پاکستان سائنس اکیڈمک گروپ ۔۔۔۔۔ امید کی کرن

(Mansha Faridi, Dera Ghazi Khan)
علم ذریعہ اظہار کا ایک وسیلہ ۔۔۔ علم عرفان ذات کا بیانیہ ۔۔۔ کہ جو خودی تک رسائی اور شناخت کے زینے طے کرنے میں مد دیتا ہے۔۔۔۔ اور علم کے حصول کے لیے تعلیم سب سے بڑا اہم اور کامیاب ذریعہ بھی ہے۔ یہ علم و تعلیم ہی ہے کہ جو ہمیں کائنات میں ایک خاص امتیازعطاء کرتاہے۔ اسی امتیاز کے سبب ہی تو ہم اشرف المخلوقات قرار پائے ۔ ورنہ ہم حیوانوں سے بھی بدتر مشہور ٹھہرتے۔

آجٓ اقوام عالم ترقی کے سفر پر رواں ہیں۔ انسان ماہ و مریخ کی منازل طے کر چکا ہے۔ اور اب گردوں کو فتح کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ ایک وہ وقت تھا کہ جب انسان علم خاکی میں گمنامی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ یہ سب کس طرح ممکن ہوا کہ انسان انسان ہی ٹھہرا اور فرشتوں سے بھی مقدم ہو گیا۔ اگر ان رازوں سے پردہ اٹھایا جائے تو واضح طور پر اس میں علم و تعلیم کا عمل اور دخل ہی نظر آتا ہے۔ یعنی دنیا نے جب ذریعہ علم ـــ’’تعلیم‘‘ کو اپنا ہادی اور راہبر مانا تو ترقی کے باب واہوتے گئے۔ اس طرح وہ ممالک عا لمی سطح پر مقدم و محترم ہیں جو تعلیمی اداروں کو فروغ دیتے ہیں اور جدید خطوط پر اپنی قوم کی ذہن سازی کرتے ہیں۔
پاکستان پسماندہ ملک ہے جس کی واضح وجوہات میں عوام اور شہریوں کو حصول تعلیم کے نا مناسب اور غیر موزوں مواقع کا میسر آنا ہے۔ تعلیمی اداروں بلکہ پورے محکمہ تعلیم کے انفرا سٹرکچر کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر اور انفرادی سطح پر بھی مثبت اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ جس کا نتیجہ ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح پر ہو۔ اگر عا لمی سطح پر ممالک کی ترقی و تعلی کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو مکرر عرض ہے کہ تعلیمی نظام کی بہتری پر مبنی ہے۔ جو ترجیح ہونا چاہیے۔ یہاں یہ بھی واضح ہو کہ تعلیم کے حصول کے ذرائع ( تعلیمی ادارے) اس بنیادی حق (حصول تعلیم) کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ایک ایسا بنیادی حق کہ جو آدمی کو محض مٹی کے ڈھانچہ سے انسان بناتا ہے اور پھر یہی انسان پوری دنیا میں اشرف المخلوقات کے درجہء اولیٰ پر متمکن ہوتا ہے۔

اس سے کسی بھی صاحب الرائے اور اہل شعور کو انکار نہیں کہ پوری دنیا میں شعبہ تعلیم میں پرائیوٹ سیکٹر یقینا اپنا بہترین امیج رکھتا ہے۔ کیوں کہ سرکاری سطح پر چلنے والے سرکاری تعلیمی ادارے ادارہ جاتی خامیوں کا شکار ہو کر اپنا بنیادی فلسفہ کھو دیتے ہیں ایسی صورت میں اہدف کا حصول ممکن ہی نہیں رہتا ۔ اس وقت پاکستان میں شرح خواندگی جس رفتا ر سے بڑھ رہی ہے اس میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا خاصا کردار ہے۔ اس سے جہاں مشینری (محکمے) نہیں پہنچ سکتی وہاں پرائیوٹ سیکٹر اپنا کام کر رہا ہے اور شہریوں کو سہولیات بہم پہنچا رہا ہے۔ ایجوکیشن سیکڑ بھی اس طرز اور طریقہ سے مستفید ہو رہا ہے۔ چوٹی زیریں (ضلع ڈیرہ غازیخان ) کا ایک پسماندہ ترین قصبہ ہے اور ملکی سطح پر تو شاید اس کا وجود ہی نہیں جو کہ کنفرم بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے شہروں لاہور اور اسلام آباد میں تو اس کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا سوائے اس کے کہ یہ قصبہ سابق صدرپاکستان سردار فاروق احمد لغاری کا آبائی قصبہ ہے ۔ تعلیمی میدان میں پسماندہ ترین ہے ۔ پس یہاں کے عوام کیلئے ضرور ی تھا کہ یہاں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام ممکن ہو ۔ ان ضروریات کو مقدم رکتے ہوئے ۔

کسی مخلص اورکامیاب کا رباری شخصیت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ فیاض احمد بزدار جنہیں علاقہ کی سیاسی و سماجی فیملی کے چشم و چراغ ہونے کا اعزاز حاصل ہے نے چوٹی زیریں میں 2011ء میں پاکستان سائنس اکیڈمی کی بنیاد رکھی ۔ اس پلیٹ فارم نے سوسائٹی میں اپنا خاصاحصّہ ڈالا۔ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء طالبات نے ، تحصیل ، ضلع اور ڈیژن میں نمایاں مقامات حاصل کئے۔ بعد ازاں 2015ء میں اس ادارے کو پاکستان سائنس اکیڈمک گروپ کا درجہ دے کر گرلز اور بوائز کیمپس کا اضافہ کردیا گیا اور ساتھ ہی پاکستان ہائی سکو ل (رجسٹرڈ) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اس وقت F.A,F.Sc,B.A,&B.Sc,M.A کے طلباء وطالبات کی تعلیم و تدریسی عملہ جاری ہے ۔ اس بہترین پرائیوٹ تعلیمی ادارے کی خصوصیات یہ ہیں کہ تدریسی عمل باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔

ادارہ میں ٹیسنگ کا منفر داور شاندار نظام ہے ۔ آخر میں اظہار تشکر کیلئے ڈائریکٹر پاکستان سائنس اکیڈمک گروپ کیلئے چند الفاظ.....کہ تم چوٹی زیریں اور مجموعی طور پرپاکستان کے لئے امید کی کرن ہو۔
اس موقع پر ڈائریکٹر فیاض احمد بزدار نے کہا کہ جلد ہی دیگر متعدد شہروں میں اس گروپ کی فرنچائز قائم کردی جائیں گی۔ جو یقینا مثبت عمل ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mansha Faridi

Read More Articles by Mansha Faridi: 66 Articles with 30391 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2017 Views: 778

Comments

آپ کی رائے