موت بانٹتے ریلوے پھاٹک

(Rana Aijaz Hussain, Multan)
 میاں چنوں میں ٹرین کی اسکول وین کو ٹکر سے 11بچوں کی المناک موت ، لودھراں میں پھاٹک پر چنگ چی رکشے میں سکول جاتے 9 ننھے بچوں کی ہلاکت ، اور اب گوجرہ میں کراچی سے لاہور جانیوالی شالیمار ایکسپریس نے ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہو نے کی وجہ سے ریلوے لائن کراس کرتی کار کے پرخچے اڑا ڈالے جس کے نتیجہ میں کار میں سوار منصب علی اسکی اہلیہ شہناز بی بی، سات سالہ بیٹا فیضان علی اور رشتہ دار ناصر اقبال، بھانجا محمد افضل اور چنیوٹ کا رہائشی سسر فلک شیر سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور انکی نعشیں ناقابل شناخت ہوگئیں۔ ریلوے گیٹ مینوں کی غفلت اور پاکستان ریلوے کی مین لائنوں پر بغیر گیٹ کراسنگ نے نہ صرف ان سے گزرنے والے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کررکھا ہے بلکہ ٹرین کے سفر کو بھی غیرمحفوظ بنادیا ہے۔ بغیر پھاٹک والی کرا سنگ کو جنہیں ریلوے کی اصطلاح میں’’کچے پھاٹک‘‘ کہا جاتا ہے پر 24گھنٹے جاری رہنے والی آمدورفت سے روزبروز حادثات رونماء ہونا معمول بن چکا ہے۔ ان حادثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اور بہت سے افراد مستقل معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں ، مگر حکومتی ادارے اور وزرا ء اپنی ذمہ داری تسلیم کرنے یا اصلاح احوال کی بجائے ایک دوسرے پرالزامات عائد کرتے نظر آتے ہیں۔
اس وقت ملک بھر میں گیارہ ہزارآٹھ سو اکیاسی کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر کل 4072 ریلوے کراسنگ ہیں ۔ ان میں سے1341 پرپھاٹک موجود ہیں جبکہ2731 پرپھاٹک موجود نہیں ۔ کراچی ڈویڑن میں481سکھر ڈویڑن میں632ملتان ڈویڑن میں553لاہور ڈویڑن میں426راولپنڈی ڈویڑن میں318پشاور ڈویڑ ن میں170اور کوئٹہ ڈویڑن میں 107 بغیر پھاٹک کے ریلوے کراسنگ موجود ہیں، ان میں سے 400 بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگ زیادہ استعمال کے باعث بہت خطرناک ہیں، جہاں حادثات کی تعدادبھی بہت زیادہ ہے۔ اور یہاں موسم سرما میں دھند کی وجہ سے حادثات میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ 3 سالوں میں بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگ پر حادثات میں 80 افراد جاں بحق جبکہ 118 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان ریلوے سے حادثوں میں سیکڑوں لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود پھاٹکوں کے معاملات حل ہوئے نہ ریلوے کراسنگ کو محفوظ بنایا جا سکا ہے ۔

گوجرہ میں حالیہ حادثے کے بارے میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ حادثہ کار کے ڈرائیور کی غفلت و جلد بازی کی وجہ سے پیش آیا،جہاں حادثہ ہوا وہاں ریلوے لائن اور سڑک متوازی چل رہی ہے ، اس کے باوجود پھاٹک عبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ وفاقی وزیر ریلوے کا کہناہے کہ بغیر گیٹ ریلوے کراسنگ پر گیٹ لگواناصوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے ، لیول کراسنگز پر گیٹ و عملے کے ابتدائی اخراجات کی ذمے داری صوبائی حکومتوں کی ہے، ریلوے پھاٹکوں پر گارڈ لگانے کیلئے صرف پنجاب حکومت نے تعاون کیا، جبکہ ریلوے پھاٹکوں پرحادثات کی روک تھام کیلئے مراد علی شاہ نے10کروڑ روپے دیئے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں صرف 7لیول کراسنگز پر گارڈ تعینات ہوئے ، ہمارے دور میں 80لیول کراسنگز پر گارڈ تعینات کئے جا چکے ہیں، پاکستان بھر میں ریلوے پھاٹکوں پر گارڈ لگانے کے اخراجات 25ارب روپے سے زائد ہے۔ ہم کمیونی کیشن کا سسٹم بہتر کرنے کیلئے واکی ٹاکی سسٹم لارہے ہیں جس کا پی سی ون تیار کرلیا گیا ہے، جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم کی تنصیب سے ٹرین ڈرائیور کو صورتحال سے آگاہی ہوسکے گی۔ پہلے گیٹ کیپرز کے ٹیسٹ نہیں ہوتے تھے۔ ڈرائیور، اسٹنٹ ڈرائیور اور گیٹ کیپرز کے 6 ماہ بعد میڈیکل ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ گوجرہ میں انتباہی بورڈآویزاں ہونے کے ساتھ سپیڈ بریکر بھی موجود تھا، اس حادثے میں ریلوے سسٹم کی کوئی غلطی شامل نہیں ۔

وزیر موصوف کا فرمان بجا کہ مگر حادثہ کسی نہ کسی کی غفلت کے باعث ہی ہوا ہے اس میں انسان کا جلدباز رویہ بھی ہوسکتا ہے اور حکومتی ذمہ داروں کی غفلت بھی ۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ سائنس کے اس جدید دورمیں کہ جب دنیا مریخ پر بستیاں بسانیکی منصوبہ بندیاں کررہی ہے ،اور ہم ریلوے کراسنگز پر پھاٹک ہی نہیں لگاسکتے، اور ملک کے معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود وسائل کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں ۔ بدقسمتی سے آج پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے کہ جہاں ریلوے کراسنگ سب سے زیادہ غیر محفوظ تصور کئے جاتے ہیں۔ اور ہماری حکومت مستقبل قریب میں اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی اقدامات کرتی نظر نہیں آتی ، سوائے اقتصادی راہداری روٹ کے جہاں فیز ون میں لاہور تا ملتان کے درمیان تمام لیول کراسنگز ختم کر کے ان کی جگہ انڈر پاس اور پل بنائے جائیں گے جبکہ فیز ٹو میں کراچی سے پشاور تک مین لائن پر 2020ء تک تمام لیول کراسنگز ختم کر کے ان کی جگہ انڈر پاس اور پل بنائے جائیں گے ۔ کاش ہمارے ادارے اور حکومتی شخصیات ایک دوسرے پرذمہ داری عائد کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داری احسن طور پر سرانجام دینے والے بنیں اور ریلوے کراسنگ پر پھاٹک لگا کر ان کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ دوران ڈرائیونگ جلد باز رویہ ترک کرتے ہوئے محتاط روئیہ اختیار کریں ، تاکہ ان کی اپنی اور دوسروں کو قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی ہوسکے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 797 Articles with 350370 views »
Journalist and Columnist.. View More
24 Jan, 2017 Views: 371

Comments

آپ کی رائے