عربی کا وجوب حضرت لدھیانوی شہید کی نظر میں

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
18 دسمبر عربی زبان کا انٹر نیشنل ڈے ہے،کراچی میں جامعہ بنوریہ ،اسلام آباد میں شیخ زاہد شاہد کی جمعیۃ عُشّاق العربیۃ ،بابائے عربیہ شیخ بشیر احمد مرحوم کےمعہد اللغۃ العربیۃ اور ڈاکٹر طاہر محمود اشرفی کے پاکستان علماء کونسل نے بڑے تزک واحتشام کے ساتھ یہ دن منایا،باری تعالی کا شکر ہے کہ اس حوالے سے کچھ بیداری ، شعور اور آگہی قوم میں پیدا ہورہی ہیں،عبدالرحمن بشیر صاب نے اس کے لئے 17 دسمبر کو بلو ایریا سے پارلیمنٹ تک ایک باوقار واک کا بھی اہتمام فرمایا، جس میں پاکستان سے حرمین شریفین تک پیدل سفر کرکے حج پر جانے والے جناب کثرت رائے صاب نے بھی بطور خاص شرکت کی،اسی شعور وآگہی کے سلسلے میں ہم یہاں شہرۂ آفاق محدث اور عظیم المرتبت عالم دین حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید کے درسِ حدیث میں سے ایک جامع تشریح نقل کرنا چاہتے ہیں:

‘‘(عشاء کی نماز کو عَتَمہ نہ کہو) ۔ ۔ ۔ ۔ [حدیث:۶۰۷] :‘‘صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ مزنی ؓسے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے ارشاد فرمایا: یہ بدوی عجمی لوگ تمہاری مغرب کی نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں، کیونکہ بدو مغرب کے وقت کو عشاء کہتے تھے۔’’

[حدیث:۶۰۸]: ‘‘صحیح مسلم میں حضرت ابن عمرrسے روایت ہے کہ بدو تمہاری نماز عشاء کے نام پر غالب نہ آجائیں۔ یہ رات کے اندھیرے میں اپنے اُونٹوں کا دودھ دوہا کرتے تھے اور اس کا نام عتمہ رکھا کرتے تھے، اس روایت میں ہے کہ یہ تمہاری عشاء کی نماز پر غالب نہ آجائیں، اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور وہ لوگ اُونٹوں کو دوہنے میں دیر کیا کرتے تھے( چنانچہ وہ عشاء کو نمازِ عَتَمہ کہا کرتے تھے) ۔‘‘( رواہ مسلم:کتاب المساجد، بَاب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا)

اوپر والی حدیث میں ہے کہ سورج کے غروب ہونے کی جو نماز ہے اس کو ہماری زبان میں مغرب کہتے ہیں اور آخری نماز کو عشاء کہا جاتاہے، لیکن عرب کے دیہاتی لوگ مغرب کی نماز کو عشاء کہا کرتے تھے شام کی نماز، اور عشاء کی نماز کو ’’عتمہ‘‘ کہاکرتے تھے، عتمہ کا معنی ہے رات کا تاریک ہوجانا، یعنی اب دن کی روشنی باقی نہیں رہی اور بدؤوں کی یہ زبانی اصطلاح عرب میں اکثر استعمال کی جاتی تھی، بلکہ یہ کہو کہ پہلے ہی استعمال کی جاتی تھی، شریعت تو بعد میں نازل ہوئی، تو اس لئے صحابہ کرام میں سے بھی بہت کی زبان پر یہ الفاظ چڑھے ہوئے تھے کہ مغرب کی نماز کو ان کی اصطلاح کے مطابق عشاء کہتے اور عشاء کی نماز کو عتمہ کہتے، آنحضرت ﷺ نے اس کو منع فرمادیا کہ اگر تم ان کی اصطلاح کو استعمال کرنے لگو گے تو یہ اصطلاح تم پر غالب آجائے گی، بدؤوں کی بولی تم پر غالب آجائے گی اور قرآن کریم نے تمہیں جو نام سکھایا ہے مغرب اور عشاء یہ مغلوب ہوجائے گا، اس لئے شدت کے ساتھ ان الفاظ کو استعمال کیا کرو، یعنی مغرب اور عشاء کے الفاظ، اور جو ان کے نام ہیں یعنی عشاء اور عتمہ ان کو استعمال نہ کرو، چنانچہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ بدؤوں والے وہ نام تو ختم ہوگئے ان کو اب مسلمان نہیں جانتے، مغرب اور عشاء ہی رائج ہے۔

البتہ شیعوں نے نماز نکالی ہے مغربین کی، یہ معلوم نہیں کہاں سے نکالی ہے؟حالانکہ قرآن کریم میں ہے: عشاء کی نماز کے بعد (النور:۵۸) اور یہ اہل سنّت سے دس پندرہ منٹ بعداَذان دیتے ہیں اور اسی وقت ٹرخاکر چلے جاتے ہیں، تین رکعتیں مغرب کی پڑھ لیتے ہیں اور چار عشاء کی اور اس کا نام انہوں نے رکھا ہوا ہے ’’مغربین‘‘، نمازیں تو اللہ اور اس کے رسول نے پانچ مقرر کی تھیں، انہوں نے ظہر اور عصر کو ساتھ ساتھ پڑھنے کا رواج بنایا ہوا ہے، اوراسے ظہرین کہتے ہیں اس طرح ان کے یہاں نمازیں تین وقت ہوتی ہیں، پنج گانہ کے بجائے سہ گانہ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ تو گویا کل تین نمازیں رہ گئیں( خامنہ ئی صاب سے ایک ملاقات میں یہ تین نمازوں والی بات آگئی، تو کہنے لگے کہ اب ہم اپنے لوگوں کو پنجگانہ نماز پے لانا چاہتے ہیں مگر مشکل ہورہی ہے،گویا اصطلاح بھی متأثر اور نمازیں بھی)۔

اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ غیر قوموں کی اصطلاحات بھی ہم پر غالب نہیں آنی چاہئیں، مسلمانوں کی ایک زبان بھی اپنی ہے جو کہ عربی زبان ہے، اس زبان کے سیکھنے، سمجھنے اور اس میں بات کرنے کو بعض علماء تو واجب قرار دیتے ہیں۔

ایک صاحب نے دُشمن کی طرف تیر پھینکا غالباً حضرت سلمان فارسی ؓتھے اور کہا: ’’خُذْھَا مِنِّی وَأَناَ الغُلاَمُ الْفَارْسِیْ‘‘لے تیر کو سنبھال میں بھی فارسی نوجوان ہوں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’وَھَلَّا قُلْتَ وَاَنَا الغُلَامُ الْاَنْصَارِیْ‘‘ تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ میں انصاری نوجوان ہوں۔ فارس کی طرف نسبت کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ تو یہ دیکھنے میں بظاہر بہت چھوٹی سی بات ہے ایک لفظ استعمال کرلیا، مقصود تو وقت کا نام لینا ہے، (عَتَمہ) کہہ دو یا عشاء کہہ دو، لیکن ان اصطلاحات کے بھی دُور رس نتائج نکلتے ہیں۔

اب پچاس نہیں بلکہ ساٹھ ستر فیصد لوگوں کی زبان سے زوجہ کے بجائے وائف ہی نکلتا ہے، میری وائف نے کہا، یہ لفظ کیا آسان ہے اور بیوی مشکل ہے؟ نہیں! انگریزیت کا مزاج بن گیا۔ آنحضرت ﷺ چاہتے تھے کہ بدویت یعنی عجمیت زبان کے راستے لوگوں کے مزاج میں داخل نہ ہو، بدؤوں کے لفظ کو منع کردیا، اور یہاں انگریز نے اپنی پوری تہذیب زبان کے راستے اپنی نلکی سے اُنڈیل دی اور مولویوں کو یہ کہتے رہے کہ کسی کی زبان سیکھنا حرام ہے، توبہ توبہ! ہم کیوں کہیں کہ زبان سیکھنا حرام ہے، ہاں! عربی زبان کی الگ اہمیت ہے، کیونکہ یہ ہماری مذہبی زبان ہے، یہ قرآن و حدیث اور جنّت کی زبان ہے، آنحضر ت ﷺ سے محبت اور عشق کا دعویٰ کرنے والے آپ ﷺ کی زبان و قوم عربی سے بھی محبت و عشق کا ناطہ جوڑ لیں، عربوں اور اہل حرمین کا احترام و تقدس اپنے دل و دماغ میں رچالیں، خیر عربی زبان کی تو ایک اہمیت ہے، باقی ساری زبانیں برابرہیں، اور آج تم زبانوں پر لڑ رہے ہو، انگریزی کا جواز پیدا کرنے کے لئے ہم سے کہتے ہو کہ منع ہے؟ ہم نے یہ نہیں کہا، تمہیں معلوم نہیں کہ یہ کیا برتن ہیں جن میں اپنی تہذیب بھر بھر کر اُنڈیلا جارہاہے۔ لارڈ میکالے نے کہا تھا : میں یہاں ایک ایسا نظام تعلیم رائج کرنا چاہتا ہوں کہ اس کو اپنانے کے بعد مسلمان مسلمان نہ رہے، ہندو ہندو نہ رہے، عیسائی بھی نہ بنے، ہمیں لوگوں کو عیسائی بنانے کا شوق نہیں ہے، عیسائی نہ بھی بنے لیکن مسلمان نہ رہے۔

تو وہ آدھے سے زیادہ عیسائی بنا کر چلا گیا، مسلمان کہلانے والے عیسائی بن گئے، جو مسلمان کہلانے والے ہیں وہ پچاس فیصد عیسائی ہیں، تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بھی اور ہر اعتبار سے، پانی بھی اُلٹے ہاتھ سے پیتے ہیں کیونکہ انگریز بہادر کو اسی طرح دیکھا ہے، وہ استنجا کرتا ہی نہیں اس کو اس ہاتھ کو استنجے کی جگہ لے جانے کی ضروررت ہی پیش نہیں آتی، اس سے زیادہ گندی قوم کون ہوگی جس کو نہ کبھی غسل جنابت نصیب ہوا، اور نہ استنجا نصیب ہوا، آپ پیشاب کریں پھر کسی ڈھیلے یا ٹشو کے ساتھ خشک کرلیں طبیعت مطمئن نہیں ہوگی جب تک پانی استعمال نہ کرلیں، طبیعت میں ایک خاص قسم کی کیفیت رہے گی، جب تک کہ آپ پانی استعمال نہیں کرلیتے، تمہارے نبی ﷺکی کیاتعلیم تھی، اور تقلید کرتے ہو ان لوگوں کی جنہوں نے کبھی استنجا نہیں کیا ساری عمر، اور جنہوں نے کبھی غسل جنابت نہیں کیا، انگریز بعضے تو نہاتے ہی نہیں اور اگر کبھی نہانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو آج کل جیسے ٹب تمہارے گھروں میں بنواکر دے رہے ہیں اس میں نہالیتے ہیں، اس میں پانی بھر لیتے ہیں اور اس میں بیٹھ جاتے ہیں ڈبکیاں لے کر باہر نکل آتے ہیں، اب تم بتائو کہ پانی پاک ہوگا یا ناپاک ہوگا، اسی گندے پانی کے اندر نہاتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ تہذیب یافتہ آدمی وہ سمجھا جاتاہے جو انگریزی خوب چبا چبا کر بولے، تمہاری اپنی علاقائی زبانیں یہ تمہیں کاٹ کھانے کو دوڑتی ہیں، ان زبانوں کی بنیاد پر تم ایک دوسرے سے لڑتے ہو، لیکن اس بدبخت قوم کی زبان تم خوب بولتے ہو اور جب ہم ٹوکتے ہیں تو تم کہتے ہو کہ مولوی جی! کوئی زبان سیکھنا بھی گناہ ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ: نہیں! تم زبان ضرور پڑھتے سیکھتے اور بولتے، لیکن ان کی تہذیب کا بھی اسی طرح بائیکاٹ کرتے جیسے کہ تم نے ان کے دین کا بائیکاٹ کیا تھا، تو انگریزی تہذیب تمہارے اندر نہ آتی، انگریزی معاشرت اور انگریزی تمدن یعنی انکا رہن سہن یہ تمہارے اندر نہ آتا، اور اب جیسا کہ میں عرض کرتا ہوں پچاس فیصد لوگ عیسائی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو اصل مسلمانوں کی تہذیب ہے اس کو ذلیل سمجھتے ہیں، یوں کہو کہ اپنے نبیﷺ کی زبان، آداب، اصطلاحات اور تہذیب وتمدن کو ذلیل سمجھتے ہیں اور یہ غیر مختون قوم جنہوں نے اپنا ختنہ بھی کبھی نہیں کیا، کبھی استنجا نہیں کیا، کبھی غسل جنابت نہیں کیا ،ان سے بدبو آتی ہے، ذرا ان کے رہن سہن کے علاقوں، ٹرین کے ڈبوں مین جاکر دیکھیں ،کتنے بدبودار اور سڑے ہوئے ہوتے ہیں یہ لوگ، جب میں کبھی ان کی تہذیب پر غور کرتا ہوں تو متلی ہونے لگتی ہے، ان کی تہذیب ان کا طرز معاشرت یہ ہمارے نزدیک باعث وقار ہے تو بتاؤ! بجائے پچاس فیصد پچانوے فیصد بن گئے کہ نہیں؟ انا للہ وانا لیہ راجعون!

تو خیر میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ آنحضرت ﷺنے اپنی اُمّت کو غیر قوموں کے الفاظ واصطلاحات سے بھی بچایا ہے، تاکہ ان کا تمدن لغت کے راستے سے تم میں نہ آئے، اور مسلمان جب زندہ تھے تو جہاں مسلمان گئے اپنی زبان ساتھ لے کر گئے اور جب یہ مردہ ہوگئے تو جہاں گئے لوگوں کی زبانوں کو اپنے اُوپر مسلط کیا، چودہ سو سال گزرگئے صحابہ کرامؓ کو، یہ مصر کی زبان عربی، تیونس کی زبان عربی، الجزائر کی عربی، افریقہ تک یہ عربی زبان چلی گئی، حالانکہ ان کا عربی کے ساتھ کیا تعلق؟ عربی زبان تو جزیرۃ العرب کی تھی، لیکن صحابہ جب گئے تو افریقہ کی زبان عربی بنی، مصر کی عربی حتی کہ سینٹرل ایشیا کی شمالی ریاستیں جو ہیں ان میں بھی آج تک عربی زبان بلا تکلف بولی جاتی ہے، ہمارے مولوی عربی نہیں بول سکتے، لیکن وہاں کے علماء بول سکتے ہیں، حالانکہ وہ روسی ریاستیں ہیں جہاں عربی بولنا ہی ممنوع تھا۔

یہ مصطفی کمال اتاترک ترکوں کا جو باپ تھا، ترکوں کا قائداعظم، اس بدبخت نے عربی پر پابندی لگادی، بولنا جرم، حتی کہ عربی رسم الخط پر بھی پابندی لگادئی، رومن الفاظ میں ترکی لکھی جائے گی، یعنی لاطینی حروف استعمال کرکے ترکی لکھی جائے گی، اس نے اتنی سخت پابندی لگائی کہ ایک ہی شام اعلان کرکے پوری قوم کو ان پڑھ بنا دیا، ورنہ ترکی کی سرکاری زبان بھی عربی تھی،ترکی زبان کا رسم الخط بھی عربی والا تھا اور تم لوگ اپنی زبان بھی بھول گئے، صحابہؓ تھے کُل کتنے؟لیکن جہاں گئے اپنی زبان کو رواج دیا اور پھیلایا اور تم عربی زبان بھی بھلا بیٹھے۔( معارفِ نبویﷺ)۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 479714 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
22 Dec, 2016 Views: 736

Comments

آپ کی رائے