غالب ؔ کے مرکبات اور ان کی ادبی حیثیت

(مقصود حسنی, قصور)

اردو شاعری میں عربی فارسی الفاظ سے مختلف نوع کے مرکبات تشکیل دینے کا رواج، کوئی ایسانیا نہیں۔ غالب ؔ سے پہلے اور عہد غالب میں بھی عربی فارسی الفاظ سے مرکبات ترکیب پاتے رہے ہیں۔ ان مرکبات کے حوالہ سے شعر میں، نہ صرف صوتی شگفتگی، شایستگی، شیفتگی، لوچ، ترنم، موسیقیت اور شعر سے مخصوص آہنگ پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ مرکبات لسانی اعتبار سے نئی حیثیت اور ضرورت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ الفاط کو نئی معنویت میسّر آتی ہے۔ اس نئی معنویت کے حوالہ سے ان کے نئے استعمالات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ زبان کے ابلاغ و اظہار کا دائرہ وسعت اختیار کرتا چلا جاتاہے۔ الفاظ کے لئے نئے قواعد کی ضرورت جنم لیتی ہے۔ اسم، صفت جبکہ صفت کو اسم کا درجہ مل جاتاہے ۔ یا پھر دونوں عناصر ان میں جمع ہو جاتے ہیں۔ تخصیص جنس کے الگ سے پیمانے وضع ہوتے ہیں۔ انھیں نیا اعتبار اور نیا وقار دستیاب ہوتا ہے۔ایک اعتبار سے یہ مرکبات شعری ضرورت کے درجے پر بھی فائز ہوجاتے ہیں اورشعریت کے لئے نفسیاتی لازمہ قرار پاتے ہیں۔
استادغالب سے پہلے یا پھر عہد غالب میں ،شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جس نے اس قدر اور اتنے جاندار مرکبات اردو شاعری کو دئیے ہوں۔ اس کثرت کی دو وجوہ سمجھ میں آتی ہیں:
الف۔ غالبؔ زندگی کے شاعر تھے۔ زندگی اپنے تمام تر حوالوں، واسطوں اور ضرورتوں کے سبب ہمیشہ مزید اور
زیادہ سے زیادہ وسعتوں کی طالب رہی ہے۔
ب۔ فارسی ،عہد غالب میں دم توڑ رہی تھی۔ غالبؔ کو فارسی سے عشق تھا۔وہ اردو خواں طبقے میں بالواسطہ سہی،
فارسی سے تعلق برقرار رکھنے کی دانستہ کوشش کر رہے تھے۔
شاعری میں مرکب سازی کی روایت، آتے وقتوں میں نئے اور پرانے حوالوں کے ساتھ پروان چڑھی۔ اس ضمن میں حالیؔ ، اقبالؔ ، ن م راشدؔ ، فیضؔ ، ناصرؔ کاظمی ، بیدل ؔ حیدری، حیدرؔ گردیزی،صابرؔ آفاقی، اقبال سحرؔ انبالوی، ڈاکٹر محمد امین وغیرہ کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس باب میں غزل ہی کیا دیگر اضافِ شعر کا بھی دامن بھرا پڑا ہے اور یہ بات بڑی خوشگوار اور صحت مند صورتحال کے زمرے میں آتی ہے۔
غالبؔ زندگی کے مختلف حوالوں، واسطوں اور ضرورتوں کا فلسفہ ، ان کی مروجہ غیر مروجہ نفیسات کے ساتھ نظم کر رہے تھے۔ وہ زندگی سے ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ انھوں نے زندگی کو بطور شخص، جسے ملائکِ فلکی نے سجدہ کیا، کی آنکھ سے دیکھا اور اپنے اس دیکھنے کو شاعرِ فطرت طراز کے قلم سے رقم کیا۔ اس تناظر میں، ان کے مرکبات میں کچھ اس قسم کی خصوصیات نظر آتی ہیں:
۱۔ اطراف کے الفاظ بامعنی اور استعمال میں آنے والے ہوتے ہیں‘ نا مانوس نہیں ہوتے۔
۲۔ مرکب میں وارد ہو کر، عام سے خاص کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔
۳۔ ایک دوسرے کی توضیع، تفسیر اور تصریح کی وجہ بن جاتے ہیں۔
۴۔ ایک دوسرے کی وجہء شہرت ٹھہرتے ہیں۔
۵۔ دونوں، نہ صرف ایک دوسرے کے لئے خصوص بننے کا سبب بنتے ہیں بلکہ اپنے قاری کی توجہ اور دلچسپی پر بھی گرفت
کرتے ہیں۔
۶۔ ایک دوسرے کو معنوی اور صوری حسن فراہم کرتے ہیں۔
۷۔ ایک دوسرے کو استعمالی توانائی اور شکتی مہیا کرتے ہیں۔
قائم بالذات منسوب مفاہیم کی حیثیت اپنی جگہ لیکن لچک لفظوں کو مرنے نہیں دیتی۔ یہی نہیں، لچک کے حوالہ سے لفظ مخصوص دائروں کے قیدی نہیں رہتے۔ مختلف کروّں میں اپنی جگہ بنا کر زندگی کے نئے حوالوں کے ساتھ پیوست ہو جاتے ہیں۔ ’’حرکت‘‘ لفظوں کی معنویت بدل کر اس کی ضرورت کے نئے دروازے کھولتی چلی جاتی ہے اور اس کی نئی حیثیتں سامنے لاتی رہتی ہے۔ استاد غالب کے ہاں ترکیب پانے والے مرکبات نئی معنویت کے ساتھ نئے کرّوں میں surviveکرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مرکبات میں الفاظ کی فطرت میں سیمابی عناصر منتقل ہوئے ہیں۔ ان کے مرکب اضافی، مرکب توصیفی بھی ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ زیادہ تر اطراف کے الفاظ بیک وقت موصوف اور صفت کی استعداد رکھتے ہیں۔ مثلاً
قیدِ حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
’’قید‘‘ با معنی سہی لیکن کس قسم کی قید؟ ’’حیات‘‘ کے پیوند سے معلوم پڑتا ہے زندگی کی قید (گرفت) ۔حیات کس نوعیت کی، قید کی بڑھوتی ظاہر کرتی ہے کہ قید والی حیات۔ اس طرح دونوں صفت بھی ہیں موصوف بھی۔ اصل بات تو یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی شناخت کا وسیلہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو متحرک کر رہے ہیں۔ توجہ کا سبب بن رہے ہیں۔ غور فرمائیں لفظ قید با معنی ہوتے ہوئے بھی متحرک نہیں۔ ایسی ہی صورت لفظ حیات کی ہے۔ اختلاط سے ہلچل اور تھرتھلی سی مچ گئی ہے۔ گویا اطراف کے الفاظ بامعنی ہو کر بھی توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔ ایک دوسرے کے ہو کر ان کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ انھیں متعلقہ شعر کے سیناریو میں ملاحظہ کرنے سے ان کی حیثیت صدف مرواریدی کی سی ہو جاتی ہے۔ ان کی حیثیت اہمیت اور ضرورت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ معنویت کا لمبا چوڑا کھاتا کھل جاتاہے۔ جتنا غور کرتے ہیں اتنا ہی لطف بڑھتا ہے اور کسی مقام پر یہ لطف ٹھہرا و یا بکھراؤ کا شکار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا تسلسل ٹوٹنے پاتاہے۔
اگلے صفحات میں استاد غالب کے مرکبات کی ایک ناتمام سی فہرست پیش کی جا رہی ہے۔عرض کئے گئے تناظر میں ان مرکبات کی تفہیم و تصریح کے ساتھ کلامِ غالب کا مطالعہ فرمائیں نہ صرف ان کی شاعری کے نئے کرّے دریافت ہوں گے بلکہ مطالعہ کے ذوق میں بھی تغیرات واقع ہوں گے۔ شعر کی نئی قرات کی ضروت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکیں گے:

آب:
بقا دے ہے تسکین بدم آبِ بقا موج شراب
آتش:
خاموش آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا
دوزخ آتشِ دوز خ میں یہ گرمی کہاں؟
گل
ہوئی ہے آتشِ گل آبِ زندگانی
آستان:
یار آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
آغوش:
خُم آغوشِ خم حلقہ زنّارمیں آوے
رقیب
نقشِ ناز بت طنازبہ آغوش رقیب
گل
آغوشِ گل کشو دہ برائے وداع ہے
آواز:
صور گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
آہ:
آتشیں میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
بے اثر آہ بے اثر دیکھی نالہ نار ساپایا
آئین:
غزل خوانی میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں
آئینہ :
تصویر نما تیغِ ستم آئینہ تصویر نما ہے
تمثال دار ہے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
سبز
دیکھ برسات میں آئنے کا سبز ہوجانا
ابر:
بہار ابر بہارخمکدہ کس کے دماغ کا
بہاری
ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کُھلنا
گوہر بار گزرے ہے آبلہ پا، ابر گہر بار ہنوز
اقلیم:
الفت نہیں اقلیم الفت میں کوئی طو مار ناز ایسا
انجمن:
ناز اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
بے شمع انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
بازار:
جاں سپاری روز بازارِ جاں سپاری ہے
فوجداری گرم بازارِ فوجداری ہے
بالیں:
یار جلے ہے دیکھ کے بالینِ یار پر مجھ کو
بت :
کافر چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا
غالیہ مو کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
بادہ: گلفام آسمان سے بادہ گلفام برسا کرے
بحر: بیکراں سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لئے
بخت:
خفتہ لوں وام بختِ خفتہ سے یک خواب خوش ولے
برق:
تجلی گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی نہ طور پر
برگ:
عافیت غنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلوم
برشگال:
گریہ برشگالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
بزم:
بتاں ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبو ں سے
خیال حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میں
غیر مے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا رب
ناز میں نے کہا کہ بزم ناز غیر سے چاہیے تہی
مے میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں
بہانہ:
بیگانگی وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں
پاداش:
عمل پاداشِ عمل کی طمع خام بہت ہے
پاآٖافگار
پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا
پرتو:
خورشید اے پرتوِ خورشید جہاں تاب ادھر بھی
مہتاب پرتوِمہتاب سیل خانماں ہوجائے گا
پیغام:
زبانی کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
پنبہ:
نور پنبۂ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
تبسم:
پنہاں یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
تپ:
عشق وہ تپ عشقِ تمنا ہے کہ پھر صورتِ شمع
تعلیم:
ضبط گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
تن:
مجروع چھوڑ کر جاناتن مجروح عاشق حیف ہے
خستہ تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پانْؤ
تمنا:
بے تاب عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
تمثال:
شریں کوہکن نقاشِ یک تمثال شریں تھا اسدؔ
تلخی:
غمِ ہجراں از بسکہ تلخیِ غم ہجراں چشیدہ ہوں
تیر:
نیم کش کوئی میرے دل سے پوچھے تیر ے تیر نیم کش کو
تیغ تیز نگاہ بے حجابِ ناز تیغ تیز عریاں ہے
ستم تیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
جام :
زمرد ہو اجامِ زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
جذبہ:
بے اختیار جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
جگر:
تشنۂ ناز جس قدر روح بناتی ہے جگر تشنۂ ناز
چراغ:
خانہ درویش چراغ خانۂ درویش ہر کاسہ گدائی کا
روشن چراغِ روشن اپنا قلزمِ صرصر کا مرجاں ہے
کشتہ ورنہ یاں بے رونقی سود چراغِ کشتہ ہے
راہ گزار مہر گردوں ہے چراغ رہ گزارِ بادیاں
مردہ چراغِ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
چرخ: بریں بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لئے
چشم: خریدار کہ رہے چشم خریدار پہ احساں مرا
خوں فشاں ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
روزن شعاعِ مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
دلال چشم دلال جنس رسوائی
بد، طرب دور چشم بد تری چشمِ طرب سے واہ واہ
مستِ ناز میکدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکست
وا چشم وا گردیدہ آغوشِ و داعِ جلوہ ہے
حرف:
وفا ایک جا حرفِ وفالکھا تھا وہ بھی مٹ گیا
حریف :
سیہ مست خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
حسرت:
دل بقدرِ حسرتِ دل چاہیے ذوقِ معاصی بھی
حکایت :
صبر گریز پا کبھی حکایتِ صبر گریز کہیے
حکایات:
خوں چکاں لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں
حسن:
خود آرا مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
بے پردہ حسن بے پردہ خریدار متاعِ جلوہ ہے
حورانِ:
خلد حورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے
حیات: دہر دیتے ہیں جنت حیاتِ دہر کے بدلے
خاک:
گلشن کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
خار:
الم خارِ الم حسرتِ دیدار تو ہے
خامہ:
مثرگاں پھر بھی رہا ہوں خامۂ مثرگاں بخونِ دل
خاتم:
جمشید جام مے خاتم جمشید نہیں
خانہ :
مجنوں خانۂ مجنوں صحرا گرد بے دروازہ تھا
خریدار: متاعِ جلوہ حسنِ بے پردہ خریدارِ متاع جلوہ ہے
خلش:
غمزۂ خونریز خلشِ غمزۂ خونریز نہ پوچھ
خط: پیالہ خط پیالہ سراسر نگاہ گلچییں ہے
رخسار دودِ شمع کشہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست
خوباں:
دل آزار نہ کھڑے ہو جئے خوبان آزار کے پاس
خورشید:
جہاں تاب لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
خواب:
سنگیں قیامت کشتۂ لعلِ بتاں کا خوابِ سنگیں ہے
خوف:
بد آموزی وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
خون:
جگر ہے خونِ جگر جوش میں دل کھول کے روتا
دو عالم کہ مشقِ ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
داغ:
پلنگ ہوا جام زمرد بھی مجھے داغِ پلنگ
دل داغِ دل گر نظر نہیں آتا
حسرت آتا ہے داغِ حسرتِ دل کا شمار یاد
بدگمانی نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغِ بد گمانی شمع
غم عشق نشاطِ داغِ غمِ عشق کی بہار نہ پوچھ
عیوب برہنگی ڈھا نپا کفن نے عیوبِ برہنگی
طعن بد عہدی نہ جانوں کیونکہ مٹے داغِ طعن بد عہدی
دل داغِ دل گر نظر نہیں آتا
پشت داغِ پشت دستِ عجز شعلہ خس بد نداں ہے
نا تمامی میں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغِ نا تمامی
داستان:
عشق وہ بدخو اور میری داستاںِ عشق طولانی !
دامان:
خیال کہ دامانِ خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
درس:
بے خودی فنا تعلیم درسِ بے خودی ہوں اس زمانے سے
درد :
تہ جام ہے یوں کہ مجھے دردِ تہِ جام بہت ہے
در:
میکدہ رندانِ در میکدہ گستاخ ہیں زاہد
عدالت:
ناز پھر کھلا ہے در عدالتِ ناز

دشت:
غم میں دشتِ غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں
مجنوں رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشے
دل:
مضطر تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا
گزرگاہِ خیال دل گزر گاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گم گشتہ دل گم گشتہ مگر یاد آیا
ناکام غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
دست:
عجز داغِ پشت دستِ عجز شعلہ خس بد نداں ہے
دفتر :
امکاں یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا
دم:
سرد ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
دشمن:
شہید وفا علی الرغم دشمنِ شہید وفا ہوں
دوست:
بیداد نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لئے
بے تکلف بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غموار دوست
دود:
شمع دودِ شمع کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست
شعلہ سرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے
دعوت:
آب و ہوا مدت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کئے
دور:
ساغر ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دورِ ساغر کی
دریا : معاصی دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
دیدہ :
عبرت دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگا ہ ہو
حیراں آئینہ داری یک دیدہ حیراں مجھ سے
خونبار جب لختِ جگر دیدۂ خونبار میں آوے
وارستگی رکھ لیجو مرے دعویٰ وارستگی کی شرم
دعویٰ :
دیار: غیر مجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دور
دیوار:
چمن کھل گئی مانندِ گل سوجا سے دیوار چمن
دہن:
شیر دہن شیر میں جا بیٹھئے لیکن اے دل
ذوق:
اسیری مثردہ اے ذوقِ اسیری کہ نظر آتا ہے
گرفتاری کس قدر ذوقِ گرفتاریِ ہم ہے ہم کو
راز:
معشوق رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائے
رشتہ:
الفت خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے
بے گرہ جب رشتہ بے گرہ تھا ناخنِ گرہ کشا تھا
رقص:
شرر گرمیِ بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک
رنگ:
شکستہ رنگِ شکستہ صبح بہارِ نظارہ ہے
روز :
سیاہ جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
زبان:
محوِ سپاس تمنائے زباں محوِ سپاس بے زبانی ہے
زخم :
تیغ وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے
جگر داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
زلف:
مگر پھر تابِ زلفِ پر شکن کی آزمائش ہے
سیاہ زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کئے ہوئے
زندان:
غم کیا کہوں تاریکی زندانِ غم اندھیرہے
زندگانی:
لذت نمک پاش خراشِ دل ہے لذتِ زندگانی کی
ساغر:
جم ساغرِ جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
ساز:
ہستی بے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن
ساکنان:
خطۂ پاک دیکھو اے ساکنانِ خطۂ پاک
سایہ :
تاک سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
سرمہ :
مفت سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
سبد:
گل سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں
ستارہ:
گوہر فروش کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
سرور:
تپ کیجے بیاں سرورِ تپِ غم کہاں تلک
سفر:
عشق سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
سفیدی:
دیدہ سفیدی دیدۂ یعقوبؑ کی پھرتی ہے زنداں پر
سینہ:
عاشق نہ پوچھو سینۂ عاشق سے آبِ تیغ نگاہ
اہلِ ہوس کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جا
پر خوں جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم
شام:
ہجر زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
شب:
غم کہوں کس سے میں کیا ہے شب غم بری بلا ہے
فرقت گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
مہتاب پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
ہجر شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
شعاع:
مہر شعاعِ مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
شعلہ:
آتش لپٹنا پر نیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے
شرم:
رسوائی شرم رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میں
شرار:
سنگ شرارِ سنگ نے تربت پہ میری گلفشانی کی
شکست:
آرزو حاصلِ الفت نہ دیکھ جز شکست آرزو
شمع:
پریشان ہونگہ مثلِ گلِ شمع پریشاں مجھ سے

شور:
پند ناصح شورِ پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
شوخی:
دنداں عرضِ نازِ شوخیِ دنداں برائے خندہ ہے
اندیشہ نہ لائی شوخیِ اندیشۂ تابِ رنجِ نو میدی
شوق:
فضول شوقِ فضول و جرأت رندانہ چاہیے
شکوہ :
بیداد ہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
شہید گزشتہ معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ
شراب:
طہور کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
صبح:
بہار صبح بہارِ پنبۂ مینا کہیں جسے
صدا: خندۂ دل چٹکنا غنچہ و گل کا صدائے خندۂ دل ہے
ضرب :
تیشہ بضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
ضعفِ:
دماغ جبکہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ

طاقت:
سخن کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
گفتار رہی نہ طاقتِ گفتار اگر ہو بھی
طبع:
خریدار لیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر
طعنہ:
نایافت ہاں اہلِ طلب کون سنے طعنۂ نا یافت
طرہ:
پر پیچ اگر اس طرّۂ پر پیچ کا پیچ وخم نکلے
طوفان:
حوادث اہل بنیش کو ہے طوفان حوادث مکتب
صدا: آب آمدِ سیلاب طوفان صدائے آب ہے
عاشق:
بیمار خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
عاشقی:
صبر طلب عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
عرق:
انفعال دریا زمیں کو عرق انفعال ہے
عذر:
مستی ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
عرض:
یک فغاں ہجوم نالہ حیرت عاجز عرضِ یک فغاں ہے
عہد :
تجدید تمنا کف افسوس عہد تجدیدِ تمنا ہے
عیش:
رفتہ فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
غارتگر:
ناموس غارتگرِ ناموس نہ ہو گر ہوس زر
غرور:
دوستی غرورِ دوستی آفت ہے تو دشمن نہ ہو جائے
غسل :
صحت شاہ کی ہے غسل صحت کی خبر
غرقہ:
مے جو ہواغرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
غلام:
ساقی کوثر غلام ساقیِ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
غم:
عشق ،روزگار غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا
پنہاں تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
فراق غمِ فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
گیتی بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
ہستی غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگِ علاج
فکر:
دنیا فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
فرصت:
غش دل میں آ جائے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
کشا کشِ غم فرصتِ کشا کش غم پنہاں سے گر ملے
فصل:
بہاری ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری واہ واہ
آمدِ فصل لالہ کاری ہے
فتنہ:
شور قیامت فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گلِ میں ہے
قاتل:
دراز دستی درازدستی قاتل کے امتحاں کے لئے
قبلہ:
مقصد قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیاز
قطرہ:
خون بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
قفل:
ابجد تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفل ابجد
قلزم:
صرصر چراغِ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
قید:
ہستی قید ہستی سے رہائی معلوم
کاغذی:
پیرہن کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاغذ:
آتش زدہ برنگِ کاغذِ آتش زدہ نیرنگِ بے تابی
کباب:
دل سمندر بروئے سفرہ کباب دلِ سمندر کھینچ
کافر:
فتنہ ربا یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا
کف: خس اے عندلیب یک کفِ خس بہر آشیاں
گردش:
رنگ طرب گردشِ رنگِ طرب سے ڈرائیے
گدا:
کوچہ میخانہ گدائے کوچۂ میخانہ نامراد نہیں
گرمی :
بزم گرمیِ بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک
تاب و تواں ہر چند پشتِ گرمی تاب و تواں نہیں
گرد :
ساحل گرد ساحل ہے بزخم موجہ دریا نمک
گاہ:
گزر خیال موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہ خیال
گریباں:
چاک گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
گمان:
رنج خاطر ہم سے عبث ہے گمانِ رنج خاطر
گواہ :
عشق پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلب
گور: غریباں
چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
لاش: بے کفن
یہ لاشِ بے کفن اسدِؔ خستہ جاں کی ہے
لب : خشک
لب خشک در تشنگی مردگاں کا
عیسیٰ لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
لذت:
زندگانی نمک پاشِ خراشِ دل ہے لذتِ زندگانی
زخم سوزن غیر سمجھا ہے لذتِ زخم سوزن میں نہیں
لطف:
بد خوایاں تکلف برطرف ہے جانستاں تر لطفِ بد خویاں
محیط:
گریہ دل محیط گریہ و لب آشنائے خندہ ہے
متاع:
بردہ متاعِ بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
سخن بک جاتے ہیں ہم آپ متاعِ سخن کے ساتھ
محشر ستاں: بے قراری محشر ستاں بے قراری ہے
مزاج:
بلغمی اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
مرغ:
اسیر مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
مریض:
عشق لو ہم مریض عشق کے تیمار دار ہیں
ماہ:
نو چرخ وا کرتا ہے ماہِ نو سے آغوش و داع
متاع: ہنر سمجھا ہوں دلِ پذیر متاعِ ہنر کو میں
مدحِ :
ناز عہدے سے مدحِ ناز کے باہر نہ آ سکا
مشت:
خاک صحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے
خس بے تکلف ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں
مکتب:
غم لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
موج:
خوں موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
بادہ شیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موج بادہ سے
شراب موج شراب یک مثرہ خوا بناک ہے
گل ، شفق، صبا موجِ گل موجِ شفق موج صبا موجِ شراب
محیط آب محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
مے لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر
ہستی موجِ ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
موجہ:
سبزہ نو حیز موجہ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب
گل موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہِ خیال
موسم:
گل شرحِ ہنگامہ ہستی ہے زہے موسم گل
مو:
آتش دیدہ موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
مے :
عشرت مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجئے
منکر:
وفا مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حنا

مینا:
بے شراب مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل
نگاہ: ناکامی ناکامی نگاہ ہے برقِ نظارہ سوز
ناموس:
پیمان خاک میں ناموسِ پیمانِ محبت مل گئے
نامہ :
اعمال نقل کرتا ہوں اُسے نامۂ اعمال میں میں
ناف:
زمین، غزال نافِ زمیں ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
نالہ:
بلبل نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
نسخہ :
مرہم نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
نغمہ:
شادی نوحۂ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی
دل نغمہ ہائے دل کو بھی اے دل غنیمت جانئے
نقش:
قدم کہ شب روکا نقش قدم دیکھتے ہیں
وفا دہر میں نقشِ وفا وجۂ تسلی نہ ہوا
نفس:
عطر میرا رقیب ہے نفسِ عطر سائے گل
نقاب:
حسن واکر دئیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
نوید:
امن نوید امن ہے بیدادِ دست جاں کے لئے
ننگ:
پیری ننگِ پیری ہے جوانی میری
نگاہ:
بے حجاب نگاہِ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
گرم گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط
سویدا گلدستہ نگاہ سویدا کہیں جسے
عجز نگاہ عجز سرشتہ سلامت ہے
غلط یہ نگاہِ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
نگہ :
چشمِ سرمہ سا نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
غبار بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار
وادی :
مجنوں عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر
وداع:
ہوش بیم رقیب سے نہیں کرتے و داعِ ہوش
وعدہ:
دلدار پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
صبر آزما یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
وقت: شام
جادہ رہ خور کو وقتِ شام ہے تار شعاع
ہلاک:
فریب وفا ہے کس قدر ہلاکِ فریب وفائے گل
حسرت کس قدر یارب ہلاکِ حسرت پا بوس تھا
ہجوم:
نااُمیدی بس ہجوم نا امیدی خاک میں مل جائے گی
نالہ ہجوم نالہ حیرت عاجز عرضِ یک فغاں ہے
ہنگام:
بے خودی سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی

ہستی:
رونق رونقِ ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
ہوس:
سیر و تماشا ہوسِ سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
ہنگامہ:
زبونی ہمت ہنگامہ زبونیِ ہمت ہے انفعال
ہستی شرحِ ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسمِ گل



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 117085 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Feb, 2017 Views: 1509

Comments

آپ کی رائے