حق و باطل کی جنگ میں کامیابی کا راز

(Maryam Arif, Karachi)
قاسم ندیم، جہلم
جس دن اﷲ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمیں پر اتارا اسی دن اﷲ نے ابلیس کو بھی اس دنیا میں بھیج دیا ۔ مطلب حق اور باطل ایک ساتھ اس دنیا میں آئے ہیں اور اسی دن سے حق اور باطل کی آپس میں لڑائی جاری ہے ۔ شیطانی طاقتیں انسان کو اپنی طرف بلانے میں برسرپیکار ہیں اور اﷲ کے نمائندے اپنی طرف ۔
یہ دنیا اﷲ کی بچھائی ہوئی ہمارے لیے امتحان کے جگہ ہے اور ہوتا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے مگر وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون حق کے ساتھ ہے اور کون باطل کے ساتھ ۔ ویسے تو حق اور باطل کی جنگ ہر جگہ ہے مگر جو جنگ ہم مسلمانوں کی آنکھ کھولنے کے لیے اﷲ کی طرف سے لگائی گئی ہے وہ آج شام میں رونما ہو چکی ہے اور یہ وہ ہی شام ہے جس کے بارے میں حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ’’ اے مومنو ! فتنوں کے دور میں شام کو لازم پکڑے رکھنا‘‘۔ کیا یہ ارشاد اسی وقت کے لیے تو نہیں فرمایا گیا تھا ؟ کیا ہمیں اس بات کی فکر ہے یا نہیں ؟ یقینا نہیں ہے کیونکہ آج ہمارا معاشرہ جس بے خبری کے عالم میں جی رہا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کی آسائشوں کو اکٹھا کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پے گردش کرتی شامی بچے کی ایک تصویر نظر سے گزری۔ کس طرح اس معصوم فرشتے کا چہرہ لہولہان تھا اور کس طرح بالکل خاموش بیٹھا تھا۔ نہ ہنس رہا تھا اور نہ رو رہا تھا کسی عجیب سی کیفیت میں تھا۔ پاکستان کے نیوز چینلز میں بھی کافی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں اس تصویر کے بارے میں اور یہ ایک جملہ سر فہرست رہا ہے کہ ایک شامی بچے کی تصویر نے عالمی ایوانوں تک ہلچل مچا دی ہے بس اس سے زیادہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ناجانے کتنے بچے رات کو ماں کی گود میں سوتے ہیں اور منوں مٹی تلے صبح ان کی آنکھ کھلتی ہے ۔

شام تو دور کی بات وہ ملک پھر ہم سے تھوڑا دور پڑ جاتا ہے یہ جو ہماری بغل میں کشمیر میں جو بھارت نہتے مسلمانوں پے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ہمیں کی بھی خبر نہیں ہے اگر ہے بھی تو چپ کیے آرام سے بیٹھیں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہماری ذمہ داری کا معیار یہ ہے کہ جو پاکستان کا کوئی چینل ہمیں خبر دے دے بس اسی کو سن کے فارغ وقت میں اس پے تبصرہ کر دینا۔ ایک المیہ ہماری قوم کا یہ بھی ہے کہ جو کر سکتے ہیں بس حکمران کر سکتے ہیں جبکہ یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے حکمران آپس میں ہی اتنے اختلافات پیدا کر چکے ہیں کہ انہیں فرصت ہی نہیں کہ وہ کچھ اور سوچ سکیں در حقیقت سب کرسی کی خاطر بڑے بڑے بول بولے جاتے ہیں اور وقت آنے کوئی نظر نہیں آتا۔ بات پھر وہیں پے آ کے اٹک جاتی ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران۔ اگر ہم واقعی اپنے ملک اور اپنے مسلمان ممالک بھائیوں کی فکر کرتے ہیں تو پہلے خود کو ہم نے مستحکم کرنا ہو گا اور یہ فعل کرنے کے لیے ہمیں اپنے اندر سے خرابی کو تلاش کر کے اسے دور کرنا ہو گا ہمیں حق اور باطل کی پہچان کی کرنی ہو گی اور اس پے عمل درآمد کرنا ہوگی۔
.
مجھے آج حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان یاد آتا ہے کہ ’’سب سے بدبخت حکمران وہ ہے جس کے بگڑ جانے سے اس کی رعایا بگڑ جائے اور سب سے بد بخت وہ قوم ہے جو جس کے ظالم ہونے سے اس پے ظالم حکمران مسلط کر دیے جائیں‘‘ اور یہ سارا منظر آپ کو پاکستان میں دیکھنے کو بخوبی ملے گا۔ ہم اسلام اور اسلام کے اصولوں سے غافل ہو چکے ہیں اور مغربی کلچر کو اپنائے ہوئے ہیں اسی لیے ہم باطل سے مذاکرات کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جب کہ حق اور باطل کبھی ایک نہیں ہو سکتے اور یہی بات ہمیں ہمارا مذہب سکھاتا ہے ۔

جب احد کی لڑائی میں شکست ہوئی تو نبی پاک صل اﷲ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا یہ جنگ ہمارے درمیان ہمیشہ چلتی رہے گی کچھ وہ جیتیں گے اور کچھ ہم جیتیں گے مگر ہم اپنی دنیاوی کامیابی کے بارے میں ہی سوچے جا رہے ہیں حالانکہ ہماری کامیابی اور ناکامی کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے جو اس وقت ہمیں ا سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہمارے سمجھنے کا معیار وہی بن چکا ہے جو ہمیں مغرب دینا چاہتا تھا اور آگے ہماری بد قسمتی بھی یہ ہے کہ جو ہمیں رہبر ملے جو پہلے ہی خود کو مغربی رنگوں میں ڈھال چکے ہیں۔

آج ہم ایک آزاد اور خودمختار ملک میں شان سے رہ رہے ہیں مگر ایسا ہونے کے باوجود بھی ایسا نہیں ہے۔ ہماری عزتیں محفوظ نہیں ہمارے بچوں کو تحفظ میسر نہیں ہے۔ ماں باپ اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں آسمانی آفتیں بھی ہمیں سر اٹھانے کی فرصت نہیں دیتی۔ سیلاب زلزلے طوفان یہ سب کیا ہے؟ کہیں یہ ایسا تو نہیں کہ ہم طاقتور ہونے کے باوجود بھی اپنے پاک نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی باقی ماندہ امت کو بھول بیٹھے ہیں اور اس کے بدلے میں اﷲ ہم سے ناراض ہے اور ہمیں ہمارے ہی رحم و کرم پے چھوڑ دیا ہے۔ غور کرنے کے معاملے ہمارے پاس بہت ہیں اگر ہم فکر کرنا چاہیں تو۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 498255 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2017 Views: 308

Comments

آپ کی رائے