ھڈ بیتی ء افتخار انجینئر افتخار چودھر ی کی داستان حیات کالج کا دور ۱۹۷۱۔۱۹۷۴

(Iftikhar Chohdury, )
پولی ٹیکنیک کے طلبہ مدت دراز سے بی ٹیک کی کلاسوں کے اجراء کے لئے کوشش کر رہے تھے۔پیپلز پارٹی نے کمال کام کیا کہ بی ٹیک اور بی ٹیک پاس کو منظور کیا اس میں پاکستان کے ہزاروں طلباء کا بھلا ہوا۔بی ٹیک کورسز کی منظوری کی سب سے بڑی رکاوٹ بی ایس سی انجینئرز تھے اور انجینئرنگ کونسل کو یہ تکلیف تھی کہ اس سے بی ایس سی انجینئرز کی مانگ میں کمی واقع ہو گی۔پیپلز پارٹی کی تاریخ میں اس قسم کے بڑے کارنامے پائے جاتے ہیں یہ پارٹی اب زرداری جیسی شخصیت کے بوجھ تلے دب کے رہ گئی ہے۔آج قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے جان چھڑا رہی ہے شراب پر پابندی بھی ذوالفقار علی بھٹو دور میں لگی اور جمعے کی چھٹی بھی دوسری بڑی اسلامی کانفرنس بھی ہوئی باہر کے ملکوں میں جانے کے راستے کھلے پاسپورٹ غریب کے ہاتھ لگا ورنہ اس سے پہلے یہ صرف خاص لوگوں کا حق تھا کہ وہ پاسپورٹ رکھیں۔ڈی سی کی سفارش بنک گارنٹی پتہ نہیں کیا کیا چاہئے ہوتا تھا ۔ایک وقت تھا یہ پارٹی اسلام ہمارا دین کا نعرہ بلند کر تی تھی۔پاکستان کے بد ترین دشمن قادیانی اسی کے دور میں غیر مسلم قرار پائے۔یہ تحریک بھی انہی سالوں میں چلی مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔میری زندگی ان دنوں بٹی ہوئی تھی وجہ صرف غریبی تھی گھر میں اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ مجھے ہاسٹل میں رہنے دیتے روزانہ صبح سویرے گھر سے نکلتا ۔بے جی علی الصبح میرے لیے ناشتہ تیار کرتیں جیس کے پہلے میں بتا چکا ہوں کہ یہ زمانہ تنگی کا تھا والد صاحب سندھ میں زمین لے چکے تھے جو بے کار نکلی تھی ذرائع آمدن تھے نہیں بے جی کو کہا گیا کہ واپس نلہ چلی جائیں جس کا جواب انہوں نے ایک دلیر ماں کی طرح دیا اور کہا مجھے اگر اپنے بچوں کو اگر برتن مانجھ کر بھی پڑھانا پڑا تو پڑھاؤں گی۔یہ کوئی نعرہ نہ تھا بے جی بھینس کا دودھ دیتی تھیں۔وہ زمانہ ہی غربت کا تھا آدھ پاؤ چیز عام ملتی تھیں میں حیران ہوں اب کوئی کلو گوشت نہیں لیتا پوری ران ہی تلوا لیتے ہیں۔آدھ پاؤ گوشت،آدھ پاؤ گھی ِآدھ پاؤ دال خریدی جاتی تھیں۔چورا چائے جو آج کل فیشن ہے اس وقت غریبوں کی ڈیمانڈ تھی ایک آنے کا پتا مل جایا کرتا تھا۔اس زمانے میں ڈنڈہ مارکہ صابن،اکرم سوپ جسے ہم اکرم سوپ صابن کہا کرتے تھے دستیاب تھا۔شیمپو نام کی چیز پہلی بار جب ملی تو نہانے کے بعد کنگھی سے پہلے تیل کی جگہ استعمال کیا تو جھاگ سی بن گئی آخر کار چھوڑ ہی دیا کہ پتہ نہیں تیل خراب ہو گیا میڈورا ایگ شیمپو کو جب بھی دیکھتا ہوں تو نظریں چرا لیتا ہوں شرارتی تیل۔گلی میں بابے شیخ کی ہٹی سے سودا لیا جاتا تھا۔آدھی گاچی لینے جاتے تو وہ پوری کو سیبے سے آدھے کر کے دیا کرتا تھا۔بابا شیخ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان سے جڑی یادیں اگر موقع ملا تو ضرور لکھوں گا۔

کالج کے زمانے میں کچھ وقت گجرانوالہ اور زیادہ لاہور گزرتا میں منہ اندھیرے باغبانپورہ سے نکلتا زیادہ روٹ ماسٹر مشتاق مرحوم کی گلی سے گندا نالہ کراس کرے سیٹھ عبدالرشید کی گلی سے وڈا گلا پکڑ لیتا یہاں سے جیدے شیخ والی گلی میرا روٹ ہوتی۔سٹین لیس سٹیل کے کارخانوں سے گزر کر ظفر اقبال توڑی والی دکان سے ہو کر حافظ آباد روڈ پر آ جاتا یہاں سے گھنٹ گھر چوکی آگے قادیانی حکیم جان محمد کی دکانوں سے ہوتے ہوئے میں مین بازار مین داخ ہو جاتا جو ریل بازار سے ہوتا ہوا اسٹیشن لے جاتا یہ اسٹیشن اب ختم ہو گیا ہے۔بے جی مجھے ساری چیزیں تیار کرنے کے بعد جگاتیں۔اکثر ازانوں سے پہلے اٹھ جاتا گرمیوں میں گھر کے دروازے پر ہی باہر چار پائی پر سو جاتا ۔حیرت ہے کہ کیا زمانے تھے اکثر لوگ گلی میں سوتے ہماری گلی میں لوگوں نے بے شمار بھینسیں رکھی ہوئی تھیں۔چاچاے یوسف کا خچر اور اسمعیل چاچے کے گدھے بھی گلی میں ہی ہوتے تھے۔اکثر لوگ رات گئے چارپائی کے پاس سے گزرتے خاص طور پر کراؤن سینمے سے آخری شو دیکھنے والے ہوا کرتے تھے یا ساتھ ہی لگی پاور لوموں کے کاریگر بھی ہوتے تھے۔میئر اسلم بٹ جو دسمبر میں فوت ہوئے ہیں ان کے بھائی غلام محمد بٹ کا کارخانہ بھی ہمارے گھر سے تھوڑا دور تھا۔ ہم نے آدھا گھر کرائے پر دے رکھا تھا ماسی اﷲ رکھی کافی دیر تک ہماری کرائے دار رہیں انصاری برادری سے تعلق تھا یہ وہ واحد خاتون تھیں جن سے والدہ صاحبہ متآثر تھیں۔ماسی رکھی کے فرمودات آج بھی ہمارے گھروں میں گونجتے ہیں بڑی رعب داب والی بزرگ خاتون تھیں۔انہیں ہم نے آدھا مکان کرائے پر دے رکھا تھا جو بعد میں سیٹھ عبدالرشید کے رشتے داروں کو دے دیا۔اس دوران ماسی جی نے اپنا گھر بنا لیا تھا یا شائد کرائے پر آگے رسول پورہ چلی گئیں تھیں۔جس سال میں نے میٹرک کا امتحان دیا غالبا ۱۹۷۰ تھا گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھے سندھ جانا ہوا وہاں والد صاحب کے پاس جانے کے لئے مجھے کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی پڑی۔ایک ٹین کا چھوٹا سا بکسہ ایک دو جوڑے کپڑوں کے۔البتہ میری سب سے بڑی خواہش یونس فین خریدنا تھا جو ان دنوں ۳۰۰ روپے کا ملتا تھا گوٹھ میں پنکھا نہیں تھا۔افسوس کے میں وہ پنکھا نہیں خرید سکا اور ایسے ہی ٹین کے بکسے کے ساتھ سندھ چلا گیا۔ جب ہوا بند ہوتی تو وہاں کا ایک خاص مچھر جسے گھت کہتے تھے وہ کاٹتا تو بے بے یاد آ جاتی ساری زندگی کی تکلیفیں ایک طرف اور وہ راتیں ایک طرف مجھے والد صاحب کے وہ دن یاد آتے ہیں تو اب بھی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں دنیا کا ہر والد اپنے بچوں کے لئے وہی کرتا ہے جو چودھری برخودار نے کیا اور ہر ماں زلیخا بی بی کی طرح بچوں کے لئے مرتی اور جیتی ہے ۔بھینس کے لئے شلجم کا چارہ جب سستا ہوتا تو ہم خرید تے بے جی اس میں سے ٹھپر نکال کر پکا کر ہمیں کھلا دیتیں۔میں نے ماں کو زندگی میں اہتمام سے کھاتے نہیں دیکھا۔میرے ایک بھائیوں جیسے دوست وقار صاحب جو جدہ میں ہیں وہ کہتے ہیں کہ کسی نے سوال پوچھا کہ آپ کی والدہ کیا کھان پسند کرتی ہیں کہنے لگے میری ماں بچا کھچہ پسند کرتی ہیں۔یہ حال ساری ماؤں کا ہے الہہ سب ماؤں کو عزت دے۔جن کی ہیں کاش وہ کسی دن انہیں میز پر بٹھا کر کھلائیں۔میرا بیٹا نوید اﷲ اسے تندرست کرے وہ تو ہماری دعوت کرتا ہے تو ماں یاد آ جاتی ہے وہ کھانے کے بعد کہا کرتیں کتنا بل آیا ہے؟وہ میں پوچھتا ہوں۔

میرے بڑے بھائی امتیاز صاحب والد صاحب کے ساتھ سندھ ہی میں تھے ہماری زمینیں میر پور متھیلو سے آگے نیا موڑ کے کے پاس تھیں۔میں بھی گاڑی میں سوار ہوا اور چلا گیا البتہ اپنے ساتھ ایک ریڈیو بھی لے گیا چندا بیٹری سی سے وہ ایک ماہ تک چل جاتا تھا۔مجھے زندگی کے ان خوبصورت مگر مشکل دنوں میں دسمبر کی جھڑیوں میں اس ریڈیو سے آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو سیلون کی نشریات کبھی نہیں بھول سکتیں صبح کے وقت آکاش وانی سے فرمائیش اور رات گیارہ بجے بسترمیں لیٹ کر بڑے کمرے میں جو دروازہ کھولتے ہی سامنے تھا اس کے اندر دائیں جانب ایک چارپائی تھی جس پر ہم دو بھائی سو تے تھے میرا یہ ٹرانسمیٹر بڑے کام کی چیز تھی جھڑیوں میں اس کیآواز شاں شاں کرتی تو اس کا حل یہ نکالا کہ اس کے ساتھ تار باندھ کر میں اس تار کو چھت پر لٹکا آیا۔منڈی جامکے چٹھہ سے سیالکوٹ سے فرمائشیں ہوتی ایم نعیم نجمی ایک کامن نام تھا جو ہر وقت فرمائشیں ہی کرتا رہتا تھا ۔مجھے رفیع لتا مکیش اور بعد میں کشور کمار بہت ہی اچھے لگے۔یہ دنیا یہ محفل مجھے زبانی یاد تھا۔سندھ میں روز و شب بڑے بور گزرتے تھے میں اپنے دوستون خاص طور پر ارشد بھٹی گلزار گلو کو بہت مس کرتا تھا بھٹی کارخانے دار ہے اور گلو سپرنٹنڈنٹ جیل۔میرا ایک اور دوست فاروق جو جاں نثار دوست ہے اس کے ساتھ جڑی یادوں کے لئے کتاب درکار ہے۔

سندھ میں بیتے دنوں کی بات کر کے میں آپ کو ۱۹۷۱ کی جنگ کے بارے میں وہ کچھ بتاؤں گا جو نئی نسل کو کم ہی کسی نے بتایا ہو گا۔ہماری گوٹھ دیہہ فکراٹھو میں تھی جسے برخوردار نگر کا نام دیا گیا تھا نام کیا ہونا تھا جب کبھی بھائی بورڈ لگاتے کوئی اکھاڑ کے رکھ دیتا۔فکراٹھو دیہہ کوئی کلو دور ہو گا۔ہمارے اس عارضی ٹھکانے کے پاس چاچے سلیمان مہر کی گوٹھ تھی۔تھوڑی دور سلیم آباد بعد میں حیات پتافی اور اس کے بعد کرنل غفار جو سونے چاندی والی چاندی کے سسر تھے۔تایا جان کی گوٹھ غفار آباد بھی ادھر ہی تھی۔ہمارے ٹھکانے کا نقشہ کچھ یوں ہے ایک چار دیواری جو کوئی آٹھ کنال میں ہو گی مٹی سے کھڑی دیواریں جس جگہ گیٹ کو لگنا تھا جو نہیں لگ سکا اس کے باہر ٹیوب ویل۔ اندر داخل ہوتے ہی اوطاق سامنے ایک کمرہ اس طرح بائیں ہاتھ کچھ کمرے درمیان میں ایک گلی اور پچھواڑے میں مزارعوں کے گھر۔ایک عرصے بعد ہم بھی وہیں منتقل ہو گئے۔مزارع غریب کہاں ٹکتے زمین تھور نکلی فصل بیجتے اگتا ہی کچھ نہیں تھا بیچارے رات کے اندھیرے میں بھاگ جاتے ۔ مجھے اپنے والد صاحب کی وہ محنت یاد ہے ایک روز وہ جھولی میں ڈال کر چؤنا بیج رہے تھے یہ کھیت گھر کی یار دیواری سے نکل کر دائیں ہاتھ تھا دوسرے روز چھوٹے چھوٹے ننھے پودے نکلے کونپلیں تھیں تیسے رو حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے میرا چہرہ اتر سا گیا میں نے والد صاحب کو بھی پریشان دیکھا۔کسان کہ مزدوری نہ بار آوار ہو تو اس کا چہرہ کیسے ہوتا ہے وہ میں نے دیکھا ہے۔ایک بار ہامری پیاز کی فصل بڑی اچھی ہوئی اسی سال پیاز مفت اٹھوایا اس لئے کہ منڈی میں اس کی قیمت ہی نہیں تھی۔کسان کے ساتھ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔

میٹرک کے امتحان کے بعد میں وہاں پہنچا ریلوے اسٹیشن سے بڑے بھائی امتیاز صاحب نے مجھے لیا ان کے پاس بیلارس ٹریکٹر تھا یہ اس دور میں ہمارے پاس یا کسی ایک آدھ اور کے پاس تھا اسے چھوٹا بلڈوزر بھی کہا جا سکتا ہے۔روسی سے ٹوٹی ریاست بیلارس کی پیدا وار یہ ٹریکٹر پاکستان کی زمینوں کا سنوارنے میں ہزار میسی فرگوسنوں سے بہتر ثابت ہوا ہے ۔میں تھوڑے ہی دنوں میں بور ہو گیا دوستوں کی یاد ماں سے زیادہ آیا کرتی۔عمر کے اس حصے میں بچے اڑنا چاہتے ہیں ماں باپ پر کترتے ہیں اور پرندے پھر کر کے اڑ جاتے ہیں۔ایک بار واپسی کی تیاری ہو رہی تھی رزلٹ کا انتظار تھا میں نے ایک صبح اٹھ کر کہا میرے ۶۰۳ نمبر آئے ہیں میں حیران رہ گیا جب نتیجہ آیا تو اتنے ہی نکلے جو ۶۸ فی صد تھے میں نے خاندانی ریکارڈ توڑ دیا تھا۔

والد صاحب اس جد وجہد کے ہاتھوں دل شکستہ ہو چکے تھے کہنے لگے میرے ایک دوست مختار وکیل ہیں تم ایسا کرو ٹائپ سیکھ لو تمہیں وہاں پھٹہ لگا دوں گا۔میں نے اس دوپہر ریل کی پٹڑی کے پاس والد صاحب کو کہا آپ تھوڑا صبر کریں ایک وقت آنے والا ہے آپ کے بیٹے کے سیکرٹری ہوں گے جہازون میں سفر کرے گا آپ کا بیٹا۔اﷲ نے کیا وہی ہوا ایک نہیں دو دو سیکریٹری ملے جہازوں میں اتنا سفر کیا کہ تھک کے رہ گیا۔

ایک دن دائیں پاؤں کو خارش کر رہا تھا بے جی کہنے لگیں میرا بیٹا بڑا سفر کرے گا۔پھر ہو کیا چار سال لاہور کے لئے ٹرینوں کے اندر بعد میں جدہ اور وہاں سے دنیا کے گوشے گوشے میں سفر کیا عارف صاحب ہمارے عزیز ہیں اﷲ والے ہیں انہیں سنیا تو ہنسنے لگے کیوں کہ جب میں انڈونیشیا جا رہا تھا تو بے جی کو فون کیا اور کہا آپ کہتی تھیں ناں میرا بیٹا سفر کرے گا بے جی میں نیکھرکیا تئے سی پر ایناں وی نئیں(بے جی میں نے خارش کی تھی پر اتنی بھی نہیں)اپنی ماں جو ایک بار چرخا کات رہی تھیں اور زیر لب کوئی گوجری پہاڑی گیت بھی گا رہی تھیں میں نے کہا بے جی بس تھوڑا انتظار کرنا آپ کا بیٹا آپ کو حج کرائے گا۔وہ وقت آیا میں نے اپنے والد صاحب اور والدہ کو حج کروایا یہ غالبا ۱۹۸۱ کی بات ہے۔وقت کی ایک ہی اچھی بات ہے وہ اچھا ہو یا برا گزر جاتا ہے۔جو بچے ہمت چھوڑ جاتے ہیں وہ میری اس کہانی کو ضرور پڑھیں اور یہ دل میں رکھ لیں وقت ہے آیا ہے، برا ہے ،کٹ ہی جائے گا۔

سندھ کے اس شہر میر پور متھیلو کو میں کبھی نہیں بھول سکتا گہوٹکی میرے دل سے نہیں جاتا۔کہوٹہ ہوٹل گہوٹکی بھی یاد ہے بٹ ہوٹل میر پور متھیلو بھی۔وہاں کے لوگوں کو دل سے کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔میر پور متھیلو کے دیسی ہوٹل چائے بھیڑوں کی دودھ کی اتنی گاڑھی اور میٹھی جتنا سندھیوں کا پیار گاڑھا اور میٹھا۔میر پور کمال کا شہر ہے پتلی لمبی گلی والا شاہی بازار۔سارے سندھی غربت زدہ مفلوک چہروں والے سارے ہندو کاروبای ہشاش بشاش گورے چٹے پولے پولے لوگ۔یہ لوگوں کو ادھار دے کر ان کی زندگیوں کو چاٹ کھانے والے ساہو کار تھے جو ایک بڑے وڈیرے کی چھاؤں میں رہ کر جونکوں کی طرح سندھیوں کو کھا گئے ہیں اور تو اور یہ سندھیوں کے اتنے قریب ہیں کہ پنجابی انہیں دشمن نمبر ون دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وہ لوگ تھے جو بنگال میں مغربی پنجاب کے خلاف نفرت کی فصل بوتے رہے اور وقت آیا بنگالی الگ ہو گئے۔سندھ میں تعلیمی اداروں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ میر پور متھیلو کے پورے بازار میں میری دل چسپی سلام عرض،جواب عرض،سب رنگ میں تھی۔انکا کی سر گزشت کیا کہانی تھی۔اس کے جملے آج بھی ذہن سے محو نہیں ہوئے اسی ڈائجسٹ کا جملہ دہرائے دیتا ہوں۔ارسلان اس رات ڈارک بلیو کلر کی قمیض اور خاکی پتلون میں غضب ڈھا رہے تھے کچھ ان کی باتوں کا اثر اور کچھ موسم کا سرور۔۔۔۔۔ میں جوانوں سے کہوں گا کو پڑھیں ضرور جو پڑھ نہیں سکتا وہ بول بھی نہیں سکتا میں نے اپنے بہن بھائیوں کے سارے درسی مواد کو پڑھا ہے اخبار جہاں اپنے تایا کے گھر سے لا کر پڑھ ڈالتا تھا محمود کی آپ بیتی تعلیم و تربیت کچھ نہیں چھوڑا ایک بھوکے کی طرح اردو کا ہر وہ رسالہ پڑھ ڈالا جو مفت ملا خریدتا کہاں سے۔دو آنے لائیبریری کی ساری کتابیں۔

بازار کے آخر میں سبز منڈی تھی وہاں سے سودا سلف خریدتے کھجور کی ٹوکریوں میں رکھ کر نواں روڈ کی راہ لیتے آم یاد ہے دس آنے کلو تھے۔باقی سبزیاں اپنی جگہ۔

ایک بار ہوا یوں کہ ہمارا اکلوتا نوکر بشیر ہمیں داغ مفارقت دے گیا گھر میں پکانے والا کوئی نہیں تھا سالن تو ہم پیاز کا بنا لیتے تھے دودھ کی کچی لسی بھی بن جاتی تھی مگر مسئلہ روٹی پکانے کا تھا۔والد صاحب شہر گئے ہوئے تھے میں نے آٹا گوندھنا شروع کیا یہ کوشش کوئی گیارہ بجے شروع ہوئی اور اﷲ کے کرم سے تین بجے میں نے روٹی پکا لی جو آڑی ترچھیں تھیں وہ میں نے اپنی کتی کو ڈال دی۔پردیس میں یہ کتی ہی تھی جو ہمیں چھوڑ کر نہ گئی باقی سب انسان رفو چکر ہو گئے۔والد صاحب رات کو آئے تو سن کر پریشان ہوا کہ بشیرا چلا گیا ہے وہ خانپور کٹورہ کا رہنے والا تھا۔اﷲ نے کیا میں جتنے دن رہا کام چلتا رہا ۔ان دنوں وہاں چوریاں بہت ہوا کرتی تھیں مجھے بھائی اور والد صاحب نے کہا کہ کسی اجنبی شخص کو نہیں آنے دینا۔ایوب خانی دور میں فوجیوں کو وہاں جنگل الاٹ ہوئے تھے آج تو منفی باتیں ہوتی ہیں کہ فوج نے زمینیں لیں یقین کیجئے اجاڑ بیابان جنگل زمینوں کو یہ فوجی ہی آباد کر سکے یا پنجابیوں نے جان لڑائی۔شام کے وقت ایک شخص ادھر آیا اور آ کر پوچھا کہ والد صاحب کدھر ہیںَمیں نے کہا کوئی پتہ نہیں پھر پوچھا بھائی کدھر
میں نے کہا جواب تو دیا ہے۔غرض وہ بندہ وہاں سے چلا گیا۔اگلے دن یایا جان نے دعوت کی وہاں ہر کوئی کہہ رہا تھا حیدر شاہ کدھر ہیں آئے نہیں یایا جان نے ایک خاص کرسی ان کے لئے الگ سے رکھوائی تھی۔حیدر شاہ کے انتظار سے پتہ چلا کوئی بڑی بلا چیز ہے میں نے دیکھا یہ وہی حیدر شاہ ہیں جنہوں کل میں نے بے توقیر کر کے گھر اندر آنے نہیں دیا تھا۔مین چپکے سے میز سے غائب ہو گیا۔تایا جان نے بلا کر دلاسہ دیا اور یوں میری بچت ہو گئی۔

والد صاحب نے اپنی انگوٹھی جس پر ان کا نام لکھا ہوا تھا سی روپے کی بیچی مجھے ٹکٹ لے کر دیا میں نے اس دوران ٹائب بھی سیکھ لی گرچہ اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اب میں دو انگلیوں سے لکھتا ہوں کاش میں ساری انگلیاں کام کرتی تو سپیڈ بہت اچھی ہو جاتی۔کالج داخلے کے لئے خالہ پٹوارن اور بھائی اسحق نے پیسے دیئے۔مرزا صاحب اور چچی نے میری مدد کی اﷲ انہیں خوش رکھے جنت کے باغوں میں پھلے پھولیں کھائیں پیئیں۔ان کی اولاد ماشاء اﷲ کمال کی اولاد ہے شیراز لاہور میں کمشنر انکم ٹیکس ہیں۔

کالج میں آ کر تیسرے اور آخری سال میں نے میدان مارا۔اسی پولی ٹیکنیک میں تھا تو تحریک ختم نبوت چلی۔اس سے پہلے پاکستان میں جب یہ تحریک چلی تو ہزاروں لوگ شہید کر دئے گئے مگر اس بار جمہوری حکومت تھی مظاہرے تو ہوئے ،جانیں بھی گئیں مگر اسمبلی میں جا کر جو بحث ہوئی اس کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔اس سے پہلے آزاد کشمیر اسمبلی یہ نیک کام کر چکی تھی۔ اس مین مدارس کے طلباء کا کردار سب سے اہم رہا۔لبرل فسادئے اسی وجہ سے ان کے پیچھے پڑے ہیں کہ انہوں نے جانوں کا نذرانہ دے کر ختم نبوت تحریک کو کامیاب کیا اس میں جناب شاہ احمد نورانی کا بڑا ہاتھ ہے سارے علماء کو سلام ہر کوئی اپنا حصہ ڈال گیا سنی بریلوی ،سنی دیوبندی،سنی وہابی سب(جاری ہے)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 161538 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
04 Jan, 2017 Views: 466

Comments

آپ کی رائے