برمی مسلمانوں کی نسل کشی اور ہمارا رویہ

(Sohail Aazmi, )
فیس بک پر دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کی تصاویر، ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی رہتی ہیں جن میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق، ہندوستان، شام قابل ذکر ہیں انہیں اسی نیت سے Shareکرتا ہوں کہ شاید مسلمانوں اور ان کے مغرب زدہ حکمرانوں ، ان کی نام نہاد تنظیموں کا ضمیر جاگے اور وہ اتحادکا مظاہرہ کرکے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ میں نے برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کا ذکر صرف اسلئے نہیں کیا کیونکہ میرے اندر وہ حوصلہ اور برداشت نہیں ہے جس سے میں ایک طرف تو برمی مسلمانوں کے ظلم و ستم کی تصاویر، ویڈیوز دیکھ سکوں اور انہیں Share کرسکوں کیونکہ وہ تصاویر ، ویڈیوز اتنی دلخراش اور تکلیف دہ ہوتی ہیں کہ انہیں دیکھنا کمزور دل والوں کا کام ہی نہیں ہے۔ میں حیران ہو کہ ہمارے حکمران شام، کشمیر، فلسطین و دیگر علاقوں کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ماسوائے ترکی کے ہمیں برمی مسلمانوں کی حالت زار پر رحم نہیں آتا۔ آخر کیوں ؟ کیا وہ ہمارے مسلمان بھائی نہیں ہیں؟ انہیں کوئی اپنے ملک میں گھسنے نہیں دیتا۔ بنگلہ دیش جس کی سرحد لگتی ہے نے حال ہی میں کئی دنوں کا کشتی پر سفر کرکے آنے والوں کو سمندر ہی کے راستے واپس دھکیل دیا۔ ظاہرہے انکا سفر موت پر ہی سمندر میں ہی ختم ہوگا۔ آج ہی دیکھ رہا تھا برمی فوج کے ظالم افراد نے ہزاروں قرآن مجید کو جمع کرکے آگ لگائی، بچوں کو زندہ جلادیا، میانمار کے راکھین صوبے میں ایک ماہ کے دوران 40مسلمان خواتین کی آبروریزی کی گئی جن میں سے 16 سے 18سال کی تھیں۔ بچوں پر تشدد کیاگیا یہ رپورٹ برما ہیومن رائٹس ورک کی ہے ان واقعات میں برمی سیکورٹی فورسز کے لوگ ملوث ہیں۔ اس طرح دسمبر کے پہلے ہفتے میں ریاست دخائن میں فوجی کریک ڈاؤن میں 141مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ سینکڑوں مکانات نذر آتش کئے گئے اور ہزاروں مسلمان اپنی تمام تر جمع پونجی، املاک، اراضی، گھر، فصلوں، جانوروں سے محروم ہوگئے۔ برمی فورسز گن شپ ہیلی کاپٹر کے علاوہ اندھا دھند فائرنگ کرکے مسلمانوں کو شہید کررہی ہے لیکن دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں، UNO کی پر اسرار خاموشی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قتل و عام میں ملوث ہیں۔ برمی افواج نے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کرنے والوں عورتوں، بچوں سمیت 72مسلمانوں شہید کردئیے۔ صوبہ دخائن ہی میں دسمبر کے دوسرے ہفتے میں مسلمانوں کے 1250گھر نذر آتش کردئیے گئے جس سے 30ہزا مسلمان بے گھر ہوگئے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے مسلمانوں کے جلے ہوئے گھروں کو دیکھا جاسکتاہے۔ تنظیم کے مطابق برما میں اپنی زمین سے مسلمانوں کی نسل کشی کررہاہے اور بھارتی نواز حسینہ واجد کی حکومت بھی برمی مسلمانوں کی نسل کشی میں برمی حکومت کی ہمنوا بن گئی ہے۔ وہ بنگلہ دیش میں داخل ہونے والوں کو پکڑ کر دوبارہ برما کی حدود میں دھکیل رہی ہے جہاں پر برمی فوج انہیں بے دردی سے شہید کررہی ہے۔ برما ایک چھوٹا سا ملک ہے جسکا کل رقبہ 6765785KM پر محیط ہے۔ معاشی، دفاعی، صنعتی لحاظ سے ایک کمزور ملک ہونے کے باوجود 55مسلمان ممالک اور 2ارب مسلمانوں کے ہوتے ہوئے جس بری طرح سے مسلمانوں کی نسل کشی کررہاہے وہ مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ خاص کر ایٹمی قوت پاکستان کیلئے جسے دنیا کا ہر مظلوم مسلمان ایٹمی طاقت اور آبادی ، فوج، رقبہ، صلاحیتوں کے لحاظ سے بڑا ملک ہونے کے ناطے دیکھتاہے لیکن انہیں کیا پتہ کہ ہمارے حکمران تو انڈیا اور افغانستان ہمارے علاقوں میں مداخلت کے آگے گیدڑ بنے ہوئے ہیں۔ انڈیا کا جاسوس بلوچستان میں پکڑا گیا لیکن ہمارے حکمرانوں کی زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا، افغانستان سے دہشت گردآکر ہمارے سکولوں، جنازوں، مارکیٹوں، جلسوں، جلوسوں، مساجد اور مدارس ، مراکز، ٹریننگ سنٹر میں دہشت گردی کرجاتے ہیں لیکن ہم صرف دفتر خارجہ کے احتجاج تک محدود ہیں۔ برما کے مسلمانوں کی ہم کیا مدد کریں گے ہم اپنی 20کروڑ عوام کو دہشت گردی سے نجات نہیں دلواسکے 60ہزار کے قریب لوگ دہشت گردی کی کارروائیوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں ماسوائے ترکی کے کسی اسلامی ملک نے برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر آواز نہیں اٹھائی۔ ترکی نے برمی مہاجرین کے ساتھ ساتھ شامی مہاجرین کو بھی پناہ دے رکھی ہے اور ان کیلئے صدائے احتجاج بھی بلند کررہاہے بلکہ اگر یہ کہاجائے گا کہ ترقی ہی صرف ایک ایسا ملک ہے جو دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی آواز ہے پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ملائیشیاء، انڈونیشیاء، ایران اور OIC کو برمی مسلمانوں کی دادرسی کیلئے آواز حق بلند کرنا چاہئے یہ ان کی اخلاقی اور اسلامی ذمہ داری ہے۔ برمی مسلمان دنیا بھر خصوصا مسلمان ملکوں کی طرف ہر قسم کی امداد کے طالب ہیں کم از کم OICاور UNO میں قرارداد کے ذریعے برما پراقتصادی، معاشی پابندیاں لگوانے کا 100فیصد جواز موجود ہے۔ لیکن ایسا بھی اقدام دیکھنے میں نہیں آرہا۔ ہمیں دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم وہ چاہے شام کے مسلمانوں ہوں، برما یا کشمیر کے اپنی بے حسی اور مفاد پرستی کے رویہ کو چھوڑ کر اجتماعی سوچ اپنانی ہوگی۔ اگر اقوام متحدہ برما کے خلاف اقدامات نہیں کرتا تو کم از کم 55اسلامی ممالک اگر جہاد کا جذبہ نہیں رکھتے تو دفاعی ، معاشی، بائیکاٹ تو کرسکتے ہیں۔ برمی لوگوں کو اپنے ملکوں سے فارغ کرکے برمی حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکتاہے۔ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر ایک طرف تو ہم اﷲ کی مدد و نصرت سے محروم رہیں گے ، اسکی ناراضگی مول لیں گے دوسرے ہم اقوام عالم کو یہ پیغام ضرور دیں گے کہ گو کہ ہم مجموعی طورپر 2ارب اور 55ممالک پر مشتمل ہیں ہمارے پاس لاکھوں کی فوج کا اور عددی قوت ہے لیکن ہم اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ جسطرح دنیا بھر کے یہود و نصاری افغانستان، عراق، لیبیا، شام پر چڑھ دوڑیں ہیں ہم برما جیسے چھوٹے ملک کے خلاف بھی ایسی کارروائی کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ایسا کرنے سے ہمارے دشمنوں کے حوصلے بلند اور ہمارے پست ہوں گے میری دعاہے کہ ایسا نہ ہو۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 74159 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2016 Views: 323

Comments

آپ کی رائے