خود غرضی کا عفریت ہمیں نگل رہا ہے

(A Waseem Khattak, )
زندگی تیز رفتاری کے ساتھ رواں دواں ہے نئے سال کاجشن منانا ابھی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سال سر پر آجاتا ہے اس تیزرفتار دنیا میں ہر کوئی ایک مشین کی طرح کام میں جُت گیا ہے اور خوفناک حد تک بے پرواہ کردینے والی مصروفیات نے سب کوآگھیرا ہے جس سے بھی پوچھو وہ یہی کہتا ہے کہ وقت نہیں ملتا واقعی میں وقت نہیں ملتا یا وقت نکالنے کی کوشش نہیں کی جاتی اگر سر اٹھاکر دیکھیں تو زندگی ایک رنگ میں ڈھل سی گئی ہے اور اس کی برق رفتاری میں ہم سب کھوگئے ہیں اور ہر بندہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ وقت نہیں ملتا اور نہ ہی وقت کا پتہ چلتا ہے یا پھر یہ بات تو سب کے زبان پر ہی ہے کہ زندگی وہی ہے لوگ وہی ہیں زمانہ وہی ہے مگر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا ، لوگوں کے روئیوں میں تبدیلی کا عنصر نمایاں ہوگیا ہے ہر کوئی یہی کہتا پھر رہا ہے کہ لوگ بدل گئے ہیں رشتوں کا تو پاس ہی نہیں رہا، پہلے زمانے میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا ، پیارتھا ، محبت تھی اور سب سے بڑھکڑ خلوص ہوا کرتا تھا مگر اب لوگوں کے بدلنے کا نوحہ ہر ایک کی زبان پر ہے میرے ایک محترم دوست شاہد خان نے میری توجہ اس جانب دلوائی کہ موجودہ دوور میں کوئی کسی کا نہیں بس اپنے آپ کا ہوکر رہ گیا ہے،جس چیز میں بھی دیکھو اپنا فائدہ اور دوسرے کا نقصان دیکھا جانے لگا ہے ، سیدھے منہ کوئی بات ہی نہیں کرتا، جو عزت پہلے زمانے میں ہوا کرتی تھی وہ عزت اب نہیں رہی

تو میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ واقعی میں ایسا ہے نفسانفسی کا دور ہے ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے کوئی بھی کسی کا نہیں کوئی رشتہ قابل اعتبار نہیں رہا ، دھوکہ دہی اور فریب نے ہر جگہ کا گھیراؤ کرلیا ہے آج کے دور کو جب پرانے زمانے کے ساتھ تقابل کیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ اس مشینی دور نے سب احساسات اور جذبات کا خون کردیا ہے ، بچپن سے جوانی اور پھر ادھیڑ عمری نے ہر کسی کو بڑھاپے کی دہلیز پر لا پھینکا ہے آج کا انسان انسانوں سے ٹوٹ کر مشینوں کا ہوکر رہ گیا ہے وہ مشنیں جو انگلی کے پوروں کی محتاج ہیں جو آپ کو دنیا کی سیر کرادیتی ہے پڑوسی سے اگاہی نہیں ہوگی مگر امریکہ کے صدر نے کچھ کھایا ہوگا تو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس نے آج چائے کی جگہ دودھ پی لی ہے ۔ خود غرضی نے انسانوں کے دل و دماغ پر قبضہ جمالیا ہے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے لوگوں کا استقبال کیا جارہا ہے جبکہ دلوں پر بغض اور منافقت کے چوغے اوڑھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا لوگوں سے تعلق سرسری سا رہ گیا ہے یا پھر اگر تعلق رکھنا ہی مقصود ہے تو صرف اپنے مقصد کے لئے ہی ہوتا ہے جس سے دوسرا شخص بھی اگاہ ہے کہ مجھ پر یہ رحم اور عنایت کیوں ہے کیونکہ وہی کچھ اس کے دل میں دوسرے کے لئے ہوتا ہے جب تک ہمارا کام ہے ہمارا تعلق ہے جب کام مکمل تعلق ختم ، یہ خود میرے ساتھ ہوا ہے اور یقینا آپ کے ساتھ بھی اس طرح ہوا ہوگا، ذرا نظر کریں کون ایسا ہے جو آپ پر رحیم ہے تو سمجھ لیں کہ اس کا تعلق کسی کام کے لئے تو کام کرکے اس سے خود ناطہ توڑ لیں ، کیونکہ ایسے لوگ کام کے نہیں ہوتے ۔ بہت سے لوگ یہ رونا روتے ہیں کہ آج کل کے دور میں چاپلوس لوگ اور خوشامد کرنے والے کامیاب ہیں اور اس میں بھی مجھے تو شک نہیں گزرتا ، دنیا اسی کی ہے جو سب سے زیادہ چاپلوس یا خوشامدی ہے اور یہ ایسا تیر ہے جو ہدف تک پہنچ کر ہی دم لیتا ہے آج کا انسان مایوسی کے آگ میں جھلس رہا ہے کیونکہ معاشرے کے لگے زخموں اور داغوں نے اسکی تخلیقی صلاحیت کا خاتمہ کردیا ہے لوگ انہیں ناامید اور مایوس نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہیں مگر مشورہ دینے والے خود اسی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں جس کے باعث جو تخلیقی صلاحیتیں ہیں وہ ختم ہوکر رہ گئیں ہیں اس دور میں ہر موڑ پر امیدیں ٹوٹ رہی ہیں کچھ لو آس پر زندہ ہیں مگر جب آس ٹوٹتی ہے تو تتر بتر ہوجاتے ہیں اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں ہیں دور نہیں جاتے اپنے خون کے رشتوں پر بھی بھروسہ نہیں رہا خون کے رشتے بھی ملاوٹ کا شکار ہوگئے ہیں ایک خبر پڑھی کہ ایک ماں نے اپنے چار بچے دریا میں پھینک دیئے صرف اس لئے کہ اسے اس کے یار نے ایساکرنے کو کہا تھا یہ بھی پڑھا کہ بیوی نے اپنے یار کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کروا دیا، اپنے یار سے شادی نہ کروانے پر کنواری لڑکی نے ماں باپ کو قتل کروا دیا یا پھر بیٹے نے اپنے باپ کو بندوق سے فائر کرکے ماردیا کیونکہ باپ نے اسے زمین میں حصہ دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد بیٹے نے باپ کا قتل کردیا۔ رشتے داروں میں ایک زمین کے ٹکڑے پر جھگڑا چل رہا تھا، کیس ایک عدالت میں زیر سماعت تھا اور جب کافی وقت ہوگیا اور کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تو ایک پارٹی نے دوسری پارٹی سے صلح کی کوشش کی اور ان میں ثالثی کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوگیا۔ اب یہ دونوں بھائی تھے جو ماں باپ کے مرنے کے بعد ز،مین پر جھگڑا کر رہے تھے۔ جب ایک سال گزر گیا تو ایک بھائی نے رات کو گھر میں گھس کر بھائی اور بھابی کو قتل کردیا اور اس کے تین بچوں کو بھی ذبح کردیا ماں جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے اور وہ تب ہوتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے اور اس کی دعا بچوں کو موت کے منہ سے بھی بچالیتی ہے مگر بیٹے اپنی اس ماں کو جو خود بھوکی رہ کر بچوں کو کھلاتی ہے اسے بیوی کے کہنے پر ایدھی سینٹر میں داخل کرواکر چلے جاتے ہیں ان سب واقعات میں ہر کہانی میں ایک خود غرضی چھپی ہوئی ہے جو انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی ،آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس معاشرے میں اکثر لوگ بڑا رتبہ ، گاڑی ، ملازمت کے بعد بدل جاتے ہیں ، جس پر گاؤں میں چہ میگوئیاں ہوتی ہیں کہ یہ ضرور بہ ضرور اوپر کی کمائی کی برکت ہے اور پھر اس شخص کا رویہ بھی بدل جاتاہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اچھی ملازمت اور کاروبار کیا اچھا ہوا، ترقی کیا ہو گئی، عہدہ کیا مل گیا، اچھا گھر کیا لے لیا۔۔۔ بچے کیا بڑے ہو گئے۔۔۔ اس نے تو ایسا کنارہ اور نظر انداز کرلیا ایسی نگاہیں پھیر ی، اور رویئے میں ایسی تبدیلی لے آیا کہ گویا وہ ہمیں جانتا ہی نہ ہو اور ، یہی منافقت ہے جو دونوں طرف سے ہوتی ہے حالانکہ ہر بندے کا اپنا کام ہوتا ہے اسے عہدہ ملتا ہے یا دولت یہ اﷲ کی دین ہے لوگ کیوں کر اپنے جنت کو خراب کرتے ہیں جبکہ جو لوگ بدلتے ہیں اس بارے علی بن ابی طالب رضی ا تعالیٰ عنہ کا قول ہے جو اس منافقت پر صادق آتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’عہدہ اور دولت ملنے پر لوگ بدلتے نہیں، بے نقاب ہوتے ہیں۔۔۔!‘‘ ظاہر ہے اصل ہمارا امتحان تو اس ہی وقت ہوتا ہے کہ جب ہمارے پاس عہدہ، دولت اور مقام و مرتبہ ہو اور ہم انسان بن کر دکھائیں حالانکہ اختیار اور اقتدار ملنے پر لوگوں کی اوقات سامنے آ جاتی ہے کہ ان کا باطن اور اصلیت کتنی بھیانک ہے۔ کام اور غرض ختم ہونے کے بعد نظروں کا پھِرنا اور لولی پاپ دینا بھی اس ہی حقیقت کا مظہر ہے یہ سب کیوں ہورہا ہے کیونکہ موجودہ دور میں انسان میں دولت کی ہوس بڑھ گئی ہے اس کے پاس دوسروں کے لئے وقت نہیں اور وہ ہر رشتے کا خون کرنے پر تُلا ہوا ہے ہر دوسرا آدمی شارٹ کٹ اور غلط طریقے سے آگے بڑھنے اور دولت جمع کرنے میں لگا ہوا ہے جس میں اس کے آگے آنے والے ہر رشتے کو وہ کاٹتا ہوا راستہ بناکر گزر جاتا ہے اور اقتدار ہو یا زمین، جائیداد، دولت یا پھر عورت اسے حاصل کرنے میں پیچھے نہیں ہٹتاجب تک یہ خود غرضی ہم ختم نہیں کرتے ہمیں ذہنی سکون نہیں مل سکتا ، نسان انگلی کے پوروں پر انحصار کرنے والے الات سے الرجک نہیں ہوتا ایسا ہی ہوتا رہے گا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A Waseem Khattak

Read More Articles by A Waseem Khattak: 19 Articles with 12598 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jan, 2017 Views: 414

Comments

آپ کی رائے