اُٹھائیں فائدہ پپیتے سے

(Shazia Anwar, Karachi)
پپیتے کو فارسی میں پپیتا اور انگریزی میں پپایا (papaya)کہتے ہیں۔یہ پاکستان اور ہندوستان سمیت دیگر گرم علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔تاریخ کے آغاز سے ہی گرم ممالک کے لوگ پپیتے سے واقفیت رکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے قبل اور بعد تک جنگلی حسینائیں اپنی جلد کو نرم بنانے ‘ جھائیوں اور داغ دھبوں سے محفوظ رکھنے کے لئے پپیتے کا گو ُدا استعمال کیا کرتی تھیں۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ پپیتے کے مسلسل استعمال سے دل کے امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ پپیتے کے بیج گرد ُوں کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔طبی ّماہرین کا کہنا ہے کہ پپیتے کے استعمال سے ذیابیطس کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پپیتا سرطان سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ پپیتے میں موجود مانع تکسید اجزاءسرطان پیدا کرنے والے خلیوں کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔ حیاتین ج اور ھ (سی‘ ای) اور بیٹا کیروٹین مانع تکسید ہیں جو نہ صرف ہر قسم کے سرطان سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ جسم سے سوزش اور سو ُجن کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

پپیتے میں موجود پاپین (papain) نامی خامرہ (enzyme)غذا کو ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاپین غذا میں شامل لحمیات کو حل کرکے اسے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

معالجین کا مانناہے کہ پپیتا وقت سے پہلے آنے والے بڑ ُھاپے کو روکتا ہے۔ پپیتے میں چونکہ غذا کو عمدہ طریقے سے ہضم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ‘اسی وجہ سے جب غذائیت سے بھرپو ُر چیزیں باآسانی ہضم ہونے لگتی ہیں تو جسم سے بڑ ُھاپے کی علامات بھی ختم ہونے لگتی ہیں۔ اس کے علاوہ پپیتا آنتوں کو صاف رکھتا ہے‘ پپیتے کا رس پینے سے بڑی آنت صاف رہتی ہے۔ پپیتے میں موجود ریشہ آنت کے زہریلے سرطانی عناصر کے خلاف مزاحمت کر کے انہیں ختم کردیتا ہے۔ حقیقت میں یہ زہریلے سرطانی عناصر کو بڑی آنت سے بہا کر نکال دیتا ہے اور مانع تکسید ہونے کی بنا پر زہریلے اثرات کا خاتمہ بھی کردیتا ہے۔

پپیتے کے مانع تکسید اجزاءکولیسٹرول کو کم کرتے ہے۔ جب کولیسٹرول آکسیجن کے ساتھ مل جاتا ہے تورد عمل کے طور پر شریانوں میں خون کے گچھے بننے لگتے ہیں‘ جن کی وجہ سے حملہ قلب اور فالج ہوجاتا ہے۔ پپیتے میں موجود ریشہ کولیسٹرول کم کرکے ان امراض کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

صحت مند اجزاءسے بھرپو ُر پپیتا جلد کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے بہترین ہے‘ اس کا استعمال جلد کو صحت مند‘ چمکدار اور نرم و ملائم بناتا ہے۔ پپیتے کو ٹکڑوں کو جسم کے جلے ہوئے حصوںّ پر لگانے سے زخم جلد مندمل ہوجاتے ہیں۔اس سے مہاسوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ پپیتا کھانے اور جلد پر لگانے سے جلد کی رنگت نکھرتی ہے۔ یہ جسم کوپانی کی کمی کے خطرے سے بھی بچاتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shazia Anwar

Read More Articles by Shazia Anwar: 178 Articles with 178238 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jan, 2017 Views: 568

Comments

آپ کی رائے