ارکان اسلام اور ہم مسلمان

(Muneer Ahmad khan, RYkhan)
اللہ پاک کا پسندیدہ مزہب اسلام ہے اور اسلام پیار و محبت کا درس دیتا ہے اسلام کی تکمیل کیلیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو انسانیت کی ہدایت کیلیے بھیجا گیا تمام انبیاء نے اسلام کی تبلیغ کی اسلام کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلا م سے اور تکمیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی اور انسانوں کی ہدایت کیلیے چار آسمانی کتابیں نازل کی گیں جب اسلام کی تکمیل ہوگی تو اس کے ارکان پر پہلے پاک پیغمبر نے خود عمل کیا اور اس کے ارکان کو اسلام کا حسن قرار دیا گیا نماز روزہ حج زکوت اور جہاد شامل ہیں اور نماز مومن کی معراج دین کا ستون اور جنت کی کنجی ہے روزہ کا اجر اتنا ہے کہ جسکا اندازہ لگانا مشکل ہے حج مسلمانوں کی اجتماعی عبادت اور اتفاق و اتحاد کا ذریعہ ہے زکوت غربت پر قابو پانے اور اپنے مال کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے اور جہاد اسلام کو پوری دنیا میں پھیلانے کا ذریعہ اور ان ارکان اسلام پر عمل کرنا مسلمانوں ہر فرض ہے اور آج عالم یہ ہے کہ ہماری مساجد ویران ہو چکی ہیں صرف رمضان المبارک میں عبادت کو ہم نے اپنی عادت بنا لیا ہے روزہ سے ہم دور بھاگتے ہیں حج میں چھوٹ ہے کہ صرف صآحب استطاعت ہی حج پر جا سکتے ہیں زکوت دینا ہم نے چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے غربت بڑھ رہی ہے خلفاے راشدین کے دور میں جب مسلمان باقاعدگی سے زکوت دیتے تھے تو اس وقت زکوت لینے والا کوی نہیں ہوتا تھا اور جہاد سے بھی ہم پیچھے ہٹ چکے ہیں جسکی وجہ سے ہمارے مسایل جوں کے توں ہیں فلسطین کشمیر اور برما کے مسایل جہاد سے ہی حل ہوں گے اب ہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ہم کس حد تک ان ارکان پر عمل کر رہے ہیں ہم جب تک اسلام کے ارکان پر عمل نہیں کریں گے ہم اس وقت تک زندگی میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہم نے ہمیشہ کی زندگی کو عارضی زندگی پر قربان کر دیا ہے اور جس کی وجہ سے ہم مسایل کا شکار ہیں اور پوری مسلم امہ کو ان ارکان اسلام کو اپنانے کی ضرورت ہے تب جاکر اسلامی ریا ستیں ترقی کر سکتی ہیں اللہ پاک ہم سب کو ان ارکان پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muneer Ahmad Khan

Read More Articles by Muneer Ahmad Khan: 303 Articles with 165333 views »
I am Muneer Ahmad Khan . I belong to disst Rahim Yar Khan. I proud that my beloved country name is Pakistan I love my country very much i hope ur a.. View More
02 Feb, 2017 Views: 568

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ