فتنوں کے دور میں اسلامی تعلیمات کا حصول ناگزیر ہے

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: ثوبیہ امجد، ملتان
تعلیم یافتہ شخص غیر تعلیم یافتہ شخص سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ تعلیم انسان کو باشعور بنانے اہم مقام رکھتی ہے۔ مگر ایک گہری سازش کے تحت تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ مسٹر اور مولوی کے دو حصوں میں بانٹ کر پھر اسلامی تعلیم کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا گیا اور یوں اسلامی تعلیم حاصل کرنے والوں کا دامن دہشت گردی سے جوڑ کر خوب بدنام کیا گیا۔ عصری تعلیم حاصل کرنے والے معاشرے میں اچھا اور اسلامی تعلیمات حاصل کرنے والا گویا اس معاشرے کا فرد ہی نہیں ہے۔

تعلیم کا حصول پیٹ بھرنے کے لیے یا دو وقت کی روٹی کے لیے تگ ودو نہیں بلکہ ایک انسان کو باشعور بنانے کے لیے ہونا چاہیے تھا تاہم ایسا نہیں ہے۔ ماضی میں قرآن کی تعلیم نمازِ، روزہ، حج سب امورسیکھنے کے بعد لوگ خود کو تعلیم یافتہ سمجھتے یا کہتے تھے مگر اب ایسا بھی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں تعلیم یافتہ صرف وہ شخص ہوتا ہے جوبیرون ممالک سے کچھ پڑھ کر آجائے یا ان کی کہی ہوئی باتیں ان کے انداز میں سیکھ لے۔ اسلام سے جیسے آج کے مسلمان کا دور دور تک تعلق ہی نہیں ہے۔ ہم نے دین کو نظام حیات سمجھنے کی بجائے جزوحیات بنا لیا ہے ۔ ہمارا مقصد جو رکھ کر بھیجا گیا وہ تو کہیں رہے گیا اب تو صرف ایک دوسرے سے دنیا میں آگے بڑھنا اور پیسہ کمانا ہے۔ دولت کے انبار کھڑے کرنے ہیں اس کے لیے چاہے اسلام کی دھجیاں بکھیر دی جائیں۔ چاہے اسلام کے نام پڑھ کر سب کچھ بھول جائیں۔صورتحال تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جائزو ناجائز ذرائع استعمال کر کے دنیاوی تعلیم کو حاصل کیا جاتا ہے۔ اپنے بچوں میں انگریزی طرز کی کتابوں کی طرف مرکوز کرنا ان کتابوں کو اندھادھند بچوں پر مسلط کرنا جیسے ہمارے فرائض میں سے ایک ہے لیکن اسلامی تعلیم کی طرف بڑھنا اس کی طرف رجحان پیدا کرنا مقصد کا حصہ نہیں رہا۔

دین ہمارے لیے فرائض میں شامل ہے۔ جس کا سیکھنا اور جاننا ایسے ہے جیسے ہمارا اس دنیا میں زندہ رہنا۔ اس کے بغیر ہمارا مقصد حیات پورا ہی نہیں ہوتا۔ اگر یہ سمجھا یا کہا جائے کہ اسلام ماضی کے لوگوں کا دین تھا اور اب اس کے احکامات یا اس میں موجود تمام امور کا تعلق موجودہ دور کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بالکل غلط ہے۔ آج کے جدید دور اس میں ہونے والی ترقیوں کے تذکرے اسلامی تعلیمات میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ آج کی سائنس قرآن و سنت سے رہنمائی لیتی آئی ہے اور بہت سی وہ چیزیں جو کبھی کسی نے تسلیم نہیں کی تھی آج کی سائنس نے انہیں ایجاد کر کے اس بات کو تسلیم کیا کہ قرآن پاک میں ان کا تذکرہ پہلے سے کیا جاچکا ہے۔ اسلام ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے لیکن ہم اسے کہیں دور پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

قرآن پاک جو اسلامی تعلیم معاشی، معاشرتی، سیاسی ، ثقافتی ، تمدنی غرض ہر پہلو پر مکمل رہنمائی کرتا ہے حتیٰ کہ دنیاوی تعلیم کے تمام پہلو بھی اسی میں موجود ہیں۔ ہر لحاظ سے مکمل ضابطہ حیات ہے۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو دین اسلام حیات زندگی ہے جو بچوں کے اندر پروان چڑھانا ہمارے اولین فرضوں میں شامل ہونا چاہیے اسلامی تعلیم ہمارے بچوں کو ایک پختہ انسان بناتی ہے ،اس سے روگردانی کیوں؟اپنا دین بھلا کر مغرب کی اندھی تقلید میں بڑھ چڑھ کر حصہ کیوں لے رہے؟ آخر ایسی کیا وجہ ہے جو ہم مغربی کلچر انگریزی تعلیم پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ؟ آخر کیوں ؟؟ ہے کوئی جواب ہمارے پاس؟

ان سب باتوں کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو صرف عصری تعلیم کی حد تک نہیں رکھنا چاہیے بلکہ دین کو بھی شامل حیات کرلینا چاہیے۔اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے بھی ایسے ہی اہتمام کرنا چاہیے کہ جیسے عصری تعلیم کا کیا جاتا ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ موجودہ حالات بہت حد تک بدل چکے ہیں۔ برائیاں ہمارے گھروں میں ایسے آچکی ہیں کہ اپنے دین اور اپنے ایمان کو بچانا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم اس کا دین ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کو دینی تعلیمات دینا بھی ضروری ہے۔

ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک شخص کو اس کے والد نے دینی تعلیم کے نزدیک کبھی نہیں بھٹکنے دیا۔ ان کا ایک مقصد ہوتا تھا کہ مغربی طرز کی تعلیم حاصل کرنا ہے۔ سال بیتتے گئے اور بچہ کڑیل جوان ہوگیا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈگریوں کا ڈھیر لگا دیا۔ مگر اچانک طبیعت خراب ہوئی اور وقت آخر آن پہنچا۔ اس نوجوان نے اپنے والد سے کہا کہ وہ ڈگریاں کہاں سب لے آیے۔ جب وہ لے آیے تو انہوں نے ان سب کو ان کے سامنے رکھا اور کہا آج میں مررہا ہوں اور یہ سب ڈگریاں میرے کسی کام کی نہیں ہیں۔ کاش کہ آپ نے مجھے میرے دین کے متعلق کچھ بتایا ہوتا۔ آج میں کچھ ساتھ لے کر تو جاتا۔ اپنے مالک کو کیا منہ دیکھاؤں گا۔ اس لیے ایسی تعلیم کے حصول کے پیچھے دوڑنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ موت کا وقت اٹل ہے اور کسی بھی وقت آسکتا ہے۔

اس طرح ایک شخص کے بارے مشہور ہے کہ انہوں نے پوری زندگی اپنے بچے کو دنیاوی تعلیم دی باہر ممالک تک پڑھایا۔ ایک وقت آیا کہ ان کا وقت آخر قریب آگیا۔ ان کا نماز جنازہ پڑھانے کے لیے وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ سب کھڑے ہوئے تھے۔ لوگوں نے بیٹے کو کہا کہ آپ پڑھے ہوئے ہیں پڑھائیں تو وہ ہاتھ ملتے ہوئے بولے میں نے تو آج تک جنازہ پڑھا کیا دیکھا بھی نہیں ہے۔ اب یہ وقت تھا کہ جب بیٹا اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنتا۔ ان کے لیے دعائیں کرتا۔ مگر یہ اولاد اب اپنے والدین کے لیے کسی کام کی نہیں ہے۔ اس لیے کہا گیا کہ ایک انسان کے دنیا سے جانے کے بعد جو چیز اسے فائدہ دیتی ہے ان میں سے ایک ان کی اولاد ہوتی ہے۔ جس کے ہاتھ سے کیے جانے والے صدقے، خیرات، دعاؤں سے ثواب ان کے والدین کو بھی ملتا ہے۔ مگر جب ایک شخص ایسی اولاد اپنے پیچھے چھوڑ کر جائے گا کہ جس کے بیٹے کو وضو تک کرنا نہیں آتا۔ جسے دین کے بارے میں الف ب تک نہیں معلوم تو وہ والدین کیا امید رکھتے ہیں کہ ان کے بچے ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا۔ وہ کبھی بھی صدقہ جاریہ نہیں بن سکتے بلکہ ان کے غلط کام اور سیاہ کرتوت میں سے ان کے والدین کو حصہ ملے گا۔ یہ وہ دور ہے کہ جس میں گناہ سوچنے سے لے کر عملی طور پر سرانجام دینے تک انتہائی آسان ہے۔ ایسے دور میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی ضابطہ حیات پردیا ہے۔ ان کی تشریح کے لیے سنت نبوی ﷺ سے بھی نوازہ ہے۔ جس سے ہم خوب اپنی زندگی کے معاملات کو چلا سکتے ہیں۔ ان سے رہنمائی لیتے ہوئے ہم اپنی زندگی کو خوب سے خوب اور اچھے سے اچھی بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے مغربی تعلیمات ، مغربی تہذیب اور سمندر پار کا کلچر ہمارے ایمان کے لیے کسی صورت سود مند نہیں ہے۔ ان کی تعلیم حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم ہمیں اپنے دین کو بھی اسی طرح لے کر چلنا ہوگا۔ اس طرح ہم اچھے اور برے میں بہتر فیصلہ کر سکیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520562 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2016 Views: 557

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ