ماں برائے فروخت

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)
ایک نہایت ہی امیر نیا شادی شدہ عرب جوڑا، جو غالبا مصری نزاد ہے، اپنی نکاح کی محفل بعد دعوت ولیمہ کے فوٹو سیشن میں مشغول تھا کہ دولہا کی والدہ جو نہایت غریب تھی اور غالبا الگ رہتی تھی، پارٹی میں آجاتی ہے اور اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسٹیج پر پہنچ جاتی ہے۔ بیٹا اس سے گلے مل رہا ہوتا ہے لیکن ماڈرن بیوی کو فوٹو سیشن کے دوران اپنے شوہر کا اس کی ماں سے یوں گلے ملنا ناگوار گزرتا ہے. وہ اسے اشارہ سے روکتی ہے اور فوٹو سیشن جاری رہنے کا اشارہ کرتی ہے۔ نئی نویلی دلہن کے اس رویہ پر وہ اپنی ماں کو اسٹیج سے اتر کر اپنی بہنوں کے پاس جاکر بیٹھنے کو کہتا ہے، اس کے کہنے کے انداز سے شاید ماں کا دل بھر آتا ہے اور وہ نہایت خاموشی کے ساتھ غمگین اسٹیج سے اتر کر جانے لگتی ہے۔ انہی لمحات میں دولہا کے دل و دماغ میں بچپن سے لے کر بڑے ہوتے تک کا زمانہ تازہ ہوجاتا ہے، اسے ماں کی پرورش، لاڈ وپیار و ممتا یاد آتی ہے اور ماضی کے ان لمحات میں اسے ماں کی شفقت و محبت کے مقابلہ میں نوبیاہتا بیوی کی ساس سے بیزاری بری معلوم ہوجاتی ہے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے پارٹی میں جاری نغمہ سرائی و ساز و ترنگ کو بند کرنے کا اشارہ کرتا ہے اور مجمع کو مخاطب کرتا ہے اور اسٹیج سےجاتے ہوئے اپنی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
"میں اپنی ماں کو بیچنا چاہتا ہوں، آج کی اس محفل میں کوئی ہے اس کاخریدار؟"

مجمع پر سکوت طاری ہوجاتا ہے۔ سب حیران و پریشان ہیں کہ کیا ماجرا ہے، خود اس کی ماں اور اس کی نئی نویلی دلہن حیران و ششدر رہ جاتے ہیں ۔ کچھ لمحوں بعد وہ اسٹیج سے نیچے اترتا ہے، پراعتماد، نپے تلے قدموں سے وہ اپنی ماں کے قریب پہنچتا ہے اور کہتا ہے "نہیں ہے کوئی خریدار میری ماں کا؟ خیر کوئی بات نہیں!"

یہ کہتا ہوا جھک کر اپنی ماں کا اکرام کرتا ہے اور اس کے قدموں کو چومتا ہے اور پھر کھڑے ہوکر کہتا ہے، "کوئی بات نہیں میں خود ہی اپنی ماں کو خرید لیتا ہوں اپنی نئی نویلی دلہن کے عوض میں!"

اور ماں کو گلے لگا کر خراماں خراماں محفل سے نکل جاتا ہے۔ ایک دیگر پوسٹ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی محفل میں ایک لڑکی کا باپ اسی محفل میں لڑکے کی اس قربانی سے متاثر ہوجاتا ہے اور اپنی بیٹی کا ہاتھ اسے تھما دیتا ہے. ہوسکتا ہے کہ یہ کسی عربی فلم کا کوئی منظر ہو یا حقیقتاً ظہور پزیر سچے واقعہ کی عکس بند فلم، راقم الحروف کے، اس منظر کشی کو الفاظ میں پرونے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ فی زمانہ اس جدت پسند تعلیم یافتہ ادوار میں، ہم میں سے ایسے کتنے ہیں؟ جو اپنی نئی نویلی، مالدار، پڑھی لکھی، حور مثل، بیوی کے نخروں کے سامنے ،خود کو پالنے پوسنے والی،خود بھوکا رہ کر اسے کھلانے والی ، اس کے تر کیئے بستر کے حصہ پر خود کو سرکاکر، سوکھے حصہ پر اسے سلانے والی، گرتے پڑتے اسے لگنے والی ہلکی خراش پر بھی، اس کی نکلتی چیخ کے ساتھ، اسے اٹھاکر، گود میں لینے والی، ممتا کی ماری ماں کا دل دکھانے والے، کتنے کام ہم سے، جانے میں یا انجانے میں سرزد ہوجاتے ہیں، اس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ والدین کے ہم پر احسانوں کا بدلہ ساری زندگی، ان کی خدمت کرنے سے بھی جہاں ان کا حق ادا نہیں جاسکتا۔ وہیں پر جانے انجانے میں ان کے قلب و اذہان کو چوٹ پہنچاکر تو، اپنی عاقبت خراب ہونے سے بچا جاسکتا ہے۔
واللہ الموافق
(بشکریہ نقاش نائطی)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mussadiq

Read More Articles by Mussadiq: 64 Articles with 300461 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jan, 2017 Views: 630

Comments

آپ کی رائے
bht great article hai good
By: umama khan, kohat on Jan, 23 2017
Reply Reply
0 Like
ameen ALLAH hum sab ko waldain ka farmabardar bnaye ,,,,nice topic
By: Zeena, Lahore on Jan, 22 2017
Reply Reply
0 Like
sory sis nhe bhai bhtreen likha hy apny
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 21 2017
Reply Reply
0 Like
boht khob taref ky liy ilfaz kam hy sis boht alla
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 21 2017
Reply Reply
0 Like
Agar aap ko theek lagay to article ka title change karva dain. IS title mai b aik gustakhi c mehsoos hoti hai. Sorry agar aap ko ye baat achi na lagi ho. ALlah hafiz
By: Kishwer Baqar, Jubail on Jan, 21 2017
Reply Reply
0 Like
Aslam o alikum, article ka topic parh kar hi dil kamp utha tha... Astaghfirullah... mai nai apni zindagi mai hi mushahida kia hai. jin logo nai apnai validain k sath bad salooki ki vo is duniya mai hi barbaad hoaye...
ALLAH k sath shirk karnay ki saza maut hai or Allah nai Quran paak mai yahi ihkam diye hain k kabhi shirk na karna or sath hi k validain ka ihtaraam karna... Hazrat musa AS ki shairiat mai validain say badsalooki karnai valo ki saza vohi thi jo shirk karnay ki thi yani US SHAKHS KO QATAL KAR DIA JAYE. Allah k nazdeek aaj b is gunah e azeem ki saza maut hi hoti magar RASOOL SAW ki rehmat say hum par bohut si sazain weak kar di gaye... magar QAYAMAT mai aisi aulad ko sab pata chal jaye ga... Bohut lamba comment kar dia or mai bohut hi kam comments karta hon. magar topic hi MAA ka tha... Allah meray or sab k validain ko salamat rakhai or un ki maghfirat karay. AMIN
By: Kishwer Baqar, Jubail on Jan, 21 2017
Reply Reply
0 Like