بھارت یاترا...کیلے اور پکوڑوں کا امتزاج

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کیلا پھلوں میں واحد ایسا پھل ہے جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے بچوں سے لیکر بڑے ، بوڑھے اور خواتین تک اس کو پسند کرتی ہیں کوئی اس کا جوس پسند کرتا ہے تو کوئی قبض کیلئے مخصوص تعداد میں اسے کھاتے ہیں پاکستان میں یہ واحد پھل ہے جو سارا سال پایا جاتا ہے خیبر پختونخوا میں درجن کے حساب سے لوگ اسے خریدتے ہیں کیونکہ اسے فروخت کرنے کا طریقہ یہی ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ دو اور چار کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے یعنی جتنے کیلے آپ لیں گے اتنی ہی ادائیگی آپ کو کرنی پڑے گی-
کیلا پھلوں میں واحد ایسا پھل ہے جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے بچوں سے لیکر بڑے ، بوڑھے اور خواتین تک اس کو پسند کرتی ہیں کوئی اس کا جوس پسند کرتا ہے تو کوئی قبض کیلئے مخصوص تعداد میں اسے کھاتے ہیں پاکستان میں یہ واحد پھل ہے جو سارا سال پایا جاتا ہے خیبر پختونخوا میں درجن کے حساب سے لوگ اسے خریدتے ہیں کیونکہ اسے فروخت کرنے کا طریقہ یہی ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ دو اور چار کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے یعنی جتنے کیلے آپ لیں گے اتنی ہی ادائیگی آپ کو کرنی پڑے گی-
بھارت کے کیلے دنیا بھر میں پسند کئے جاتے ہیں یہ نہ صرف بھارت میں بہت زیادہ لوگ کھاتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی اس کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے بھارتی کیلوں کی اہمیت کا اندازہ آج سے تقریبا چھ سال قبل یوکرائن کے دارالحکومت کیوف کے ہوائی اڈے پر صبح سویر ے ناشتے کیلئے لینے والے کیلے پر ہوا جہاں پر فروخت کرنے والے نے بتایا کہ صاحب یہ بھارتی کیلے ہیں آپ کھا لیںآپ کو ناشتے کی ضرورت نہیں یہ الگ بات کہ اس وقت یوکرائن میں لئے جانیوالے ایک کیلے کی قیمت پاکستانی روپے میں 99 روپے پڑی تھی لیکن اسے دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت کیلئے کیلے کتنے اہم ہیں- اس پر سیاست بھی ہوتی ہے اور کبھی کبھار وہ کیلے بھی کھاجاتے ہیں- ویسے ایک بات جو حیران کن ہے کہ بھارت کی انتیس ریاستوں میں دس ریاستوں میں اتنے کیلے پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف بھارت کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی اس کی ڈیمانڈ زیادہ ہے-ان ریاستوں میں تامل ناڈو ، گجرات ، مہاراشٹرا ، اندھراپردیش ، کرناٹکا ، بہار ، مدھیہ پردیش ، مغربی بنگال ، آسام اور اڑیسہ شامل ہیں-ان ریاستوں میں تامل ناڈو ٹاپ پوزیشن پر ہیں جہاں کیلے سب سے زیادہ مقدار میں پیدا ہوتے ہیں-جس کے شہر چنائی میں راقم سکالرشپ پر تھا-

چنائی میں قیام کے دوران راقم سمیت جنوبی ایشین ممالک کے بیشتر صحافیوں کا پسندیدہ پھل کیلا ہی تھا کیونکہ جس طر ح راقم کو یہ پھل پردیس میں اپنا اپنا سا لگتا تھا اسی طرح بھوٹان ، افغانستان ، نیپال ، مالدیپ ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے صحافیوں کو یہی کیلا تھا- یہ الگ بات کہ بنگلہ دیش کے صحافی ہر وقت مچھلی اور کیلا کھاتا رہتا اوراس کی کھانے کی صلاحیت ہم سب میں زیادہ تھی-کیلے کے مقابلے میں وہاں پر اور بھی پھل تھے جن میں پپیتا بھی شامل تھا جس کی قیمت بھی انتہائی کم تھی- پاکستان میں پپیتے کی قیمتوں کے مقابلے میں بھارت میں انتہائی کم تھی یہ الگ بات کہ بھارتی روپے پاکستانی روپے کی قیمت میں دگنی ہے لیکن پھر بھی کچھ پھل ایسے تھے جن کی قیمتیں انتہائی کم تھی -پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں کیلے کا استعمال مختلف ہے اسے کھانے کے ساتھ اس کا جوس بھی پیا جاتا ہے لیکن اسے پکوڑوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے وہاں کی مارکیٹوں میں کچے کیلے عام فروخت کیلئے رکھے جاتے ہیں جن کی قیمت پکے کیلے کی مقابلے میں کم ہوتی ہیں پوچھنے پر پتہ چلا کہ اسے پکوڑوں میں ڈالا جاتا ہے-ایک دن بازار میں پکوڑے خریدنے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ کچے کیلے کو کاٹ کر اس کو بیسن میں ڈال کر تیل میں پکایا جاتا ہے جس کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے ویسے ہمارے ہاں پاکستان میں تو پیاز کے پکوڑے پکائے جاتے ہیں جو گول مٹول ہی بنتے ہیں لیکن چنائی کی مارکیٹوں میں پیاز کے پکوڑے کچھ الگ ہی بنتے ہیں اسی طرح کچے کیلے کے بنائے ہوئے پکوڑوں کا ذائقہ الگ ہی ہوتا ہے- پیاز کے پکوڑے بازاروں و مارکیٹوں میں ایسے بنتے ہیں جیسے یہ کوئی جال ہو مزے کی بات تو یہ ہے کہ اسے پکانے اور بیچنے والی خواتین دکاندار ہی ہوتی ہیں ویسے جتنی تیز تامل خواتین ہوتی ہیں شائد ہی کوئی ہو کیونکہ راقم نے دکانداری سے لیکر دفاتر ،کالجز میں اتنی تعداد میں خواتین کو سرگرم عمل دیکھا کہ اندازہ ہوگیا کہ چنائی میں ورک فورس میں 50 فیصد سے زائد خواتین ہی ہیں-

بات کیلوں کی ہورہی تھی چنائی میں ترکاری کیلئے الگ کیلے استعمال ہوتے ہیں جو کہ کچے ہوتے ہیں یعنی پکوڑوں میں اس کا استعمال چنائی میں الگ ہی ہے لیکن سب سے زیادہ خوبصورت استعمال اسکے پتوں کا ہے - جسے ہوٹلوں میں بطور پلیٹ استعمال کیا جاتا ہے- ایک دن کالج ہاسٹل کینٹین میں پکائے جانیوالے ابلے ہوئے چاول اور سبزی سے راقم کا دل تنگ تھا اسی لئے ساتھ میں پڑھنے والی ایک طالبہ جس کا تعلق کیرالہ سے تھا اسے کہہ دیا کہ آج کہیں باہر جا کر کھانا کھاتے ہیں- کالج سے فارغ ہونے کے بعد ہم کالج سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مارکیٹ جسے گٹر مارکیٹ کا نام دیا گیا تھا وہاں پر کھانے کیلئے گئے جہاں پر چھوٹے چھوٹے ہوٹل تھے ہوٹل میں کھانے کیلئے آرڈر دیا تو ساتھی کیلئے بریانی تو پلیٹ میں لائی گئی لیکن راقم کیلئے لائی جانیوالی مچھلی کیلے کے پتے پر ڈال دی گئی ساتھ میں سوجی بھی تھی جو کہ میٹھی نہیں تھی بلکہ اس میں نمک کا استعمال زیادہ تھا-یہ پہلی مرتبہ ہورہا تھا اور راقم بھی کالج کی طالبہ کیساتھ پہلی مرتبہ کھانے پر نکلا تھا اس لئے کالج کے دیگر طلباء آتے جاتے دیکھ رہے تھے کچھ طلباء تو اپنے لئے خریداری کرنے آئے تھے اس لئے ان کی عجیب نظروں کا مقابلہ کرنے کی ہم میں تاب نہیں تھی اس لئے کیلے کے پتے پر اتنا غور نہیں کیااور جلدی سے کھانا کھانے کے بعد ہم نکل آئے-

کچھ ہفتوں بعد چنائی کے ساحل سمندر ایلیٹ بیچ جو کہ ہمارے کالج سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا وہاں پر جانے کا اتفاق ہوا چونکہ اس دن ایک اسائمنٹ کے سلسلے میں تمام طلباء و طالبات نکلے ہوئے تھے اس لئے ماحولیا ت سے متعلق اسائمنٹ ختم ہونے کے بعد سب اپنے اپنے پسندکے ناشتوں کی طرف نکل گئے - راقم دیگر دو ساتھی طالبات کیساتھ ایلیٹ بیچ کی طرف نکل گیا جہاں پر پراٹھے ملنے کا امکان تھا - ایک بڑے ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں میز پر بیٹھنے کے بعد طالبات نے اپنے لئے ناشتے کا آرڈر دینے کیلے بیرے کو آواز دی اس وقت بیرا ہاتھ میں دو ڈول لیکر آگیا اس نے طالبات کے سامنے پڑے سبز رنگ پر اچار اور سوجی ڈالی اور طالبات نے کھانا شروع کردیا جب بیرا میری طرف آگیا تو میں نے اس سبز رنگ جو کہ حقیقت میں کیلے کاپتہ تھا اور میز پر رکھا تھا راقم یہ سمجھا کہ یہ کوئی کپڑا ہے اس لئے راقم نے اس پر ہاتھ رکھ دئیے تھے - بیرے نے میرے ہاتھ ہٹا دئیے اور اس پر سوجی اور اچار ڈال دیاکہ یہ ابتدائی ناشتہ ہے آرڈر بعد میں دیں-ساتھی طالبات سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے جس پر سوجی اور اچار دال گیا ہے تو بتایا گیا کہ یہ کیلے کا پتا ہے اس لئے ناشتے اس پر کرو-جسے دیکھ کر عجیب سا لگا کہ اتنے بڑے ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں اگر پلیٹ بھی نہیں اور کیلے کے پتے میں ناشتہ ڈالا جارہا ہے تو یہ کوئی ناشتہ ہوگا سو یہی سوچ کر راقم نے وہ ناشتہ بھی چھوڑ دیا اور باہر نکل آیا-یعنی ناشتہ بھی کیلے کے پتے پر وہ بھی اتنے بڑے ہوٹل میں ..سو دل میں یہ سوچ کر ناشتہ ہی چھوڑ دیا کہ بابا ایسا ناشتہ ہی نہیں کرنا جس کیلئے پلیٹ اتنے بڑے ہوٹل کی انتظامیہ کے پاس نہ ہو-یہ الگ بات کہ پراٹھے اس دن ہماری قسمت میں نہیں تھے اور واپس ہاسٹل جا کر وہی روٹین والا ناشتہ کرنا پڑا- بعد میں پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہاں پر بیشتر ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اشیاء کیلوں کے ان پتوں میں دی جاتی ہیں پلیٹوں کا استعمال انتہائی کم ہے - بڑے بڑے ریسٹورنٹ کے باہر گندگی کے ڈھیروں میں استعمال شدہ کیلے کے پتے دیکھے -گندگی کے ڈھیروں میں استعمال ہونیوالے کیلے کے پتے دیکھے تو اندازہ ہوگیا کہ بھارتی ریاست تامل ناڈو کے لوگ بہت عقلمند ہیں کیونکہ استعمال شدہ کیلے کے پتے گرانے کے بعد قدرتی طور پر یہ ختم ہوتے ہیں اور کوئی آلودگی بھی پیدا نہیں ہوتی-پاکستانی ہوٹلوں کی طرح تو نہیں کہ پلاسٹک کے تیار کردہ پلیٹوں میں کھانا کھاتے ہیں جو کہ بعد میں گرائے جاتے ہیں جو کہ نہ صرف سیورج کا نظام تباہ کرتے ہیں بلکہ اسے بعد میں جلادیا جاتا ہے جو کہ آلودگی کا باعث بنتا ہے -جبکہ اس کے مقابلے میں چنائی میں کیلے کا پتا زیادہ بڑا ہوتا ہے صرف صاف کرنا پڑتا ہے اور استعمال کرنے کے بعد قدرتی طور پر ختم ہو جاتا ہے - مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ پتے نہ صرف سڑک کنارے چھوٹے ہوٹلوں میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ بڑے بڑے ہوٹلوں کے ریسٹورنٹ میں بھی اس کا استعمال عام سی بات ہے اور کوئی اس پر منہ نہیں بناتا کہ یہ کس چیز میں ہمیں ناشتہ یا کھانا دیا جارہا ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 329 Articles with 176560 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
05 Dec, 2016 Views: 364

Comments

آپ کی رائے