپیل کی ہے کہ ٹریفک جام سے بچنے کے لیے شہری متبادل راستہ اختیار کریں اور اپنے سفر کے اوقات کار میں تبدیلی کریں، تاکہ وہ ذہنی کوفت سے بچ سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 426314 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Nov, 2016 Views: 473

Comments

آپ کی رائے