ایک عدد رشتہ درکار ہے

(Sana, Lahore)
بات جب حد سے بڑھ جائے تو بہت سے غیور اپنے لئے رشتہ خود بھی ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اگرچہ جو خوار ہوتے ماں باپ ہیں انکو یہ بات ایک آںکھ نہیں بھاتی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتے کے ترسے ہوؤں کو ہر دوسری حسینہ دو آنکھ ہے بھاتی۔ اسی لئے آج کے دور میں شادی کروانے کی ذمہ داری ماں باپ سے ذیادہ کورٹ نے سنبھال لی ہے۔

رشتہ نہ ملنا وہ مسئلہ ہے جسکے لئے عوام الناس حکومت تک کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے ورنہ اب تک مال روڈ پر یقینی بہت سے دھرنے اس ضمن میں ہو رہے ہوتے کہ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتوں کا حصول حکومت آسان بنائے

کبھی کبھی لگتا ہے کہ گیس ، بجلی اور رشتتوں کی نایابی پاکستان کا قومی مسئلہ ہے۔ شاید ہی پاکستان کا کوئی گھرانہ ہو جہاں ان تینوں نے مسائل نہ کھڑ ے کر رکھے ہوں۔ ہر گھر میں ہی بجلی و گیس سے چلنے والی اشیا اور رشتے کے قابل بچے بچیاں موجود ہیں مگر وہی بات کہ بجلی گیس اور ' مناسب' رشتہ نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دور دور تک انکےنظر آنے کے امکانات بھی نظر نہیں آتے۔

انسان کو اللہ نے زندگی گزارنے کے لئے بہت سی سہولیات دے رکھی ہیں جیسے کہ ہوا پانی پھل اناج اور گھر والا بمعہ گھر والی۔ مگر مسئلہ اس بات کا ہے کہ انسان کو زندگی کی سہولیات کو ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ اسی لئے انسان کی اس تلاش کو آسان کرنے کے لئے کام وام بھی ہو رہا ہے اور جو آج کے دور میں پاور گرڈ سٹیشن ،سپر سٹورز اور میرج دفاتر ہمیں نظر آتے ہیں وہ انسان کو سہولت پہنچانے کی ہی ایک کڑی ہیں۔

اچھا رشتہ اور خالص شہد میں یہ خاصیت مشترک ہے جتنا بھی ٹھوک بجا کر لیا جائے بعد میں پتہ لگتا ہے اصلیت وہ نہیں جو سمجھ رہے تھے یہ نقلی ہی ہے۔ انسان کی زندگی میں شادی نبھانا ایک طرف اور رشتہ طے ہو جانا دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں جسکا رشتہ طے ہو جائے وہ ایسے ہواؤں میں اڑتا پھرتا ہے کہ جب شادی ہو جاتی ہے تبھی واپش اترتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ دھڑام سے گر کر خواب سے جاگتا ہے۔

رشتہ نہ ملنا وہ مسئلہ ہے جسکے لئے عوام الناس حکومت تک کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے ورنہ اب تک مال روڈ پر یقینی بہت سے دھرنے اس ضمن میں ہو رہے ہوتے کہ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتوں کا حصول حکومت آسان بنائے۔ ہمارے ہاں یہ بہت دلچسپ کھیل ہے خود چاہے جیسے بھی ہوں رشتہ " اچھا" ہو پر ہی زور دیا جاتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جو اچھا رشتہ ڈھونڈنے اور ملوانے پر زور دیتے ہیں ان سے اگر اچھا کی تعریف مانگ لی جائے تو شرما کر اپنی تعریف شروع کر دیں گے یا وہ وہ خوبیاں بتائیں گے جو امیر بلکہ انتہائی انسان کی ہو سکتی ہیں اچھے انسان کی ہونے میں شبہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتہ ڈھنڈتے ڈھونڈتے جوتیاں اور گاڑیوں کے ٹائر دونوں ہی پھٹ پڑتے ہیں مگر مجال ہے کہ کہیں سے کوئی ایسا رشتہ نظر آجائے جسکو "اچھا" کہا جاسکے۔

شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ موبائل گیجٹس کے استعمال کی وجہ سے قریب کی نظر کمزور پڑ گئی ہو۔ اسی لئے سفر کر کر کے بھی کوئی ظفر اور کامیابی کا اثر آنکھوں پر نظر نہ آتا ہو۔ رشتہ وہ مسئلہ ہے جو دن بہ دن جھاڑ جھنکاڑ کی طرح بڑھتا جا رہا ہے اور اسکا سد باب کرنے کی کوشش شادی دفاتر کے ساتھ ساتھ آن لائن شادی دفاتر نے بھی سنبھال لی ہے۔

آن لائن شادی دفاتر جس طرح کی خصوصیات اور تراکیب بتاتے نظر آتے ہیں اس سے انسان کو یقین ہو جاتا ہے اس زمین سے نہیں پلوٹو یا مارس سے یہ دفتر والے کوئی نہ کوئی رشتہ اور گوہر نایاب ضرور ڈھونڈ لائیں گے۔ اسی لئے ان شادی دفاتر کے "متاثرین " اور "کاروبار" میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ آن لائن ہے یا ان محلہ ہے ۔ بس ایک شادی دفتر کی دہلیز پر قدم رکھنا سب کو اپنے مسائل کا حل لگتا ہے۔

بات جب حد سے بڑھ جائے تو بہت سے غیور اپنے لئے رشتہ خود بھی ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اگرچہ جو خوار ہوتے ماں باپ ہیں انکو یہ بات ایک آںکھ نہیں بھاتی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتے کے ترسے ہوؤں کو ہر دوسری حسینہ دو آنکھ ہے بھاتی۔ اسی لئے آج کے دور میں شادی کروانے کی ذمہ داری ماں باپ سے ذیادہ کورٹ نے سنبھال لی ہے۔

رشتہ ڈھونڈنے کے روایتی طریقوں میں ایک طریقہ تو اخبار میں اشتہار دینے کا بھی ہے اس سے رشتہ ملے نہ ملے، مگر پڑھنے کو لطیفے ضرور مل جاتے ہیں۔ اب ان لطیفوں کو کون کتنی سنجیدگی سے لیتا ہے یہ تو نایابی رشتہ دیکھتے ہوئے اندازہ ہو رہا ہے کہ کوئی نہیں لیتا۔

انسان نے زندگی بنانے میں جتنی محنت کی ہوتی ہے وہ ایک طرف اور رشتہ خاص طور پر یہ والا "رشتہ" صرف ڈھونڈنے میں ہی کی ہوتی ہے وہ دوسری طرف۔ اس رشتے کے جڑنے بر ہمارے ہاں بہتت سے نئے رشتے بنتے اور پرانے رشتے اکثر ٹوٹتے دیکھے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ رشتہ بھی ذیادہ تر دعا اور تعویزوں کے سہارے ہی چل رہا ہوتا ہے۔

پہلے ان رشتوں کو ڈھونڈنے کے لئے بے شمار ورد کئے ہوتے ہیں اور پھر ان رشتوں کو سلامت رکھنے کے لئے ورد کئے جاتے ہیں اور آدھی دنیا انکو توڑنے کےلئے رُل رہی ہوتی ہے اور آدھی انکو جوڑنے کے لئے تڑپ رہی ہوتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 182361 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
21 Dec, 2016 Views: 3390

Comments

آپ کی رائے
Very nice
By: mini, mandi bhauddin on Dec, 23 2016
Reply Reply
0 Like