ڈیل اور ڈھیل

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)
دنیا کانظام امتحان کی بنیادپرچلتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کے پیغمبر بھی کڑے امتحانات سے گزرے ہیں،ہم انسانوں کی کیا حیثیت ہے۔جس وقت زبان پرشکوہ آ نے لگے وہ حقیقت میں مقام شکر ہوتا ہے۔معبود اپنے بندوں کونعمتوں سے نوازتا ہے اوران سے کچھ اُس کی نوازشات سے محروم رہ جاتے ہیں اورپھرہمارا سچارب ان دونوں کوآزماتا ہے۔ایمان پراستقامت امتحان ہے توشیطان کے حملے بھی ہماراامتحان ہیں۔دولت بھی امتحان ،مفلسی بھی امتحان۔تندرستی اوربیماری میں بھی انسان کاامتحان لیا جاتا ہے۔حسن اوربدصورتی دونوں امتحان ہیں ۔اقتدار اورعہدہ بھی امتحان اورووٹ کااستعمال بھی امتحان جبکہ اسلام میں منصب طلب کرنایعنی مانگنا حرام جبکہ ہمارے ملک میں رائج نام نہادجمہوریت اسلام کی ضد ہے۔ہمیں اس دنیا میں جوبھی امتحان درپیش ہیں ان میں ہماری کامیابی یاناکامی کااعلان روزمحشر ہوگا ۔سنا ہے اﷲ تعالیٰ جس سے ناراض ہواس کا دل سخت جبکہ اس کی رسی ڈھیلی یادرازکردیتا ہے ۔عہدحاضر میں کس کس کی رسی ڈھیلی یادراز ہے لوگ ان کرداروں اورچہروں کو باآسانی شناخت کرسکتے ہیں۔کچھ لوگ اپنی صحبت اورکچھ اپنے کرتوت سے پہچانے جاتے ہیں ۔فرعون غرقاب ہوگیا مگرفرعونیت کی صورت میں اس کی باقیات سے جابجا واسطہ پڑتا ہے ۔

ڈیل ،ڈھیل ،ڈر،زراورزورپاکستان کی قومی سیاست کاحصہ ہیں کاش'' ضمیر''کاذکر بھی اس فہرست میں ہوتا۔ہمارے ملک میں ڈھیل کے بدلے ڈھیل ملتی ہے ۔باوردی حکمران سے ڈیل کے بدلے ڈھیل سے مستفیدہونیوالے آج بھی قومی سیاست کے سرخیل ہیں اورآج جمہوریت کاعلم اوراقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں ہے۔اگر پاکستان کی حکمران اشرافیہ ڈیل اورڈھیل کااستعمال نہ کرے توجمہوریت کی گاڑی کبھی ڈی ریل نہ ہو ۔ پرویز مشرف نے ایک بار اپنا'' مکا''لہرایاتھااورانہیں آج تک طعنہ ملتا ہے جبکہ سیاستدان باربار آپس میں'' مک مکا'' کرتے ہیں اوراس منافقت نمامفاہمت کوجمہوریت کاحسن قراردیاجاتا ہے۔ماضی میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) کے درمیان بھی اتحاد رہا ہے اورآج بھی پیپلزپارٹی والے مستقل مزاجی سے فرینڈلی اپوزیشن کاکرداراداکررہے ہیں ۔سیاستدان قومی مفاد کے نام پرقومی مفاد کی دھجیاں بکھیرتے ہیں مگرکوئی انہیں پوچھتا تک نہیں۔اگرپاکستان میں احتساب کاخودکاراورطاقتور نظام رائج ہوتا تویقینا ہماراملک اس قدر مقروض ہوتااورنہ ہماری معیشت یوں بری طرح مفلوج ہوتی۔ موروثی سیاست کے حامیوں کی موج بھی احتساب نہ ہونے کاشاخسانہ ہے۔پاکستان میں اصولی سیاست کرنیوالی قیادت کوکوئی گھاس نہیں ڈالتاجبکہ وصولی سیاست والے مزے میں ہیں۔ہماراعام آدمی اپنا دشمن آپ ہے ،وہ سفیدپوش طبقہ کی بجائے پوش طبقہ سے اپنانمائندہ منتخب کرتا ہے اورپھر بیچارے ووٹراپنے حقوق کیلئے ان نمائندوں کی دہلیز پرایڑیاں رگڑتے ہیں۔ جومزدورکسی سرمایہ دارکو اپناسچاہمدرداورنجات دہندہ سمجھتا ہے اس سے بڑاناسمجھ اورنادان کوئی نہیں ہوسکتا۔تاہم جو کوئی گلی کی سطح سے اٹھ کر ایوانوں میں پہنچتا ہے وہ بھی محلے سے محل میں منتقل ہوجاتا ہے،جس طرح چونگی امرسدھو سے حکمران جماعت کے دونوں ارکان پنجاب اسمبلی اب ڈیفنس میں رہائش پذیر ہیں اوریہ دونوں ارکان یقینا تیسری بار بھی اپنے اپنے حلقہ سے امیدوارہوں گے۔لوگ اپنے حقوق کاشورمچاتے ہیں مگراپنے شعورکوبیداراوراستعمال نہیں کرتے ۔پاکستان میں سیاستدان سیاسی انتقام کانشانہ ضروربنے ،تاہم زیادہ ترسیاستدانوں کوسیاستدانوں کے دوراقتدارمیں انتقام کانشانہ بنایا گیا مگرہمارے وطن میں آج تک کسی بدعنوان کابے رحم احتساب نہیں ہوا نہ کسی بدزبان سیاستدان کوسزاملی۔جنرل (ر)پرویز مشرف اقتدارمیں آئے توانہوں نے بھی احتساب کواپنے سات نکاتی ایجنڈے میں بھرپوراہمیت دی لیکن بعدازاں ا نہیں بھی سیاست کی ''عادت'' ہوگئی اورموصوف نے مصلحت پسندی کی گرم چادراوڑھ لی اوراحتساب کاباب شروع ہونے سے پہلے بندہوگیا ۔پرویز مشرف گئے توایوان صدر میں آصف علی زرداری براجمان ہوئے اورانہوں نے جمہوریت کوبہترین انتقام قراردیتے ہوئے مفاہمت کے نام پر آئینی مدت پوری کی اورجمہوریت کے نام پرجمہور سے انتقام لیا،کاش آصف علی زرداری کی سیاست اورشخصیت میں ذوالفقارعلی بھٹو یابینظیر بھٹو والی ایک بھی خوبی ہوتی توآج پیپلزپارٹی آئی سی یومیں نہ ہوتی ۔آصف علی زرداری کے دورصدارت میں پاک فوج کی کمان جنرل(ر) اشفاق پرویزکیانی کے پاس تھی اورانہیں اس منصب کیلئے پیپلزپارٹی کی منتخب قیادت نے نامزدکیا تھا۔جس وقت پاک فوج کی قیادت جنرل (ر)راحیل شریف کے ہاتھوں میں آئی توآصف علی زرداری سمیت کچھ سیاستدانوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اورانہیں احتساب کاتصور ڈرانے لگا ۔جنرل پرویزاشفاق کیانی کو غیرضروری طورپرایکسٹینشن دی گئی مگرناگزیر ضرورت کے باوجود جنرل (ر)راحیل شریف کونہیں دی گئی بلکہ مخصوص عناصر ان کی مدت ختم ہو نے کے دن گن رہے تھے۔جنرل (ر)راحیل شریف ایمانداری سے اپناکام جبکہ دوسروں کوان کاکام جانفشانی سے کرنے کی تلقین کرتے رہے۔جنرل قمرجاویدباجوہ بھی یقینا اپنے پیشرو جنرل (ر)راحیل شریف کی طرح دہشت گردعناصر ،سیاسی شدت پسندوں اورقومی وسائل میں نقب لگانیوالے چوروں کوڈھیل نہیں دیں گے ۔کچھ لوگ جنرل (ر)راحیل شریف کی نصیحت کومداخلت کارنگ دے کر''جمہوریت خطرے میں ہے''کاشورمچا تے رہے مگرحقیقت میں جمہوریت کوخطرہ بدعنوان سیاست اوربدزبان سیاستدانوں سے ہے ۔جنرل (ر)راحیل شریف نے ایکسٹینشن قبول نہ کرکے اپنے بارے میں سبھی خدشات کودفن کردیا۔جنرل قمرجاویدباجوہ کے پاس بھی محب وطن پاکستانیوں کیلئے متعدد مثبت سرپرائز ہیں۔یادرہے جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنا سفروہاں سے شروع کیا جہاں جنرل (ر)راحیل شریف کے صبراورسفر کااختتام ہوا ہے۔ میں وثوق سے کہتاہوں جنرل (ر)راحیل شریف کاصبر اورسفررائیگاں نہیں جائے گا۔

اب دوبارہ آصف علی زرداری کی طرف واپس آتے،وہ بھی پیپلزپارٹی کیلئے دوسرے میاں منظوروٹو ہیں تاہم پنجاب میں قمرزمان کائرہ،ندیم افضل چن کی صورت میں پیپلزپارٹی نے اچھی ٹیم میدان میں اتاری ہے ،لاہورسے پیپلزپارٹی کے مخلص و متحرک جیالے محمداشرف بھٹی بھی بلاول بھٹو کاہراول دستہ ہیں ۔محمداشرف بھٹی نے اپنے دونوں ہاتھوں میں انتہائی مضبوطی سے پیپلزپارٹی کاپرچم اٹھایا ہوا ہے۔ جنرل (ر)راحیل شریف کے پاس پاک فوج کی کمان آنے سے جہاں بھارت کی قیادت دہشت زدہ ہوئی تھی وہاں پاکستان کے اندر بھارت کے بھگت بھی بدحواس ہوگئے تھے ۔ آصف علی زرداری سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ایک روزاچانک ملک سے چلے گئے اورانہوں نے خودساختہ جلاوطنی اختیارکرلی ۔آصف علی زرداری کواپنے غیراعلانیہ اتحادی میاں نوازشریف کی حکومت سے کوئی خطرہ نہیں تھا ،وہ تو اسٹیبلشمنٹ سے چھپ رہے تھے ۔جنرل (ر)راحیل شریف نے متعدد بار دوٹوک اندازمیں احتساب پرزوردیا مگر وہ بھی اس سلسلہ میں کوئی قابل ذکر قدم اٹھانے یاپس منظر میں رہ کراپناقومی کرداراداکرنے میں ناکام رہے کیونکہ احتساب کے ڈر سے قومی لٹیرے متحد اورمنظم ہوجاتے ہیں ۔پاکستان میں احتساب کی بات ہوتو سیاستدان جمہوریت کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں اوراحتساب کوجمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ قراردے دیاجاتا ہے۔جنرل (ر)راحیل شریف کی سبکدوشی پرکئی سیاستدانوں کوراحت محسوس ہوئی تاہم محب وطن عوام ابھی تک رنجیدہ ہیں تاہم جنرل قمرجاویدباجوہ کی صورت میں انہیں ایک طاقت اورامید ملی ہے،دیکھناہوگا کہ جنرل قمرجاویدباجوہ اس مایوس قوم کیلئے نجات دہندہ کاکرداراداکرتے ہیں یاوہ بھی اپنے منصب کی مدت پوری کرنے کے بعدتاریخ کاحصہ بن جا تے ہیں۔میں سمجھتاہوں کوئی عہدہ نہیں بلکہ عہد اہم ہوتا ہے اورلوگ انسان کواس کے نام نہیں بلکہ کام کی بنیادپریادکرتے ہیں ۔آصف علی زرداری نے بھی عنقریب وطن واپسی کاعندیہ دے دیا ہے ۔توکیا آصف علی زرداری کوجنرل (ر)راحیل شریف سے خطرہ تھا یااب ان کے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے پاگئے ہیں،کیا آصف علی زرداری کووطن واپسی کاگرین سگنل مل گیا ہے۔آنیوالے دنوں میں قومی سیاست میں آصف علی زرداری کاکردارکیا ہوگا۔پرویز مشرف بھی ملک سے باہربیٹھ کر شہرقائدؒ کے اندرمتحرک ہورہے ہیں اورانہوں نے آئندہ انتخابات کیلئے نئے نام سے سیاسی جماعت بنانے کاعندیہ دیا ہے۔پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کاحالیہ دورہ لاہوربھی بامعنی ہے ۔جنرل (ر)راحیل شریف کی رخصتی کے بعدپرویز مشرف کے سیاسی مستقبل پر ایک بڑاسوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔اگرآصف علی زرداری کو ڈھیل دے دی گئی تویقیناکسی ڈیل کے بدلے ایساہواہوگا ۔اس ڈیل کی شرطیں کیا ہیں اوراس سے کون کون مستفیدہوگا یہ آنیوالے دنوں میں واضح ہوجائے گا۔پاکستان میں احتساب ہوتا ہوا نظرنہیں آرہا ہے،چورکوچورکااحتسا ب کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔سیاستدان احتساب کوانتقام کانام دے کرشورمچاناشرو ع کردیتے ہیں جبکہ انتخاب کسی قیمت پراحتساب کاکام نہیں کرسکتے ۔

آصف علی زرداری بلاول کی بجائے خودپارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے ۔خورشید شاہ کوکس غلطی یا گناہ کی پاداش میں اپوزیشن لیڈر کے منصب سے ہٹایا جائے گا۔کیا ناتجربہ کارنوجوان بلاول بزرگ سیاستدان اورسینئر پارلیمنٹرین خورشید شاہ کامتبادل ہوسکتا ہے،کیا پاکستانیوں کوموروثی سیاست سے نجات ملے گی ۔پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کاکردار اداکرتے ہوئے حکمران جماعت کوجس طرح فری ہینڈ دیا اوراس کی مضبوطی کاراستہ ہموار کیا، اب وہ کس طرح 2018ء کے انتخابات میں شریف برادران کاراستہ روکے گی ۔انتخابی اصلاحات کی ضرورت اوراہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،پاکستان کاایک بڑاطبقہ ملک میں رائج انتخابی نظام پراعتماد نہیں کرتا۔ آئندہ انتخابات میں دھاندلی کی صورت میں خدانخواستہ کوئی سیاسی سانحہ رونماہوسکتا ہے۔آنیوالے انتخابات کی شفافیت اوراس سے قبل بے رحم احتساب کویقینی بناناہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 82456 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Dec, 2016 Views: 350

Comments

آپ کی رائے