کتاب کو اسکے کور سے نہ جانو

(Fatima Ishrat, )
امجد کی نگاہ اک گاڑی پہ پڑی جو چند لمحے پہلے ہی سنگل پہ آکے رکی تھی۔۔گاڑی کے فرنٹ شیشے پہ کسی پرندے نے بیٹ کردی تھی۔۔۔وہ بڑی پھرتی سے گاڑی کی جانب لپکا۔۔
مبادا کوئ اور بچہ پہلے پہنچ جائے اور اسکے ہاتھ سے کام لے لے۔۔۔
اس نے وائپر ایک ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے میں سرف میں دبویا ہوا اسپنج۔۔
جیسے ہی امجد شیشے صاف کرنا شروع ہوا۔۔۔
زبیر صاحب کی کڑک دار آواز سہم کے رہ گیا۔۔

"اے بچے!!۔۔۔کس نے کہا تم سے اس سے صاف کرنے کو۔۔۔۔میری گاڑی میں وائپر لگا ہوا ہے۔۔۔اس سے سب گندگی صاف ہوجائے گی۔۔۔پتہ نہیں کہاں سے چلے آتے ہیں۔۔۔"!!
اپنا پیشہ بنالیا ہے مسکین شکل بناکے ذرا سا ہاتھ چلاکے پیسے بٹورنے کا۔۔۔"

زبیر صاحب کا پارہ چڑھا ہوا تھا۔۔۔وہ امجد کی حرکت پہ طیش میں آگئے تھے۔۔۔

امجد کو گہرا صدمہ پہنچا۔۔۔اسکی آنکھوں میں رکے آنسو اپنا ضبط کھو بیٹھےاور تواتر سے بہنے لگے۔۔۔

"صاب جی آپکو کوئ غلط فہمی ہوئ ہے۔۔۔۔میں محنت مزدوری کرکے عزت کی روٹی کماتا ہوں۔۔پاس میں ہی اک چھوٹی سی جھونپڑی ہے جس میں میں اپنی ماں اور دو بہنوں سمیت رہتا ہوں۔۔۔میری ماں نے کبھی ہاتھ پھیلانا نہیں سکھایا ہمیشہ محنت کرکے کمانے کو ترجیح دی۔۔
آپ چاہیں تو خود چل کے دیکھ سکتے ہیں صاب۔"!!!

وہ تھوڑی دیر رکا۔۔گال پہ آئے آنسو پونچھے۔۔سوں سوں کرتی ناک اسکی سسکیوں کا پتہ دے رہی تھیں۔۔

"میں اتنا کمالیتا ہوں کہ اللہ کے فضل سےدن آرام سے گزر جاتا ہے۔۔۔"!!

اسکی ہر بات نے زبیر صاحب کے دل کی اتھاہ گہرائیوں کو چھولیا تھا ۔۔اسکے بہتے آنسو انھیں پگھلا رہے تھے۔۔ مگر وہ ان سب کو جھٹک رہے تھے۔۔۔
نظر انداز کرتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔
"اچھا اچھا اپنا راگ الاپنا بند کرو ۔۔۔ اور یہ لو پیسے۔۔۔"

"صاب یہ زیادہ ہیں میری بس اتنی مزدوری بنتی ہے"!!۔۔
امجد ایمانداری سے اپنی مزدوری لیکر بقیہ رقم واپس کرچکا تھا۔

زبیر صاحب۔ حیرت سے روپے تھامے اسے تک رہے تھے۔۔۔
بیگم کے جھنجھوڑنے سے انکا تخیل ٹوٹا۔۔۔

"بھئ کہاں گم ہوگئے جلدی کیجئے ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔۔مسز منور کی کالز بھی آنے شروع ہوگئی ہیں۔۔۔
یہ تو یہاں کہ ہر بچے کی کہانی ہے انکا کام ہے بس ایسی کہانیاں سنا کے روپے بٹورنا۔۔۔اب آپ اس واقعے کو جانے دیجئے۔۔۔اور ڈنر پہ پہنچنے کی جلدی کیجئے۔۔۔"!!

مسز زبیر مسلسل زبیر صاحب کی سست روی سے ہلکان ہورہی تھیں۔۔

زبیر صاحب نے گاڑی اسٹارٹ کی اور کافی تیز رفتار سے چلانا شروع کردی۔۔۔

سارے راستے انھیں امجد کا آنسو سے بھیگا چہرہ۔۔اور اسکی باتیں نہ بھول پائیں۔۔۔
بستر پہ استراحت کی غرض سے دراز ہوئے تو بے چینی سی ہونے لگی۔۔اک پل چین نہیں مل رہاتھا۔اضطراب تھا کہ کم ہونےکا نام نہیں لے رہا تھا۔۔انکا ضمیر مسلسل انھیں جھنجھوڑتا رہا بار بار یہ احساس ستا یا جارہا تھا کہ انھوں نے امجد کے ساتھ کچھ غلط کیاتھا۔۔۔

ساری رات انکی اسی بے کلی کی وجہ سے آنکھوں میں کٹ گئ۔۔بلآخر انھوں نے اک فیصلہ کیا۔۔۔

"سورج طلوع ہوتے ہی۔۔۔انھوں نے گاڑی اسٹارٹ کی اورامجد کی جگہ پہ پہنچ گئے جہاں کل ا س سے ملا قات ہوئ تھی۔۔کچھ دیر کے انتظار کے بعد انھیں امجد نظر آتا دکھائ دیا ۔رسمی سلام دعا کے بعد۔وہ اسکے ہمراہ اسکی جھونپڑی گئے۔۔۔اسکی ماں بہنوں سے ملے ۔۔اور انھیں۔۔امجد کے ساتھ اپنے گھر لے آئے۔۔
انھیں کھانے پکانے والی اک خاتون کی ضرورت تھی۔۔۔سو امجد کی والدہ کو یہ کام سونپ دیاگیا۔سرونٹ کواٹر امجد کو دے دیاگیا اسکا اور اسکی بہنوں کا اسکول میں داخلہ کروادیا۔۔۔امجد کو یقین نہیں آرہا تھا کہ زبیر صاحب اتنے اچھے بھی ہوسکتے ہیں۔۔

زبیر صاحب پہ امجد کے الفاظوں اور آنسو کا اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ جو کچھ دنوں سے کوئ پروجیکٹ شروع کرنے کا سوچ رہے تھےمگر آئیڑیا نہیں مل پارہاتھا۔۔۔۔بلآخر انھیں اسکا آئیڈیا مل ہی گیا۔۔۔!!!
انھوں نے امجد جیسے بچوں کیلئے اک ادارہ قائم کیا جہاں ان بچوں کو رہائش دی جاتی۔۔۔پڑھنا،! لکھنا اور ہنر سکھایا جاتا۔۔اور اچھی نوکری دلائ جاتی۔۔۔
انکا یہ پروجیکٹ چند ہی ہفتوں میں کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگا۔۔۔کافی بچے۔۔۔اسکول میں داخل ہوچکے تھے۔۔۔۔اور انھیں اچھے خاصے فنڈز بھی مل رہے تھے۔۔

زبیر صاحب نے جوگہری با تیں سیکھیں انکو دوسروں تک بھی پہنچایا۔۔۔ انکا پیغام کچھ یوں تھا۔۔ کہ

# کسی کے بارے میں فورا رائے نہیں قائم کرلینی چاہئے جب تک کہ آپکو اسکے بارے میں صحیح طرح علم نہ ہو۔۔ہم جو لوگوں کو فورا لیبل سے نواز دیتے ہیں بنا ان کا پس منظر جانے۔۔۔درحقیقت ہم سراسر اسکے ساتھ زیادتی۔۔۔کر دیتے ہیں اور کم ظرفی سے کام لیتے ہیں۔۔۔اسلئے ضروری ہے کہ کسی کے بارے کوئ رائے قائم کرنے سے پہلے اسکے کوائف کو اچھی طرح جان لیا جائے۔۔

#ہر ضرورت مند کی مدد کرنا اپنی استطاعت کے مطابق۔۔۔ بلاشبہ بڑی نیکی کا کام ہے۔۔۔اکثر ہم فضول خرچی میں بہت سی رقم ضائع کر دیتے ہیں۔۔۔
نیز اگر ہم اپنے اخراجات سے کچھ رقم ایسے ضرورت مندوں کیلئے مختص کر دیں تو کتنا بھلا ہوجائے۔۔۔
میرا رب بھی خوش ہوگا آقا صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوش ہونگے۔۔۔اور "اللہ کا تو وعدہ ہے جو اسکی راہ مین خرچ کریگا وہ اسے دس گنا بڑھا کے نوازے گا۔۔۔"

اسلئے اپنے آس پاس نظر رکھنی چاہیئے کہ کہیں کوئ بھوکا تو نہیں سورہا؟؟؟۔۔۔کسی کو مدد کی ضرورت تو نہیں۔۔؟؟؟کوئ بے گھر تو نہیں۔۔۔؟۔۔۔ایسی اور بھی بیشتر باتیں۔۔۔۔
یقین جانیے دوسروں کی مدد کرکے جو خوشی اور روح کو تسکین حا صل ہوتی ہے وہ ناقابل یقین ہے ۔۔۔
مجھے یقین ہے آپ سب میری بات سے متفق ہونگے۔ ؟؟؟؟

تو کیا آپ سب میرے ساتھ ہیں ... اس کار خیر میں آپ سب کا تعاون اور معاونت بہت سے بے آسراوں کو جینے کی نئ امنگ دے سکتا ہے۔۔۔

##حیا مسکان۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Ishrat

Read More Articles by Fatima Ishrat: 30 Articles with 19780 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2017 Views: 3315

Comments

آپ کی رائے
bohat acha likha hai sis maine bohat se logo ko dekha hai jo fazool main itna paisa zaya kar dety hai
per kesi ke help nahi karte tab 10 rupy dety bhi sochte hai
v nice topic welldone :)
By: Zeena, Lahore on Feb, 02 2017
Reply Reply
0 Like