دوستی کا قرض (حصہ دوم)

(Abdul Kabeer, Okara)
دوستی کا تحفہ ہر کسی کو نہیں ملتا ۔یہ وہ پھول ہے جو ہر باغ میں نہیں کھلتا اس پھول کو کبھی ٹوٹنے مت دیناکیونکہ ٹوٹا ہوا پھول پھر نہیں کھلتا
5سال قبل میں دسویں کلاس میں تھا۔ جب بریک ہوتی تھی تو میں حیدر کی کلاس میں آ جاتا تھا اور دونوں گراؤنڈ میں بیٹھ کر دھوپ سینکا کرتے تھے۔ ان دونوں ہماری دوستی اور کرکٹ دونوں عروج پر تھی ۔ ہمیشہ ہمارا ٹوپک کرکٹ ہوا کرتی تھی ۔اس اتوار کو کس کے ساتھ میچ ہے ؟کس کی بولنگ اچھی ہے؟کون اٹیک اوور کروائے گا؟ہماری باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں لیکن بریک کا ٹائم ختم ہو جاتا تھا۔
٭٭٭
میں جب بھی بولنگ کرواتا تھا تو پوری ٹیم میں دو پلئیرز میرے ساتھ ہوتے ہیں۔میرا حوصلہ بلند کرنے کے لیے ۔شاباش ساحل ۔۔۔بہت اچھی بولنگ ۔۔۔۔اگلا بال دیکھ کر کرنا ۔شاٹ لگائے گا۔ بال چینج کرکے پھینکا۔ویری گڈ ۔ویلڈن اوور۔حیدر اور علی ۔۔۔۔۔۔۔یہ دونوں میرے بازو ہیں ۔ میرے دوست ہیں ۔میرے پاٹنر ہیں ۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ حالات اتنے بدل جائیں گے۔
٭٭٭
"نہیں یار ! میں بات نہیں کر سکتا !پلیز کال مت کرو"۔ حیدر کہہ رہا تھا۔میں نے اسے ٹیکسٹ کیا ۔۔۔۔یار یہ تو بتا دو کہاں ہو ؟ جواب آیا ، بہت دور ہوں ۔میں پھر ٹیکسٹ کیا پلیز واپس آ جاؤ ۔ جواب آیا ، نہیں آسکتا۔ چلو وہیں رکو میں آتا ہوں۔میں نے اسے کہا۔۔۔۔میں نے اسے کہہ تو دیا کہ میں آ رہا ہو ۔مگر اپنے گھر کا حالات کا مجھے پتہ تھا۔
٭٭٭
اگر تم میرے پیچھے آئے تو میں اور دور چلا جاؤ گا۔ اس نے مجھ سے کہا ۔۔۔۔پلیز یار تمہیں اللہ کی قسم ! واپس آ جاؤ۔۔۔۔آ جاؤ گا واپس پر ،تم واپس گھر جاؤ ، اگر نہیں گئے تو صبح میرا منہ دیکھنے کے قابل نہیں رہو گے۔۔۔۔۔یار ایسا مت کہو ۔۔۔۔میں واپس چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔میری آنکھوں میں آنسو تھے۔۔ مجھے وہ دن یاد آ رہے تھے جب ہم اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، چائے پیتے تھے ۔ فیوچر کے بارے میں پلاننگ کرتے تھے۔۔۔باری باری سب خیالات میرے ذہن میں آ رہے تھے۔
٭٭٭
دیکھو یار! اللہ تعالی نے ہمیں کتنی نعمتیں دی ہیں ۔سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالی نے زندگی عطا کی ہے۔ اس کے ہم یہ احسان کیا کہ اپنے پیارے نبی حضرت محمد کا امتی بنایا۔ پھر ہمیں چلنے پھرنے کے قابل بنایا۔ ہمیں بولنے کی طاقت دی۔ لیکن ہم نے اپنے پروردگار کی کیا قدر کی؟یار جن لوگوں کی ہم قدر کرتے ہیں وہ ہماری کیوں نہیں کرتے، اس کے جواب میں ، میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔اس نے کہا ! بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر جب انسان دور چلا جاتا ہے پھر انسان کی قدر ہوتی ہے۔
٭٭٭
اس رات مجھے یقین ہو گیا کہ جب ایک مسلمان اپنےدوسرے بھائی کی مدد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ خود اس کی نصرت کرتے ہیں۔ میں جب گھر سے نکلا تو میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ مجھے اتنا ڈر تھا کہ لگتا تھا کہ دروازہ کھولتے ہی امی جان جاگ جائے گی ۔پھر سوالات کی بوچھاڑ ہو جائے گی۔ مجھے اپنا سچ بتانے کا ٹائم نہیں ملے گا۔لیکن دروازہ کھول لیا ۔ کسی کو پتہ نہیں چلا۔ میں اپنے بھائی کی مدد لیے نکل پڑا۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ میرے ذہن میں طرح طرح کے خیال اور وسوسے آ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے دوست سے رابطے میں تھا کہ کسی طرح وہ واپس آجائے ۔مگر حیدر ہر دفعہ میری کال ریجیکٹ کر دیتا تھا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Kabeer

Read More Articles by Abdul Kabeer: 25 Articles with 24791 views »
I'm Abdul Kabir. I'm like to write my personal life moments as well social issues... View More
14 Jan, 2017 Views: 545

Comments

آپ کی رائے
such me boht umdaa hy hr lafz bhtreen hy
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 20 2017
Reply Reply
0 Like
is article mai lafz lafz moty hai. welldone bhai
By: umama khan, kohat on Jan, 18 2017
Reply Reply
0 Like