شرک کیسے شروع ہوا؟

(manhaj-as-salaf, Peshawar)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ، أَمَّا وُدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجُرُفِ عِنْدَ سَبَا، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ، لآلِ ذِي الْكَلاَعِ‏.‏ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا، وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ‏.‏
(صحیح بخاری، رقم: 4920)

اثر (روایت) کے الفاظ دیکھیں: جب علم جاتا رہا لوگوں نے ان بتوں کی عبادت شروع کر دی

ڈاکٹر مرتضی بن بخش صاحب حفظہ اللہ کے الفاظ کے ضمنا معنی ہیں.

سوال ہے شرک کیسے شروع ہوا؟ آدم علیہ سلام سے نوح علیہ الصلوۃ والسلام تک کوئ شرک نہیں تھا. اور کوئ رسول کی ضرورت بھی نہیں تھی. لوگ فطرت پہ تھے. توحید پر تھے. ہاں برائیاں تھیں. کی بری تھیں؟ سب سے پہلے برائ قتل کی پھر گانے بجانے کی تکبر کی. آہستہ آہستہ یہ بگاڑ آتا گیا. لیکن شرک نہیں تھا. نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم میں سب سے پہلے شرک ہوا. اس کی دلیل صحیح بخاری میں تفسیر نوح آیت: 23 اور تفسیر ابن کثیر میں بھی ہے.

سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ یہ جو پانچ بت تھے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم میں. حقیقتا یہ اللہ تعالی کے نیک اور اچھے اور صالح لوگ اور بزرگ تھے. اولیاء تھے. اور اتنے نیک اور بزرگ لوگ تھے کہ جب اللہ تعالی سے دعا کرتے تو اللہ تعالی انکی دعا قبول کرتے. اللہ تعالی کی حکمت تھی کہ ایک ہی وقت میں سرے کے سرے وفات پا گیے. شیطان نے وسوسہ کیا جو خون میں دوڑتا ہے، جو دل میں وسوسہ کرتا ہے.
2
حدیث ہے: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ: شیطان ( انسان کے جسم میں ) خون کی طرح دوڑتا ہے
(حوالہ: صحیح مسلم: حدیث نمبر :2174)

اور یہ طاقت شیطان کو کس نے دی ہے. اس رب ذی الجلال نے دی ہے، سبحانہ وتعالی. جنت میں جانا چاہتے ہو تو، آسان نہیں ہے. جنت میں جانا چاہتے ہو تو صبر، تقوی اور علم حاصل کرنا پڑے گا ان چیزوں کے لیے. جب سب ایک ہی وقت میں مر گیے اللہ تعالی کی حکمت تھی.. تو شیطان نے وسوسہ کیا کے تم لوگ ایسا کرو یہ تو بچارے مر گیے ہیں. انکی یاد میں انکی قبروں پر جا کر پتھر نصب کر لو. صرف انکی یاد کے لیے. قبریں مٹ جاتی ہیں صرف پتھر رکھنے سے آپ کو یاد آۓ گا کہ فلاں بزرگ وہاں پر ہے اور فلاں وہاں پر. لوگوں نے کہا بہت اچھی سوچ ہے.

یہ خطرات جو انسان کے ذہن میں آتے ہیں، الٹے سیدھے، یہ شیطان کے وسوسے ہوتے ہیں، یاد رکھنا. نماز کے لیے اٹھنا ہے، ابھی ٹائم ہے، ابھی تھوڑا سہ ایسے سر مین درد ہے، رات کو صلاۃ الیل پڑھتا رہا ہوں بس پانچ منٹ سو جاتا ہوں، ابھی اذان نہیں ہو، اچھا ابھی اقامت تو نہیں ہوئ، یہ جو خطرات آتے ہیں یہ شیطان کے وسوسے ہیں اسکو توڑنے کے لیے عظیمت کی ضرورت ہے، اسکو توڑنے کے لیے بس اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ. چاہے نیند پوری ہوتی ہے نہیں ہوتی. چاہے ڈیوٹی پہ جاتے ہیں نہیں جاتے، شیطان کا منہ بند کرنے کے لیے اسی وقت اٹھو وضو کر کے اللہ کے گھر کی طرف چلے آؤ، شیطان نے وسوسہ کیا وہ اس وسوسہ میں قابو آ گۓ اور انہوں نے اس قبر پہ وہاں پر پتھر نصب کر دۓ.

اب وقت گزرتا گیا، وہ پتھر، قبر سے نہ مانگتے. مانگتے اللہ تعالی سے. ابھی توحید موجود تھی. ابھی شرک نہیں ہوا لیکن قبروں کی مجاوری زیادہ ہوگئ. قبروں کی مجاوری کا پہلا سٹپ ہے یہ. ورنہ قبروں کی طرف کون جاتا تھا. مردوں کو دفن کر دیا. ختم بات. جب پتھر وہاں پر رکھے گۓ. انکو یاد کرنے کے لیے جانا تو پڑتا ہے. اب جاتے. اب قبروں کی طرف ڈھیر ہوگیا لوگوں کا. رش ہو گیا لوگوں کا. پھر شیطان نے کچھ عرصہ بعد وسوسہ کیا.

بھئ کب تک قبرستان آتے رہو گے. پتھروں کو اٹھاؤ عبادت گاہ میں رکھ دو. جب تم عبادت کرتے ہو اس وقت خشوع و خضوع کی ضرورت ہوتی ہے. جب یہ پتھر سامنے رکھے ہوں گے اور وہ بزرگ یاد آئیں گے تو اور اللہ تعالی کی نزدیکی تمہیں حاصل ہوگی. مانگنا صرف اللہ سے ہے،یاد رکھیں. ابھی تک شرک نہیں ہوا یاد رکھیں. پتھروں کو اٹھایا، عقل کی بات ہے کب تک جائیں گے قبرستان کی طرف. اٹھا کر رکھیں وہاں، رکھ دیے. اب یہاں پر تو رکھ دیے.

مگر شکلیں بھول جائے گی آپ کو. کیسی شکل تھی، کیسی آنکھ کیسی داڑھی تھی. اب انکو تراشو. جب تک انکو تراشو گے نہیں، شکلیں بھول جائیں گی آپ کو. تصویریں بھی تو ہونی چائیں نہ. اور یہ سب سے پہلی لعنت تصویر کی یہاں سے شروع ہوئ. اسلیے احادیث میں سب سے زیادہ گناہ اور شدید عذاب وہ مصویرین کو ہوتا ہے.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا:
أشدّ النّاس عذابا یوم القیامۃ رجل قتلہ نبیّ أو قتل نبیّا و اِمام ضلالۃ و ممثل من الممثّلین۔

ترجمہ: قیامت کے روز سب سے سخت عذاب میں وہ آد می ہو گا ،جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو گا یا کسی نبی نے اسے قتل کیا ہو گا اور گمراہ امام اور تصویر سازوں میں سے تصویر ساز۔"
( مسند الامام احمد : ١/ ٤٠٧،و سندہ حسن )

وجہ کیا ہے؟ یہاں سے شروع ہو رہا ہے. ہر چیز کی تاریخ ہے. شرک کی، قبر پرستی کی، قبرکی مجاوری کی، تصویروں کی یہ تاریخ ہے.

یاد رکھیں، اس سے پہلے یہ چیزیں موجود نہیں تھیں. تو تراشہ گیا، جب تراشہ گیا تو بت کہاں رکھا ہوا ہے. عبادت گاہ میں رکھا ہوا ہے، قبرستان میں نہیں. روڈ پہ نہیں، گلی میں نہیں. نہیں، عبادت گاہ میں. اسی اثر (روایت) کے الفاظ دیکھیں: جب علم جاتا رہا لوگوں نے ان بتوں کی عبادت شروع کر دی. لا الہ الا اللہ. جب تک کہ علم ہے، علم ایک دیوار ہے، یاد رکھیں. جو بزرگ تھے وہ جانتے تھے کہ ہم نے یہ پتھر کیوں رکھے ہیں.

وہ بزرگ جانتے تھے کہ یہ عبادت کے لائق نہیں ہیں. عبادت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے. جب علم جاتا رہا انکی اولاد یا اولاد کی اولاد آئ. شیطان تو وہی ہے خون میں دوڑتا ہے وہی وسوسے ہیں. (شیطان نے وسوسہ کیا) تمہارے باپ دادوں نے یہ پتھر رکھے کیوں ہیں. یہ ڈیکوریشن پیس نہیں ہیں. انکے لیے عبادت صرف کرو. دعاجو اللہ تعالی کے لیے تھی وہ ان بتوں کے لیے ہو گئ. جو قربانی، نظرونیاز اللہ تعالی کے لیے تھی وہ ان بتوں کے لیے ہو گئ.

اور شرک دیکھیں کہاں سے شروع ہوا؟ قبر کی بدعت سے شروع ہوا اور شرک اکبر پر آکر ختم ہوا. (شرک اکبر یعنی ایسا عمل جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے) یہ ساری تفصیل سیدنا ابن عباس کے قول میں آپ کو صحیح بخاری، کتاب التفسیر،نوح آیت: 23 میں مل جائ گی. آج اگر امۃ پر تھوڑا سا نظر ڈالیں. قبر کی مجاوری ہے کہ نہیں؟ قبرکی مجاوری کے ساتھ ساتھ قبر پرستی ہے کہ نہیں؟ فرق صرف اتنا ہے کہ بت نہیں بناۓ گیے تراشہ نہیں گیا.

اور اس بت کو وہ اٹھا کر عبادت گاہ میں لے کر گۓ. آج یہ نہیں ہوا. آج یہ نہیں ہوا بلکہ قبر کے اوپر ہی مسجد بنا دی گئ یعنی عبادت گاہ کو اٹھا کر وہاں پر لے کر گیے ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 287 Articles with 222589 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jan, 2017 Views: 970

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ