چیونگ گم

(Kanwal Naveed, Karachi)
زندگی میں بے شمار چیزیں ہم بہت خواہش سے حاصل کرتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد ان کی ہمارے دل و دماغ میں کچھ اہمیت نہیں رہتی۔شروع شروع میں ہماری خواہش کا پورا ہوناہمیں خوشی دیتا ہے اور پھر کچھ عرصہ میں جب خواہش بدلتی ہے تو وہ خوشی ہم سے دور ہو جاتی ہے،اس کی بہترین مثال چیونگ گم ہے شروع میں کچھ ذائقہ اور پھراگر وہی چیونگ گم آپ سوچیں سارا دن چبانے کی سزا مل جائے تو نہ صرف ہمارے جبڑے ہمارا ساتھ چھوڑ دیں گئے بلکہ ذہین بھی اس بے جا مشقت کو برداشت کرنے سے انکار کر دیے گا۔

یہی بات جب ہم دوستوں کے درمیان ڈسکس ہوئی تو میری ایک دوست نے بتایا کہ تم بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو،ایسا ہی ہوتا ہے جب میں کالج میں تھی تو مجھے کالج جاتے ہوئے ایک کانچ کا تاج محل گاڑی سے نظر آگیا میں نے ٹھان لی ۔ یہ میں لوں گی،لیکن جب اس کی قیمت معلوم کی تو پتہ چلا کہ میری جمع کی ہو پاکٹ منی سے بہت ذیادہ تھی،مگر دل تھا کہ ماننے کو تیار نہیں تھا،اس تاج محل کو آتے جاتے دیکھ رہی تھی،میں نے،میری کالج کی دوستوں سے ادھار لینے کی سوچی ۔اس سے میرے پاس دوہزار سات سو روپے جمع ہوئے جبکہ تاج محل ساڑھے تین ہزار کا تھا،پھرمیں اپنی دوست کے ساتھ دوکان پر گئی اور بہت بحث کے بعد دوکان دار نے وہ تاج محل تین ہزار میں دے دیا جبکہ تین سو کا ادھار بھی کیا ،اس دن پورے دس دن کے بعد مجھے چین کی نیند آئی ،روز یہ سوچ کہ کہیں وہ تاج محل کوئی اور نہ خرید لے مجھے سونے نہ دیتی تھی۔پہلے مہنے میں تو میں اسے روز صاف کرتی اور اس کی لائٹ جلا کر دیکھتی۔دوسرے مہنے میں صرف دیکھتی اور تیسرے مہنے میں جب سارا قرض جو اس سے ملحقہ تھا وہ میں نےادا کر دیا تھا،اب کبھی کبھی اس پر بھی نظر پر جاتی۔گھر والوں کو میں نے بتایا تھا کہ یہ میری دوست کی طرف سے گفٹ ہے ۔امی سے پیسے بھی لیے کہ میں بھی اسے گفٹ دوں گی ،امی نے جو پیسے مجھے دیے وہ قرض کی ادائیگی میں کام آئے۔دوسال کے بعد تو وہ تاج محل بس کمرے میں اوپر الماری پر پڑا تھا اور مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی،میری کزن جولاہور سے آئی تھی اس نے جب تاج محل دیکھا تو اس کی ویسی ہی کیفیت تھی جو میری دوسال پہلے ہوئی تھی۔ تاج محل کو دیکھ کر،اس نے مجھ سے کہا کہ وہ اگر اس کی قیمت دے تو کیا میں اسے بیچوں گی ،میں نے اسے قیمت بتائی تو وہ خاموش ہو گئی،اس نے کہا میرے پاس تو فقط دو ہزار ہیں تو میں سوچ میں پڑ گئی اس نے بتایا کہ میرے پاس بہت اچھا جیولری سیٹ ہے جو میں نے بارہ سو میں لیا تھا یہاں آنے سے پہلے اگر تم دیکھو تو میں نے پہلے ہی دیکھا تھا ،میں نے فوراًہاں کہہ کر تاج محل اسے دے دیا۔

یہ تو محض چیزوں کی بات ہے اگر زندگی میں رشتے چیونگ کی طرح ہو جائیں تو انسان کیا کرے ؟میری دوسری دوست انتہائی افسردگی سے بولی،سوال ایسا تھا کہ جس کا جواب دینا کافی مشکل ہوتا ہے،کچھ رشتےواقعی ایسے ہوتے ہیں کہ نہ چھوڑنا بس کا ہوتا ہے اور نہ نبھانا،بس وہ گزر رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی لا علاج مرض ہو جوتکلیف تو دیتا ہے لیکن زندگی کا حصہ ہی رہتا ہے ہم اسے کاٹ کر الگ نہیں کر سکتے،چونکہ بحث کا آغاز میں نے کیا تھا تو سوال کا جواب لینے کے لیے ساری دوستوں کی نظریں بھی مجھ پر آ کر رُک گئی۔

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے کہا آپ نے کس رشتے کی بات کی ہے جو چیونگ گم کی صورت اختیار کر گیا،وہ مسکرائی اور بولی لازمی نہیں کہ کسی ایک رشتے نے انسان کی زندگی میں ایسی صورت اختیار کی ہو بہت سے رشتے یہ صورت اختیار کر لیتے ہیں ،ساس ،بہو کا رشتہ،شوہر ،بیوی کا رشتہ اور کبھی کبھی تو سگے ماں باپ کے ساتھ انسان کی نہیں بن رہی ہوتی۔ہم غور کریں تو ہمارا معاشرہ ایسے بے شمار رشتوں سے بھرا ہوا ہے۔

ہاں آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں،لیکن چیزوں اور رشتوں میں بہت فرق ہے،رشتوں میں مٹھاس پیدا کی جا سکتی ہے،رشتوں کی کڑواہٹ کوئی لاعلاج مرض نہیں ہے ،ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی انتہا درجے کا بے وقوف ہو اور وہ اچھائی اور برائی کا فرق ہی نہ جان سکتا ہو تو ایسے انسان سے قطع تعلق ہوجانے میں ہی بہتری ہے ،لیکن رشتوں کے معاملہ میں سب سے پہلے خود کو کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ساس ،بہو اور میاں بیوی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔جو عورت بہت سی خواہشات کے ساتھ اپنی بہو کو اپنے گھر لے کر آتی ہے جب اس کی خواہشات پر پانی پھیر دیا جاتا ہے تو وہ پھر سوتیلی ماں بن جاتی ہے ،یہ ہی حال میاں اور بیوی کا ہے ان کے آپس کے تعلقات اسی صورت اچھے ہو سکتے ہیں جب دونوں خود کو ایک دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچیں،تو زندگی کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔

میری دوست بولی کہنا آسان ہے لیکن جب آپ کی خواہشات نیک ہوں اور دوسرا آپ کے سر پر چڑھ کر ناچے تو پتہ چلتا ہے،کوئی شر پسند ،کہاں آپ کے اچھے اخلاق سے متاثر ہوتا ہے ،میرے ایک انکل نے بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بھتیجے کو نو سال کی عمر سے پالا بوسا ۔اپنی تین بیٹیوں میں سے ایک بیٹی اس کے ساتھ بیاہ دی۔شادی کے وقت بیٹی کوکچھ نہیں دیا،یہ کہہ کر کہ یہ تو میرا بیٹا ہے ساتھ ہی رہتا ہے۔جب لوگوں نے باتیں بنائی تو اپنا مکان اس بیٹے کے نام کر دیااور شادی کے چار مہنے بعد لڑکے نے چچا اور اس کی فیملی کو گھر سے دھکے دے کر نکال دیا۔ایسا بھی ہوتا ہے۔

یوں تو معاشرا اچھے برے لوگوں سے بھرا ہوا ہے کیا ہم اپنا اخلاق ترک کر دیں ،اچھائی کی امید چھوڑ دیں،میں نے کہا۔

ہم ایسا نہیں کر سکتے ،ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں،چائے ختم ہوئی بات ختم ہوئی لیکن کچھ باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں ،کسی کے انکار یا اقرار سے حقائق کہاں بدلتے ہیں،ہمارا وجود کسی کے لیے اور کسی کا ہمارے لیے کیوں چیونگ گم کی طرح ہوتا ہے،کچھ دیر کے لیے اچھا اور پھر تھکا دینے والا سفر،ہم کسی کو کچھ کرنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے لیکن اپنی ذات کو تو روک سکتے ہیں کہ وہ کسی کے لیے تکلیف دہ نہ ہو۔ہم اپنے وجود کو تو بدل ہی سکتے ہیں،اگر دوسروں پر ہمارااختیار نہیں ہے تو۔کسی کا بھروسہ توڑنا ،چھوٹ بولنا،کسی کو ذلیل کر دینا آسان ہے جبکہ کسی کو عزت دینا ،سچ بولنا اور بھروسہ قائم کرنا بھی ذیادہ مشکل نہیں۔آپ کا کیا خیال ہے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182252 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
31 Dec, 2016 Views: 261

Comments

آپ کی رائے