مملکت خدادا پاکستان کا منفرد مستقبل زبوں حالی کا شکار

(Haya Ghazal, Karachi)
پاکستان کے پاس وسائل کی کمی ہے نہ ذخائر کی اگر آج وہ اپنے بعد آزاد ہونے والے ممالک سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہے. تو اسکی وجہ مخلصانہ قیادت سے محرومی ہی کہی جاسکتی ہے.ایک ایسے ملک میں جہاں سرمایہدارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے زیر سایہ بیوروکریسی حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرچکی ہو.بالادست طبقات کو ملکی اداروں پر گرفت اور ملکی وسائل سے من چاہی چھیڑ چھاڑ کی کھلی آزادی ہو ایک ایسے ملک میں جہاں کا بچہ بچہ لاکھوں غیر ملکی روپوں کا مقروض ہو بے انتہا محنت کے باوجود ٹیکسوں کے نیچے دبا ہو جہاں نچلے طبقات کے لیئے ترقی کی راہیں نہ ہونے کے برابر کھلیں ہوں.جہاں لوٹ مار کی نوبت آجائے.جہاں کبھی گیس کبھی بجلی تو کبھی پانی کا بحران سامنے آتا ہو.جہاں حکمران عوام کو آئے دن مہنگائ اور بڑھتی ہوئ بے روزگاری کاتحفہ دیتے ہوں.جہاں ملکی صورتحال سے چشم پوشی کرکے ایوانوں کو جنگ کا میدان بنا کے عوام کو الجھا کے رکھا جاتا ہو.جہاں خود سیاست اور سیاسی کارکنان بشمول حکومت و اپوزیشن پارٹیاں اپنی بقا کی جنگ لڑرہیں ہوں.وہاں وہ معذور افراد جو ہماری آپکی اور حکومت کی توجہ کے حقدار ہیں انکے لیئے کیا امید کی جاسکتی ہے.حالات اس سے زیادہ مخدوش ہیں اس سے بھی بدتر تصویر کشی ممکن ہےلیکن کیا ہم اسکی سنوائ کی توقع کرسکتے ہیں کیا آپ کسی خاندان کو اجتماعی خودکشی سے روک سکتے ہیں یا آپ کسی ماں کو اسکے جگرگوشے کی فروخت سے باز رکھ سکتے ہیں.ہم میں سے کتنے ہوں گے جو روز کی بریکنگ نیوز سن کے صرف اظہار تاسف کرکے فراموش کردیتے ہیں پھر سے اگلے دن سب کچھ سن کے بھول جانے کے لیئے کیا آپ نے کبھی کسی سگنل پر بھیک مانگنے والے بچے کے لیئے گاڑی روک کر بھیک دینے کے بجائے اسکی تعلیم اور دوسرے اخراجات اٹھانے کا ذمہ یا عہد لیا.ہمارے پاس خود چند دلخراش کلمات کے سوا کچھ نہیں ہوتا.انکے لیئے بھی نہیں جو اس کسمپرسی کے باوجود محنت میں کوشاں نظر آتے ہیں.وہ پھول جو ہمارے ملک کا مستقبل ہیں. موسموں کی سختیاں جھیلتے ہوئے اپنی کم عمری کے باوجود پھٹے پرانے کپڑوں میں آپ کو جابجا مختلف جگہوں پر محنت کرتے ضرور نظر آتے ہوں گے. بچوں کے عالمی دن پر انکے ساتھ بہت سے احباب نے اپنی سیلفیاں بھی لیں ہوں گیں.بڑے بڑے دعوے اور عالیشان سیمینارز بھی منعقد کیئے گئے ہوں گے. پر پھر بھی کیا وجہ ہے کہ ہمارے یہاں چائلڈ لیبر میں اور خاص بیگار سے متعلق اضافہ بڑھتا ہی جارہا ہے کیا یہ ارباب اقتدار کی بے حسی ہے یا پورا معاشرہ ہی بے حسی کا شکار ہے.کیا ہم اپنی ذمہ داریاں سماج کے تئیں احسن طریقے سے ادا کررہے ہیں.کل کو ہم میں سے کوئ خدانخواستہ کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمارے اپنے بچے اس مقام پر نہیں کھڑے ہوں گے؟

سوچیں اس طرح کی صورتحال میں ان معذور افراد کا کیا حال ہوگا انکو کن مشکلات کاـسامنا ہوگا جو ذرا سی توجہ پاکے اس معاشرے کا شاید کبھی فعال رکن بن سکتے تھےانکے لیئے بنائے گئے ادارے ماسوائے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں کا زریعہ بننے کے دوسری کوئ افادیت نہیں رکھتے اب چاہے وہ محکمہ اسپیشل ایجوکیشن ہویا نیچنل ٹرسٹ برائے بحالی معذوراں یا قومی کونسل برائے بحالی معذوراں جہاں کام کرنے والے صرف اپنی تنخواہ اور مراعات سے غرض رکھتے ہیں فنڈز کے اندراج کرکے کاغذی کاروائ کے بعد یہ سرمایہ کس کھاتے میں جاتا ہے پچھلے 61 سالوں سے حکومتی اداروں میں اس کی چھان بین ریکارڈ سے بخوبی کی جاسکتی ہے.اگر وہ کسی ناگہانی شارٹ سرکٹ سے لگنے والی اتفاقیہ آگ کی نذر نہ ہوا ہو.ملازمتوں میں صرف 2%کوٹہ مختص ہونے کے باوجود کتنے معزور افراد کو انکا حق ملا ہوگا.کیا وہ انھیں اسکا اہل سمجھتے بھی ہیں.کیا انھیں اپنے جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اس بے حس رویے سے لڑنا نہیں پڑتا کیا انھیں اپنی معاشی جدوجہد کے لیئے ایک عام انسان سے زیادہ مشکلات برداشت نہیں کرنی پڑتیں. ہمارے ملک کی بیس کروڑ سے زائد اسلیئے کہوں گی کہ حالیہ ضروری مردم شماری ہونے کے ابھی دور دور تک کوئ امکان نہیں. اپنے ملک کی عددی صورتحال جاننے کے لیئے ہم غیر ملکی اور غیر سرکاری اداروں پر انحصار کرتے ہیں.جبکہ اس فگر میں روز بروز خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے تو میں کہہ رہی تھی کہ ہمارے ملک کی بیس کروڑ سے زائد آبادی میں تین کروڑ یا فگر زیادہ بھی ہوسکتی ہے افراد معذوری کا شکار ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں اسکی تعداد زیادہ دیکھنے میں آتی ہے اسکی ایک وجہ ہمارے ملک میں پولیو کا بڑھتا ہوا مرض بھی ہے جس نے خاص طور سے سندھ تھرپارکر بلوچستان اور چولستان کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں زیادہ لیا ہے. بنیادی سہولیات اور ضروری معلومات کا فقدان اور تعلیم کا نہ ہونا اسکا اہم سبب ایک اندازے کے مطابق پاکستان 43.4 فی صدبچے ہیں۔ ان بچوں میں 58.4فی صد بچے او ر41.6فی صد بچیاں ہیں۔یعنی معذور بچوں کی تعداد بچیوں سے زیادہ ہے۔ صرف 14فی صد معذور افراد کام کاج کرتے ہیں جبکہ باقی اپنی ضرورتوں کے لیئے اپنے خاندان کے دوسرے افراد پر انحصار کرتے ہیں۔

ہم اپنے ارد گرد کہیں نہ کہیں گونگے اور بہرے افراد یا بچوں سے ملے ہوتے ہیں۔ ان کی حالت دیکھ کران کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ ایک ہی خاندان میں مسلسل شادیاں کرنے سے جنم لینے والے بچوں میں جو مسائل ظاہر ہونے لگتے ہیں‘ ان میں سے ایک گونگا بہرہ پن بھی ہے۔دورانِ حمل دواؤں کے غیرمحتاط استعمال سے بھی ایسا بچہ پیدا ہوسکتا ہے۔

علی میڈیکل سنٹر اسلام آباد کے ماہر امراض بچگان ڈاکٹر عبدالحمید پراچہ کا کہنا ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد بچے کا گونگا بہرہ پن ظاہر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس وقت کسی ٹیسٹ کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین ماہ کی عمر سے بچے آواز پر اپنا رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ آواز سنتے ہی اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اگر بچے کی سماعت میں مسئلہ ہوتووہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ اس سے والدین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بچے کی سننے کی حس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔

اسی طرح چار ماہ کے بچے مختلف آوازیں نکالنے لگتے ہیں۔ اگر بچہ گونگا بہرہ ہو تو اس کے والدین کو6 ماہ میں اس کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ سماعت وغیرہ کے ٹیسٹ کیئے جاتے ہیں۔آلہ سماعت کے استعمال اور سپیچ تھیراپی کے ذریعے بچے کی حالت میں کسی حد تک بہتری لائی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ بچوں میں پیدائشی نابیناپن بھی عام ہے۔ پاکستان میں تقریباًدو ملین افراد اندھے ہیں۔
معذور افراد کی بہبود سے متعلق ادارے ”ڈِس ایبل ویلفیئر ایسوسی ایشن کراچی“ کے سربراہ اور ماہر امراض ِ چشم ڈاکٹر ایم شاہنواز مونامی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر بڑھتے ہوئے نابیناپن کی ایک وجہ موتیا ہے۔اس کا علاج ممکن ہے لیکن بد قسمتی سے والدین کی عدم توجہی اور شعور کی کمی کے باعث ایسے بچے ساری زندگی اندھیروں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

ڈاکٹر شاہنوازنے پاکستانی بچوں میں نا بینا پن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے 66فی صدبچے مو تیئے کا شکار ہیں جنہیں متعلقہ شعبے کے ماہر ڈاکٹر سے معائنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیدائشی اندھے پن کی وجوہات میں موروثیت اور سفید موتیے کے علاوہ دوران حمل ماں کو انفیکشن بھی شامل ہیں۔ نومولودبچوں میں اندھے پن کی علامات درج ذیل ہیں:
٭وہ آپ سے آنکھیں نہیں ملائیں گے اور دیکھنے والے کو ایسا لگے گا گویا بچہ کہیں دور ہوا میں دیکھ رہا ہے۔
٭ایسے بچوں کی آنکھیں ایک جگہ ٹک نہیں سکتیں یعنی ان کا فوکس خراب ہوتا ہے۔
٭نابینا بچے چونکہ دیکھ نہیں سکتے‘ اس لےے وہ آپ کے دیکھنے پر مسکرائیں گے نہیں اور نہ کسی اور طرح کا رد عمل ظاہر کریں گے۔

اگر مندرجہ بالا علامات بچے میں ظاہر ہوں تو ڈاکٹرسے ضرور معائنہ کرا لینا چاہے۔تفصیلی جائزے کے لے بچے کو امراض چشم کے ماہر ڈاکٹر کی طرف ریفر کیا جا سکتا ہے۔ نابینا بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیئےا سپیشل اسکول اور ادارے موجود ہیں جہاں انہیں مخصوص انداز سے تعلیم دی جاتی ہے۔

ذہنی طور پر پسماندہ
ذہنی پسماندگی سے مراد ذہانت کی ایک خاص حد سے زیادہ کمی‘ سیکھنے کے عمل کابہت سست ہونا اور روز مرہ زندگی میں عمومی صلاحیتوں کی کمی ہے۔ بچوں میں ذہنی پسماندگی کی بہت سی علامات ہیں جو ابتدائی عمر سے ہی یا اس وقت نمایاں ہوتی ہیں جب بچہ سکول جانے لگے۔جیسے
٭دیر سے بیٹھناشروع کرنا۔
٭ پیٹ ، گھٹنوں کے بل اور کھڑے ہوکر دیر سے چلنا۔
٭دیر سے بولنا یا بولنے میں دشواری ہونا۔
٭چیزوں کے سیکھنے میں سست ہونا۔
٭چیزیں ادھر ادھر رکھنے میں دشواری ہونا۔
٭رویوں کا نارمل نہ ہونا۔
٭ذہنی پسماندہ بچے صحت کے دیگرمسائل مثلاً بینائی اور سماعت متاثر ہونے جیسے مسائل کے بھی شکار ہو سکتے ہیں۔

ذہنی پسماندگی کے پیچھے بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں موروثیت،حمل کے دوران بچے کی دماغی نشوونما متاثر کرنے والے مسائل‘دورانِ زچگی پیچیدگیاں(مثلاً بچے کو آکسیجن کی فراہمی رک جانا)‘ وقت سے پہلے پیدائش یاپیدائش کے بعدکوئی شدید انفیکشن شامل ہیں۔

بچوں میں پیدائشی طور پر ذہنی معذوری کے خطرے کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیئے ضروری ہے کہ دوراں حمل خواتین وقت پر معائنہ کراتی رہیں، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق وٹامنز لیتی رہیں اوراپنی خوراک کا بھی خاص خیال رکھیں۔اس کے علاوہ حاملہ عورت کی کچھ ویکسی نیشنز بھی ضروری ہیں
صحت مندمائیں ہی صحت مند بچوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس لئے بچیوں(کل کی ماﺅں)کی خواراک اور صحت پر شروع سے ہی توجہ دینی چاہئے۔ خواتین کو چاہیئے کہ حمل سے پہلے ہی فولک ایسڈ کا استعمال شروع کر دیں‘دوران حمل اپنی خوراک کا خیال رکھیں‘غیر ضروری دواؤں کے استعمال سے پرہیز کریں اور متواتر معائنہ کراتی رہیں۔گھر پر زچگی سے بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ جبکہ ہاسپٹلز میں کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بروقت نمٹنے کے لیئے بہتر سہولیات موجود ہوتی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ تو زچگی کسی مستند‘ تجربہ کار اور دیانت دار دائی کے ہاتھوں ہونی چاہئے‘

یہ تو معذور بچوں کی وہ قسم ہے جو موروثیت یا دوسری پیدائشی پیچیدگیوں کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے جبکہ موذی بیماریوں کے نتیجے میں مختلف حادثات جیسے بم دھماکوں یا علاقائ آپریشنز کے نتیجے میں قدرتی آفات اور بدامنی اور آئے دن ہونے والے شہری مختلف نوعیت کے ہنگاموں سے رونما ہونے والے حادثات کے نتیجے میں بھی وجود آتی ہے.جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ازخود وجود میں لائ جارہی ہے جسکے پیچھےبھیک مافیا سرگرم ہے.

درگاہوں پر جانے والے زائرین کی خدا ترسی نے پاکستان میں ’بھیک مافیا‘ کو جنم دیا ہے۔ جو ہزاروں پاکستانی بچوں کو بھکاری بننے پر مجبور کر رہے ہیں۔

پاکستان کے اکثر شہروں اور قصبوں میں صوفیا کرام کی کئی درگاہیں موجود ہیں۔ ان درگاہوں پر لوگ بڑی تعداد میں منتیں اور دعائیں مانگنے آتے ہیں۔

یہ درگاہیں بھکاریوں کے لیے ہمیشہ کشش رکھتی ہیں۔ بھکاریوں میں بچے بڑی تعداد میں نظر آئیں گے. ۔بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے زائرین اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ بھیک دینے سے ان کی منتوں کے پورا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

فلاحی تنظیم روشنی ہیلپ لائن کے بانی محمد علی کہتے ہیں ’بھکاری بنانے کے لیے بچوں کو اغوا کیا جاتا اور مختلف بھیک مافیا گروہوں کے درمیان ان بچوں کی تجارت ہو رہی ہے۔ سال 2010 میں صرف کراچی شہر سے 3،000 بچے لاپتہ ہوئے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ان لاپتہ بچوں میں سے بہت سے بچوں کو مختلف درگاہوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ ان کے سر منڈوا دیے جاتے ہیں۔ ان کے جسم پر نشان ڈالے جاتے ہیں۔ ان شکل و صورت کو اس طرح بدل دیا جاتا ہے کہ ان کے والدین انھیں پہچان نہ سکیں۔‘

’بھیک مانگنے کا کام اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ پولیس بھی ان بچوں سے شاید ہی کبھی پوچھتی ہے کہ یہ ان درگاہوں تک کیسے پہنچے۔‘

کسی بھی پاکستانی درگاہ پر کچھ وقت گزارتے ہی آپ کو پتہ چل جائے گا کہ جو فقیر جسمانی طور پر جتنا معذور اور مجبور نظر آتا ہے لوگ ان کی جانب اسی قدر زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور اُسے بھیک میں زیادہ پیسے ملتے ہیں۔

علی کہتے ہیں کہ ’بعض بچے جو معذور نہیں ہوتے انہیں بھیک مانگنے کے لیئے معذور بنادیا جاتا ہے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے ہیں۔ ان کے بال کُتر دئیے جاتے ہیں یا ایک آنکھ نکالی جا سکتی ہے۔ یہ سب کرنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ یہ بچے رحم اور ہمدردی کے زیادہ مستحق نظر آئیں اور بدلے میں زیادہ رقم پائیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغواکار قدرتی طور پر معذور بچوں کی تلاش میں زیادہ رہتے ہیں۔

پورے پاکستان میں غائب ہونے والے بچوں کی بڑی تعداد ان درگاہوں پر تلاش کی جاسکتی ہے۔ پہلےیہ روایت تھی کہ لوگ اپنے معذور بچے کو درگاہ پر چھوڑ جاتے تھے۔‘

پاکستان میں ’تہذیبی تبدیلی‘ کی بھی ضرورت ہے تاکہ استحصال کرنے پر مالی انعام بند ہو۔

’درگاہوں پر جانے والے لوگ آج بھی فقیروں کو پیسے دینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سو چتے کہ ان کے دیئے ہوئے پیسے کہاں جائیں گے یا پھر بھیک مانگنے والا شخص درگاہ تک کیسے پہنچا۔‘

عام لوگوں کے درمیان اس موضوع پر بحث کر کے معاشرے میں ’ثقافتی اور تہذیبی تبدیلی‘ لانا کی اشد ضرورت ہے-

مجرم گروہوں سے تو پولیس کو نمٹنا چاہئے لیکن ان گروہوں سے بڑا مسئلہ ہے لوگوں میں توہم پرستی۔ ہمیں لوگوں کو بتانا ہوگا کہ ان معذور بچوں کا درگاہ پر چھوڑ دینا یا درگاہ پر بھیک مانگنے والے بچوں کو بھیک دینا کوئی اسلامی روایت نہیں ہے۔‘

ہمیں بار بار یہ سوال کو اٹھانا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ یہ بچے آتے کہاں سے ہیں؟ تبھی ہم اس مسئلہ سے نجات حاصل کر سکیں گے-

اسکے علاوہ بھی قدرتی آفات اور بم دھماکے جیسے حادثات کے دوران لاپتہ ہونے والے بچوں کے ساتھ جنھیں گمشدگی کی صورت میں عموما مردہ تصور کرلیا جاتا ہے وہ بھی اس مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں.کشمیر کے زلزلے کے نتیجے میں کتنی بچیاں ایسی تھیں جنھین بے اولاد جوڑوں کی شکل میں گود لے کر بازار حسن میں بیچ دیا گیا جنکی تصدیق کرانے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی. جنسی بے راہ روی کے نتیجے میں شکار ہونے والے معصوم بچے اکثر یا تو مر جاتے ہیں یا تاعمر معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں.اسکے علاوہ ایک تعداد ایسی بھی ہے جو اپنی غربت کے باعث اپنے نونہالوں کو کام کرنے کے لیئے پیسوں کی غرض سے ایجنٹوں کے یا انسانی دلالوں کے بھی سپرد کردیتی ہے جو مختلت بااثر لوگوں کے ہاتھ عمر بھر مفت کی چاکری کرنے کے لیئے چند پیسوں کے عوض انھیں بیچ دیتے ہین بعد میں ان بچوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ چند حالیہ رواں کیسوں کے عمومی جائزے سے پتہ چلایا جاسکتا ہے یہی نہیں بعض بچے سمندر پار بیچ دیئے جاتے ہیں.زیادہ تر کیمل ریس کے لیئے وہ زندہ کم ہی رہ پاتے ہین یا پھر باقی ماندہ زندگی معزوری کی حالت میں بسر کرتے ہیں-

ہمارے یہاں پہلے ہی متوازن غذا کا عام ہاتھوں میں سہولت سے فراوانی کا فقدان ہے پھر علاج و معالجے کی ناکافی سہولیات اوپر سے گھر سے باہر نکلنے پر نہ ایسے راستے ہیں نہ جگہیں جو وہ حفاظت کے طور پر اختیار کرسکیں ہمارے یہاں ایسے تعلیمی اداروں کی تعداد لمحہ ء فکریہ ہے جہاں انھیں دوبارہ سے معاشرے کا فعال رکن بنایا جاسکے اوپر سے مستزاد یہ کہ خود والدین اور قریبی رشتے داروں اور دوسرے سماجی رویوں کا ایسے اسپیشل چلڈرنز کے ساتھ سلوک کسی طور پر قابل قبول نہیں.بہت کم والدین ایسی اولاد کو اپناتے ہیں اور انکی پیدائش کے بعد سے لے کر انکی علاج معالجے اور تعلیم پر ہونے والے اضافی اور مہنگے اخراجات اٹھانے کے متحمل ہوتے ہیں.اسکے لیئے ہم انھیں قصوروار قرار دیں یا معاشرے کو یا ان بے حس حکومتی اداروں کے ارکان کو جنھیں یہ سب نظر آتا بھی ہے پر وہ اس سے چشم پوشی کرجاتے ہیں.چند ادارے آٹے میں نمک کے برابر اپنی مدد آپ یا غیر ملکی امداد کے تحت کام کررہے ہیں.یہاں خصوصی لینز یا چشمے دستیاب نہیں یا ہیں تو قوت خرید سے باہر،ماحولیاتی آلودگی، ادویات کی عدم دستیابی یا عام قوت خرید کی دسترس سے باہر ہونا، علاج اسقدر مہنگا کہ کرانے سے زیادہ مریض موت کو ترجیح دینے پر مجبور ہوجائے مشکل سے ملازمت مل بھی جائے تو وہاں ایسے آلات کی ہونے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی جو انھین نارمل ورک کرنے میں مدد دے سکے.نا بہروں کے لیئے آلہء سماعت دستیاب نہ سائن لینگویج اور بریل سکھانے کا تمام اسکولوں مین انتظام ایسی صورت میں کیا کوئ خوش آئند توقع کی جاسکتی ہے. کیا ایسے والدین کی اخلاقی تربیت کا اہتمام کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ایسے بچوں کو صحیح طور سے کیسے ہینڈل کریں.کیا عام اسکولز میں ہی انکی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام کیا جاسکتا ہے.پاکستان کے چند شہروں میں اس سے بھی زیادہ خراب صورتحال دیکھی جاسکتی ہے جہاں ایسے افراد ہومو سیکس کا پیشہ کرتے نظر آتے ہیں.انہوں نے خود کو ہیجڑوں کے ساتھ منسلک کررکھا ہے اپنی ظاہری شخصیت تبدیل کرکے مسخ کردی ہے. کیوں کیونکہ سماج کی بے توقیری انھوں نے اپنا نصیب سمجھ کے قبول کرلی ہےمعمولی معاوضوں کے عیوض وہ آخرکار اس فعل بد کے عادی ہوجاتے ہیں اور آخر کار مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر وقت سے پہلے ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں.نہ وہ ایک عام بھرپور زندگی کا تصور کرسکتے ہیں نہ اسکی بنیاد رکھ سکتے ہیں.پاکستانی معاشرہ بالادست طبقات کے رحم وکرم پر اچھے بھلے انسانوں کو پاؤں تلے روند رہا ہے.یہ بھی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں جو اپنی منفرد صلاحیتوں اور محنت سے اس ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں پر صد افسوس ہم اپنے ملک کے اس منفرد مستقبل کو بے حسی کی آگ میں روز جھونک رہے ہیں چاہے وہ حکومتی سطح پر ہو یا معاشرتی یا سماجی سطح پر. قصوروار ہم سب ہیں.ہماری تعلیمات تو کچھ اور ہی کہتیں ہیں صد افسوس آج ان پر غیر عمل پیرا ہیں.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haya Ghazal

Read More Articles by Haya Ghazal: 65 Articles with 58068 views »
I am freelancer poetess & witer on hamareweb. I work in Monthaliy International Magzin as a buti tips incharch.otherwise i write poetry on fb poerty p.. View More
20 Jan, 2017 Views: 459

Comments

آپ کی رائے