قیامت کا دن حساب کتاب کا دن

(Muneer Ahmad khan, RYkhan)
انسان اشرف المحلوق کے عہدے پر فایز ہے اور اللہ پاک نے انسان کو عقل دی اور اسکی ہدایت کیلیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور بارہ امام اور چار آسمانی کتابیں سنت نبوی ص اور اسکے بعد انسان کو راستے دکھانے کے بعد اسے آزاد چھوڑ دیا اور انسان کی پیدایش کے ساتھ دو فرشتے فایز کر دیے اور جب ایک انسان کی زندگی ختم ہوتی ہے تو مکمل زندگی کا حساب کتاب اللہ ہاک کی دربار میں محفوظ ہوجاتا ہے اور جب قیامت کا دن قایم ہوگا جو پچاس ہزار سال کا ہوگا جس میں پوری انسانیت حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر قیامت کے دن تک جتنے لوگ اس دنیا سے گے ہوں گے سب اپنی قبروں سے زندہ ہوکر میدان عرفات کی طرف دوڑیں گے اور سب کا حساب کتاب ہوگا اس دن سب برابر ہوں گے سب کیلیے ایک ہی قانون ہوگا اور سب اپنی اپنی فکر میں ہوں گے کوی کسی کو نہیں پہچانے گا ماں بیٹی کو با پ بیٹے کو نہیں پہچانے گا اس دن متقی و پرہیز گار سب سے اعلی مقام پر ہوں گے کسی پر ظلم نہیں اس دن کسی کی سفارش نہیں چلے گی اور انسان جب اپنے اعمال دیکھے گا تو اللہ پاک سے عرض کریگا کہ اے اللہ ہمیں ایک بار پھر دنیا میں جانے ہم اب اچھے کام کریں گے مگر اللہ پاک فرماے گا کیا اس وقت تمہیں پتہ نہیں تھا سب کچھ میں اپنی آسمانی کتابوں میں واضح لکھ دیا تھا تمہیں عقل دی تھی انبیاء بھیجے تھے اب بھگتوں اپنی سزا اور سب کو اسکی ماں کے نام سے پکارا جاے گا اور سب کا حساب کتاب ہوگا جس کے اعمال اچھے اسکا انعام جنت اور جسکے اعمال برے اسکی سزا جہنم اور بطو ر مسلم ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلم ضرور جنت میں جاے گا اور جس کلمہ طیبہ پڑھا ہوگا وہ جنت ضرور جائے گا اور جنت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے اور جنت میں انسان اٹھارہ سال کا جوان بن کر جائے گا اور ہمیشہ جنت میں رہے گا اور موت کو موت آجائے گی اور جنت میں ہر چیز تابع ہوگی اور جنت کی زندگی حوبصورت ترین زندگی ہے اللہ پاک ہم سب کو اس دنیا اور آحرت کے امتحان میں کامیاب کر ے اور اللہ پاک ہمیں جنت والے کام کرنے کی توفیق دے آمین
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muneer Ahmad Khan

Read More Articles by Muneer Ahmad Khan: 303 Articles with 165209 views »
I am Muneer Ahmad Khan . I belong to disst Rahim Yar Khan. I proud that my beloved country name is Pakistan I love my country very much i hope ur a.. View More
24 Jan, 2017 Views: 725

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ