دوستی کا قرض (آخری حصہ)

(Abdul Kabeer, Okara)
سلام دوستی کے نام!
چلو یا ر عید کی شاپنگ کرتے ہیں ۔ علی نے حیدرسے پیسے پکڑے اور مجھے ساتھ لیا اور ہم دونوں شہر کو چل دیے۔ ہم نے وہاں سے عید کا سوٹ لیا اور جب درزی کو ناپ دینے کا وقت آیا تو شاہد نے مجھے آگے کر دیا۔ میں پریشان ہو گیا ، سوٹ علی نے لیا اور ناپ میرا ۔۔۔۔تو علی نے کہا حیدر نے آپ کو عید گفٹ کے طور پر سوٹ دینے کا کہا تھا۔
٭٭٭
اللہ تعالی کی محبت ماںکی محبت سے ستر درجے زیادہ ہے ۔ اس رات اس حقیقت کا مجھے یقینی ادراک ہو گیا تھا۔ میں رات 12 بجے گھر سے نکلا تھا کسی کو بتائے بغیر اور مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ پیچھے نے امی جان نے اٹھ جانا ہےاور میرا بستر خالی دیکھ کر گھر میں طوفان کھڑا کر دینا ہے۔ مجھے لینے کے دینے پڑ جانے ہیں ۔ اس رات حقیقت میں جان ہتھیلی پر رکھ کر دوست کو بچانے نکلا تھا۔ جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے ساری انسانیت کو بچایا۔۔۔یہ فرما ن میرے حضور ِ اکرم کا ہے ۔
٭٭٭
جب اس نے مجھے کہاں کہ انسان جب نظروں سے دور ہوتا ہے تو اس کی قدر ہوتی ہے ۔ تو میں نے اسے کہا! میرے بھائی ، قدر ہوتی ہے لیکن کچھ لمحات کے لیے، کچھ دنوں کے لیے ، کچھ مہینوں کے لیے اور زیادہ سے زیادہ دو ، تین سال کے لیے۔ لیکن یہ کہا ں کی عقل مندی ہے کہ صرف کچھ پل کی قدر کے لیے ہم رب ِ کائنات کی عطا کردہ انتہائی قدر و قیمت والی زندگی کو فنا کر دیں؟وہ خاموش ہو گیا تھا۔ میں نے کہا ! آپ کا شکوہ بجا ہے کہ آپ نے جس کو اتنی محبت دی مگر اس نے قدر نہیں کی۔لیکن ہمیں ایک بات نہیں بھولنی چاہیے۔
٭٭٭
"انسان خطا کا پتلہ ہے۔ انسان لفظ نسیان سے مؤخذ ہے جس کا معنی ہے بھول جانے والا۔ انسان کسی نا کسی موڑ پر غلطی کا شکار ہو جاتا ہے۔ کبھی پیپر حل کرنے میں غلطی کرجاتا ہے اور کبھی بیٹنگ کرتے ہوئے غلط شاٹ کھیلنے کی غلطی کرتا ہے، کبھی کسی ایسے انسان سے دل لگانے کی غلطی کر جاتا ہے جو کسی کی قدر کرنا نہیں جانتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک غلطی سے ساری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ ہر چانس کو لاسٹ نہیں بلکہ سیکنڈ لاسٹ سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ زندگی بہت قیمتی چیز ہے۔"میں نے حیدر کے سوال کے جواب میں کہا۔
٭٭٭
جب میں میٹرک پاس کرکے کالج میں چلا گیا اور وہ مجھ سے 3 کلاس جونئیر تھا۔ وہ ابھی سکول میں ہی تھا۔ مجھ سا کہا کرتا تھا کہ (یار پارٹنر ،پارٹنر ہی ہوتا ہے) اب دل نہیں لگتا وہاںپہ ۔ تقریبا 5 سال بعد جب اس رات کے تین بجے وہاں پہ وہ گٹکے کھاتا اور دھوکیں کر رہا تھا تو میرا دل خون کے آنسو ررہا تھا۔میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسی ہوتی ہے محبت؟ ؟؟؟؟جو کسی کو اس کے دوستوں سےدور کر دے۔ رات کے پچھلے پہر تک وہ نہر کے پاس بیٹھ کر روتا پھرے اور برے برے نشے کرتا پھرے۔ سچی محبت میں انسان بہتر سے بہتر ہونے کی تمنا کرتا ہے ۔لیکن میرا دوست غلط نہیں تھا ۔لیکن کسی پہچاننے میں غلطی کر گیا تھا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Kabeer

Read More Articles by Abdul Kabeer: 25 Articles with 25246 views »
I'm Abdul Kabir. I'm like to write my personal life moments as well social issues... View More
14 Jan, 2017 Views: 627

Comments

آپ کی رائے
good episode
By: umama khan, kohat on Jan, 18 2017
Reply Reply
0 Like
thanks a lot sister .....this is real story
By: Abdul Kabeer, Okara on Jan, 19 2017
0 Like
read kar laya magar waha comment nhe ho raha ta best article bhai
By: umama khan, kohat on Jan, 19 2017
0 Like
dosti ke misal milte hai es artical main bhai welldone
By: Zeena, Lahore on Jan, 16 2017
Reply Reply
0 Like
Super bhai well done
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 16 2017
Reply Reply
0 Like
Very nice,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Jan, 16 2017
Reply Reply
0 Like