اسلام میں اعتدال کی اہمیت

(Muhammad Nadir Waseem, Bhakkar)
اسلام دین اعتدال ہےاور تمام شعبہ ہائے زندگی میں اعتدال کاحکم دیتا ہے.یہ وصف اسے دیگرمذاہب سے ممتاز کرتا ہے.ﺫیل میں ہم چند پہلوؤں سےاسلام کا وصف اعتدال واضح کریں گے.

اعتقاد میں اعتدال:
اسلام اس ایمان و اعتقاد کو اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے جو دلیل قطعی اوربرہان یقینی پر قائم ہے اور اسکے ما سوا کا انکار کرتا ہے اور اسے اوہام و بدعات سے تعبیر کرتا ہے.ارشاد باری تعالی ہے:"قل ھاتوا برھانکم إن كنتم صادقين"(البقرۃ:112)
ترجمہ "اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل لے آؤ"

ملحدین وجود الہ کے قائل نہیں ہیں اورمشرکین ایک سے زیادہ الہ کے قائل ہیں اسلام ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں وہ کسی کی اولاد نہیں،اسکی کوئی اولاد نہیں، وہی عبادت کا مستحق ہے.

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو انبیاء کو الوہیت کےمنصب پرفائز کرتے ہیں اور دوسری وہ لوگ ہیں جو انبیا کی تكذیب کرتے ہیں،تہمت لگاتے ہیں اور دشنام طرازی کرتے ہیں.اسلام اس افراط و تفریط کے درمیان راہ اعتدال کاعقیدہ دیتا ہے نبی خدا ہوتا ہے ،نہ ہی خدا کی اولاد ہوتا ہے اور نہ ہی عام لوگوں جیسا ہوتا ہے.بلکہ وہ اللہ کی بہترین مخلوق ہوتا ہے.

عبادت میں اعتدال:
اسلام عبادات و شعائر میں ادیان کے درمیان راہ اعتدال پرقائم ہےکچھ ادیان نے عبادت کو چھوڑ کر صرف اخلاقیات کو لازم جانا اور کچھ ادیان نے اپنے ماننے والوں کو شعبہ ہائے زندگی سے تعلق توڑ کر گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کر کے فقط عبادت کا درس دیا.جیسا کہ عیسائیوں کے ہاں رہبانیت کا طریقہ ہے.قرآن میں ہے: "وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّاابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّه ِفَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا"
اسلام مسلمان کو دن رات میں محدود وقت میں فرض عبادت نماز کا حکم دیتا ہے.ہفتہ میں ایک دن نماز جمعہ کا حکم ہے.بارہ ماہ میں سے ایک ماہ کے روزے فرض کیے گئے ہیں.زندگی بھر میں ایک دفعہ حج فرض کیا گیا ہے.مال کی مقدار ایک خاص حد تک پہنچنے پر زکوۃ فرض کی گئی ہے.عبادت کے بعد رزق تلاش کرنے اور اللہ تعالی کی نعمتوں سے مستفیدہونے کی دعوت دی گئی ہے.چنانچہ آیت کریمہ میں ہے:"یاایھا الﺫین إذا نودي للصلوة من يوم الجمعة فاسعوا إلى الله و ذروا البيع ذلكم خير لكم إن كنتم تعلمون".

اسلام نے عبادت میں میانہ روی سے مروی ہے کہ تین شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے ازواج النبی سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی عیادت کے بارے میں دریافت کیا جب انکوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نےاسکوکم خیال کیا انہوں نے کہا ہم کہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےبرابر ہو سکتے ہیں انکے لیے تو اللہ تعالی نے غفر لہ ما تقدم من ﺫنبہ وما تأخر کی خوشخبری سنائی ہے.ایک نے کہا میں ساری رات عبادت کیا کروں گا.دوسرے نے کہا میں صوم دہر رکھوں گا تیسرے نے کہا میں عورتوں سے کنارہ کشی کروں گا اور کبھی بھی شادی نہیں کروں گا.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کیا تم نے ایسا ہی کہا ہے.اللہ کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ سے ﮈرنے والا ہوں زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں.نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں میں نے شادیاں بھی کی ہیں.جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سےنہیں.

اخلاق میں اعتدال:
اسلام نے اخلاق کے بارے میں بھی میانہ روی کا حکم دیا ہے اسلام نے افراط و تفریط سے پاک اخلاقی تعلیمات دی ہیں.کچھ مذاہب نے افراط سے کام لیا اور انسان کو مسکین سمجھ کر ایسےاخلاقی مطالبے کیے جو اسکے بس میں نہیں تھے اور دوسری طرف کچھ مذاہب نے تفریط سے کام لیتے ہوئے انسان کو حیوان محض سمجھ کر اس سے سارے اخلاقی حقوق چھین لیے اور اس سے ایسا سلوک کیا جو انسان کے شایان شان نہیں.

اسلام کی ساری اخلاقی تعلیمات میانہ روی کے سنہری اصول کے مطابق ہیں.کرم،بخل اور اسراف کے درمیان حسین اخلاقی تعلیم ہے.شجاعت، سستى اور بے جا ظلم کے درمیان راہ اعتدال ہے.محبت اور بغض میں بھی راہ اعتدال کا درس ہےمحبت میں حد سے زیادہ نہ بڑھا جائے اور بغض میں بھی حد سے بڑھنے سے روکا گیا ہے.آیت کریمہ واضح کر رہی ہے:یا أیھا الذين كونوا قوامين لله شهداء بالقسط ولا يجرمنكم شنان قوم على أن لا تعدلوا اعدلوا هو أقرب للتقوى" .

معاملات ميں اعتدال:
لوگوں کے ساتھ لین دین اور معاملات میں بھی اعتدال کا حکم دیا گیا ہے.اسلام ہر قسم کی بیع جس میں افراط و تفریط کا پہلو پایا جاتا ہے اسے باطل قرار دیا ہے.سود،ظلم،رشوت اور ہر وہ معاملہ جس میں جانبین میں سے ایک کو نقصان ہوتا ہے اور دوسرا سراسر فائدے میں رہتا ہے اس قسم کے معاملات کو ناجائز قرار دیا گیا ہے.کاروبارکی تمام شرائط و ضوابط میں تیسیر،عدم الحرج اور اعتدال كو ملحوظ خاطر ركھا گیا ہے.نکاح وطلاق میں بھی اعتدال کا حکم دیا گیا ہے. نکاح کے ساتھ حق مہر لاگو کیا گیا ہے اور طلاق کے عمل کو بھی تین مراحل میں مکمل کرنے میں حکمت یہی ہے کہ فریقین میں اعتدال کی راہ قائم رہ سکے اور پھر طلاق کے بعد نان و نفقہ شوہر کے ﺫمہ قرار دیا گیا ہے تاکہ عورت ایک دم سے مشکلات کےبھنور میں پھنس کر نہ رہ جائے.

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں شادی و نکاح کی رسم کو مشکل سے مشکل تر بنادیا گیا ہے اگر اسلام کے اصول اعتدال کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کام نہایت سادگی اور کم اخراجات سے طے پا سکتا ہے.مہر میں غلو کرنے سے منع کیا گیا ہے.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"أعظم النساء بركة أيسرهن صداقا ( رواه أحمد و الحاكم والبيهقي)
"عورتوں میں سے زیادہ برکت والی کم مہر لینے والی ہے."

اقتصادی نظام میں بھی اسلام نے فرد اور معاشرے کی حریت وآزادی کا خیال رکھا ہے۔ چنانچہ وہ انفرادی ملکیت کا احترام کرتا، اسے باقی رکھتا اور اسکو اس طرح بنا کر رکھتا ہے کہ معاشرہ کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ چنانچہ اسلام ، انفرادی مفاد کا لحاظ کرنے والی اور افراد کے حق کو پامال کرنے والی سرمایہ داری اور انفرادی ملکیت کو کالعدم قرار دینے والی اشتراکیت کے درمیان ایک معتدل موقف اپناتا ہے۔اور انفاق وخرچ کرنے کے سلسلے میں میانہ روی اس فرمان الہٰی سے واضح ہے:وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا(الفرقان: 67)“
اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں۔”
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Nadir Waseem

Read More Articles by Mohammad Nadir Waseem: 32 Articles with 37834 views »
I am student of MS (Hadith and its sciences). Want to become preacher of Islam and defend the allegations against Hadith and Sunnah... View More
24 Jan, 2017 Views: 1853

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ