پردہ اسلام اور عورت

(Muhammad Burhan Ul Haq Jalali, Jhelum)
آج ہر روز اخبارات عصمت فروشی کے واقعات سے بھرے ھوتے ہیں کہ آج فلاں علاقہ میں عصمت فروشی کا واقعہ رونما ہو گیا، پولیس مصروف تفتیش ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

قارئین گرامی:
اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد تو ہماری آنکھ کھلتی ہے۔ تو اس سے بہتر ھوگا کہ ہم اس طرح کے واقعات ہونے کی جو وجہ ہے اس کو جان کر ہم اسکا سدباب کریں۔ تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ھونے پائیں۔ مگر اب روشن خیالی کو فروغ دیا جا رھا ھے۔ ہر طرف حیاء اور غیرت کا جنازہ نکالا جا رھا ہے۔ بہرحال المختصر ان عصمت فروشی کے واقعات کا سدباب نہیں کیا جارھا۔ اس قسم کے واقعات کی وجہ صرف بے پردگی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
فیشن کی چلی کچھ ایسی ہوا
کہ عورت کے رخ سے پردہ اٹھ گیا

ہمارے اندر غیرت ختم ہو چکی ہے اور حیاء بھی ختم ہو چکی ہے ۔ہمارے اسلاف میں ہمارے آباؤ اجداد میں جو غیرت شرم و حیاء تھی ۔اب وہ ہمارے اندر دم توڑ چکی ہے۔اب ہر طرف بے حیائی و بے شرمی کا دور دورہ ہے۔ آج پاکستان کے ہر کوچے ہر گلی میں سینما گھر بن گئے ہیں ۔آج وہی نوجوان جو کل تک تلاوت قرآن کرتے تھے۔وہ ہر وقت گانا گانے،موسیقی ،لہو و لعب،سینماء بینی میں مصروف نظر آتا ہے۔ہم نے اپنی اسلامی تہذیب و تمدن کو بلا دیا ہے۔اسلامی شکل و صورت کو چھوڑ کر اغیار کی شکل و صورت کو اپنا لیا ہے۔
بقول حضرت علامہ اقبال:
وضع میں تم نصاریٰ تو تمدن میں تم ھنود
یہ مسلمان ہیں جہنیں دیکھ کر شرمائیں یہود

آج مغربی استعمار کی آزاد خیالی ،مادہ پرستی ،عریانی و فحاشی کے طوفان پرنٹ میڈیا اور آن دی میڈیا کی سحر انگیزی اور دل فریبی کی یلغار نے اسلامی ورثہ کو بڑا متاثر کیا ہے۔اور ڈرامہ کلچر اور فلمی کلچر نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔جتنی بے حیائی وفحشی الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پھیلا رھا ہے۔اس کی حد نہیں اس لیے توسونیا گاندھی نے کہا تھا کہ اب پاکستان سے ہمیں جنگ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئے گی ۔کیونکہ ہمارے ڈش اور ٹی وی کلچر نے یہ جنگ جیت لی ہے۔

آج ہر طرف عورت ماڈرن لباس پہنے نظر آتی ہے۔آج ہر طرف عورت باریک لباس پہن کر برہنہ پھرتی نظر آئے گی۔ اور بے شرم و بے حیاء لڑکیاں ،بے حیاء لڑکوں کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر گشت کرتی ہیں۔
جب کبھی غیرت انسان کا سوال آتا ہے
اے فاطمہ مجھے تیرے پردے کا خیال آتا ہے

آئیے دیکھیں کہ اسلام پردہ کے بارے میں کیا کہتا ہے!
پہلے آیات قرآنی کو دیکھتے ہیں ۔
آیات مبارکہ:
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
١: واذاساًلتموھن متاعا فسئلوھن من وراء حجاب
(پارہ ٢٢ ،سورہ احزاب ،آیت نمبر ٥٣)
اے ماہ نبوت کے پروانوں:اگر تمہیں اپنے محبوب کے اھل خانہ سے کوئی چیز مانگنی ہی پڑے تو پردہ کے پیچھے سے مانگو
ان آیات میں اگرچہ یہ الفاظ خاص امھات المومنین کے لیے ہیں۔تاہم دلالت کے اعتبار سے یہ احکام تمام عورتوں کے لیے ہیں۔
مفسرین کرام کہتے ہیں کہ،کسی آیت کا شان نزول خاص اور اس کا حکم عام ہوتا ہے۔
اب پردہ کا حکم نص قطعی سے ثابت ھو گیا ۔
دوسری آیہ کریمہ :
٢: یایھاالذین اٰمنوا لاتدخلوابیوت النبی الا ان یوذن لکم
(پارہ ٢٢،سورہ احزاب آیت نمبر ٥٣)
اے ایمان والو:نبی کے گھر میں نہ داخل ھونا مگر یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے۔
٣: ولا یضربن بارجلھن
(پارہ ١٨،سورۃالنور،آیت نمبر ٣١)
وہ عورتیں جہنوں نے پازیب پہنی ہوئی ہو وہ زوردار طریقے سے پاؤں زمین پر نہ ماریں۔
٤: یایھا الزین اٰمنوا لاتد خلوا بیوتا غیر بیوتکم
(پارہ ١٨،سورۃالنور ،آیت نمبر ٢٧)
اے ایمان والو:اپنے گھروں کے علاوہ اور گھروں میں داخل نہ ہوا کرو
٥: یایھاالنبی قل لازواجک وبنتک ونساء المومنین ید نین علیھن من جلابیبھن
اے غیب دان نبی ؐ آپ اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنے اوپر چادر یا برقعہ ڈال دیا کریں۔
یہ چندآیات مبارکہ تھیں اس کے علاوہ اور بھی آیات مبارکہ ہیں کہ جن میں پردہ کا حکم ہے۔بہرحال اب ہم احادیث نبویہ ؐکی طرف آتے ہیں ۔ کہ احادیث مبارکہ ؐ اس بارے میں کیا کہتیں ہیں ؟
احادیث نبویہؐ:
١:فرمان نبویؐ ہے۔ الحیاء من الایمان
حیاء ایمان سے ہے
(ابوداود،جلد دوم ،صفحہ ٣٠٥،مطبوعہ مجتبائی کتب خانہ)،(بخاری شریف ،جلد دوم ،صفحہ ٩٠٣،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)
آقا کریم ؐ نے ارشاد فرمایا
٢:حیاء خیر کو لاتا ہے:
(صحیح بخاری شریف،جلد دوم،صفحہ ٩٠٣مطبوعہ قدیمی)
٣:حیاء زینت ہے
(کتسف الخفاء للعجلونی،حدیث٢٢٤٤)
اسلام میں عورت کے بارے میں اتنی احتیاط ہے کہ حدیث نبوی ؐ ہے۔
٤:حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ تم میں سے جن کے شوہر گھر پر نہ ہوں ان عورتوں پر داخل نہ ہو۔کیونکہ شیطان تمہارے خون میں گردش کرتا ہے۔
(ترمذی شریف جلد اول صفحہ ١٤٠ مطبوعہ فاروقی کتب خانہ)
وہ عورتیں جو زیب و زینت کر کے نکلتی ہیں ان کے بارے میں ارشاد نبوی ؐ ہے۔
٥: حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کا زیب وزینت کر کے نکلنا ان کی مثال قیامت میں ایسی ہے جس کے لئے کوئی نور نہ ہوگا۔
(ترمذی شریف ۔جلد اول ۔صفحہ ١٣٩مطبوعہ ایضا)
٦:حضور ؐنے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ عورت جو خوشبو لگاکر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی زانیہ ہے
(ترمذی شریف،جلد ٤۔صفحہ٣٢١حدیث٢٧٩٥دارالفکر)
مفسرقرآن حضورحکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ فرماتے ہیں اس حدیث کے تحت کہ:کیونکہ وہ خوشبو کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے کیونکہ زنا حرام ہے لہذا اسباب زنا بھی حرام ہیں۔
(مراۃالمناجیح جلد دوم صفحہ ١٧١ضاء ا لقرآن)
٧:حضور ؐ نے قےامت کی نشانیوں میں ایک زنا کے ظاہر ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔
(مسلم شریف ،جلد١،ص٣٤٠قدیمی)
٨:آقا کریم ؐنے دیور سے بھی پردہ لازمی قرار دیا ہے۔
(صحیح مسلم شریف،حدیث نمبر٣٣٠٧)
٩:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا عورت سراپا شرم کی چیز ہے سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے جب باہر نکلے شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی ٰعنہما جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار کر عورتوں کو مسجد سے نکالتے ۔
(جامع ترمذی حدیث نمبر ٢٣٠٥)
١٠: ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اور ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا حضورؐ کی خدمت میں حاضر تھیں کہ اچانک حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت ؐ میں حاضر ہوئے۔یہ اس وقت کی بات ہے جب پردے کا حکم ہو چکا تھا۔ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا ان سے پردہ کرو ۔میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ؐیہ نابینا ہیں ہمیں یہ نہ دیکھ رہے ہیں اور نہ کوئی ہم کلامی ہے ۔یہ سن کر رسول اللہؐنے ارشاد فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ھو۔
(جامع ترمذی ،جلد٤،صفحہ ٣٥٦،حدیث نمبر ٢٧٨٧،دارالفکربیروت)

اب ایک صحابی رسول کی غیرت کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت ابو السائب فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان صحابی رسول کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ایک بار جب وہ اپنے گھر تشریف لائے تو یہ دیکھ کر انہیں بڑی غیرت آئی کہ ان کی دلہن گھر کے دروازے پر کھڑی تھی مارے جلال کے نیزہ تان کر اپنی دلہن کی طرف لپکے وہ گبھرا کر پیچھے ہٹ گئیں اور رو کر پکاریں اے میرے سرتاج مجھے مت مارئیے میں بے قصور ہوں ذرااندر جا کر دیکھیں کہ مجھے کس چیز نے باہر نکالا ہے؟ چنانچہ جب وہ صحابی اندر تشریف لے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خطرناک سانپ کنڈلی مار کر بیٹھا ہے۔تو آپ نے زوردار وار کر کے سانپ کو زخمی کر دیا سانپ نے آپ کو ڈس لیا سانپ تڑپ ٹڑپ کر مر گیا وہ صحابی اس سانپ کے زہر سے فوت ہو گئے
(ابوداود ،جلد٤،صفحہ ٤٦٥ حدیث نمبر ٥٢٥٧، دارالحیاء بیروت)

ہم نے صحابی رسول کی غیرت کا واقعہ ملاحظہ کیا انہوں نے اپنی بیوی کا گھر کے دروازے پر کھڑا ہونا بھی برداشت نہ کیا اور آج ہم ہیں کہ ہماری مائیں ،بہنیں،بیٹیاں ،بازاروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
ساغر صدیقی نے کہا تھا کہ
کل جہنیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتی ہیں
اکبر اٰلہ آبادی نے کیا خوب کہا تھا کہ
بے پردہ مجھ کو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں ــــــــــ''غیرت قومی''سے گڑگیا
پوچھا جو ْان سے آپ کا پردہ کدھر گیا
کہنے لگیں کہ''عقل''پہ مردوں کے پڑ گیا
(اسلامی زندگی ،ص ٩٣)
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عورتوں کی زیب و زینت دیکھ کر ارشاد فرمایا تھا کہ اگر رسول اللہ ؐ اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے تو عورتوں کا مسجد میں آنا بند کر دیتے۔
(مسلم شریف ، جلد اول ۔کتاب الصلوٰۃ،حدیث نمبر ٩٠٣)

حضرت علامہ ابن حضر مکی ہیتمی نقل فرماتے ہیں۔ معراج کی رات سرور کائنات شاہ موجودات ؐنے جو بعض عورتوں کے عزاب کے ہولناک مناظر ملاحظہ فرمائے ان میں یہ بھی تھا کہ ایک عورت بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اس کا دماغ گھول رہا تھا سرکار ؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یہ عورت اپنے بالوں کو غیر مردوں سے نہیں چھپاتی تھی۔
(الزواجر جلد ٢،ص٩٧۔٩٨، دار المعرفہ بیروت)

با حیاء و باشرم ماں کا واقعہ:
حضرت ام خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردہ کیے منہ پر نقاب ڈالے اپنے شہید بیٹے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے بارگاہ نبوت ؐ میں آئیں تو کسی نے کہا کہ آ پ اس حالت میں اپنے بیٹے کی معلومات لینے آئیں ہیں کہ آپ کے چہرے پر نقاب ہے وہ فرمانے لگیں!اگر میرا بیٹا جاتا رہا تو کیا ہوا میری حیاء تو نہیں گئی (سبحان اللہ)
(سنن ابوداود ،جلد ٣،ص٩،حدیث نمبر ٢٤٨٨،دارالحیاء بیروت)
میری معزز ماؤں بہنو!
حضرت ام خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرمان میں ہمارے لیے بہت سبق ہے اگر غور کیا جائے تو:
زیب و زینت کرنے والیوں کیلیے گڑھا:
سرکار کون و مکاں ؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ لوگ ایسے دیکھے جن کی کھالیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں میرے استفسار پر بتایا گیا(آپ کا پوچھنا تعلیم امت کے لیے تھا ورنہ آپ کو کس چیز کا علم نہیں)یہ وہ لوگ ہیں جو ناجائز اشیاء سے زینت حاصل کرتے تھے اور میں نے ایک گڑھا دیکھا جس سے چیخ وپکار کی آواز آ رہی تھی میرے دریافت کرنے پر بتایا گیا یہ وہ عورتیں ہیں جو ناجائز اشیاء کے ذریعے زینت کیا کرتی تھیں۔
(تاریخ بغداد ،جلد ١ ص ٤١٥)
یاد رہے کہ آجکل عورتیں مردوں(نامحرموں)کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نکلتی ہیں اور بے حیائی پھیلاتی ہیں اور ہماری مائیں، بہنیں کچھ نام نہاد پیروں(جو شریعت سے نابلد ہوتے ہیں)کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتی ہیں اور انکے پاؤں دباتی ہیں ان کے ہاتھ دباتی ہیں یہ سب حرام ہے
آقا کریم ؐ کا بیعت لینا:
آقا کریم ؐ عورت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے بغیر فقط زبان سے بیعت لیتے تھے
(بہار شریعت،حصہ ١٦،ص٧٨)
مرد اور عورت آپس میں ہاتھ نہیں ملا سکتے آجکل پارکوں میں شاپنگ سینڑوں میں،کالجوں میں، سوئمنگ پولوں میں، کلبوں میں مرد و عورت ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر،بغلوں میں بغلیں ڈال کر پھرتے ہیں یہ سب حرام ہے
سر میں کیل کا ٹھونکا جانا بہتر:
آقائے دوجہاں ؐ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کسی کے سر میں کیل ٹھونک دیا جانا بہتر ہے اس سے کہ کسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں
(المعجم الکبیر جلد ٣٥،ص٢١٢،حدیث نمبر ٤٨٧)
آجکل بے پردگی کی جو خرابیاں سامنے آرہی ہیں وہ بیان سے باہر ہیں کچھ خرابیاں میں حسب ذیل درج کیے دیتا ہوں
١۔عورتوں کا بالکل باریک لباس پہننا اور نیم برہنہ حالت میں ہونا۔
٢۔عورتوں کا رقص کرنا اور مردوں کے ساتھ رقص کرنا یہ مکروہ ترین کام ہے
٣۔ ساحل سمندر پر اور دریاؤں اور نہروں کے کنارے پر مردوں کے ساتھ مخلوط ہو کر پھرنا خوش گپیوں میں مشغول ہونا۔
٤۔بیویوں کا خاوندوں پر حکم چلانا انکو اپنے ماتحت کرنا۔
٥۔ٹرین، ہوائی جہاز میں بے پردگی کے ساتھ اجنبی مردوں کے ساتھ سفر کرنا۔
٦۔کلبوں میں جانا سینماؤں میں جانا۔
٧۔عورتوں کا بطور سوسائٹی گرل مخرب اخلاق کاموں میں مشغول رہنا
٨۔اجنبی مردوں کے ساتھ کھیل کھیلنا۔
٩۔دوپٹہ کو بطور سکارف استعمال کرنا۔
١٠۔عورتوں کا خوشبو وغیرہ لگا کر بازاروں میں جانا۔(وغیرہ،وغیرہ)

بہرحال اس کے علاوہ اور بہت سی خرافات، خرابیاں بے حیائی وفحاشی و عریانی کے کام پاکستان میں ہو رہے ہیں حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ ان کا سدباب کرے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسوئہ رسول ؐ پر عمل کرنے کی توفیق دے بے حیائی و فحاشی کو رو کنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2811 Print Article Print
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 100 Articles with 70913 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

محترم آپ سے عرض ہے کہ جو باتیں آپ نے عورتوں کے بارے میں لکھی ہیں، ان میں مرد بھی برابر کے شریک ہیں. اس لیے صرف عورتوں کو نا قصوروار ٹھہرائیں کیوں کہ صرف پردے کے علاوہ باقی سب احکام مردوں کے لیے بھی ویسے ہی ہیں جیسے عورتوں کے لیے.
By: اسامہ علی, راولپنڈی on Jun, 15 2019
Reply Reply
0 Like
MashAllah
very nice and i think if we are true 100percent praticing Muslims, we have to adopt it in our famalies,

jazak Allah
By: saleem, FEZ on Oct, 02 2010
Reply Reply
0 Like
Oh; brother app kis duina me rehaty hen muzhub ur pardha se attchment he us se andaza huta he k hum Quran ur ALLAH se attach hen dua karen Allah hum sub ko quran e sunat per amal karnay wala banye ameen
By: jamila, karachi on Sep, 19 2010
Reply Reply
0 Like
Jazak ALLAH .
By: Kashif Akram, Kuwait on Sep, 15 2010
Reply Reply
0 Like
bai Allah ap ko khush rakhe
ameen
buhat acha kalam he
ham is par amal karna chahye
neez hamara ilam e gheb par pukhta eman he
waslam
By: sadia rani, multan on Sep, 09 2010
Reply Reply
0 Like
اللہ آپ کو خوش رکھے
بھت ہی اچھا مضمون ہے اعتراض کرنے والے کرتے رہتے ہیں پریشان نہ ہوں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے
دل موہ لینے والی تحریر ہے والسلام
By: sadaf, krachi on Sep, 09 2010
Reply Reply
0 Like
جناب برھان صاحب
آپ نے یاایھا النبی کا ترجمہ اے غیب دان نبی گرائمر کا کس رو کیا ہے ذرا وضاحت کی جائے
By: Rizwan sherazi, bnw on Sep, 09 2010
Reply Reply
0 Like
محترم برہان صاحب
السلام علیکم
میں تو آپ کو ایک سمجھدار اور دانا انسان سمجھتا تھا لیکن آپ کے انداز مخاطب سے مجھے بے حد افسوس ہوا آپ سے میں نے دو قرآن کریم کی آیتوں کے بارے میں سوال کیا کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب کلی کی نفی ہوتی ہے آپ نے انتہائی جرات اور زبان درازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے "بے تکی اور بے معنی "بات قرار دے دیا ہے اس کے علاوہ میں اور کیا آپ سے پوچھتا۔ اللہ آپ ہر رحم کرے اور اس گستاخی پر پکڑ اور مواخذہ نہ کرے ،مجھے معاف کردیں میں ایسی گفتگو کا جواب دینے سے باز آیا جس میں اللہ کے قرآن کی توہین ہو اور اس کو بے تکا اوربے معنی قرار دیا جائے یہ میرا آپ کو آخری جواب ہے اللہ آپ کی اور ہماری حفاظت فرمائے
By: Ghazi Abdul Rehman Qasmi, Multan on Sep, 08 2010
Reply Reply
0 Like
جناب برھان صاحب آپ مضمون بہترین ہے جو بات کی ہے بالکل ٹھیک ہے
By: ahmed jalali, multan on Sep, 06 2010
Reply Reply
0 Like
السلام علی من اتبع الھدیٰ
عبد الرحنان صاحب
میں نے ابھی کافی جواب دینا مگر اب نہیں دوں گا
کیونکہ منانا میرا کام نہیں اپنا اپنا نصیب ہے
اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم ذاتی نہیں مان رہا بلکہ میں نے بھی یہی کہا اللہ کی عطا سے
اور آپ کلی نہ سہی کم از کم جزوی تو مان رہے ہیں یہی کافی ہے
میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں آپ کی ہر بے تکی اور بے معنی بات کا جواب دوں اب آپ کا کوئی جواب نہیں آئے گا بحث وہاں کی جاتی ہے جہاں کوئی فائدہ ہو دیوار سے سر مارنے سے اپنا ہی سر پٹھتا ہے
والسلام
By: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, jhelum on Sep, 06 2010
Reply Reply
0 Like
thanx
sajad sb
By: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, jhelum on Sep, 06 2010
Reply Reply
0 Like
محترم سلام
آپ کا جواب دینے کا شکریہ ،ایک بات کی وضاحت کردوں کہ نبی کا لفظ جب بھی بولا جائے گا تو اس سے مرادوہ معنی ہوگا جو عرف میں مراد لیا جاتا ہے اور وہ حضرات انبییاء مراد ہوتے ہیں مثال کے طور پر ایک آدمی دوسرے کو کہے کہ میرے لیے سری پائے لے آؤ تو دوسرا ادمی مرغی کی سری اور پنجے لے آئے تو کیا کہا جائے گا کہ اس نے اس کی مراد پوری کی نہیں بلکہ کہا جائے گا کہ عرف کے اندر ان سے مراد گائے بھینس بکرے وغیرہ کی سری اور پائے مراد ہیں لہٰذا نبی کا لغوی معنی اپنی جگہ صحیح لیکن جب بھی اس لفظ کو عرف میں بولا جائے گا تو انبیاء ہی مراد ہونگے۔
دوسری بات قرآن کریم کی آیت کا جواب نہیں دیا جس میں واضح ہے کہ آپ فرما دیں میں غیب کو نہیں جانتا (سورۃ انعام )۔
رہا آپ کا یہ استدلال کے "عما" میں ما ہر چیز کو شامل ہے تو قرآ ن میں آتا ہے "وعلمک ما لم تکن تعلم " ہم نے آپ کو وہ علم دیا جو آپ نہیں جانتے تھے اس آیت سے بھی یہ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ کے پاس علم غیب کلی نہیں تھا ۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے جتنا عطا کرنا تھا کردیا ۔
خلاصہ کلام :آپ میری بات کا غلط مطلب نہ لیں میرے نزدیک اصل عالم الغیب ذات اللہ کی ہے اس کے برابر کا علم کسی بھی انسان کے پاس نہیں۔ اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ کے پاس اتنا علم غیب تھا جو اللہ نے دیا۔ ہر چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہماری آپ سے کوئی بحث نہیں ہے۔ میں خود بھی اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتا تاہم ایسے بے شمار دلائل قرآن وحدیث سے دیے جاسکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب کلی نہیں تھا۔ علم غیب کلی صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔
By: Ghazi Abdul Rehman Qasmi, Multan on Sep, 04 2010
Reply Reply
0 Like
علم غیب کے بارے میں دو قسم کی آیت ہیں
ایک نفی میں اور دوسری ثبوت میں
نفی میں
پارہ ٩رکوع ١٣'پارہ ٢٥رکوع١'پارہ ٧ رکوع ١١'پارہ ٧رکوع ١٣
ثبوت میں
پارہ ٤ رکوع ٩'پارہ ٣ رکوع ١٣'پارہ ٢٩سورہ جن'پارہ ٣٠سورہ تکویر
قرآن پاک ان دو مفاہیم والی آیات کریمہ جن میں بظاہر تضاد نظر آتا ہےاور قرآن پاک پر تو ہمہ گیر مساوی حثییت سے ہی ایمان رکھنا ضروری ہے اگر بعض کو مان لیا جائے اور بض کو نہ مانا جائے تو ایمان کیسے قائم رہے گا؟ان مذکورہ آیات متعلقہ بعلم غیب پر مساوی حیثیت سے ایمان رکھنا اور ان آیات کی آپس میں مطابقت صرف اسی صورت میں ہےکہ جن آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کے لیے علم غیب کی نفی کی گئی ہے ان سے مراد لی جائے کہ ذاتی طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور جن آیات میں انبیاء کرام کے لیے علم غیب کا ثبوت ہے ان سے مراد لی جائے کہ انبیاء اور اولیاء اللہ تعالیٰ کی عطا سے جانتے ہیں اس صورت میں قرآن پر یکساں طور پر ایمان رکھا جا سکتا ہے بصورت دیگر قرآن پاک پر شک کرنا ہی کفر ہوگا۔
جاری ہے
By: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, jhelum on Sep, 04 2010
Reply Reply
0 Like
KYA BAAT HAI BURHAN BHAI AAP KI AAP NEY BILKUL THEEK LIKHA HAI AAJ KI LARKION AUR LARKON KO YE ZARA B KHIYAL NAHI AATA K HAM NEY AIK DIN MARNA B HAI YE NAHI SOCHTEY KEHTAY HAIN K BUS DO DIN KI ZINDAGI HAI AAYASHI KAR LIEN
By: SAJJAD, GUJRAT on Sep, 04 2010
Reply Reply
0 Like
غازی عبدالرحمان صاحب
میں نے اس کو طوالت نہیں دینی تھی مگر آپ نے اعتراض کیا اس جواب دینا میرا فرض ہے میں کوئی فرقہ واریت نہیں پھیلا رہا بلکہ جو حق بات ہے وہ کر رہا ہوں
آپ یہ چند نکات پڑھیں
١:سلونی عما شئتم میں موجود لفظ ما ھر فرد کائنات کی ہر جزی کو شامل ہے
٢:لفظ نبی جدید عربی لغات المنجد ص ٩٨٦ میں نبی کا ترجمہ ''اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی بنیاد پر غیب کی باتیں بتانے والا (مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
٣:نبی کا ترجمہ اگر صرف خبر دینے والا کیا جائے تو کیا ہر خبر دینے والا نبی ہو گا؟
٤:لفظ نبی کا ترجمہ مذہب اسلام کی باتیں بتانے والا کیا جائے تو کیا ہر مبلغ نبی ہوگا؟
٥:لفظ نبی کا ترجمہ اگر صرف الہام کی بناء پر اسلام کی خاص راز کی باتیں بتانے والا کیا جائے تو کیا ہر ولی غوث قطب نبی ہوتا؟
لا محالہ کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص مخفی اسرار غیب کی باتیں بتانے والے کو ولی کہتے ہیں
جواب جاری ہے
By: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, jhelum on Sep, 03 2010
Reply Reply
0 Like
جناب غازی عبد الحمان صاحب
حدیث مبارکہ ہے کہ
قال الغزالی قال الامام مالک فی الموطا انہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اما انی لا انسیٰ ولکن انسی لا اشرع وفی لفظ انما اسھولا سن
ص٤٢ ج ٤ احیا ء العلوم مطبوعہ مصر
امام غزالی فرماتے ہیں کہ سید عالم نے فرمایا کہ میں خود نہیں بھولتا لیکن بھلا دیا جاتا ہوں تا کہ میری شریعت کا کوئی قانون لاگو کیا جائے یا کسی حکمت خداوندی کا اظھار مقصود ہوتا ہے
رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال
بالکل مختصراً جواب عرض ہے کہ
کہ نبی یا ولی کی غیب دانی کے لیے توجہ ضروری ہے اللہ تعالیٰ کا والم الغیب ہونا توجہ کا محتاج نہیں
اور یہ کہ آپ خود فرما دیتے تو اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے کہ یہ آپکی زوجہ ہیں اس لیے آپ نے صفائی بیان کی ہے آپ سچائی دوسروں کی زبانی کہلوانا چاہتے تھے اور یہ کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو کئی مسائل کے بارے میں امت مسلمہ کو پتہ نہ چلتا یہ تو امت مسلمہ پر احسان ہے
اور
بخاری شریف ص ٢٠ ج ١ اور مسلم شریف ص٢٦ ج ٢ میں
سلونی عن ما شئتم کی حدیث مبارکہ مزکور ہے
جو جی چاہے کسی کا مجھ سے پوچھ لے ہمارے نبی پاک کے کلی علم کا بہت بڑا عظیم چبوت یہ الفاظ بھی ہیں شارحین حدیث کے مطابق نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم میں تنقید کرنے والے منافق تھے
باقی جواب میں جلد دوں گا آیات کا بھی میں اس وقت زرا مصروف ہوں
والسلام
By: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, jhelum on Sep, 02 2010
Reply Reply
0 Like
janab burhan jalali sahib A o A, ap ka article bohat maolomati tha ,logon ko aitraz karnay ki adat hai ,is liey parsahan na hon taham aik bat araz karon tahqiiq kartay waqat ihtieayat say kam lein rasoolullah( pbuh ) ki zat -e - alia mien jo sifat wa khobian thien quran aur hadees sahaba kay aqwal sy sabit han un ko bayan kaeriin agar khur muhabbat ky josh mein akar aise bateein jo quran majeed aur hadees ki taliamat aur haqaiqo waqiat kay mutabiq na hon tu is jug hansai jo ho gi woh to ha sath nabi kareem (pbuh) ki zat -e-alia ki taraf ghalat bat mansoobe karna lazim aiega . is lieay jlalal ki bajaeay kamal say kam leiin tahqeeq aur us par tanqiid yeh shuruh roze say han. never mind.
By: babar, lahore on Sep, 01 2010
Reply Reply
0 Like
محترم برہان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا جواب موصول ہوا تاہم ایک چیز کا افسوس ہوا کہ آپ نے حد سے زیادہ جذباتیت کا مظاہر ہ کیا ہے آپ سے ایک سوال پو چھا تھا جو ذہن میں کھٹک رہا تھا ظاہر سی بات ہے جو بندہ ایک تحریر لکھتا ہے تو اس کا کام ہے پڑھنے والوں کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دے نا کہ مطمئین کرنے کی بجائے الٹی سیدھی باتیں شروع کردے جو کہ آپ جیسے پڑھے لکھے سکالر کے لیے مناسب نہیں، آپ نے پہلی بات یہ کہی کہ میں مناظرہ نہیں کرنا چاہتا جو آپ تب کہیں جب آپ کو مناظرہ کی دعوت دی جائے، دوسری بات آپ نے اس قدر بڑی بات کہیں وہ بھی اپنے ایک مسلمان بھائی کے بارے میں کہ آپ کا کام حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقائص تلاش کرنا ہے نعوذ باللہ جو بندہ اس قسم کی سوچ رکھتا ہو اس کو تو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے آپ نے اصل سوال کا مدلل جواب دینے کی بجائے، نٹ شنٹ لکھنا شروع کردیا میرے محترم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب کلی تھا تو سورۃ انعام آیت نمبر ۵۰ میں ارشاد باری کا کیا مطلب ہے ؟
قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ ۭقُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۭاَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ
ان سے) کہو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں، اور نہ ہی میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو صرف پیروی کرتا ہوں اس وحی کی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے،اب قرآن یہ بات علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ آپ یہ اعلان کردیں تو اب آپ قرآن کے بارے میں کیا کہیں گے۔ اس لیے خدارا اس قسم کی فرقہ وارانہ گفتگو نہ کریں اور نہ ہی اپنی تحریروں میں اس قسم کی باتیں لکھیں جس سے عام سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان و عقائد خراب ہوں، رہا آپ کا یہ کہنا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ کی خوبیاں بیان کرتے رہیں گے تو یہ اچھی بات ہے کریں لیکن خصوصیات اور خوبیاں وہ بیان کریں جو قرآن وحدیث سے ثابت ہوں خود اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر نہ کریں اس طرح نقصان ہوگا
شاعر کہتا ہے
میرے محبوب میری ایسی وفا سے توبہ
جو تیری ناراضگی کا سبب بن جائے
امید ہے ٹھنڈے دل سے ان گزارشات پر غور کریں گے اور آئندہ کسی مسلمان کے بارے میں لب کشائی کرنے سے پہلے احتیاط سے کام لیں
By: Ghazi Abdul Rehman Qasmi, Multan on Sep, 01 2010
Reply Reply
0 Like
غازی عبرالرحمان صاحب آپ کے سوالات کے جوابات بہت ہیں مگر میں مناظرہ نہیں کرنا چاہتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم کلی تھا اور ہے
بہرحال آپ کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقائص تلاش کرنا ہے
مگر ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم خوبیاں بیان کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے
انشاء اللہ
By: m.burhan, jhelum on Aug, 31 2010
Reply Reply
0 Like
Oh! Brother! what can i say? I have appreciated your efforts. Your choose of subject is tremendous not even but excellent. i hope that which pinpoint you mention in your article people read and well aware. They will avoid delivish act in their life. Islam not only protect women but give shelter to them.
Overall your chose of words and way of express has been to good.
wardm Regard
By: shah Nawaz Bokhari, islamabad on Aug, 30 2010
Reply Reply
0 Like
محترم برہان الحق صاحب
السلام علیکم آپ کا آرٹیکل پردہ اسلا م اور عورت پڑھا بہت اچھا مضمون ہے تاہم ایک بات آپ سے پوچھنی ہے کہ آپ نے ایک جگہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اے غیب دان بنی؟اس کی وضاحت کردیں کہ غیب دان سے کیا مراد ہے؟اگر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم تھا تو پھر حضرت عائشہ پر جب تہمت لگی تو کئی دن پریشان کیوں رہے؟ بیرمعونہ پر ستر قاری جن کو آپ نے تبلیغ کے لیے خود بھیجا تھا وہ شہید کردیے گئے اگر آپ کو غیب کا علم تھا تو ان کو کیوں بھیجا، وحی کا علم بھی آپ کو تھا اس عقیدے کے مطابق تو پھر جبرائیل پیغامات لے کر کیوں آتے تھے آپ تو غیب دان تھے، غزوات میں آپ کے سگے رشتے دار، اصحاب شہید ہوئے تو جب آپ کو پتہ تھا ان کی موت کا تو بچانے کی تدبیر کیوں نہ کی۔
غرض یہ کہ اس قسم کی بہت سے باتیں ذہن میں آرہی ہیں جن کا اس ترجمہ کے مطابق جو آپ نے لکھا ہے مطلب سمجھ میں نہیں آتا لہٰذا براہ کرم ان چیزوں کی وضاحت کردیں دوسرا آپ کو غیب کا علم جو دیا گیا شروع سے تھا یا نبوت کے بعد اور علم غیب کلی تھا یا جزوی
By: Ghazi Abdul Rehman Qasmi, Multan on Aug, 30 2010
Reply Reply
0 Like
salam burhan sahab
aap ne kamal kardia hai is article mai.....
ye batain hamari maon(mothers) ko sochni chahiye k unki betiyan(daughters) kia karti hain, kis se baat karti hain, kis se milna jholna hai unka...
ALLAH hamay sub musalamon ko seedha rasta dikha or hamay muaf farma hum buhat gunahgar hain...
AMEEN
By: zeeshan, karachi on Aug, 30 2010
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ