آغاز ’’ سالِ نو‘‘

(Maryam Sadiq, )
 2017 کا نیا سورج آفتاب پر ہے۔ الحمداﷲ نئے سال کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ سال کیسا ہوگا کسی کو نہیں معلوم لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی لوگوں کی وابستہ ہزارہا اُمیدیں اور خواہشات نئے سورج کی ابتداء سے ہی جاگ اٹھی ہیں۔

دراصل نئے سال کا آغاز عیسؤی یا رومن کیلنڈر کے حساب سے سال نو کا پہلا دن ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم سے مختلف ممالک میں اس کو اپنے اپنے انداز اور مختلف ناموں سے منایا جاتا ہے۔ اس کے منائے جانے کا مقصد بہر حال یہ ہوتا ہے کہ ہم آنے والے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں اور جانے والے سال کو الوداع کرتے ہیں۔ دنیا کے ہر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہ سال یکم جنوری کو انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہاں پر بھی ہر عمر کے لوگ بچے، نوجوان، بوڑھے اور خواتین اپنے اپنے طریقے سے اسے منانا پسند کرتے ہیں۔

نیا سال جہاں کچھ لوگوں کے لیئے بے شمار خوشیاں لے کر آتا ہے وہاں کچھ لوگوں کے گزشتہ سال کے زخموں کا بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ ہماری خوشیوں سے ان کے زخموں پر نمک پاشی نہ ہو۔ گزشتہ سال کے حادثات سے جن لوگوں کو گزرنا پڑا یا جن کے پیارے ان سے بچھڑگئے یا جو خاندان پورا سال بیماریوں کا شکار رہے یا وہ لوگ جو غربت کی وجہ سے اور ملک کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے رہے ایسے لوگوں کے لیئے نیا سال بھی زخم خوردہ ہوتا ہے لیکن آنے والے سال سے ایک موہوم سی اُمید کی شمع روشن رکھتے ہیں کہ شاید آنے والا سال ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔بقول کسی شاعر کہ:
ؑ ع خیرمقدم سال نو کا میں کروں
یا کہ جاتے سال کا نوحہ کروں

نئے سال کا خیرمقدم کرنا اور خوشیاں منانا باالکل جائز ہے مگر گزشتہ سال کے تمام اچھے اور برے واقعات سے سبق سیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ نیا سال ہم سب کے لیئے نئی امیدیں، نئی اُمنگیں لاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کی جہاں نئی منصوبہ بندی کرتے ہیں وہاں پر یہ بھی ضروری ہے کہ گزشتہ سال کی کامیابیوں اور نا کامیوں پر بھی نظر ڈالیں اور سال گزشتہ کی غلطیوں کو دوبارہ نہ دوہرانے کا عزم کریں۔ ہم اپنے آنے والے سال کو روشن اس طرح کر سکھتے ہیں کہ اس بات پرگہری نظر رکھیں کہ ہم نے سال گزشتہ میں کیا کھویااور کیا پایا؟؟

مختصر یہ کہ ہم اس طرح سال نو کی حقیقی خوشیوں سے لطف اندوزہوسکتے ہیں ۔ سال گزشتہ میں جو غلطیاں ، لغزشیں یا پچھتا وے دامن گیر ہوئے انہیں گزشتہ برس کے بوڑھے دسمبر میں اس عزم کے ساتھ پھینک دیں کہ دوبارہ انکا اعادہ نہیں کریں گے۔کسی کو ہم سے نقصان پہنچا ہے تو اپنے رویے اور حسن سلوک سے تلافی کر یں گے۔اﷲالعزت سے اپنے گناہوں کا استعفادہ طلب کریں گے اس کے علاوہ حقیقی خوشیوں کے لیئے اور کامیابیوں کے لیئے دعاگو رہیں گے۔

نئے حوصلوں ، نئی امیدوں اور نئے عزم کے ساتھ ہم سال نو 2017کے چمکتے سورج اور اس کے پہلے ماہ کی مسکراتی جنوری کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
ع ہوگئی ہے ابتداء سال نو کی
کر رہے ہیں الوداع گزشتہ سال کو
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Sadiq

Read More Articles by Maryam Sadiq: 2 Articles with 8557 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2017 Views: 443

Comments

آپ کی رائے