فرار

(Haya Ghazal, Karachi)
اس نے کمرے کی کھڑکی کھول کر راہداری میں جھانکا تو اسے دیکھ کر

چونک گئی.

"کون ہو تم؟"

"حیرت ہے تم نے مجھے نہیں پہنچانا؟"

"نہیں! میں تمہیں نہیں جانتی".

وہ اب بھی اسکی ذات سے انکاری تھی.

"غور سے دیکھو !میں وہی ہوں جو کبھی تمہاری وجہء مسرت تھا.تمہاری محبت کا مرکز .اپنے نرم ہاتھوں میں مجھے لے کر نہ جانے تم نےکتنی ہی دھیمی سرگوشیاں کیں".

"بکواس بند کرو اور اپنا بھیانک چہرہ لے کر یہاں سے دفع ہوجاؤ."

وہ مسلسل انکاری اور وہ مسلسل مصر

کتنی عجیب صورتحال تھی.

"تمہیں اختیار ہے میرے وجود سے انکار کا.پر تمہارا انکار حقیقت نہیں بدل سکتا.تمہارے کمرے سے راہداری تک کا سفر یونہی تو طے نہیں کرلیا.میری بات مان لو اپنا لو مجھے پھر سے"

"تم چپ نہیں کرسکتے. مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی"

وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلائی...

"وقت کے ساتھ تم کتنا بدل گئی ہو "اس نے تاسف سے کہا

"تم کب تک چہرے پرخودفریبی کا نقاب چڑھا کر مجھے جھٹلاتی رہو گی.ڈرتی ہو تم بزدل کہیں کی"

"بزدل نہیں ہوں میں .سنا تم نے بزدل نہیں ہوں میں"

اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہوگئی.پاس رکھی ٹیبل سے پیپر ویٹ اٹھاکر مارنے میں اس نے ایک لمحہ تاخیر نہیں کی.

دور دور تک پھیلیں آئینے کی کرچیاں اب بھی اسکی بے بسی پر مسکرا رہیں تھیں.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haya Ghazal

Read More Articles by Haya Ghazal: 65 Articles with 58095 views »
I am freelancer poetess & witer on hamareweb. I work in Monthaliy International Magzin as a buti tips incharch.otherwise i write poetry on fb poerty p.. View More
09 Dec, 2016 Views: 667

Comments

آپ کی رائے
Very nice.
By: Mona Shehzad, Calgary on Apr, 06 2018
Reply Reply
0 Like
zabardast
By: kanwalnaveed, Karachi on Dec, 12 2016
Reply Reply
0 Like
شکریہ
By: Haya Ghazal, Karachi on Apr, 25 2017
0 Like
good
By: mini, mindi bhauddin on Dec, 09 2016
Reply Reply
0 Like