لبرل دہشتگرد

(Atif Javed, Azad Jamu Kashmir)
ایک شخص سلمان حیدر کئی سال سے مختلف سوشل میڈیا اکاوٴنٹس میں کبھی بھینسا اور کبھی روشنی کے نام کے ساتھ دین اسلام ،نبی آخرالزمان اور ازواج مطھرات کی تو ہین کرتا رہا اور شعاراسلام کی توہین میں تمام حدود کراس کر گیا کئی دفعہ لوگوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان اکاوٴنٹس کے ذریعہ کی جانے والی توہین کی شکایت کی لیکن یہ بدبخت سائبر کرائمز کا اتنا ماہر تھا کہ یہ مسلسل اپنی آئی پی تبدیل کرتے رہتا جس سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔بالآخر قانون نافذکرنے والے اداروں کی انتہائی تگ و دو کے بعد جب وہ بدبخت گرفتار ہوا تو لبرل عناصر اور این جی اوز میدان میں آگئیں کبھی ان کو بنیادی انسانی حقوق یاد آئے کبھی آزادی اظہار رائے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور کبھی یہ دلیل دی گئی کہ ابھی اس کا گناہ ثابت تو نہیں ہوا حتی کہ اسی میڈیا کی رپورٹ پر بغیر کسی ثبوت کے کسی داڑھی والے کو یہ دہشت گرد کہنا یہ لوگ اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن انب اسی معاملہ میں جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اور میڈیا دونوں اس کے کالے کرتوت بیان کر رہے ہیں تو پتہ نہیں ان کواورکون سا ثبوت چاہیے۔اس دوہرے معیا ر کے کیا کہنے۔

افسوس یہ ملک جو اسلام کے نام پہ وجود میں آیا یہاں ہر داڑھی والے کو دہشت گرد سمجھا جاتاہے اسلامی شعار کی پابندی کو تنگ نظری اور انتہا پسندی کہا جاتا ہےمسلمانوں کو نظریاتی اور روحانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اک گستاخ جو ہمارے آقا اور شعاراسلام کا مذاق اڑاتا رہا اور باقاعدہ گالی گلوچ کی زبان استعمال کرتا رہا آج اس ملک کے لبرل طبقہ نے اس کو اپنا ہیرو بنا لیا اورانسانیت اور آزادی اظہار رائے کا استعارہ قرار دیا گیا۔کیا آزادی اظہار یہی ہے کہ اسلام اور محمدؐ مصطفی کی توہین کی جائے اورآج جب قانون حرکت میں آیا تو اس پہ بھی اعتراض ۔ اگر قانون حرکت میں نہ بھی آتا تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے اسی کی کوکھ سے ہی تو غازی علم الدین اور عمر چیمہ پیدا ہوئے اور یہ تو کل کی ہی تو بات ہے کہ غازی ممتاز قادری نے اپنے خون کا نظرانہ پیش کیا ۔

بس سوچنے کا مقام ہے کہ صرف مسلمان اور پانچ وقت کا نمازی ہونا ہی انتہا پسندی اور دہشتگردی ہے کیا وہ لوگ جو شعار اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کے بنیادی نظریات کو تخت مشق بناتے ہیں دن رات اسلام کی برائی کرتے رہتے ہیں کیا وہ دہشتگرد اور انتہا پسند نہیں ۔میرے خیال میں تو یہ لبرل دہشتگرد زیادہ خطرناک ہیں جو اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھو کھلا کر رہے ہیں اور مسلمان کی روح کو زخمی کر رہے ہیں۔ میرے دوستو ہمیں اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہو گی اور لبرل انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کا ہرمحاز پہ مقابلہ کرنا ہوگا اور اپنی صفوں میں چھپے ہوئے ان کے ایجنٹوں کو پہچاننا ہو گا تاکہ کل ہم بروز قیامت آقا مدنی کے سامننے سرخرو ہو سکیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: atifjaved

Read More Articles by atifjaved: 14 Articles with 4388 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jan, 2017 Views: 160

Comments

آپ کی رائے