غالبؔ کے مناظر کا فکری و نفسیاتی مطالعہ

(مقصود حسنی, قصور)
مناظر ہمیشہ سے اپنی حیثیت میں معتبررہے ہیں اور یہ انسانی موڈ پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور مرتب کر تے ہیں۔ موڈ کے متاثر ہونے سے لاشعوری طور پر رویے میں تبدیلی آجاتی ہے ۔ رویے میں تبدیلی‘ انسانی مزاج کا تعین کرتی ہے۔ انسان کے اجتماعی مزاج پر تہذیبوں کی بنیاد پڑتی ہے۔ تہذیبوں کے پیمانے حکم کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اِن پیمانوں کا احترام انسان پر واجب ہوجاتا ہے۔ انحراف کرنے والے زندگی بھر بے چین رہتے ہیں یا پھر بے بسی کی صیلب پر مصلوب ہوجاتے ہیں۔ تہذیب کے پیمانے انسان کی رگوں میں صدیوں خون بن کر رواں رہتے ہیں۔ تہذبوں کے تصادم بھونچال سے کم نہیں ہوتے ۔ جو توڑ پھوڑ کا وہ طوفان لاتے ہیں کہ الامان !غالبؔ بڑا چالاک واقع ہوا ہے، اسے معلوم ہے کہ سننے سے زیادہ دیکھنا اثر دکھاتا ہے۔ اِسی لئے وہ اپنی اُردو غزل میں تقریری انداز بہت کم اختیار کرتا ہے کیونکہ ایک کان سے سنا دوسرے سے پُھر ہوجاتا ہے۔ اُس نے انسانی موڈ کی تبدیلی کے لئے مصوری کا انداز اپنایا ہے اس کی لفظی مصوری ، انسانی موڈ پر غیر محسوس انداز سے تبدیلی لاتی ہے۔ چند مناظر ملاخطہ ہوں:
آبلہ اہل تدبیر کی واماندگیاں
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
آگ سے جلنے یا زیادہ چلنے کے سبب ، پاؤں میںآبلے پڑجاتے ہیں ۔ آگ سے جلنے کے باعث بننے والا آبلہ جلن کی تکلیف کا تصور ابھارتا ہے جبکہ زیادہ چلنے یا تنگ جوتا پہننے کی وجہ سے بننے والا آبلہ بالکل الگ نوعیت کی تکلیف سامنے لاتا ہے۔ یہ لفظ ذہن کو آسودگی فراہم نہیں کرتا۔ غالبؔ کے ہاں قرأت میں آنے والے آبلے کا سبب واضح نہیں ۔ آبلے آتشِ عشق کے سبب بن نہیں سکتے ۔ عشق کی آگ کی شدت کتنی رہی ہو آبلے مشاہد ے میں نہیں آتے ۔ ہاں آبلے زیادہ چلنے کی وجہ سے پڑگئے ہوں گے۔ چلنے کی نوعیت واضح نہیں ۔عشق کی وحشت نے دوڑائے رکھا۔ تلاشِ معاش کے سلسلہ میں چلناپڑایا کسی اور وجہ سے متواتر چلنا پڑا۔ تاہم لفظ ’’واماندگی‘‘ اِس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ آبلے عشق میں چلتے رہنے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ اصل منظر جو قابلِ توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ’’اہل تدبیر‘‘ آبلوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لئے حنا باندھ رہے ہیں۔ یہ حنا باندھنے کا منظر آنکھوں کے سامنے لائیں۔آبلوں کی’’ سڑکن‘‘ بے قرار کئے دے رہی ہے۔ اِس تصویر کے حوالے سے اہل تدبیر کی ناکام چارہ جوئی اور عاشق کی حالت زار سامنے آتی ہے جو نفسیاتی سطح پر اہل تدبیر(معالج) کے معالجے کی کوشش کو متاثر کر رہی ہے۔ اِس تصویر سے ایک تیسرا تصوربھی ابھرتا ہے کہ حنا جلن کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے۔ حنا کو علاج کا درجہ دے دیا جائے تو بھی چارہ، معالجہ یا تدبیر کے معنی برآمد ہوں گے کہ متاثرہ کو کسی نہ کسی حوالہ سے ریلیف فراہم کر نے کی سعی جاری ہے۔ یہ فطری منظر ذہن کے گوشوں کو متحرک کر دینے کے لئے کافی ہے۔ ایک طرف آبلہ پا بے چین و بیقرار ہے تو دوسری طرف اہل تدبیر اس کی تکلیف میں کمی کے لئے حنا باندھ رہے ہیں۔ اس سے ریلیف کی صورت نکل رہی ہے یا نہیں‘ اہل تدبیر کی تگ و دو نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حنا محض آرائش کا ذریعہ ہی نہیں’’ حنا باندھنے‘‘ سے آبلوں کو سکون میسرّ آتا ہے۔ ہاتھ پاؤں جل رہے ہوں تو مہندی کا استعمال کیاجاتا ہے۔ بالوں کو رنگنے کے سوا بھی مہندی کام آتی ہے۔ غالبؔ کا یہ نسخہ آبلہ پڑنے کی صورت میں فوری طبی امداد کا حکم رکھتا ہے۔
آنکھیں
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں
غالبؔ یارلائے میری بالیں پہ اُسے، پر کسی وقت
آنکھیں جسم کا انتہائی کارآمد عضو ہیں۔ یہ متاثر کرتی ہیں ۔ بہت کچھ کہتی سنتی ہیں۔ غالبؔ نے آنکھوں کے حوالہ سے بڑا عمدہ منظر پینٹ کیا ہے۔ شاید اچھے سے اچھا مصور بھی یہ منظر اِن حوالوں کے ساتھ پیش نہ کرسکے۔ عاشق کی آنکھیں بوقتِ مرگ محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔ وقت کم ہے
بے صبری کا عالم ہے۔ مرنے والے کے علم میں ہے کہ لوگ محبوب کو لانے کے لئے گئے ہوئے ہیں ۔ عاشق او رموت کی جنگ پورے زور وشور سے جاری ہے۔ وہ انکھوں کو بندنہیں ہونے دے رہا ۔ آنکھیں مند جانے سے پہلے محبوب کو ایک نظر دیکھ لینے کا متمنی ہے۔ محبوب کو آنے میں دیر ہو جاتی ہے اور عاشق ہار جاتا ہے۔ اِدھر وہ جنگ ہارتا ہے اُدھر محبوب چلاآتا ہے۔ یہ منظر حسرت ناک سہی لیکن انتظار سے وابستگی کا کوئی دربند نہیں ہونے دیتا۔ نفسیاتی سطح پر دوسوال ذہین میں ابھر تے ہیں:
الف: محبوب نے آنے میں دیر کیوں کی؟
ب: محبوب کی تلاش میں دیرہوئی یا پھر
ج: محبوب نے بحث و تکرار میں وقت ضائع کردیا ؟!
یہ تصویر سہ طرفہ تاسف واضح کرتی ہے:
الف: عاشق کا کہ وہ محبوب کے دیدار سے محروم رہا
ٍ ب: لانے والوں کا کہ وہ کاش محبوب کو جلدلے آنے میں کامیاب ہوجاتے
ج: محبوب کا یہ کہ وہ جلد آجاتا ۔ اس کا آنا سفل نہ ہو سکا
غالبؔ نے شعر میں بڑا ہی فطری منظر تخلیق کیا ہے۔ حقیقی زندگی میں ایسا دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔ عاشق کی جگہ کسی اور کو رکھ لیں یہ منظر فطرت کے انتہائی قریب محسوس ہو گا۔
دوسری تصویر ، موت کے بعد کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ دوست یار اپنے حوالے سے افسردہ کھڑے ہیں ۔محبوب اپنی کوتاہی پر شرمندہ و افسردہ ہے جبکہ سامنے حسرت سے لبریز بند آنکھیں ہیں۔ غالبؔ نے اِس تصویر میں آنکھ کے عمل کے حسن کو کمال فنکاری سے واضح کیا ہے۔ اردو غزل میں آنکھ کے عمل کا حسن جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے مثلاً
دیکھ اس من ہرن آنکھوں کو
ہو گیا اُس کا حال کچھ کا کچھ
(جہاں ؔ دار)
جہاں دارنے جس منظر کو پیش کیا ہے حقیقت سے بعید نہیں ۔ محبوب کے دیکھنے سے عاشق کا حال ’’کچھ کا کچھ’‘‘ہوہی جاتا ہے۔
آواز مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سراڑجائے
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
اذیت پسند لوگ ، کسی کواذیت میں دیکھ کر یا اذیت میں مبتلا کر کے سکون اور آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ منظریہ بن رہا ہے کہ اذیت پسند گرفت میں آئے کو جلاد سے سزا دلوارہا ہے۔ اذیت چونکہ اس کی مرضی منشایا ضرورت سامنے نہیں لا رہی اِسی لئے وہ جلاد کو مزید اور شدید کے لیے کہے جا رہا ہے۔ دوسری طرف اذیت میں مبتلا‘ چیخیں نہیں ماررہا ۔ معافی کی استدعا نہیں کررہا بلکہ اس کے چہرے پر دکھ اور کرب کے آثار نمودار نہیں ہوئے ۔وہ اُسے مطمن دیکھ کر چڑکھا رہا ہے۔ اس حوالہ سے اس کی اذیت پسندی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ نتیجہ کار وہ چلائے جارہا ہے’’ اور مارو، اور مارو‘‘ وہ اس طرف توجہ نہیں دے رہا کہ مار کھانے والا آخر مطمن کیوں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے۔
رنج سے خوگر ہواانساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
یہاں یقیناًیہ وجہ موجود نہیں۔ سکون و اطمینان کا کوئی حوالہ اِس منظر میں موجودنہیں ۔ہاں سزا پانے والے کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ اذیت پسند کی آوازمیں جادو ہے ۔ اِس وجہ سے اُس کی توجہ سزا کی طرف نہیں جارہی ۔ تھوڑا غور کریںَ سزا پانے ولا خود بڑا اذیت پسند ہے۔ اذیت پہچانے
والے کی آواز میں جھنجلاہٹ نمایاں ہوتی جارہی ہے۔ اذیت پسند تسکین کے لیے وحشت پر اترآیا ہے اور کہے جارہا ہے’’ اور مارو اور مارو‘‘ اس کی جھنجلاہت سزا پانے والے کی اذیت پسندی کو آسودگی میّسر کر رہی ہے۔ نفسیاتی حوالہ سے تین باتیں سامنے آتی ہیں:
اول ۔ جب تک اذیت پسندی کے جملہ لوازم پورے نہیں ہو جاتے اذیت پسند کو تسکین فراہم نہ ہوسکے گی۔
دوم۔ تسکین کی صورت میں مزید تسکین کا جذبہ سراٹھاتا رہے گا۔
سوم۔ کسی چیز کی طرف توجہ نہ ہو تو اس کی وقوع پذیری کا احساس تک نہیں ہوتا۔
غالبؔ کا یہ منظر بڑا فطری ، قدر تی اور مبالغے سے عاری ہے۔ اِسی منظر کی بسات لفظ ’’آواز‘‘ پر ہے۔ خواجہؔ درد کے ہاں’’آواز ‘‘کا استعمال بازگشت کے حوالہ سے ہوا ہے ؂
جیدھر گزرے پھرے اُدھر سے آوازء کو ہسار ہیں ہم (دردؔ )
آئینہ لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی چمن زنگار ہے آئنہ بادِ بہاری کا
غالبؔ نے لفظ آئینہ کی مدد سے خوبصورت اور انو کھا منظر فریم کیا ہے۔ اس نے بہار کو جسم عطا کر دیا ہے۔ لفظ آئینہ ذہن میں دو تصور ابھارتا ہے۔ (۱) نزاکت(۲)اتناشفاف کہ اِس میں سامنے والے مناظر ہو بہو نظر آجاتے ہیں۔ ان کی ہیت میں رائی بھر تبدیلی نہیں آتی ۔ زیرِ حوالہ شعر میں آئینہ بطور مثال پیش ہوا ہے آئینہ کے پیچھے مسالہ لگایا جاتا ہے اِس کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہوتاغلام رسول مہرکا کہناہے :
’ اگر فصلِ بہار کو آئینہ تصور کرلیں تو اِس میں عکس پیدا کرنے کے لیے پشت پر جو مسالہ لگایا جاتا ہے
چمن ہے اگر فرض کر لیں کہ فصلِ بہارکے آئینے سے مقصود فولادی آئینہ ہے توچمن اس کا زنگار ہے‘ ‘ ( ۱ )
آئینے کے حوالہ سے غالبؔ نے جوہریالی کا منظر پیش کیا ہے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون عطا کرتاہے۔ بیک وقت فولادی آئینے پر پڑی سبزی (زنگ) اور بہار کی آمد سے ہر طرف پھیلا سبزہ آ نکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جو بہار کے حوالہ سے زمین کے خوبصورت جسم پر اگ رہا ہے ۔سبزہ گویا بہارِ کو جسم بخش رہا ہے۔ اس کے ہونے کی حجت اور شناخت بن کر سامنے آیا ہے۔ جہاں دارنے آئینے کو عشاق کی آنکھوں سے مماثل قرار دیا ہے۔آئینہ منتظر رہتا ہے کہ کوئی اس میں تانک جھانک کرے۔ آئینے کی تمنا دیکھی نہیں جاسکتی ہاں اس کے اشتیاق کو محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عشاق کی آنکھوں کی پیاس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ؂
چشمِ عشاق تیرے دیکھنے کو محوِ آئنہ دار ہیں دونو (جہاںؔ دار)
انگشت دل سے مٹنا تیری انگشتِ حنائی کا خیال
ہوگیا گوشت سے ناخن کا جدا ہوجانا
جسم کے ہر حصہ کی زبان ہوتی ہے لیکن انگشت و چشم کی زبان معروف چلی آتی ہے۔ غالبؔ نے ؔ ؔ ’’ا نگشت حنائی ‘‘کا ذکر کیاہے انگشت حنائی بڑا رومان پر ور منظر سامنے لاتی ہےَ ۔حناء سے انگشت پر نقاشی کی گئی ہو یا نسبتی شان دکھارہی ہو تو کون کافر اسے فراموش کرے گا۔ دونوں حوالوں سے جو مناظر سامنے آتے ہیں روح شکن ہیں اور حسِ جمال میں گدگدی کا سامان کرتے ہیں۔ انگشتِ کی حثیت‘ اس کے حنائی ہونے کی وجہ سے بڑھی ہے۔
انجم شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلف سے گویا بتکدے کا در کھلا
غالبؔ کے اِس شعر سے تین چار منظر وابستہ ہیں جویکے بعد دیگرے ذہن کے پردوں پر ابھرتے ہیں:
اول: شب ہوتے یہی آسمان پر ستاروں کے قطار اندر قطار چمکنے کے منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گھوم جاتے ہیں۔
دوم: شب کے آغاز کے ساتھ ہی بت خانے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ چراغ جل اٹھتے ہیں وہ آسمان پر چمکنے والے تاروں کا سامنظر پیش کر رہے ہوتے ہیں جیسے آسمان پر رونق ، حسن و آرائش اور اہتمام کا عالم ہوتا ہے ویسا ہی عالم بتکدے کا ہوتا ہے۔
سوم: طوائف کدے رات کو کھل جاتے ہیں ۔ رونق ، آرائش ، روشنیاں اور اہتمام کا منظر دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔
چہارم: ستاروں کی پرستش کو بت خانے سے خاص نست و تعلق ہے۔ چمکتے ستاروں کا منظر سامنے آتے ہی یہ خیال آجاتا ہے کہ بت خانوں میں ان کی پرستش ہوتی تھی۔
پنجم : شام کے وقت بت خانے میں پرستش شروع ہوتے ہی بہت سے چراغ روشن کر دیئے جاتے ہیں جنھیں ستاروں کے منظر سے آگ گونہ مناسبت ہے(۲)
۱۔انجم کے ساتھ علامتیں منسلک ہیں۔۲۔بت خانے کے بت جنھیں سجا بنا کررکھاجاتا ہے۔۳۔ کوچہ ء بتاں میں سجی بنی حسینائیں۔
۴۔ بت خانے میں، ایک ترتیب سے جلائے گئے چراغ۔۵۔ آسمان پر چمکتے ستاروں کے خوبصورت جھرمٹ کا منظر
باغ یک ذرہ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاں جادہ بھی ‘فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
غالبؔ نے اِ س شعر میں آئی بہار کا منظر پیش کیا ہے اور بہار کی آمد کو باغ کے حوالہ سے واضح کیا ہے۔ غلام رسول مہر کہتے ہیں :
’’بہار آگئی ہے ۔ باغ کی زمین کا کوئی بھی ذرّہ بیکار اور جو ش نمو سے خالی نہیں رہا۔ جگہ جگہ سبزہ اور پھول موجود ہیں۔
نمو کی فراوانی سے روشوں کی یہ حالت ہوگئی کہ پاؤں دھرنے کو جگہ نہیں ملتی اور خالی جگہیں اِس درجہ محدود ہوگئی ہیں
کہ معلوم ہوتا ہے یہ روشیں نہیں بلکہ دانح لالہ کے چراغوں کے لئے قدرت نے بتیوں کا انتظام کردیا ہے‘‘(۳)
غالبؔ نے بہار کے حوالہ سے نمو کے عمل پر خامہ فرسائی کی ہے ۔ بہار کے آنے سے نموکا عمل تیز ہوجاتا ہے کوئی گوشہ ایسا باقی نہیں رہتا جو نمو کے فیض سے محروم رہ جاتا ہے۔ ہر طرف ہریالی ہوتی ہے۔ نئی کونپلیں پھوٹتی نظر آتی ہیں۔ اُردو شاعری میں باغ کے حوالہ سے مناظر تخلیق ہوئے ہیں۔ باغ کے حوالہ سے شاہ عالم ثانی آفتاب نے بلبل کے رخصت ہونے کا بڑا حسرت ناک منظر پیش کیا ہے ۔بلبل بانح سے کچھ اِس الٹ رو سے رخصت ہوئی کہ اُس کا کوئی نشاں باقی نہ رہا۔ باغ کا حسن بلبل کی موجودگی سے دو بالا ہو جاتا ہے۔ بلبل کی عد م موجودگی میں ویرانی کا سماں ہوتا ہے ؂
چلی جب باغ سے بلبل لُٹا کر خانماں اپنا
نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا
(آفتابؔ )
جہاں ؔ دار نے یار کی باغ میں آمد سے سرو کی کم ئیگی کے ا حساس کو اجاگر کیا ہے ؂
جب کہ گل گشت چمن کو ناز سے جاتے ہوتم
سروکے سر پر قیامت باغ میں لاتے ہو تم
(جہاںؔ دار)
خواجہ دردؔ نے بارکی موجودگی اور عدم موجودگی کے حوالے سے ذہن میں آنے والے مناظر کو پیش کیا ہے۔ باغ کی رنگینیاں گویا یار سے وابستہ ہیں ۔اگر وہ نہیں تو باغ رنگینیوں سے تہی ہوجاتاہے۔ ؂
گل و گلزار خوش نہیں آتا
باغ بے یار خوش نہیں آتا
(دردؔ )
تینوں شعرانے باغ سے متعلقہ مناظرکو ذہنی شیڈز ٹھہرایاہے۔ مناظر نفسیاتی کیفیات کا نام ہیں۔ کروچے کہتا ہے:
’’ انسانی ذہن سے باہر کوئی چیز نہیں بلکہ ذہن اپنے مقاصد کے لئے بعض اشیاء کو خارجی طور پر متشکل کرلیتا/ سکتاہے‘‘ ( ۴)
انسانی ذہن/موڈ کے مطابق خارج کے مناظر تشکیل پاتے ہیں ۔ اگر وہ خوش ہے توبُرے مناظربھی خوش آجاتے ہیں ۔ اگر وہ غمگین ہے تو خارج بھی
افسردگی سے بھر جاتا ہے۔
بہار
ہاں نشاطِ آمدِ فصل بہاری واہ واہ
پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
غالبؔ نے بہار کے حوالہ سے نشاط ورنگ کو اجاگر کیا ہے۔ موسم گل کے حوالہ سے ہنگامۂ ہستی و قوع میں آتا ہے اور قطر ۂشراب ‘دریا (میخوار) کی طرف مراجعت کرتا ہے ؂
شرحِ ہنگامۂ ہستی ہے‘ زہے !موسمِ گل
رہبر قطرہ بہ دریا ہے‘ خوشا! موجِ شراب
قطرے کا دریا کی طرف پھرنے کا مولانا غلام رسو ل مہر نے یہ منظر پیش کیا ہے:
’’ انسان مدہوش ہو جائے تو وہ بے خود اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ یوں گردوپیش کی ہر شے سے بے تعلق ہو کر
اپنے مبدا کی طرف رجوع کرلیتا ہے۔ قطرے کا مبدادریا ، انسان کا مبد اذات باری تعالیٰ ہے،، (۵)
اردو شاعری میں لفظ ’’بہار‘‘ کے حوالہ سے بہت سے مناظر اور انسان کے ذہین کی مختلف کیفیات پیش گئی ہیں۔ مثلاً قائم چاند پوری نے زندگی اور زندگی کی ہمہ ہمی کو پینٹ کیا ہے :
اے غافلِ فرصت !یہ چمن مفت نظر ہے پھر فصلِ بہار آئے نہ موسم ہو خزاں کا (قائم)
جہاںؔ دارنے نمو کے عمل کو واضع کیا ہے ؂
خط پہ اس کے تو تھی کچھ اور ہی بہار ہے فربنیدہ خال کچھ کا کچھ (جہاںؔ دار)
خواجہؔ درد کا کہنا ہے کہ صبح سویرے شبنم کا وجود ہوتا ہے۔ اِسے انھوں نے چشم تر کہاہے کیونکہ اس کے بعد اس کا وجودنابوہو جاتا ہے۔ خواجہ ؔ درد نے بہار میں’’ہونے ۔۔نہ ہونے‘‘کے فلسفہ کو اجاگر کیا ہے۔ بہار ،میں صرف ’’ہونا‘‘ قرار واقعی ٹھہرتا ہے۔ بہار حسن کی نمو کا نام ہے۔ شبنم حسن کو دوبالا کرتی ہے قیامت تو یہ ہے کہ بہار میں بھی وہ نابود ہوجاتی ہے ؂
چمن میں صبح یہ کہتی تھے ہو کر چشم تر شبنم بہار باغ تویوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم (دردؔ )
برسات ہے یہ برسات وہ موسم کی عجب کیا ہے اگر
موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
برسات کا موسم کیف و سرورکی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے۔ برسات کی وجہ سے اشیاء پر نشہ طاری ہوتا ہے۔ غالبؔ نے برسات کے حوالہ سے گردو پیش میں موجود اشیاء کو نشہ کی حالت میں دکھایا ہے۔ کیف آفرینی کا منظر انسانی ذہن کو ریلف فراہم کرتا ہے۔ نشے کا یہ عالم اُسے اپنے میں جذب کر لیتا ہے۔
خورشید
پر تو خورسے ہے شبنم کو فناکی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
خورشید کی حدت ‘شبنم کے فنا ہونے کا سبب بنتی ہے۔ فنا کے لمحے اذیت ناک سہی لیکن ایک منظر ضرور تخلیق کرتے ہیں۔ غالبؔ اِسے نظرعنایت کا درجہ دیتے ہیں ۔ خورشید کی توجہ کا مرکز بنا تو سہی چاہے اس سے موت کیوں نہ آجائے۔ ایک دوسری جگہ پر تو خورشید کے حوالہ سے بڑا ہی خوبصورت منظر پینٹ کرتے ہیں ؂
کیا آینۂ خانہ کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
کرے جو پر تو خورشیدِ عالم شبنمستاں کا
محبوب کے’’ آئینہ خانہ‘‘میں داخل ہونے سے آئینہ خانے کی رونق بڑھ گئی ۔ محبوب چونکہ آرائش میں ہوتا ہے۔بھڑکیلا لباس زیب تن کیا
ہوتا ہے۔ اس کے آئینہ خانے میں داخل ہوتے ہی آئینے روشن ہوجاتے ہیں۔ا س منظر کو واضح کرنے کے لئے ایک دوسرے منظر کی طرف اشارہ کیا ہے ۔خورشید کی روشنی سے شبنمستان دمک اٹھتا ہے ۔شبنم کے قطرے چمکنے لگتے ہیں۔ یہ دونوں مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس منظر کو غالبؔ واضح کرنا چاہتے ہیں اس پر کم ہی نظر گئی ہے۔ چاروں طرف صاف اور شفاف آئینے آویزاں ہوں اور ایک ہی کیفیت کو بیک وقت ظاہر کر رہے ہوں دریں اثنا محبوب پوری آرائش و دیبائش کے ساتھ وہاں آجائے ۔ اُداسی اور خاموشی کا سکوت ٹوٹ کر آئینہ خانے میں ہلچل مچ جائے گی۔ شیشے کے کام کا لباس اور موتیوں کے زیور‘ کیا قیات ڈھائیں گے تصور توکریں۔ اِس منظر کا عملی مشاہدہ انسانی حسِ جمال کو بے تاب کردے گا۔
تبسم
بغل میں غیر کی آج آپ سوئے ہیں کہیں ور نہ
سبب کیا خواب میں آکر تبسم ہائے پنہاں کا
محبوب خواب میںآتا ہے اور اس کے چہرے پر ’’چورتبسم‘‘نمودار ہوتا ہے۔ غلطی کی صورت میں‘انسان کھسیانی ہسنی ہنستا ہے۔ اس کی غلطی اُس کے چہرے پر رقم ہوتی ہے بظاہر وہ یقین دلاتا ہے’ نہیں‘ ایسی کوئی بات نہیں ۔لیکن چہرے کا پھیکا پن سب کچھ کھول کر رکھ دیتا ہے۔ عاشق شکی مزاج‘ محبوب ہرجائی ہوتا ہے اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے ۔غالبؔ نے اِسی حقیقت کو ایک منظر کی صورت میں پیش کر دیا ہے۔ اِس منظر کا انحصار لفظ‘‘تبّسم‘‘ پر ہے۔ اِس لفط کے سہارے اردو شعرانے بہت سے مناظر اردو شاعری میں فریم کئے ہیں۔ آفتابؔ نے محبوب کے تبسم کے ساتھ ابروچڑھانے کی تصویر کشی کی ہے
ابروچڑھانا جس کا تبسم کے ساتھ ہے
شیخ شتاب جنگ کو جی چاہے دیکھیئے
آفتابؔ
تبسم کے ساتھ ابرو چڑھانے کا عمل بڑا رومان پرور ہے ۔ تبسم کا تعلق لبو ں سے ہے۔ تبسم میں وہ حرکت کرتے ہیں ۔سرخ لبوں کے تبسم کی نقل و حرکت غنچۂ گل کوشرمندہ کیوں نہ کرے گی۔ غنچہ کھلتے وقت بڑا کیف آور منظر ہوتا ہے۔ سرخ لبوں کا تبسم ، غنچے سے گل بننے کے عمل سے مماثل ضرور ہے لیکن انسانی تبسم حسن میں اس سے بڑھ کرمعنویت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ منظر جہاںؔ داد کے ہاں کچھ یوں فوکس ہوا ہے۔
اپنے لعل لب کے دکھلا کر تبسم کی بہار
غنچۂ گل کے تیئں شرمندہ کرآتے ہو تم
جہاںؔ دار
میرؔ صاحب نے تبسم کے حوالہ سے ایک افسردہ مگر عالمگیر سچائی سے وابستہ منظر پیش کیا ہے۔ کلی کا اثبات ، تبسم سے کم مدت کا ہوتا ہے گویا وہ لمحہ بھر کی بہار کھلاتا ہے
کہامیں نے، کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
میرؔ
خواجہؔ درد ایک دوسر۱ہی منظر پیش کرتے ہیں۔ قبر پر کھڑاکوئی مسکراتا ہے تو نفسیاتی حوالہ سے بہت سے پہلو اِس تبسم سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ زندگی میں بڑا اتراتے تھے ، اب سناؤ، !!وہ اکڑوہ دبدبہ کیا ہوا؟
ہنستے ہیں کوئی کھبو دل مردگاں کا
گور کے لب پر تبسم کیاحساب
(دردؔ )
تکیہ بناہے تختۂ گل ہائے یاسمین بستر
ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
یاسیمن کا بستر ہو اورنسرین و نسترن کا تکیہ، اس پر استراحت کرنے والے کی نزاکت کا کیا عالم ہوگا۔ ایسے بستر کے لئے ایسا ہی نازک بدن اور نازک دماغ شخص ہو سکتا ہے۔ پھولوں میں پھول کی طرح رچ بس جاتا ہو۔ غالبؔ نے استراحت کرنے والے کا اس شعر میں کوئی حوالہ نہیں دیا لیکن بستر کا جو تصور پیش کیا ہے لامحالہ اس پر آرام کرنے والا بھی ویسا ہی رہا ہوگا۔ بستر کا جو منظر سامنے آتا ہے ذہن کے حساس تاروں پر انگلی جماتا ہے۔ ایک پرسکون ، پر خوشبو اور پھولوں کا بستر رومانی ماحول سا آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔
چراغ
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش
کہ مہر آسا چراغِ خان ۂدرویش ہوں، کاسہ گدائی کا
اِ س کی تشریح کرتے ہوئے غلام رسول مہر لکھتے ہیں:’’
اے محبوب! مجھے بھی اپنے عالم افروز حسن کی زکوٰۃ سے سرفراز کرتا کہ میرابھیک کا کاسہ میرے گھر کا چراغ بن کر
اسے اسی طرح روشن کردے جس طرح سوچ کی جلوہ ریزی سے کائنات روشن ہوجاتی ہے‘‘۔ ( ۶)
غالبؔ کے ہاں محض ایک خواہش ہے۔ اِس خواہش کے حوالہ سے ایک بڑا شاندار منظر ترکیب پارہاہے۔ محبوب کے حضور عاشق کاسۂ گدائی لئے زکوٰۃ حسن مانگ رہا ہے۔ زکوٰۃ شرعی کٹوتی سے اِس سے انحراف کفر کی صف میں کھڑا کردیتا ہے۔ زکوٰۃ حسن مل جانے کی صورت میں کاسے کا کیا مقام ہوگا اور اس گھر کا کیا عالم ہوگا۔ اِس منظر کا تعلق کاسہ گدائی سے ہے۔ اس میں زکوٰۃ حسن ڈال دی جاتی ہے تووہ سورج کی طرح روشن چراغ کا روپ اختیار کر سکتا ہے
سچائی تو یہ ہے کہ عشاق حقیقت میں کاسۂ گدائی تو نہیں لئے پھرتے۔ غالب ؔ نے چراغ سے مراد آنکھیں لی ہیں۔ آنکھ جلوے تشکیل دیتی ہے، آنکھ کا چراغ خاموش تھا اُدھر جب محبوب نمودار ہوا یہ چراغ روشن ہوگیا۔ یہ روشنی جسم کے انگ انگ میں مستی بھر دیتی ہے۔ محبوب کو دیکھنے کے بعد جو صورت پیدا ہوجاتی ہے دیکھنے سے علاقہ رکھتی ہے۔ یہ مزید کی ہوس پیدا کردیتی ہے۔ ہوس ‘زکوٰۃ کو بھی رواجانتی ہے۔
لفظ چراغ کے حوالہ سے جہاںؔ دار نے ایک بڑہ عمدہ منظر تخلیق کیا ہے۔ محبوب کا چہرہ آنکھوں میں روشنی بھر دیتا ہے اور روح کو ٹھنڈک فراہم کرتا ہے جبکہ دل کو آسودگی اور فرحت میّسر آتی ہے۔ سورج کی روشنی بلا شبہ اپنی حیثیت میں لاجواب سہی لیکن جب محبوب اپنے پورے جمال و کمال سے سامنے ہو تو کون کافر سورج کی طرف توجہ کرنے کا سزاوار ہوگا۔ انسانی حسن کے روبرو سورج کی چمک ماند پڑجاتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح چراغ سورج کے سامنے صفر ہوجاتا ہے
مہر اس رخ کے آگے افسردہ
جوں چراغِ مزار ہووے گا
جہاںؔ دار
راجہ جسونت سنگھ پروانہ ؔ کے ہاں لفظ چراغ کی مدد سے ایک منظر تشکیل پایا ہے
یوں آگ دی جگر کو میں اِس دل کے داغ سے
کرتے ہیں جوں چراغ کوروشن چراغ سے (پروانہؔ
یہ منظر تشبیہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک چراغ جل رہا ہے اس سے دوسرا چراغ جلایا جارہا ہے۔ چراغوں سے چراغ جلاکر ہی چراغاں کیا جاتا ہے۔ یہ روشنیاں خوبصورت مناظر پیش کرتی ہیں ۔
چہر ہ چہرہ انسان کی شناخت کا ذریعہ ہے۔ اس کی عمدہ بناوٹ بڑے دل گردے کے انسان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ لوگ اس پر مرمٹتے ہیں۔آفتابؔ نے بدراور چہرے کاتقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ بدر ہر اگلے روز کم ہوتا ہے جبکہ محبوب کا چہرہ اگلے دن بد رہی ہوتا ہے لہٰذا چہرے کو بدر کے مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
اس کو ہر شب سے ’زوال‘ اس کو نہیں سے کچھ نقص بدر کو چہرے سے اس کے متمثل نہ کرو ( آفتاب)
میرصاحبؔ نے اترتے چہرے کا منظر دکھایا ہے
پوچھ تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتررہا ہے کچھ آج اس جواں کا
(میرؔ
اُن کے دیکھے سے جوآجاتی ہے رونق منہ پر
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
(غالبؔ )
منہ کی رونق کا منظر دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ اِسی طرح چہرے کے اترنے سے جو منظر سامنے آتا ہے اس کی نزاکت کا دیکھ کر ہی احساس ہوسکتا ہے۔ یہ مصور پر انحصار کرتا ہے کہ وہ چہرے کو کس انداز سے پینٹ کرتا ہے۔ جیساکہ شاہ فضل علی فضلؔ کہتے ہیں
مصور گرتیری تصویرکو چاہے کہ اب کھینچے
لگادے ایک ساد اچاند چہرے کو بنانے کو( ۷) فضلؔ
فروغ مے سے چہرے پر جو حسن نمودار ہوتا ہے اس کی مصوری غالبؔ کے سوا کون کرسکتاہے
ایک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
چہرہ فروغِ مے سے گلستاں کیے ہوئے
خرام وہ بھاگ رہا ہے۔ وہ جارہا ہے۔ وہ چلاآرہا ہے۔ وغیرہ ایسے جملوں سے کوئی نہ کوئی منظر ضرور تخلیق ہوتا ہے لیکن اِن کی طرف خصوصی توجہ مبذول نہیں ہوتی لیکن جب یہ کہا جاتا ہے ۔حسینۂ عالم خراماں خراماں چلی جارہی ہے تو خصوصی توجہ بن جاتی ہے۔ اِسی طرح جب یہ کہا جائے ساقی نے بانٹ شروع کر دی ہے تو میخواروں کے چہرے دمک اٹھتے ہیں تا ہم تقسم کا یہ منظر بالکل عام سا ہے لیکن جب یہ کہاجائے ’’لطف خرام ساقی و ذوق صدائے چنگ‘‘دیکھنے سننے والا بے ساختہ بول اٹھے گا ’’یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے‘‘ساقی کی خوش خرامی اوپر سے چنگ کی سریلی آواز ، میخواروں پر بن پئے نشہ طاری ہوجائیگا۔ غلام رسول مہر نے اِ س منظر کو اِن الفاظ میں بیان کیاہے:
’’ ساقی کی خوشی خرامی ایسا پُر لطف نظارہ پیش کررہی تھی گویا نگاہ کے لئے جنت کا منظر پیداہوگیا تھا
اور سارنگی کی سریلی آوازمیں اتنی لذت تھی گویا کانوں کے لئے فرودس آراستہ ہوگیا تھا‘‘(۸)
’’خرام‘‘ کے حوالہ سے یہ منظر سامنے آتا ہے اوپر سے بیانِ غالب‘ سونے پر سہاگے والی بات ہے۔
خندہ بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق ،خلل ہے دماغ کا
خندہ‘ ہنسی اور شوخی کے لئے بولا جاتا ہے۔ کھلتے غنچے میں یہ دونوں عناصر پائے جاتے ہیں۔ کھلنے کا منظر غالبؔ نے ہنسی، شوخی اور مذاق سے مماثل قرار دیا ہے۔ پھولوں کی شوخی کا منظر خوبصورت ہوتا ہے اور حسِ جمالیات کو تسکین اور آسودگی فراہم کرتا ہے۔ جوانی شوخی ہوتی ہے۔ اس میں مستی ہوتی ہے۔ پھولوں کی اداؤں سے رغبت رکھنے والے اِسے محسوس کر سکتے ہیں۔ بلبل اداشناس ہوتا ہے۔ منظر یہ بنتا ہے کہ بلبل آہ و زاری کررہا ہے اس کی آہ وزاری کو دماغ کا خلل سمجھ کر ‘پھول اس کا مذاق اڑارہے ہیں ۔پھول جب اپنے جو بن پر ہوتے ہیں وہ کسی کی آہ وزاری سے مطلب نہیں رکھتے ۔ نفسیاتی نقطۂ نظر سے دیکھیں‘ اگر وہ بلبل کی آہ وزاری پر نظر رکھیں تو ان کی شوخی ،اداسی میں تبدیل ہوجائے گی۔ دیوانے اور مجنوں پر ہنسا جاتا ہے۔ اس کے جذبۂ شوق پر توجہ نہیں دی جاتی۔ توجہ نہ دینے کے باعث جوانی اور شوخی برقرار رہ سکتی ہے ؟ دوسرایہ نالے، آہ و زاری جوانی ہی کا نتیجہ ہیں ۔مرجھائے پثر مردہ چہروں کوکون پسند کرتا ہے۔ تیسرا نقطہ یہ کہ ماحول کی آسودگی ، خوشی کا سماں ‘سہانا سماں شوخی کی برقراری تک باقی رہتا ہے۔ چوتھی بات یہ کہ بلبل کے پاگل پن کے سبب خندہ ہائے گل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
روئے
آب سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا روئے آب پرکائی
سطحِ آب پر اگی ہوئی کائی کو اِس شعر میں توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ سطح آب کو چہرے کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ خوبصورت چہرہ توجہ کا مرکز بنتاہے ۔ پانی کی سطح پراُگی ہریالی پر حظ کے لیے کم ہی توجہ دی جاتی ہے تاہم پانی کی سطح پراگی ہوئی ہریالی اپنا حسن رکھتی ہے اور دیکھنے سے علاقہ رکھتی ہے۔ ہریالی کا یہ منظر پانی کی کارگراری کا پتہ دیتی ہے۔ اِس غزل کا دوسرا شعر منسلک کردیا جائے تو لطف میں اضافہ ہو جائے گا اور منظر کے دوسرے گوشے بھی سامنے آجائیں گے
سبزہ و گل کو دیکھنے کے لئے
چشمِ نرگس کو دی ہے بینائی
نرگس کا اپنا حسن محتا ج بیان نہیں ، اوپر سے ملاخطہ کرنے کا شوق اس کے ذوق جمال کو واضح کرتا ہے۔ پانی پر سبزہ اُگاہوا ہے جو آنکھوں کو تراوت بخش رہا ہے۔ نرگس ہریالی کے اِس دلفریب منظر کو نظر انداز کیونکر کر سکتی ہے۔ گویا جہاں سبزہ اپنا حسن رکھتا ہے وہا ں نرگس کے لئے بھی توجہ کا باعث ہے۔ نرگس کی آنکھوں میں اِس حوالہ سے قیامت اترأئی ہوگی۔
پانی کا یہ قیامت خیز چہرہ شخص کو کیونکر متاثر نہیں کرے گا۔ زیرِ آب کچھ تو ایسا ہے جو نکھر کر باہر آرہا ہے۔ سبزے نے پانی کے چہرے کو حسن عطا کیا ہے اور سبزے کو زندگی کی آنکھ متواتر تاکے چلی جا رہی ہے ۔ اصل میں متاثر کرنے کا سارا کریڈٹ چہرے (روئے آب) کو جاتا ہے۔
زلف زلف عشاق کے لئے ہمیشہ معتبر اور توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ہر کسی نے اِس میں ٹھکانہ بنانے کی سوچی ہے ۔ اُردوکے ہر شاعر نے زلف کو موضوعِ کلام بنایاہے۔ جہاں ؔ دار نے زلف کے ہر خم کو دام کا نام دیا ہے
اے جہاںؔ دار ہوں میں صیدِ اسیر ہر خم زلف دام ہے میرا
(جہاںؔ دار)
جہاںؔ دار کے والد‘ بیٹے سے دو قدم آگے نظرآتے ہیں۔ ان کے ہاں’’زلف سیہ کا لٹکا‘‘ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے
افسوں نہو موثرکوئی آفتابؔ اس کو
دیکھا ہے جس نے اس زلف سیہ کا لٹکا
(آفتاب)
خواجہ دردؔ کا دل بھی زلف سے بچ کر نہیں نکل سکا
زلف میں دل کو تو الجھاتے ہو
پھر اسے آپ ہی سلجھاتے ہو
(دردؔ )
قائم ؔ چاندپوری زلف کی صیدافگنی سے گھبرائے ہیں
گوشو مئی طالع سے فلک ، قید ہو
پر زلف کی پیچش تو نہ ہو دام کسی کا
(قائمؔ
غالبؔ پیچھے رہنے والے کہاں ۔ کمال کا ذوق پایا ہے، فرماتے ہیں
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پر پریشاں کئے ہوئے
اب اِس منظر کا تصور کریں جذبات میں آگ لگ جائے گی۔ کوئی حسینہ جب باپر‘ رخ پر زلف سیاہ پریشاں کئے موجود ہو ۔کون کافر اِس نظار ے کی تاب لاسکے گا۔ غالبؔ نے زلف(سیاہ) کے حوالہ سے بڑا لطیف ‘رومان پر ور اور جذبات میں آگ بھر دینے والا منظر تخلیق کیا ہے۔ غالبؔ نے زلف کے حوالہ سے اور بھی تصویریں بنائی ہیں لیکن اِس تصویر کا جواب (شاہد) ان کے اپنے دیوان میں بھی موجود نہیں۔
سایہ گرمیوں میں سائے کی اپنی ہی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ سکون فراہم کرتاہے۔ اس لفظ کا اردو شاعری میں مختلف حوالوں سے استعمال ملتا ہے۔ آفتابؔ نے سائے کو مہربانی اور عنایت کے معنوں میں استعمال کیا ہے
سایہ خدا کا سر پے ترے، آفتابؔ
سارے جہاں میں کوئی عدواب رہا نہیں
(آفتابؔ )
خواجہ دردؔ نے سایہ کے حوالہ سے بڑا عمدہ منظر نظم کیا ہے
کھینچے ہے دور آپ کو میری فردتنی افتادہ ہوں پہ سایۂ قدِ کشیدہ ہوں (دردؔ )
قائم ؔ کے ہاں بھی بڑے کمال کا خیال قلم بندہوا ہے ؂
ہوتے ترے محال ہے ہم درمیاں نہ ہوں
جب تک وجود شخص ہے سایہ نہ جائے گا
(قائمؔ )
غالبؔ کا کہنا ہے ۔انگور کی بیل کے نیچے بیٹھے ہوں۔ ہوا کے چلنے سے‘ اُس کی ٹہنیاں حرکت میں ہوں۔ انگور سے شراب کشید ہوتی ہے‘ غالبؔ نے اسی مناسبت سے بیل سے نیچے کی ہوا میں نشہ کی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔
پوچھ مت وجۂِ سیہ مستیِ ارباب چمن
سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
سبزہ ہریالی بھلی لگنے والی چیز ہے۔ یہ آنکھوں کو ٹھنڈک اور تراوت بخشتی ہے۔ سبزہ اپنے حسن کے حوالہ سے بے حدمعصومیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس سے نمو کے اسرار کھلتے ہیں۔ اُردو شاعری میں لفظ سبزہ ہمیشہ با معنی رہا ہے اور اس کے حوالہ سے بہت سے مناظر ترکیب پائے ہیں۔ میرؔ نے سبزے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے
پائمال صدجفا ناحق نہ ہواے عندلیب
سبزۂ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا
(میرؔ )
خواجہ دردؔ کے ہاں سبزے کو ایک دوسرا حوالہ میسّر آیا ہے ؂
ہم گلشنِ دوراں میں اے خفتگ ئطالع سرسبز تو ہیں لیکن جوں سبزۂ خوابیدہ (دردؔ )
غالبؔ نے لفظ سبزہ کے حوالہ سے ایک جاندار منظر تخلیق کیاہے ؂
ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل
موجۂ سبزہ ئنوخیزسے تا موجِ شراب
’’سبزۂ نوخیز‘‘ پر غور کریں غالبؔ کا ذوق جمالیات کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ اس منظر کے حوالہ سے غلام رسول مہر فرماتے ہیں :
’’نئے اگے ہوئے سبزے کو موج سے شراب تک، ہر موج نے برسات کے موسم کی کیفیت کا ایسا طوفان بپاکردیا ہے
جو دینا کے ہر حصے پر چھایا ہوا نظر آیا ہے یعنی برسات ہو رہی ہے ہر طرف سبزہ لہریں لے رہا ہے‘‘(۹)
شرر شرر‘عام سالفظ ہے اور شعرا نے اس کا بکثرت استعمال کیا ہے مثلا خواجہ ؔ درد کے ہاں اس کا استعمال ملاحظہ ہو ؂
کرئے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کی
ہوئی آتش سے گل کے بیٹھتے رشکِ شرر شبنم
دردؔ
خواجہ صاحب ؒ کا یہ تشبیہی استعمال لطف دیتا ہے لیکن غالبؔ کے ہاں اِس کا استعمال کمال کی شان رکھتا ہے۔ شرر اپنی بسات میں تہی سہی لیکن جو اور جتنی بھی اِس کی حیثیت ہے اس کی پیشکش دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ چنگاری کا آگ کے شعلوں سے جدا ہونا اور پھر تھوڑی سی پرواز کے بعدبھسم ہوجانا معمولی منظر نہیں۔ یہ منظر لمحہ بھر کا سہی لیکن اپنے اندر معنویت کا سمندر رکھتا ہے۔ غالبؔ اِس پرواز کو ’’رقص‘‘کا نام دیتے ہیں۔ اگر چنگاریاں یکے بعد دیگرے اُڑتی رہیں‘ایک مسلسل منظر بن جائے گا۔ایک شرر کے اڑنے سے الگ سے معنویت کا حامل منظرسامنے آتا ہے۔ شرر آگ سے جدا ہوتا ہے۔مبداء سے الگ ہونے کی سزا موت سے کم نہیں۔ آگ سے جدا ہونے اور فنا تک کا سفر کرنے کا یہ منظر عالبؔ کے ہاں ملاحظہ ہو ؂
یک نظربیش نہیں فرصت ہستی غافل
گرمیِ بزم ہے اک رقصِ شررہونے تک
شمع لفظ ’’شمع‘‘ کا ا’ردو میں عام استعمال ہوا ہے۔ غالبؔ نے اِس لفظ کی مدد سے بڑا شاندار منظرتخلیق کیا ہے۔ شمع جب جلتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے۔ اس دھویں کو حوالہ بناتے ہوئے انسانی جذبے کی بڑی عمدگی سے ترجمانی کی گی ہے ؂
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
غلام رسول مہر نے اِس منظر کی یوں تشریح کی ہے:
’’ جب شمع بجھتی ہے تو اس کے رشتے سے دھویں کی لہراٹھتی ہے ۔ اس سے شاعر نے نیتجہ نکالا کہ شمع کے
بجھنے پر اس کے شعلے نے سیاہ ماتمی لباس پہن لیاہے۔۔’’(۱۰)
آفتاؔ ب نے شمع کو بطور دلیل فنا استعمال کیا ہے ؂
جوں صبحگاہی ، کوئی دم کو مہمان ہے
پیار سے شتابی خبر لے اپنے نیم جان کی
(آفتابؔ
دردؔ نے شمع کے حوالہ سے محبت کے نورانی چہرے کو نمایا ں کیا ہے ؂
رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پر جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
(دردؔ )
قائمؔ نے شمع کو مردانگی کا پیمانہ اور علامت کے طور پر استعمال کیا ہے ؂
مثلِ پروانہ نثار اس کے قدم پر ہو جے
طرح سے شمع کی مردانہ جوسر سے گزرا
(قائمؔ )
شبنم شبنم ٹھنڈک کا وسیلہ ہے۔ پھول کے بدن پر اس کا پڑاؤ قیامت خیز ہوتا ہے۔ ولی اللہ محبؔ نے شبنم کو بطور مشبہ بہ برتا ہے۔ انھوں نے بڑا عمدہ منظر تخلیق کیا ہے ؂
عارض اُس کے اِس طرح ہیں عرق سے بھیگے ہوئے جس طرح شبنم سے ہوں گلبر گ تر بھیگے ہوئے(محبؔ )
عارض اور گلبرگ کی تری یقیناًمشاہدے کی چیز ہے ۔غالبؔ نے شبنم کا تشبیہی استعمال کیا ہے۔ شبنم کے حوالہ سے انھوں نے بڑا عمدہ منظر پینٹ کیا ہے
کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ ترے جلوے نے
کرے جوپر توِ خورشیدِ عالم شبمنستان کا
طوفان لفط طوفان ‘ہلا دینے والا لفظ ہے ۔غالبؔ نے اِسے کثیر معنوں میں استعمال کیا ہے۔ تا ہم اِس لفظ کے تو سط سے بڑے کمال کا منظر پیش کرتے ہیں ؂
فرش سے تاعرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
یاں زمیں میں سے آسماںِ تک سوختن کا باب تھا
عیش و نشاط کے ہنگامہ کو اِس سے بہتر طور پر شاید ہی پیش کیا جاسکتا ہو۔ جام گردش میں ہیں۔ سازکی دھنیں شراب کے نشہ کو دوبالا کررہی ہیں۔ بدن تھرک رہے ہیں‘ سرگوشیاں ہیں ‘عنایت کے درواہیں اورہر کوئی فیض یاب ہورہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس منظر کو ذہن میں لائیں مستی سی محسوس ہوگی۔ غالبؔ نے اِ س منظر کے ساتھ ایک افسردگی کا منظر بھی نتھی کر دیا ہے۔ عاشقِ حقیقی اِس عیش سے محروم ہے اس کے ہاں ماتمی کیفیت طاری ہے۔ محرومی پر جو حالت ہوتی ہے‘ اس کا تصور بھی کلیجہ کاٹ دیتا ہے۔
عرق یہ لفظ اردو غزل میں مختلف حوالوں اور مفاہیم میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ آفتابؔ نے اسے پسینے کے معنوں میں استعمال کیا ہے ؂
وہ گلبدن جبیں سے جہاں ہو عرق فشاں
اسی جامیں گل شگفتہ لالہ ہزارہ ہو
(آفتابؔ )
فضلیؔ نے تشبیی استعمال کیاہے
عرق منہ پہ جیوں آر سی میں حباب
تبسم لباں پر جوں موجِ
شراب(۱۱)
(فضلیؔ )
غالبؔ نے اِس لفظ کے توسط سے بڑا جاندار منظر پیش کیاہے ؂
بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
رخ یہ قطرۂ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
غنچہ لفظ غنچہ معصومیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس لفظ کے حوالہ سے اردو غزل میں بڑے ہی عمدہ مناظر تخلیق پائے ہیں۔ آفتابؔ نے نازنین کے منہ سے نکلے کو ‘غنچے کے مماثل قرار دیا ہے۔ اس حوالہ سے نازنین کے ہونٹوں کی حرکت پر نظر جاتی ہے تو دوسری طرف غنچے کے چٹخنے کا منظر آنکھوں کے
سامنے گھوم جاتا ہے ؂
اس ناز نیں دہن سے حرف اس ادا سے نکلا
گویا کہ غنچہ گل صحن چمن میں چٹکا
آفتابؔ
غنچے جب چٹکنے لگتے ہیں تو اُن کے وجودکی نمی باہر آجاتی ہے جہاںؔ دار کچھ اسی قسم کی بات کہہ رہا ہے۔
جب وہ رشکِ ماہ چمن میں جا کرمسکرا یا
تو غنچوں کے منہ میں پانی حسرت سیتی بھرآیا
(جہاںؔ دار)
خواجہ دردؔ نے معاملے کو ایک دوسراہی رنگ دیا ہے ؂
دل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیں
کہیں غنچہ کوئی کھلا ہوگا
(دردؔ )
غالبؔ نے تشبیی انداز میں غنچہ کے حوالہ سے زندگی سے میل کھا تا بڑا عمدہ منظر تشکیل دیا ہے ؂
غنچۂ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کر یوں
بو سے کو پوچھتا ہوں میں‘منہ سے مجھے بتا کہ یوں
کاغذ خواجہ دردنے ؔ لفظ کاغذ کے حوالہ سے نہ صرف بڑا عمدہ مضمون نکالا ہے بلکہ ایک خوبصورت منظر بھی تخلیق کیا ہے
بسانِ کا غذِ آتش زدہ مرے گلرو
ترے جلے بُھنے اور ہی بہار رکھتے ہیں
(دردؔ )
غالبؔ نے بھی کا غذِ آتش زدہ سے بڑا عمدہ منظر تشکیل دیا ہے ؂
یک قلم کاغذِ آتش زدہ سے صفحۂ دشت
نقش پامیں تپ گرمیِ رفتار ہنوز
لالہ و گل لالہ و گل کے حوالہ سے اردو غزل میں بڑے شاندار مناظر ترکیب پائے ہیں۔بطور نمونہ چند مناظر ملا حظہ ہوں
دامنِ دشت سے پر لالہ و گل سے یارب
خوف عاشق بھی کہیں ہو وے بہار دامن
(دردؔ )
لالہ و گل کی نمو میں عاشق کے لہو کی تو قع یقیناًخوبصورت خیال ہے۔ لالہ و گل کی نموعاشق کے لہو کا نتیجہ ہے یا عاشق کا لہو لالہ وگل کی شکل اختیار کر گیا۔ دونوں طرح سے یہ استعمال اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ جہاں ؔ دار کا کہنا ہے کہ باغ میں سے کوئی مے کش ہر شاخِ گل کے ہاتھ میں مل کا پیالہ دے گیا ہے ۔بڑا لاجواب خیال ہے ؂
کون مے کش اے جہاںؔ دار گزرا باغ میں ہاتھ میں ہر شاخِ گل کے مُل کا پیالہ دے گیا (جہاںؔ دار)
مے کش ، باغ ، شاِخ گل اور مل کا پیالہ ایسے الفاظ ہیں جو کیف مستی سمٹے ہوئے ہیں۔ میر ؔ صاحب کا ایک شعر ہے ؂
نہ ہوکیوں غیرتِ گلزار وہ کوچہ ‘
خدا جانے لہواِس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہو گا
(میرؔ )
غالبؔ نے بھی یہی منظر تخلیق کیا ہے لیکن بات کا ڈھنگ اور ہے ؂
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
شعر کی بسات لالہ و گل پر استوار ہے۔ باغ کے پھول اچھے لگتے ہیں لیکن شعر کی قرأت کے بعد اُن سے محبت و انس کا تعلق سا پیدا ہوجاتا ہے۔ غلام رسو ل مہر نے حق شرح ادا کردیا ہے:
’’خداجانے زمین میں کیسی کیسی صورتیں جا چکی ہیں جھنوں نے ظہور تازہ کے لئے لالہ و گل کی شکل اختیار کی‘‘۔(۱۲)
غالبؔ نے گورستان کوگلستان میں تبدیل کر دیا ہے غالب ؔ نے رعنائی کو واضح کیا ہے جبکہ میرؔ نے رعنائی کے حوالہ سے ’’کن کن عزیزوں ‘‘ کو عیاں کیا ہے۔ میرؔ صاحب نے مخصوص کوچے سے خیال کو وابستہ کیا ہے۔
موج اِس لفظ کی مدد سے غالبؔ نے کئی منظر تخلیق کئے ہیں۔پہلے شعر ملاخط کریں پھر مناظر سے حظ لیں ؂
چاروں
موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہرسو
موجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب
طرب کا تصور کریں، چاروں موجیں اس سے وابستہ نظر آئیں گی۔ اس غزل کا مقطع دیکھیں ؂
ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسد
پھر ہوا وقت کہ ہوا کشا موج شراب
یعنی ’’پھولوں کے عام جلوے نے یاد دلادیا کہ شراب کا دور چلنا چاہیے ‘‘(۱۳) پھولوں سے حظ لینے والے یا پھولوں سے رغبت رکھنے والے ہی پھلوں کے جلوے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔پھولوں کی رعنائی و دلربائی انسانی نفسیات پر اثر انداز ہو کر اسے لطیف و نفیس اور پریکٹیکل بنا دیتی ہے۔ بہر طور حسن، انسان کی حس جمالیات کو تسکین فراہم کرتاہے ۔
قائمؔ چاندپوری نے لفظ موج بطورمشبہ بہ استعمال کر کے موت و حیات کے فلسفے کو اجاگر کیا ہے ؂
موج دریا سے مماثل ہے جہاں کا احوال
پھر نہ دیکھا میں اسے یاں جو نظر سے گزرا
خواجہ دردؔ کا کہنا ہے موجِ نسیم، زنجیر بوئے گل کے مترادف ہے ؂
موجِ نسیم گو ہے زنجیرِ بوئے گل کی
دامن نہ چھوڑ سکے پر از رمید گاں کا
مہر مہر اپنی ذات میں ہر حوالہ سے واضح ہوتا ہے۔ کوئی بھی واضح شے کے لئے پردہ داری کی حاجت نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے پردوں میں رکھنا ہوتاہے۔غالبؔ نے مہرنیم روز کا بطور شبہ بہ استعمال کیاہے اور اس کے توسط سے محبوب کے حسن اور چہرے کے جلال کی مصوری کی ہے ۔
جب وہ جمال دلفروز صورتِ مہر نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
خواجہ حالیؔ کے نزدیک یہ شعر:
’’حقیقت و مجاز دونوں پر محمول ہوسکتا ہے‘‘ (۱۴)
غلام رسول مہر کاکہنا ہے:
’’حقیقت پر بدر جہاں زیادہ ‘ کیونکہ وجود حقیقی کائنات میں نمایاں اور آشکار بھی ہے۔ پنہاں و مستور بھی ۔
بہ ایں ہمہ کوئی اِس کے جمال سے براہِ راست بہرہ اندوز نہیں ہوسکتا ‘‘(۱۵)
مہرنیم روز کے توسط سے تین مناظر سامنے آتے ہیں:
۱۔ محبوب کے چہرے پر اتنا جلال ہے کہ اس کی طرف نظر پھر کر دیکھا نہیں جاسکتا جبکہ دیکھینے کی ہوس کبھی اور کسی حالت میں دم نہیں توڑتی ۔ نظارہ تو موجود ہے ‘ دعوتِ عام بھی ہے دیکھو‘ اگر دیکھ سکتے ہو۔
۲۔ مہر نیم اپنے جلووں کے ساتھ موجود ہے۔ آدمی دیکھنے کی خواہش کے باوجود نہیں دیکھ سکتا۔
۳۔ اللہ کی قدرتیں چارو سو موجود ہیں ۔سامنے موجود چیزوں کے گن، کمال اور جوہر سے آدمی آگاہ نہیں ہوتا۔ یہ قصورچیزوں کا نہیں‘ آدمی کی فطرت شناسی کا ہے۔
غالبؔ کے پیش کئے گئے یہ مناظر‘ اپنا جواب نہیں رکھتے۔ یہ ایسے مناظر ہیں جو پوری آب و تاب سے موجودہیں لیکن آنکھ ان کا ملاحظہ کرنے سے قاصر و عاجز ہے ۔ پنہاں و مستور کچھ نہیں ۔سب نمایاں اور واضح ہے۔ بصارت کی کجی نظار ے سے محروم رکھتی ہے۔اس میں نظارے کاقصور نہیں بلکہ
الزام بصارت پر آتا ہے۔
نظارہ عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
محبوب کا محبت سے دیکھنا ، غصے سے دیکھنا، مست نظروں سے دیکھنا۔ صرف دیکھنا عاشق کے لئے عید ہوتی ہے۔ وہ جس انداز سے بھی دیکھے‘ دیکھے تو سہی ، عاشق حظ اٹھائے گا۔ مزید فریفتہ ہوگا ۔اصل معاملہ محبوب کے دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ’’عریاں شمشیر ‘‘سے مراد بے نقاب آنکھیں لے لیں‘ معاملہ صاف ہو جائے گا۔ نقاب سے باہر آنکھوں کا نظارہ غور کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔
لفظ نظارہ اُردو غزل کے لئے ایسا نیا نہیں اسے مختلف مناظر کی تشکیل کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ خواجہ حسن کے مطابق دیکھتے وقت آنکھوں میں آنسوہوں تو آنکھوں میں دھندلا ہٹ آ جاتی ہے جس کے سبب ٹھیک سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ شعر دیکھئے ؂
وقتِ نظارہ نہ رو‘ کہتے تھے اے چشم تجھے
شدتِ گریہ سے ‘ لے خاک نہ سوجھا‘ دیکھا (۱۶
خواجہ حسنؔ
نگاہ یہ لفظ دیکھنے اور توجہ کے معنوں میں مستعمل ہے۔ محبوب کی تو جہ پر دیگر معاملات لایعنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اِسی بنیاد پر جہاںؔ دار کہتا ہے کہ ایک نگاہ پر ہزار طرح کی جنس گراں نثار کرنے کو تیار ہوں ۔ یہ بات کہنے سے تعلق نہیں رکھتی ۔تو جہ ہو ئے پر ازخود ‘غیر شعوری طور پر سب کچھ نظر انداز ہوجاتاہے ۔یہاں تک کہ دیکھنے والے کی اپنی شناخت بھی گم ہو جاتی ہے ؂
نثار ایک نگاہ کر چشمہ کے اس کی ہزار طرح کی جنسِ بہاگراں کرتا (جہاںؔ درد)
اِ س حوالہ سے نگاہ کی قدرو قیمت تعین ہوگئی۔ خواجہ ؔ درد کا فرمانا ہے ؂
نگاہِ مست ان آنکھوں کی ٹک ایدھر بھی ہو
ساقی کہ ہم کم حوصلہ کے حق میں اک جام ہے شیشا
دردؔ
گویا نگاہِ مست ‘جام کا درجہ رکھتی ہے۔ میرؔ نگاہِ خشم کو زہر کا نام دے رہے ہیں ؂
مت کر نگاہِ خشم‘ یہی موت ہے مری
ساقی نہ زہر دے تو مجھے تُو شراب میں
میرؔ
عاشق کے بعد محبوب کی کیا حالت ہوتی ہے‘ نگہ کے توسط سے‘ اِ س منظرکانظارہ فرما لیں ۔
درخور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
نگہِ ناز ہے سرمے سے خفامیرے بعد
غالبؔ

حواشی

۱- نوائے سروش، غلا م رسول مہر ،ص۱۷۴ ۲۔ نوائے سروش ، ص۵۸۔۵۷
۳۔ نوائے سروش، ص۱۲۷ ۴۔ مغرب کے تنقیدی اصول ، ڈاکٹر سجاد باقر رضوی ،ص۳۰۳
۵۔ نوائے سروش، ص۱۸۵ ۶۔ نوائے سروش، ص۱۰۱
۷۔ تذکرۂ حیدری، سیدحیدر بخش حیدری،ص۹۹ ۸۔ نوائے سروش، ص۵۷۱
۹۔ نوائے سروش، ص۱۸۵ ۱۰۔ نوائے سروش، ص۱۹۹
۱۱۔ تذکر ۂحیدری، ص۱۰۰ ۱۲۔ نوائے سروش، ص۳۶۹
۱۳۔ نوائے سروش، ص۱۸۵ ۱۴۔ یادگارِ غالب ، الطاف حسین حالیؔ ،ص۱۵۴
۱۵۔ نوائے سروش، ص۳۹۵ ۱۶۔ تذکرۂ حیدری، ص۱۰۰
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 113594 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2017 Views: 1094

Comments

آپ کی رائے