ناموس رسالت قانون کے تحفظ کے لیے مذہبی وسیاسی جماعتیں میدان میں آگئیں

(عابد محمود عزام, Lahore)
آئین پاکستان میں سیدالکونین صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کے لیے توہینِ رسالت ایکٹ 295 سی کے تحت سزائے موت کا قانون موجود ہے، جو کبھی مغربی قوتوں، سیکولر اور لادین طبقے کے لیے قابل قبول نہیں رہا اور وہ ہمیشہ سے مختلف بہانوں سے اس قانون میں ترمیم کے لیے کوشاں رہے ہیں۔توہین رسالت تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 295 سی کے تحت باقاعدہ بننے والے قانون کی رو سے کسی بھی طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرنا سزائے موت کو لازم کردیتا ہے۔ دفعہ 295سی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے: ’’پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے توہین آمیز الفاظ وغیرہ استعمال کرنا: ’’جو کوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا نقوش کے ذریعے، یا کسی تہمت، کنایہ یا در پردہ تعریض کے ذریعے بلاواسطہ یا بالواسطہ رسول پاک حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاک نام کی توہین کرے گا تو اسے موت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہوگا۔‘‘ 2009ء میں ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹانوالی میں آسیہ مسیح نے نعوذباﷲ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ الفاظ کہے، اس پر مقدمہ درج ہوا، مقامی عدالت میں آسیہ مسیح نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گستاخانہ الفاظ کا ارتکاب ہوا۔ آسیہ مسیح کو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی اقرار جرم کرنے پر سزائے موت سنائی گئی۔ عیسائیوں کے عالمی پیشوا پوپ دلچسپی لیتے ہوئے مسلسل اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں اور حکومت پر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ آسیہ مسیح کو رہا کیا جائے، یا اسے امریکا فرار کروایا جائے۔ لبرل اور سیکولر اور مغربی طاقتیں قانون توہین رسالت کو مشکوک بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس قانون کے غلط استعمال کا پروپیگنڈا کرتے ہوئے اس میں ترمیم کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

پاکستان بھر کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے قانون ناموس رسالت میں ترمیم کے حوالے سے ہونے والی باتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس قانون کے تحفظ کا عہد کیا ہے اور یکم فروری کو اسلام آباد میں عالمی مجلس ختم نبوت کے تحت آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں ناموس رسالت قانون کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لینے کے لیے حکومت کو ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور پانچ نکاتی مطالبات کا اعلان کرتے ہوئے ایک ماہ میں منظور نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔ ان مطالبات میں توہین رسالت کی سزا کے قانون کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لینے، چناب نگر میں متوازی ریاست اور متوازی عدالتیں ختم کرنے، قادیانی چینلز کی نشریات کا نوٹس اور آئین و قانون کے منافی نشریات پر پابندی لگانے، قادیانی تعلیمی ادارے انہیں واپس نہ کرنے، چکوال میں قادیانیوں کی فائرنگ سے شہید و زخمی ہونے والے خاندانوں کی درخواست کے مطابق مقدمہ درج کرنا شامل ہیں۔ دینی و سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر اعلان کیا ہے کہ توہین رسالت کی سزا کے قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی تو سخت مزاحمت کی جائے گی۔ تحریک کے لائحہ عمل اور مطالبات پیش کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں نمائندہ 15رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق، مسلم لیگ ن کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفرالحق، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجدمیر، دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری، اعجاز الحق، مولانا اﷲ وسایا، پیر اعجاز ہاشمی، چوہدری پرویز الہی، سیدکفیل بخاری، حافظ عاکف سعید، مولانا زاہد الراشدی، پیر معین الدین گوریجہ شامل ہیں۔ملک بھر کی دینی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام اور مشائح عظام کے مشترکہ اجتماع نے ایک بار پھر اس حقیقت کو دہرایا کہ مملکت خداد اد پاکستان، اﷲ اور اس کے رسول مقبول، خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کی گئی ہے اور یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو اسلامی نظریہ پر وجود میں آئی ہے، لیکن مغربی دنیا اور ان کی این جی اوز ایک منظم سازش کے ذریعے پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کے در پے ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ وطن عزیز میں تمام انبیا کرام علیہم السلام اور بالخصوص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی، لیکن ہر پانچ، چھ سال کے بعد اس ایمانی اور شرعی اور آئینی قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی قرارداد لانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ 295۔سی کے قانون میں ترمیم یا مقدمہ کے اندراج کے طریقہ کار میں تبدیلی اور سزا میں کمی کی خبر نے اسلامیان پاکستان کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ اجتماع نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی سازشوں پر نظر رکھے اور ایوان بالا اور ایوان زیریں میں توہین رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی نہ لانے کا دو ٹوک اعلان کرے۔ امت مسلمہ کا یہ عقیدہ ہے کہ رحمت دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ رب العزت کے آخری نبی ہیں۔ مرحوم بھٹو دو ر میں قومی اسمبلی نے اس بنیادی عقیدہ کے باغی قادیانیوں کا دین اسلام سے متصادم مؤقف سننے کے بعد انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سمیت ملک کی تمام عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اس قانون کو مبنی بر حق قرار دیا۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور مغربی ممالک توہین رسالت قانون میں ترمیم اور قادیانیوں کے خلاف آئینی ترامیم ختم کرانے کے لیے پاکستان کو مالی امدادکا لالچ دے رہے ہیں۔ یہ ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ سینٹ میں ایک بار پھر توہین رسالت قانون کا معاملہ اٹھایا جانا سازش کا حصہ ہے۔ دینی جماعتیں کسی صورت توہین رسالت قانون میں ترمیم نہیں ہونے دیں گی۔ گستاخ بلاگرز کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔

پاکستان کے سیکولر عناصر کو پہلے روز سے پاکستان کا اسلامی تشخص قبول نہیں اور وہ آئے روز اس کو ختم کرنے کی تمام تر کوششیں بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔ سیکولر لابی کے لگاتار دباؤ اور عالمی قوتوں کے پرزور اِصرارکا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں اس کو کتابِ قانون سے حذف یا کم ازکم غیر مؤثر کر دیا جائے۔ کسی بھی ملک کا آئین اس کے شہریوں کے لیے محترم ہوتا ہے، پاکستان کے آئین کی بھی پاکستانیوں کے لیے ایسی ہی اہمیت ہے، تاہم پاکستانی آئین و قانون کا آرٹیکل 295۔سی، تحفظ ناموس رسالت کے باعث ہر مسلمان کے لیے انتہائی زیادہ محترم ہے۔ توہین رسالت قانون کا نفاذ بڑا سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ 295۔ سی قانون پاکستان میں موجود اقلیتوں کو سب سے زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر تحفظ ناموس رسالت قانون نہ ہو تو توہین کے شبہ میں بھی کوئی مسلمان فوری طور پر ملزم کو انجام تک پہنچاسکتا ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت ملزم کو اپنی صفائی کا پورا حق اور موقع دیا جاتا ہے۔ کیس ایک عدالت سے دوسری اور پھر تیسری سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک جاتا ہے، انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے بعد سزا پر عمل کی نوبت آتی ہے اور اگر اس قانون کو ختم کردیا جائے تو نہ صرف یہ کہ لاقانونیت کا راج ہوگا، بلکہ کوئی بھی کسی پر توہین رسالت کا شبہ ہونے پر بھی موت کے گھاٹ اتار سکے گا اور لوگ خود ہاتھ میں قانون لینے پر مجبور ہوں گے۔’’قانون کا غلط استعمال‘‘ اگر ایسی وجہ ہے جس کی بنیاد پر قانون میں ترمیم ناگزیر ہو تو اس ’’منطق‘‘ سے تو دنیا کے سارے ہی قوانین میں ترمیم لازمی ٹھہرتی ہے۔ آج ایک طرف چوری، ڈکیتی، قتل، عصمت دری، اغواء برائے تاوان اور زمینوں کے ناجائز قبضے میں ملوث عناصر قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے صاف بچ نکلتے ہیں تو دوسری طرف ہزاروں معصوم اور بے گناہ انسان قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے ہی جیل کی کال کھوٹھریوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور ہیں۔ قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے قانون بدلا نہیں جاتا، بلکہ اس کو موثر رکھتے ہوئے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے قانون میں صرف مسلمانوں کے نبی آخر الزمان کو ہی یہ تحفظ وتقدس حاصل نہیں، بلکہ تمام انبیا اور جملہ اَدیان کو یہاں قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں مذہبی جذبات کے احترام کا یہ تحفظ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں، بلکہ عیسائیوں کو بھی حاصل ہے، اس کے بعد اس الزام کی بھی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے خلاف یا مذہبی امتیاز پر مبنی ہے، جبکہ مغربی ریاستیں اپنے آپ کو ایک سیکولر ریاست باور کرانے کے باوجود اپنے ہاں صرف عیسائیت کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے اور اس کو برقرار رکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ اسلام کا قانونِ توہین رسالت تو کائنات کی عظیم الشان ہستی کی ذات کے تقدس کے بارے میں ہے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس ہمہ جہتی عظمت کا اعتراف مسلمانوں سمیت غیر مسلموں نے بھی کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک میں ایسا ہی تحفظ ان کے حکمرانوں تک کو حاصل ہے۔ ملکہ برطانیہ کے تقدس کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے تحفظ دیا گیا ہے۔ ایسا ہی تحفظ یہودیوں کے ہولوکاسٹ کو بھی حاصل ہے جس میں یہودی جذبات کا احترام نہ کرنے والوں اور ایک تاریخی واقعہ کے بارے میں مطلوبہ اظہار نہ کرنے کو سنگین سزا کامستحق قرار دیا گیا ہے اور یہ سزا فرانس، جرمنی، ہنگری، ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں ہرملک میں چند انسانوں کے بنائے ہوئے دستور کی مخالفت کرنے والے شخص کو ریاست کا باغی قرار دے کر آج کی ریاست اسے موت کی سزا دیتی ہے۔ جب یہ سب کچھ ہوسکتا ہے تو پھر کائنات کی سب سے عظیم، مقدس اور محترم ہستی کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے کے لیے سزائے موت کے قانون سے مغربی قوتوں، سیکولرز اور لبرلز طبقات کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں؟
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417851 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Feb, 2017 Views: 539

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ