چوہدری نثارکی کسی اور سے وفاداری؟

(Riaz Aajiz, Karachi)
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ہفتہ کی شام نیوز کانفرنس میں سانحہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں صرف جج کی عزت نہیں ہوتی بلکہ جو لوگ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ان کی بھی عزت ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ رپورٹ میں مجھے ذاتی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ درست عمل نہیں۔ اس موقع پر انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ وہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے کر جائیں گے جسے پاکستان تحریک انصاف نے توہین عدالت کے مترادف قرار دیا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ کمیشن نے مجھ سے پانچ سوالات پوچھے تھے۔ جن کا میں نے جواب دے دیا تھا۔ کمیشن نے پوچھا تھا کہ آپ نے اہلسنت والجماعت کے احمد لدھیانوی کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کیوں کی؟ چوہدری نثار نے جواب دیا کہ میں نے اہلسنت والجماعت کے کسی وفد سے ملاقات نہیں کی۔ کمیشن نے دوسرا سوال کیا کہ آپ نے اہلسنت والجماعت کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت کیوں دی تو چوہدری نثار نے جواب دیا کہ جلسوں، جلوسوں کی اجازت دینا یا نہ دینا میرا ختیار نہیں۔ یہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کاکام ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب میں نے اس سلسلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے پوچھا تو انھوں نے بھی اس قسم کی کوئی اجازت نہیں دی۔ کمیشن نے تیسرا سوال یہ کیا کہ نیکٹا کااب تک کوئی بھی اجلاس کیوں نہیں ہوا۔ جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ یہ بات بھی درست نہیں کہ اجلاس نہیں ہوا۔ انھو ں نے کہا کہ نیکٹا کا اجلاس31دسمبر2014کو ہوا ہے۔چوتھا سوال یہ پوچھا گیا کہ نیکٹا کے بورڈ آف گورنرنس کا اجلاس کیوں نہیں ہوا۔ اس پر چوہدری نثار نے جواب دیا کہ یہ سوال وزیراعظم آفس سے متعلق ہے۔پانچواں سوال یہ پوچھا گیا کہ وزارت داخلہ میں اسپیشل سیکریٹری کیوں موجود ہیں؟ اس پر چوہدری نثار نے جواب دیا کہ اسپیشل سیکریٹری قانون کے مطابق ہیں۔ عام طور پر جن وزارتوں میں کام زیادہ ہوتا ہے وہاں اسپیشل سیکریٹری رکھے جاتے ہیں۔ وزارت خارجہ، وزارت قانون سمیت دیگر وزارتوں میں اس قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ یہاں دو بڑے اہم نکات ہیں کہ جن پر بات ہونی ضروری ہے۔ پہلے سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ان کی اہلسنت والجماعت کے کسی وفد سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ لیکن بقول ان کے جب کمیشن نے ان کے جواب کے بعد مختلف اخبارات میں چھپی ہوئی تصاویر ارسال کر دیں تو جواب میں چوہدری نثار نے آدھا سچ مان لیا اور کہا کہ مولانا سمیع الحق نے فون کر کے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ اس وفد میں اہلسنت والجماعت کے احمد لدھیانوی بھی تھے۔ سوال یہ ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ ایک کا لعدم جماعت کے سربراہ سے اپنے دفتر میں ملاقات کیسے اور کس قانون کے تحت کر سکتے ہیں؟ حکومت نے خود ہی تو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اہلسنت والجماعت کو کالعدم جماعت قرار دیاہے پھر اس کے بعد اس جماعت کے سربراہ سے کسی بھی وفد کے ساتھ ملاقات کیسے اور کس قانون کے تحت کی جا سکتی ہے؟ کیا چوہدری نثار کا یہ فرض نہیں تھا کہ مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں آنے والے اس وفد میں شامل اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی سے ملاقات سے انکار کر دیتے۔ یا پھر پورے وفد ہی سے نہ ملتے۔ یہ درست ہے کہ چوہدری نثار کے احمد لدھیانوی اور ان جیسے درجنوں لوگوں سے ذاتی تعلقات ہے لیکن جب وہ وزارت کے منصب پر فائز ہیں تو پھر انھیں اپنے ذاتی تعلقات ایک طرف رکھ کر ان سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔یہ ملاقات ثابت کرتی ہے کہ چوہدری نثار کے کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں سے ذاتی مراسم ہیں جس کی وجہ سے وفاقی وزیرداخلہ کے دل میں ان جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے حوالے سے نر م گوشہ موجود ہے جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً عملی طور پرکرتے رہتے ہیں لیکن ان کے اس عمل کی وجہ سے ملکی سالمیت ، یکجہتی اور امن و امان خطرے میں پڑ رہے ہیں۔ دوسرا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ چوہدری نثار نے کمیشن کو جواب دیا کہ جلسے جلوسوں کی اجازت دینا ضلعی انتظامیہ کا اختیار ہے وزرارت داخلہ کا اس حوالے سے کوئی لینا دینا نہیں۔چوہدری نثار نے کمیشن کو جواب میں کہا کہ انھوں نے جب ضلعی انتظامیہ سے پوچھا تو انھوں نے بھی جلسے کے انعقاد کے حوالے سے کسی کو کوئی اجازت جاری نہیں کیا۔ چلئے اس موقف کو درست تسلیم کر لیتے ہیں کہ نہ تو چوہدری نثار نے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے کالعدم جماعت کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دی ۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کا لعدم تنظیم یا کوئی دوسری جماعت جب چاہے اسلام آباد میں کسی بھی وقت کسی بھی جگہ بغیر اجازت جلسے جلوس منعقد کر سکتی ہے ۔ انھیں اس ملک میں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔پھر اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان ایک بنانا ری پبلک ہے؟ جس کا جب مرضی چاہے وہ ملک کے کیپیٹل میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اگر اسلام آباد میں کا لعدم جماعت کا جلسہ بغیر اجازت ہوا تو پھر اس وقت ، وزارت داخلہ اور اس کے ما تحت شہر کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے؟ بغیر اجازت جلسہ کرنے والوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟ کیوں قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی؟ کیا یہ ملک سے وفاداری ہے یا کسی اور سے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40602 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2016 Views: 311

Comments

آپ کی رائے