انسان کا آخری سرمایہ’’ کفن‘‘

(Shahid Raza, )

یہ دولت،یہ محل،یہ طاقت،یہ شہرت،یہ عزت،یہ مخمل کے لباس،یہ بینک بیلنس،تمام چیزیں دنیا میں رہیں گی بس انسان کی زندگی کے سرمائے کو کفن کہتے ہیں،
ڈرتا ہوں موت سے مگر مرنا ضرور ہے
لرزتا ہوں کفن سے مگر پہننا ضرور ہے
ہوجاتا ہوں غمکین جنازے کو دیکھ کر
لیکن میرا جنازہ بھی اُٹھنا ضرور ہے
ہوتی ہے بڑی کپکپی قبروں کو دیکھ کر
پر مدتوں اس قبر میں رہنا ضرور ہے
فرعون،نمرود،شداد،قوم ِ نوح ؑ،قوم لوط ؑ،قوم ہود ؑیہ تمام سمجھتے تھے کے مرنا نہیں ہے،خدا نہیں ہے،قیامت نہیں ہے خدا نے ان کو دکھایا کے:
’’تم موت سے بچنے کی کوشش کرتے ہو حالانکہ کوشش کرنے سے تم جہنم کی آگ سے بچ سکتے ہو موت سے نہیں‘‘

میں اپنے قارئین کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کے میں آرٹیکل روز مرہ کے مسائل دیکھ کر لکھتا ہوں مثلاً راستے سے گذر رہا ہوں کوئی انہونی ہوتے دیکھ لی تو میں نے آرٹیکل لکھ دیا اور اس آرٹیکل کو لکھنے کی وجہ بھی یہی ہے بروز ہفتہ میں کسی سے ملنے گیا تو میں نے وہاں شور کی آواز سُنی میں نے جا کر دیکھا تو مکان مالک اپنے کرائے دار کو گھر سے نکال رہا تھا،میں نے دیکھا کے گھر میں دو بوڑھے میاں بیوی تھے وہ اُس کو روک رہے تھے اور مکان مالک کہہ رہا تھا میرا کرایہ دو، نہیں تو میں گھر میں ’’تالا ‘‘لگا دوں گا ،میں نے دیکھا کے لوگ تماشائی بنے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں کوئی بھی بولنے کے لئے تیار نہیں تھا میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کے نا چاہتے ہوئے بھی اﷲ نے مجھے اس جگہ پہنچایا اور میں نے مکان مالک سے جا کر کہا کے بھائی اس سردی میں یہ لوگ کہاں جائیں گے ان کو تھوڑا وقت دو نا جانے اﷲ کی کیا مصلحت تھی کے مکان مالک وقت دینے پر راضی ہو گیا اور چلا گیا میں نے بوڑھے میاں بیوی سے پوچھا کے مسئلہ کیا ہے تو جواب دیا کے ہم نے کرایہ نہیں دیا میں نے سوال کیا ابھی آپ کو وقت مل گیا ہے اب آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا ؟تو انہوں نے کہا کے ہم کوشش کریں گے۔

میں سوال کرتا ہوں مخیر افراد سے ،میں سوال کرتا ہوں اُن لوگوں سے جن کے بڑے بڑے محل ہیں،میں سوال کرتا ہوں اُن لوگوں سے جن کے بڑے بڑے کارخانے ہیں،نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا میں اُن کی دولت موجود ہے کیا یہ دولت مرنے کے بعد آپ کو فائدہ دے گی یہ تو ایک مسئلہ ہے جو میں نے دیکھا اور آرٹیکل لکھ دیا نا جانے کتنے اور لوگ مسئلوں میں گرفتار ہوں گے یاد رکھیں آپ نے اگر خلوص کے ساتھ کسی ایک کا بھی مسئلہ حل کر دیا تو سمجھ لیں قبر میں بخشش کا سامان ہو گیا ورنہ اس دولت سے کہہ دیں:
اے صنم تیرے حجر میں نا سفر کے رہے نا وطن کے
گرے ٹکڑے دل کے کہیں کہیں نا کفن کے رہے نا دفن کے

اصل میں یہ سب دین سے دوری کی وجہ سے ہے ورنہ اﷲ کہتا ہے تم ایک خرچ کرو گے میں دس دوں گا انسان کہتا ہے کے میں ایک بھی خرچ کیوں کروں وہ’’ ایک‘‘ میری دولت میں سے کم ہو جائے گا بس یہی سب سے بڑا عیب ہے :
میرے عیب میرے سامنے ہی گنواؤ دوستو

بس جب کفن میں چھپ جاؤں تو برا نہ کہنا

آج کل پاناما لیکس کا پاکستان میں شور مچا ہے کوئی کہہ رہا ہے صحیح ہے کوئی کہہ رہا ہے کے غلط ہے میں سیاسی آدمی نہیں ہوں مجھ کو نہیں پتا کے صحیح ہے یا غلط لیکن اس کا علم ہے کے اتنی دولت آپ کے پاس موجود ہے تو پھر پاکستان میں غربت کیوں ختم نہیں کرتے،آج کل غریب جلدی مر رہا ہے کیوں کے اُس کو ڈر ہے کے کفن مہنگا نہ ہو جائے ،میں مخیر افراد سے گذارش کرتا ہوں کے اُن افراد کا ساتھ دیں جن کے لئے روٹی کپڑا ،مکان،اور تعلیم جیسے مسائل ہیں اﷲ نے آپ کو دے کر آزمایا ہے اور غریب سے لے کر آزمایا ہے اب دیکھتے ہیں کے امتحان میں پاس کون ہوتا ہے۔اﷲ کے سامنے سُر خرو کون ہوتا ہے،قبر کس کوملتی ہے اور کفن میں کون مسکراتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 588 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 113236 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

nice,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Jan, 31 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks
By: Shahid raza, Karachi on Jan, 31 2017
0 Like
Language: