غالبؔ ایک عظیم محاکا تکر

(مقصود حسنی, قصور)
شاعر اپنے تجربات اور احساسات کو قابل توجہ ، جاندار اور موثر بنانے کے لئے کئی ایک طریقے اختیار کرتا ہے۔ اِن میں سے ایک لفظی تصویر یں تخلیق کرنا ہے۔وہ اپنے تجربے اور احساس کو ایسا وجودعطاکرتا ہے جو پڑھنے والے کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ شاعر کے یہ لفظی پیکر محض محاکاتی کیفیت پیش نہیں کرتے بلکہ اُس کے اُن تجربات اور احساسات کے قائم مقام ہوتے ہیں جن کے نتیجے کے طور پران کا وجود استوار ہوتا ہے۔ تشبیہ کا تعلق بھی مماثلثوں سے ہے لیکن امیج تشبیہ سے زیادہ استعارے کے دائرہ عمل میں آجاتی ہے تاہم ان مماثلثوں کو استعارے کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔ پھر بھی ان کے معنوی سلیقہ سے کندھاملا ہی لیتا ہے۔
غالبؔ نے اپنے تجربات مشاہدات اور احساسات کو موثر بنانے اور قاری کی پوری توجہ حاصل کرنے کے لئے بڑی شاندار تصویریں تخلیق کی ہیں۔ جس تجربے یا احساس کی تصویر بناتا ہے قاری کی روح میں اتر کر سوال بن جاتی ہے اور پھر قاری کے سوچ کے دروازے بند نہیں ہونے دیتی ۔غالبؔ کامیاب امیجز کے لئے لفظوں کی تلاش میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اگلے صفات میں غالبؔ کے چند ایمجز پیش کئے گئے ہیں جو غالب ؔ کے عظیم محاکا تکر ہونے کی واضح دلیل ہے :
* خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ مردہ ہوں میں بے زباں گور غربیاں کا
ایسی آرزوئیں جو تشنہ تکمیل ہیں، اظہار سے معذوررہی ہیں ، کیسی ہوں گی ؟ یا ان کے متعلق انسانی رویہ کیسا ہونا چاہئے، لا یعنی سوال نہیں ہیں۔ انسانی رویہ موجودکے متعلق اور مطابق سامنے آتا ہے ۔ جو چیز، معاملہ یا حادثہ بصارت کی گرفت سے باہر ہوا س سے متعلق محبت، نفرت، ہمدردی یا غصہ وغیرہ پیدا ہونا بے معنی سی بات ہے۔ اسی طرح اگر اظہار ہوجائے تو بھی ردّ عملی کیفیت سامنے نہیں آتی ۔حقیقی رویہ تب ہی ترکیب پاتا ہے جب کوئی چیز یا معاملہ مشاہدے میں آئے گا آدمی بڑے ملائم اور پر سوز انداز میں کہتا ہے کہ میرے دل میں فلاں فلاں آرزوئیں ہیں اور شدید ٹوٹ پھوٹ کاشکارہیں۔ یہ ملائم اور پُر سوز انداز صرف سننے تک محدود رہے گا یا زبانی کلامی ہمدردی کے رسمی سے بول میسّر آسکیں گے۔
غالبؔ نے اپنے اس شعر کے دوسرے مصرعے میں تشنہ تکمیل اور خاموشی آرزوؤں کو تمثیلی وجود دے دیا ہے۔اِس وجود کے حوالے سے ایک رویہ وجود میں آتا ہے۔ وہ قبرستان جہاں پر دیسی دفن ہیں ، ایسے قبرستان کے لئے کوئی خدمت گار مقرر نہیں ہوتا ۔ حفاظت نہ ہونے کے سبب خستہ حال ہوگا ۔ وہاں دعافاتحہ کے لئے بھلا کون آتا ہوگا۔ لہٰذا وہاں ویرانیوں کاہوناطے سی بات ہے۔ ویسے قبرستان ویرانی و خستہ حالی کی علامت ہے۔ ’’گورستانِ غریباں‘‘ میں چراغ جلانے کون آئے گا۔ وہاں تو چراغ تک موجود نہیں ہوتے لہٰذا روشنی ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ایسا شخص جس کے سینے میں بڑی خاموشی سے آرزوؤں کا خون ہو رہاہو۔ اس کی ذہنی کیفیت کیسی رہی ہوگی۔ غالبؔ ؔ نے اس شعر کے دوسرے مصرعے میں اسے بے زبان گورغریباں کے چراغِ مردہ سے مماثل قرار دیا ہے۔ ذہنی کیفیت کی اِس تجسیم سے ایک رویہ ضرور ترکیب پاتا ہے اور اِسی کے حوالے سے ہمدردی اور افسوس کے جذبات اجاگر ہوتے ہیں۔
* بقدرِ ظرف ہے ساقی خمارِ تشنہ کامی بھی جو تو دریائے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
ٍ بھوک پیاس ، شہوت، ہوس ، خمار وغیرہ کی پیمائش کے لئے کوئی پیمانہ آج تک وجود میں نہیں آ سکا۔ متعلقہ بھی اِس کی حسابی قدر سے آگاہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح احتیاج بیان میں آنہیں سکتی کہ کس قدر میسرّ آجانے کی صورت میں تسکین ہوسکے گی ۔ حقیقت تو یہ ہے جس قدر میسرّ آئے گا مزید کی ہوس بھی اسی تنا سب سے بڑھے گی۔عطاکر کواپنی عطا پر ناز ہوتا ہے لیکن بقول غالبؔ ؂
دونوں جہاں دے کے سمجھے وہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
بہر طور جب تک کوئی مادی پیمانہ موجود ہوگا حاجت کے حدوداربعے کا اندازہ نہ ہوسکے گا۔ کوئی کیا جانے کہ زید کو کتنی بھوک لگی ہے۔ سمجھنے والا اندازہ لگائے گا کہ وو چپاتیوں سے کام چل جائے گا۔ ہوسکتا ہے اندازہ، شدیدکا سابقہ ہی نہ ہٹا پائے۔
کہا جارہا ہے نشہ ٹوٹ رہا ہے۔ کتنی میسّر آپانے پر نشہ کی حالت برقرار ہو پائے گی۔ اس کا اندازہ ساقی کو نہیں ہو پائے گا۔غالبؔ نے موجود خمار کی ضرورت کے پیمانے کا نام’’ خمیازہ‘‘ تجویز کیا ہے۔ دریا کا جتنا حدود اربعہ ہوگااس کے ساحل کا خمیازہ بھی اتنا بڑا ہوگا۔ دریا خمیازے کی گرفت میں رہتا ہے جبکہ خمیازہ دریا کی باہوں میں نہیں ہوتا۔ گویا عطا کرکی عطا خمار کی لیپٹ میں ہے ۔غالب نے خمار کو دریاکے ساحل کے خمیازہ سے مما ثل قرار دے کر نہ صرف خمارکا پیمانہ مہیا کیا ہے بلکہ خمار کو تصویری روپ دے دیا ہے۔ یہ تصویر اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ ضرورت میسئر کے دائرہ میں قید نہیں ہوتی بلکہ میسر ضرورت کی قید ی ہے ۔ میسر کی حدود جتنی وسیع ہوں گی حاجت ان حدود کو گھیرے رکھے گی۔
* موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہرذرہ مثلِ جوہر تبغ آبدار تھا
دشتِ وفا کے سراب کی موج کیسی ہوتی ہے بھلا کون بتلا سکتا ہے ؟ یہ کوئی مادی شے نہیں اِس لئے اِس کی ہیت سے متعلق کلام ممکن نہیں ۔ یہ محض احمقانہ سی بات لگتی ہے ۔ وفاکوئی دشت نہیں لیکن جو اِس وادی میں قدم رکھتا ہے ، اسے غالبؔ کا کہا غلط نہیں لگتا۔ غالبؔ نے وفا کو دشت کا تمثیلی روپ عطا کیا ہے ۔ جب یہ کھلتا ہے، وفاتو محض ایک دشت ہے۔ دشت سے سراب کی وابستگی لایعنی بات نہیں ۔ غالبؔ کا موقف ہے وفا ایسا دشت ہے جس کے ہر ذرے پر جو ہرتبغ آبدار کا گمان گزرتا ہے۔ عاشق معشوق کے ہاتھوں گھائل یا قتل ہونے کا متمنی رہتا ہے بلکہ اپنے لئے اسے اعزاز خیال کرتا ہے ۔ اسے دشتِ وفا کا ہر ذرہ تیغ آبدار لگتا ہے لیکن قریب جانے پر معلوم پڑتا ہے کہ یہ تو دشتِ وفا کامحض ایک ذرہ تھا ۔ حیرانی اور پشمانی کی کیفیت طاری ہونے سے پہلے ، پہلے سے بڑھ کر تیغِ آبدار نظر آجاتی ہے۔ وہ اس طرف بھاگتا ہے ۔ اس کا یہ بھاگنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وفا اور وفا سے وابستگی کے جواز کو تصویری شکل میں پیش کر کے غالبؔ نے اس کی اہمیت اجاگر کر دی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ’’وفا‘‘کا حاصل صفر ہے تو اس سے چمٹے رہنے کا کیا جواز ہے ۔غالبؔ نے اِس سوچ کو بڑی خوبصورتی سے ردّکر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دشتِ وفا کے سراب سے وابستگی انسان کی نفسیاتی ضروت ہے۔ شایدکاگمان ،انسان کو کمٹ منٹ(وفا) سے نتھی رکھتا ہے۔ یہ دوا یاکوئی اور اس سے بہتر دوا، صحت سے ہمکنار کر دے گی یا فلاں ہسپتال میں مریض کو لے جانے سے صحت حاصل ہو سکے گی، ہی مریض اور اس کے لواحقین کو کوشش پر آمادہ رکھتے ہیں۔ ایسی ہی صورت دشتِ وفا اور اِس دشت کے سراب کی موج کی ہے۔ غالبؔ نے اِس تجسیم کو انسان کی نفسیاتی ضرورت کو واضح کرنے کے لئے تخلیق کیاہے۔
* گلہ ہے شوق کو دل میں تنگی جا کا
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
کسی جذبے کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے ہاں اگر یہ کہاجائے کہ شوق (جذبہ) دل کی وسعتوں میں نہیں سماپاتا تو کون یقیناًکرے گا۔ کہا جاتا ہے دل کی وسعتیں اور گہرائیاں سمندر سے بڑھ کر ہیں ۔غالبؔ نے گہرکو شوق کا بہروپ قرار دیا ہے۔ یہ تصویراپنے حسن اور توانائی کے حوالہ سے بڑی جاندار اور توجہ حاصل کرنے والی ہے۔ شوق بلا شبہ کمال کی شے ہے اور اس کا اضطراب حدودسے باہرہے اور اپنے حسن
میں کمال رکھتا ہے ۔ جبکہ اپنے باطن میں دریا کا اضطراب سمیٹے ہوئے ہے۔ دریا کے اضطراب کا تصور بھی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ دریا کی ایک ادنی لہر بستیاں برباد کردیتی ہے ۔ گہرتوان گنت بے لگام لہروں کا مزا چکھ چکا ہوتا ہے۔ اِس شعر کے حوالہ سے غالبؔ نے نہ صرف’’ شوق‘‘کاحدوداربعہ متعین کر دیا ہے بلکہ ا س کی کیفیت کو بھی واضح کر دیا ہے۔ شوق ، جنون کا دوسرا نام ہے جنون کو پاگل پن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن غالبؔ کا کہنا ہے کہ یہ تو گہرہے گہراضطراب سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ بالکل اِسی طرح شوق کامنہ زور ہونا کوئی نفسیاتی عارضہ نہیں بلکہ اس کی عین فطرت ہے اور فطرت کو غلط نہیں کہا جا سکتا ۔ کان سنتے ہیں ،آنکھیں دیکھتی ہیں۔سننا کان کی جبکہ دیکھنا آنکھ کی فطرت ہے۔ طغیا نی دریا کی فطرت ہے۔ منہ زور ہونا شوق کی فطرت ہے۔ لہٰذا اِس میں کون سی غلط اور عجیب بات ہے۔
* فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد
اسدؔ جفا میں اس کی ہے انداز کا رفرماکا
جفاایک رویہ ہے اور یہ دکھ افسوس اور غصے کو جنم دیتا ہے۔ اس رویے کی شکل و صورت کیسی رہی ہوگی۔اس کا حجم کتنا ہوگا۔ رنگ و روپ کیسا ہوگا۔ کوئی بتا سکتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں۔ غالبؔ ؔ نے جفا کو فلک سے نسبت دے کر اسے تصویری روپ دے دیا ہے۔ فلک اپنی وسعتوں میں آنکھ کے لئے لامحدود ہے۔ فلک کی طرح ،جفا کی وسعتیں عنا صر اربعہ کے لئے ناقابل شمار ہیں۔ فلک پران گنت تارے اور ستارے ہیں جن کی گردش زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ علاوہ ازیں فلک کے جسم پر ہزاروں شیڈز ہیں جو رواں زندگی کی ندی میں کنکر اور پتھر پھینکتے رہتے ہیں۔ فلک وفادار نہیں۔ اس سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ غالبؔ نے جفا کے حوالے سے جو نفسیاتی اتار چڑھاؤنمودار ہوتے ہیں ان کو فلک سے مماثل قرار دے کر واضح کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔غالبؔ کی یہ تمثیل جفا کی
کارفرمائیوں کو اجاگر کرتی ہے ۔
* سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستاں سمجھا
راحت ایک ضرورت اور حاجت ہے۔ اِس ضرورت اور حاجت کی قوت کااندازہ اِس امر سے ہوتا ہے کہ ہرا گلا لمحہ راحت پر مجبور کرتا ہے۔ راحت کی شناخت اندھیرا ہے جبکہ سایہ کی پہچان بھی تاریکی ہے۔ دونوں میں کا من عنصر ’’تاریکی‘‘ ہے ۔ رات کو آرام کیاجاتا ہے۔ جب احتیاج جاری کام پر حاوی ہوجائے تو ہرچیز موجودہ طلب سے جڑ جاتی ہے۔ ایسے میں اپنے ہی سائے پر رات کا گمان گزرنا غیر حقیق بات نہیں۔ اس شعر کے حوالے سے غالبؔ نے انسان کی اس نفسیاتی حالت کو واضح کیا ہے جو حاجت اور احتیاج کے تحت غلط کو درست ماننے پر مجبور کر دیتی ہے وہاں پیمانہ ہی بدل جاتا ہے اور حقائق کی ایک دوسرے انداز سے شرح کی جاتی ہے ۔ غالبؔ نے اِس شعر میں ’’راحت‘‘ کی حاجت کو سائے سے منسلک کر کے بڑا عمدہ امیج تخلیق کیا ہے۔
* مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
کسی قدر یا رب ہلاکِ حسرت پابوس تھا
عاشق کی حسرتِ پابوسی کو غالب نے مشہد عاشق سے کوسوں دور تک اگی حنا کا تصویری روپ دیا ہے۔ اِس سے یہ واضح کیا ہے کہ دیکھنے میں حسرت حنا جیسی ہوتی ہے اور اس کا دائرہ مشہد عاشق پر اگی حنا کی طرح کوسوں تک پھیلا ہوتا ہے ۔ حنا کے باطن میں سرخی پوشیدہ ہوتی ہے جبکہ حسرت کے باطن میں بھی سرخی پنہاں ہوتی دہے حنا کو جو نہی نمی میسر آتی ہے سرخی ابھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ حسرت کا معاملہ اِس سے مختلف نہیں ۔ غالب ؔ نے اِس کے حوالہ سے حسر ت کو ایسا تصویری جسم دیا ہے جو اپنے باطن میں انسان کی ناکامیوں کا نفسیاتی ردّعمل چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔
* رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
ترے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
غالبؔ نے اِس شعر میں’’نالے‘‘ کو چہرے پر ظاہر ہونے والے غم سے مماثل قرار دیا ہے۔ نالے کی یہ تجسیم بلا شبہ بلا کی ہے۔ نفسیاتی حوالہ سے دو صورتیں ہوتی ہے:
اول کسی کی زبان پر تالا لگا دینے سے انشراع ممکن نہیں ہوتا۔ جس کے سبب اس شخصی کے اندر کینسر پھوڑا تخلیق پاجائے گا۔ زبان بندی کرنے والے کو جب معلوم ہوگا تو یقیناًاسے اِس امر کا دکھ ہوگا یہ دکھ اس کا چہرہ ہضم کرنے سے قاصر رہے گا۔ نتیجتاً تعلق کھل جائے گا بلکہ اِ س سے اس کی بدنامی ہو گی ،دشنام ٹھہرے گا اور ہمدردیاں بیمار کے حصہ میںآئیں گی ۔
دوم آہ وزاری سے من کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے اور تعلق بھی نہیں کھلتا۔ کھل جانے کی صورت میں ہمدردیاں آہ وزاری کرنے والے کے ساتھ نہ ہوں گی بلکہ رقابت اس کے لئے نفرت کے جذبات پیدا کر دے گی۔
اِس شعر میں یہ حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انشراع کا رکنانہایت خطرناک ہوتا ہے ۔آدمی من کی کہنے پر مجبور ہے چاہے وہ لیپٹ کر ہی کہے۔ گویا یہ اس کی فطری مجبوری ہے۔فطرت پر پہرے بیٹھا نا کسی بھی حوالے سے مناسب نہیں بصورت دیگر نقصان ہی ہوتا ہے۔ نالے کو غالبؔ کا دیا یہ لباد ہ اپنا جواب نہیں رکھنا۔
* ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سر دہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہوجاتا
دکھ اور کسی تکلیف پر آدمی گریہ زاری کرتا ہے ۔ شروع میں شدت ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ شدت میں کمی واقع ہو جاتی ہے حالانکہ دکھ، تکلیف یا صدمہ اپنی جگہ پر برقرار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں گریے میں بھی کمی نہیں آنی چاہیے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔گریہ کرتے کرتے ضعف آجاتا ہے اسی ضعف کے سبب گریہ پہلے کم پھر ختم ہو جاتاہے۔ اِس کیفیت کو غالب ؔ نے بھاپ سے مماثل قراردیا ہے۔ پانی شدت اورحدت کے باعث بھاپ بن کر اڑ جاتاہے۔ گر یہ کی شدت بھی پانی کے بھاپ بن جانے سے مماثل ہے۔ غالبؔ نے اس شعر میں اس امیجری کے حوالے سے انسان کی ایک نفسیاتی کیفیت کو واضح کیا ہے گویا دکھ کا اظہار ایک حد تک ممکن ہے۔ ایسی ہی صورت خوشی کی ہے ۔ خوشی بھی ایک حد تک منائی جاسکتی ہے۔
* ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
روتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا
غمِ فرقت میں رونے کو، تصویری شکل میں اجاگر کرنے کے لئے ابر بہاری کے برسنے کو بطور تمثیل لیا گیا ہے ۔ جب بہار کے بادل برستے ہیں تو منظر بڑا ہی خوبصورت اور سہانا ہوتا ہے۔جب بادل برس چکتے ہیں تو فوراً مطلع صاف ہوجاتا ہے۔ خلا کثافتوں سے پاک ہوجاتی ہے اوریوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان پر کبھی بادل تھے ہی نہیں۔ اسی مناسبت سے غالبؔ نے لفظ ’’فنا‘‘ کا استعمال کیا ہے ۔غمِ فرقت ’’بلا‘‘ کی شدت کاحامل ہوتا ہے۔ اِس شدت کے سبب آنسو بے محابا چلے آتے ہیں ۔غم فرقت کاعلاج صرف اور صرف وصال ہی ہو تا ہے۔ رونے سے من کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے لیکن اصل معاملہ(غم فرقت)اپنی جگہ پر رہتا ہے۔ رونے کو ابر بہاری کے برسنے سے جبکہ برس کر مطلع کا صاف ہوجانا کو فنا سے تجسیم کرنا بلا شبہ غالبؔ ایسے شاعر کا ہی خاصہ ہوسکتا ہے ۔ غالبؔ نے انسان کی ایک گمبھیر نفسیاتی سمسیا بڑے ہی احسن انداز میں بیان کر دی ہے۔
* تا کہ تجھ پر کھلے اعجازِ ہوائے صیقل دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہوجانا
ہوائے صیقل کااعجاز، بظاہر اپنی کوئی صورت نہیں رکھتا ۔غالبؔ نے اِس کے اظہار کے لئے ثمثیلی اسلوبِ تکلم اختیار کیا ہے۔ ہوائے صیقل کو برسات میں آئینے کے سبز ہوجانے سے نسبت دی ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح برسات میں آئینہ سبز ی مائل (رنگ) ہوجاتا ہے۔ ہوائے صیقل اِس سے مماثلت رکھتی ہے۔ نفسیاتی طور پر انسان کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ اس کے دل کو جلامیسرّ آئے یعنی ہر دل سر مشق بننے کے لئے مضطرب ہے ۔
* خا نہ ویراں سازیِ حیرت تماشا کیجئے
صورتِ نقش قدم ہوں رفتہ رفتار دوست
حیر ت کے لئے نقشِ قدم کی تمثیل بڑی خوبصورت ہے۔ حیرت ، حرکت سے تہی ہوتی ہے۔ اسی طرح نقشِ قدم بھی ساکت و جامد شے
ہے ۔ حرکت زندگی کی دلیل ہے جبکہ باقی نہ رہنا زندگی سے کٹ جانا ہے ۔ حیرت میں مخصوص حوالوں کے ساتھ سوچ تک جامد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گردو پیش سے بے خبری انہیں ریورس کے عمل میں داخل کر دیتی ہے ۔حیرت میں بقول غلام رسول مہر: سوجھ بوجھ نہیں رہتی (۲)تو یہ حیرت گھر کی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس شعر کے ساتھ دو نفسیاتی حوالے منسلک ہیں :اول ۔حیرت ٹھراؤ کا مترادف ہے۔ دوم ۔ٹھہراؤ بربادی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
* شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلہ ء عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
عاشق کی موت کے بعد عشق کی کیاحالت ہوتی ہے، اِسے شاید لفظوں میں بیان کرنا بھی امکان میں نہیں اس کی مصوری تو بڑی دور کی بات ہے۔ اس کا تعلق داخل سے ہے اور خارج سے بھی ۔ غالبؔ نے گو دوسرے مصر عے میں معاملے کو ذات تک محدود رکھا ہے۔ اگر اِ س معاملے کو مجموعی بھی لیا جائے تو اس سے بہتر مصوری نہ ہو سکے گی۔ شمع سے اٹھتے دھوئیں کو روح کی پرواز سے مماثل سمجھ لیں۔ دھواں نظر آرہا ہوتا ہے ۔ گویا اٹھتی ہوئی روح کو جسم کی صورت مل گئی ہے جبکہ شمع کے چاروں اُوراندھیر چھا جاتا ہے۔ عشق کے باقی نہ رہنے کی اندھیرے کی یہ تمثیل ماتمی کیفیت کو واضح کر تی ہے۔ اندھیرا خوف سے عبادت ہے ۔ اندھیرے سے ظلم نتھی ہے۔ اندھیرا وحشت کی علامت ہے ۔گویا عشق کے نہ ہونے کی وجہ سے خوف ،ظلم اور وحشت کا دور دورہ ہوتا ہے۔ عشق روشنی یعنی گہرے تعلق اور قائم بالذات کمٹ منٹ کا نام ہے اوریہ گہما گہمی کا سبب ہیں۔ تعلق کے باقی نہ رہنے کے سبب کاٹ کھانے کو آنے والی خاموشی جنم لیتی ہے۔ خاموشی طوفان کی دلیل ہے۔ عشق کے ساتھ رونقیں وابستہ ہیں ۔یہ لطیف روشنیوں کا بہروپ ہے ۔یہ اوروں کا بھلاچاہتا ہے۔ ایسے ہی اور امور شمع کے ساتھ منسلک ہیں۔ شمع کے بجھنے سے ، اندھیرا خوف اور وحشت تعلق کرتے ہیں۔ شمع کے بجھنے سے نکلنے والا دھوں روح کے پرواز کرنے سے مماثل ہے جبکہ اندھیرا موت کے بعد کے منظرکا عکاس ہے۔ عاشق کے بعد عشق کی حالت کا اِس تمثیل سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
* آئے ہے بے کسی عشق پہ رونا
غالبؔ کس گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد
بے کسی عشق پر رونے کی فوٹو گرافی کے لئے سیلاب بلا کی ترکیب بڑی ہی عمدہ ہے۔ اگرچہ یہ ردّ عمل بھی ہے۔ بے بسی اور بے کسی کے پاس مسلسل اور متواتر روتے رہنے کے سوا کچھ باقی نہیں ہوتا ۔چونکہ بے کس عملی اعتبار سے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا ۔ بے کسی مایوسی کے مترادف ہے یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بے کسی کا دباؤ رونے پر مجبور کر دیتا ہے اور یہ کوئی اختیاری فعل نہیں ۔ اِس سچویشن کی ’’سیلاب بلا‘‘ سے بہتر تجسیم محال ہے۔ زیرِ حوالہ شعر میں معاملہ ذات تک محدود رکھا گیا ہے کہ میرے سوا کوئی سچا اور حقیقی عاشق نہیں ۔ یہ دعویٰ ہر عاشق کا ہوتا ہے کہ میرے بعد سلسلۂ عشق کون جاری رکھے گا۔ گویا میرے بعد عشق بے کس ہو جائے گا۔
آدمی آتے کل سے جڑا ہوا ہے اور وہ اس سے متعلق بھی سوچتا ہے۔ رونا تو یہ ہے کہ عشق کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ یہ الگ سی بات ہے کہ عشق ایسی بلا ہے جہاں ڈیرے ڈالتا ہے وہاں صفائیاں کردیتا ہے۔اب معاملے کا دوسرا شیڈد سامنے رکھیں ۔عشق سے مراد مقصد سے اٹوٹ کمٹ منٹ لے لیں۔ یہاں اٹوٹ وابستگی کے بہت ہی کم لوگ ملیں گے۔ مفاد کے لیے ہمدردیاں محبتیں اور وفاداریاں راتوں رات بد ل جاتی ہیں۔ استوار رہنے والے بھلا کہاں؟جبکہ اَستاوے لُوٹے بہت ۔ عشق سیلاب بلا ہے ۔اِسے گلے لگانے والے کہاں ملتے ہیں۔ اس سیناریومیں شعر کی تفہیم کریں تو غالبؔ کی یہ تصویر حقیقی لگتی ہے۔ دوسرا طرف یہ بھی دیکھیں اُستواری کر بلا سے دوچار کرتی ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ’’میرے بعد‘‘ اِ س کا کیا بنے گا۔ جب کچھ نظر نہیں آتا تو عشق کے مستقبل کی تاریکی پر رونا نہیں آئے گا تو اور کیا ہوگا۔
* مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستان پر
فرقت ،یقیناًآگ سے مماثل چیزہے ۔ آگ سرخی مائل ہوتی ہے۔ فرقت کے لئے، اِس حوالہ سے ابرِ شفق آلودہ تمثیل خوب ہے ۔ ابر کے برس جانے کے بعد باقی ماندہ ٹکڑے سرخی اختیار کر جاتے ہیں ۔ فرقت میں آنسو بہانے کے بعد آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ اِس مماثلت کے پیشِ نظر غالبؔ نے فرقت کے لئے ’’ابرِ شفق آلودہ‘‘ تمثال اخیتارکی ہے۔ یہ اصولی معاملہ ہے کہ موسم انسانی موڈ کا ساتھ دیتے ہیں۔ خوشی میں خوش، رنج میں رنجیدہ خاطر، یعنی وہ خوش ہے تو غیر دلچسپ موسم بھی مسرور نظر آتے ہیں اگر نا خوش ہے تو بہتر سے بہتر منظر بھی اس کے لئے سوزش اور جلن کا باعث ہوگا۔(۳) چونکہ فرقت کا صدمہ من میں بسیرا کئے ہوئے ہے اِس لئے گلستان جو پھولوں کی آماجگاہ ہے، پر آگ برستی نظرآتی ہے اور یہ آگ من کی آگ ہے۔ اِسی طرح ابرشفق آلودہ فرقت کا پرتوٹھہر جاتا ہے۔ کروچے کا نظریہ’’ اظہاریت‘‘بھی تو یہی ہے اس کے نزدیک انسانی ذہین سے باہر کوئی چیز نہیں بلکہ ذہن اپنے مقاصد کے لئے بعض اشیاء کو خارجی طور پر متشکل کر لیتا ہے(۴) گویا انسانی ذہن نے جس چیز کو جواور جیسا نام دے دیا اس کا اظہار عین اصل کے مطابق ہونا چاہیے ۔ غالبؔ کی زیر حوالہ تمثال ہی کولے لیں۔ فرقت کی حالت میں گلستان پر آگ برسنا یا فرقت کے لئے ابر شفق آلودہ تمثال گھڑنا ، غلط اورلا یعنی نظرنہیں آتا۔
فرقت کی حالت میں ابر خون آلودہ نظر آتا ہے۔ فرقت آگ ہے۔ گلستان میں موجودسرخ پھولوں کی چمک دمک آگ سی محسوس ہوگئی ۔ من میں آگ ہے تو خارج میں برکھا رت کیونکر دکھائی دے گی۔ فرقت کے سبب ‘خارج آگ میں جلا اور خون میں نہایا محسوس ہوگا۔ غالبؔ کے اِ س شعر کے حوالہ سے بلا تکلیف اور بلا تردد کہاجاسکتا ہے کہ مغرب کے نفیسات سے متعلق نظریات کی آمد سے بہت پہلے غالب نے انسانی نفیسات کی باریک سے باریک گرہیں کھول دی ہیں۔ اِسی حوالہ سے کہا جا سکتا ہے کہ کروچے کا نظریہ اظہاریت کل پرسوں بر صغیر میں وارد ہوا ہے جبکہ غالبؔ بہت پہلے ایسے نفسیاتی امور پر گفتگو کر چکے ہیں۔
* پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
غالبؔ نے طبع کے رکنے کو ’’نالے‘‘کا روپ عطا کیا ہے۔ جب کسی ندی نالے میں کوئی رکاوٹ آجاتی ہے تو پانی جمع ہونا شروع ہوتا ہے۔ پانی کی یہ بہتات اس کی روانی کو اور تیز کردیتی ہے اور پھر پانی ’’نالے ‘‘ کے کناروں کو پھاندتاہوا اِدھراُدھر سے گزرنے لگتا ہے۔ انسانی نفسیات بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ وہ اپنے دکھ سکھ کا اظہار چاہتا ہے۔ دکھ سکھ سینے میں سجا رکھنے سے شخص علالت کی گرفت میں آجاتا ہے۔ سینے میں طوفان مچ جاتا ہے۔ اظہار کی خواہش میں شدت آتی چلی جاتی ہے۔ غالبؔ نے اِس نفسیاتی مسلے کو تمثیلی رنگ دے کر اس کی ضرورت اور اہمیت کا اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے یہ بھی سننے میں آتا ہے’’سینے میں دبا رکھنے سے اس میں نکھارآجاتا ہے‘‘ (۵) یہ نظریہ جان نہیں رکھتا۔ شدت کی صورت میں باغی پن سے زیادہ کچھ نہیں آپائے گا یا پھر اس کی اصل میں تبدیلی آتی چلی جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے صورت کچھ کی کچھ ہوجائے ۔ یہ بھی کہ معاملے کے جملہ مدارج اپنے اصل کے مطابق سامنے نہیں آپائیں گے۔ قصہ مختصر روانی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ برابر، متواتر اور مسلسل رہنا اس کی ضرورت ہے۔ طبع کی روانی میں رکاوٹ کو نالے کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہونے کے مترادف قرار دے کر غالبؔ نے بڑی شاندار تمثیل وضع کی ہے۔
* برنگ کاغذِ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
ہزار آئنہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر
بے تابی، بے سکونی کا اوتار ہے۔ کبھی چلنے لگتا ہے تو کبھی رک جاتاہے۔ بیٹھ جاتا ہے۔ ہاتھوں کو لاشعوری طور پر حرکت دیتا رہتا ہے گویا بے تابی میں تڑپ اور بے چینی کی خصلت موجود ہوتی ہے۔
جلے ہوئے کاغذ کو ذرا غور سے ملاحظہ کریں وہ سمٹ اور سکڑ جاتا ہے۔ اِس میں مختلف انداز نمودار ہوجاتے ہیں۔بے تابی کی نیرنگی اِ س سے مماثل ہوتی ہے۔یہ بھی کہ بیتابی آگ ہے، جلاتی ہے اور خاکستر کر دیتی ہے۔ زندگی کے سارے آثار چھین لیتی ہے۔ جلے کاغذ کی حالت اس سے
مختلف نہیں ہوتی ۔ بصارت دیکھنے میں کیسی ہوتی ہے بصارت اس کی اصل تک رسائی سے قاصر رہتی ہے ۔غالبؔ نے اِسے ’’کاغذ آتش زدہ‘‘کے حوالہ سے ایک تمثالی جسم دے دیا ہے۔
* نہ پوچھ وسعت میخانۂ جنوں غالبؔ
جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
جنوں کی وسعت کا حدوداربعہ متعین کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن کام بھی ہے۔ جنوں ایک کیفیت کا نام ہے۔ غالبؔ نے بالکل انوکھے انداز میں اس کیفیت/حالت کا حدوداربعہ متعین کر دیا ہے ۔ جنوں کی وسعتوں کے آگے گردوں خاک اندازہے۔ آسمان کی وسعتیں حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ غالبؔ کا کہنا ہے جنوں کی وسعتوں کے آگے آسمان’’ خاک انداز‘‘ ہے ۔ اِس پیمانے کے حوالہ سے جنوں کی وسعتوں کی پیمائش ممکن ہی نہیں تاہم غالبؔ کے اِس شعر کے حوالہ سے جنوں کے متعلق ایک امیج ضرور ترکیب پاجاتا ہے۔
* کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
ایمان کوئی دیکھی جانے والی مادی چیز نہیں ہے۔ ہاں اس کے متعلق ایک خاکہ ساذہین میں ضرور موجود ہوتا ہے اور یہ سمجھی ہوئی بات یا معاملے کا نام ہے۔ محبوب کو جان سے پیارا رکھنا اس لئے لازم ہے کہ عشق کے ایمان کا یہی تقاضا ہے۔ اگر’’بت‘‘ کو جان سے کم تر سمجھا جائے کا تو یہ ایمان (عشق) میں کجی کی دلیل ہوگی۔ غالبؔ کی یہ ایمجری اپنے اندر کمال کی قدرت رکھتی ہے۔
* دہنِ شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہو جئے خوبانِ دل آزار کے پاس
محبو ب سے استواری کو دہن شیر میں بیٹھنا کے مماثل ٹھہرایا گیا ہے۔ محبوب کے سامنے کوئی تن کر کھڑا نہیں ہوسکتا بلکہ مسکین انداز میں کھڑا ہونا ہوتا ہے اور کبھی دوزانو۔۔۔ دہن شیر میں آدمی بے بس اور سکڑاہوا ہوتا ہے اس کے جبڑوں کی گرفت، تننے کا موقع فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی اپنی مرضی سے حرکت کرنے دیتی ہے۔ غالبؔ نے خوباں سے تعلق کے حوالہ سے بڑی شاندار تمثال تخلیق کی ہے۔ ہر صاحبِ محبوب یا شادی شدہ شخص غالبؔ کی اِس تمثال پر داد دیئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ شیر کے منہ میں بیٹھنا خوباں کے روبرو بیٹھنے سے کہیں بہتر ہے ۔کیونکہ شیر کے منہ میں موت طے ہے جبکہ محبوب کے روبرو آدمی موت اور زندگی کے برزخ میں لٹکارہے گا۔ غالبؔ نے اس شعر میں محبوب پیشہ لوگوں کی عادت اور خصلت کا بڑی خوبی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔
* فروغِ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گرنہ خار آتش
حسن کی جلوہ آرائی عاشق کی مشکل آسان کر دیتی ہے۔ اِس نظریہ کو غالبؔ نے بڑی خوبصورت تصویری شکل دے دی ہے اور یہ تصویر مشاہدے سے علاقہ رکھتی ہے۔ شمع کے اندر دھاگہ آگ کی وجہ سے جلتا ہے اور یہ دھاگہ شمع میں اوپر سے نیچے تک ہوتا ہے۔ شمع کے جلنے کے ساتھ یہ دھاگہ بھی جل جاتا ہے گویاشمع کے پاؤں کا کانٹا نکل جاتا ہے۔ اس طرح حسن کی جلوہ فرمائی سے عاشق کی مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ عشق کی یہ کیفیت کا اپنا طور اور اپنا رنگ ہوتا ہے تاہم وصل عاشق کی منزل ہوتی ہے۔ وصل میّسرنہ آنے کی صورت میں کانٹوں پر لوٹتا ہے جبکہ وصل تسکین و آسودگی کا سبب بنتا ہے۔ غالبؔ نے اپنے اِس شعر میں شمع کے جلنے کے عمل اور دھاگے کے آخر تک جل جانے سے ’’فروغِ حسن‘‘ کو مماثل قرار دیا ہے۔ حسن کا مکمل جلوہ شمع کے پاسے کا نٹانکل جانے کے مترادف ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ تکمیل میں آسودگی محسوس کرتا ہے ورنہ بے چینی و بے قراری کا شکار رہتا ہے۔
* زبانِ اہل زباں میں ہے مرگ خاموشی
یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانیِ شمع
موت قائم بالذات‘ خاموشی کا دوسرا نام ہے۔ شمع کے بجھ جانے سے سب مناظر غائب ہوجاتے ہیں اور یہی موت کا وصف ہے۔
اندھیراحرکت روک دیتا ہے۔موت بھی حرکت کی دشمن ہے۔ شمع روشن ہے تو محفل اس سے استفادہ کرتی ہے۔ زندگی‘ اخلاقی ‘ معاشی‘ سماجی اور معاشرتی فوائد مہیا کرتی ہے۔ زندگی کے خاتمے سے تمام فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔ بابا کسی بھی عمر میں ہو اُس کی پنشن دلچسپی کا باعث رہتی ہے۔ بابے کے مرجانے سے یہ معاشی فائدہ ختم ہوتا ہے۔ لوگوں کے آنسو بابے کے لئے نہیں پنش سے محرومی سے جڑے ہوتے ہیں۔ غالبؔ نے موت کا شمع کے حوالہ سے بڑا عمدہ امیج پیش کیا ہے۔
* تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکہ کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گل درقفائے گل
جلوے کے سراب کو پھولوں کے یک بعد دیگرے دوڑے چلے آنے کو غالبؔ نے تصویری روپ دے کر نمو کے عمل کو پیش کیا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل اور تواتر سے جاری ہے۔ معاملہ منفی ہو کہ مثبت ‘اس کے وقوع کا کوئی جواز ضرور ہوتا ہے۔ غالبؔ نے کائنات کے تسلسل کابڑا عمدہ جواز پیش کیا ہے پھول جلوے کے لئے دوڑ ے چلے آرہے ہیں ۔ کامیابی کا سراب انسان کو دوڑائے چلا جارہا ہے۔
* ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے
ہے اک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں
تیوری ملا حظہ ہو سکنے والی چیز ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سامنے ہو ۔ نقاب کے اندر چہرے کے اتار چڑھا کا اندازہ امکان سے باہر کی چیز ہے۔ غالبؔ نے نقاب میں پوشیدہ چہرے کی اِس حالت کو نقاب کی شکن کے حوالہ سے اُجاگر کیا ہے۔ تیوری اور نقاب کی شکن‘ ہم شکل ہیں۔ اِسی عنصرنے اِس امیج کی تشکیل میں بڑازبردست کام دکھایا ہے۔ غالبؔ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نقل و حرکت سے رویے اور مزاج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اظہار ضروری نہیں ، اندازے کے لئے آثارہی کافی ہوتے ہیں۔ آثار در حقیقت اظہار ہی کا مترادف ہوتے ہیں۔
* گرتیرے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کازوال
موج محیطِ آب میں مارے ہے دست و پاکہ یوں
وصل میسّر آجانے کے بعد کی حالت کو غالبؔ نے’’موج محیطِ آب‘‘سے مماثل قرار دیا ہے۔ وصل میسّرآجانے کے بعد شوق میں زوال آجانا چاہیے لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ بے تابی و بیقراری میں اضافہ ہوتا ہے ۔بالکل اُسی طرح جس طرح موجیں پانی میں رہتے ہوئے بھی ہاتھ پاؤں مارتی رہتی ہیں۔ منزل دستیاب ہو جانے کی صورت میں آدمی ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ نہیں جاتا بلکہ نئی منزل کا تعین کرلیتا ہے۔ ہر منزل کے بعد کسی اور منزل کا تعین فطری تقاضاہے۔ وہ شوق ہی کیا جسے زوال آجائے۔ غالبؔ نے اس شعر کے حوالہ سے انسانی فطرت کا بڑا اہم پہلو اجاگر کیا ہے۔ اگر بے چینی وبے قراری ختم ہوجائے تو زندگی لامعنی ہو کر رہ جا ئے گی۔ جمال ، جلال اور کمال باقی نہ رہیں گے اور انسان کی مثل جوہڑ کے کھڑے پانی کی سی ہر کر رہ جائے گی ۔
* بھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگا ہ ہو
غالبؔ نے نگاہ کی بڑی عمدہ تجسیم پیش کی ہے۔ ’دیکھنے‘‘ کی مصوری امکان سے باہر ہے۔ غالبؔ نے اِسے نقاب میں موجود’’ تار‘‘سا قرار دیا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ محبوب کی طرف کسی اور کے دیکھنے کو گوارہ نہیں کرتا۔ اسے شک رہتا ہے کہ اس کے محبوب کو کسی اور نے کہیں دیکھ نہ لیا ہو ۔گویا بد گمانی عشق یا پھر عاشق کا خاصہ رہی ہے ۔تبھی محبوب کے نقاب میں موجودتار پر کسی کی نگاہ کا گمان کرآہا ہے۔ اس شعر میں انسانی فطرت کے کئی ایک شیڈ ہیں پہلا بد گمانی ، انسانی نفسیات کا حصہ ہے ۔وہ جلد شک کاشکار ہوجاتا ہے۔ دوم۔ وہ محبوب پر کسی قسم کا الزام نہیں دھرتا ۔ مماثلتیں اس کے سوچ کے زوایوں میں تبدیلی لاتی رہتی ہیں۔ تیسرا۔غیر معمولی اور نمایاں تبدیلی اسے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
* گلشن کو تیری صحبت از بسکہ خوشی آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا، آغوش کشائی ہے
پسند آنے کے لئے غنچے کاگل ہونا کی تمثیل استعمال کی گئی ہے۔ غنچے کا گل ہونا‘ اِس امر کی دلیل ہے کہ تری صحبت اسے راس آگئی ہے۔
غنچے سے گل تک کا عمل اپنے اندر بے پناہ جاز بیت رکھتاہے ’’خوشی آنا‘‘ کس طرح کا ہوتا ہے اس کی تجسیم بڑی مشکل ہے ۔پھر یہ کس طرح مان لیا جائے کہ صحبت خوش آئی ہے۔ زبانی کہا غلط ہوسکتا ہے یا دل رکھنے کے لئے کہہ دیا گیا ہو یا مبالغے سے کام لیا گیا ہو۔ عملی اظہار کے بغیر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ صحبت خوش آنا، غنچے کے گل ہونے سے مماثل ہے۔ کسی سے مل کر چہرہ کھل اٹھنا ، آنکھوں میں چمک نمودار ہونا، ہونٹوں پر مسکان ابھرنا خوش آنے کی دلیل ہوتی ہے۔ غنچہ سمٹا ہوا ہوتا ہے جبکہ گل کی آغوش کشادہ ہوتی ہے۔ آغوش کی کشادگی خوش آنے کا ثبوت ہے۔
* یہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائی
شعاعِ آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
’’شام تنہائی‘‘ کو طوفان گاہ کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ تنہائی کا اضطراب ہر لمحہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس میں شدت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ اِس بڑھتی ہوئی شدت کو تار صبح قیامت (قیامت کے سورج کی کرن) کا ساقرار دیا جارہا ہے۔ یہ آج تک کسی کے دیکھنے میں نہیں آئی تا ہم قیامت کے سورج سے متعلق قصے پڑھنے سننے میں آتے رہتے ہیں۔ غالبؔ نے اِن قصص کے سیناریو میں شام تنہائی کے اضطراب کے جوش اور شدت کو جوڑدیا ہے۔ پہلے مصرعے میں لفظ ’’طوفان‘‘ استعمال ہوا ہے۔ طوفان دیکھی بھالی چیز ہے۔ یہ سب کچھ بہاکر یا اڑ کر لے جاتا ہے۔ اسی حوالہ سے شامِ تنہائی کے اضطراب کی تمثیل‘ طوفان پر فٹ آئی ہے۔ طوفا ن کا لفظ اضطراب کو مناسب طور پر واضح کرتا ہے۔
* غم آغوشِ بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
ٍ شوقِ عشق ، تنگیِ حالات سے ختم نہیں ہوتا‘ یہ برقرار رہتاہے۔ عشق ناخوشگوار اور نامناسب حالات میں بھی پروان چڑھتارہتا ہے بلکہ ناخوشگور اور نامناسب حالات عشق کو پرورش دیتے ہیں۔ اس کے لئے غالبؔ مرجان کی نسبت لائے ہیں۔ مونگا بڑا سخت ہوتا ہے اور سمندر کے قہر آلود طوفانوں اور منہ زور لہروں کی آغوش میں پروان چڑھتا ہے۔ اِس لئے کوئی کھٹنائی اُس پر اثر انداز نہیں ہوپاتی۔ ’’آغوشِ بلا‘‘ کے لئے ’’قلزم صرصر‘‘ کی تمثیل مناسب لگتی ہے۔ گویا عشق بُرے حالات میں بھی اٹل اور قائم بالذات رہتا ہے ۔بالکل اُسی طرح جس طرح مونگا طوفانوں میں قائم بالذات رہتا ہے ۔ اگر حالات سے گھبراکر تبدیلی آجائے توایسے لوگوں کوجدیدعہدمیں’’لُوٹے‘‘کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
* آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشہ کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جِسے
ہر آدمی شکل وصورت اور قدکا ٹھ کے حوالہ سے دوسروں سے مختلف ہوتا ہے ۔ اس کی سی مثل لانا تقریباً نا ممکنات میں ہے ۔جو’’ نہیں ہے‘‘ اس کی تجسیم کیونکر ممکن ہے ۔صفات کے حوالہ سے تشہبات گھڑی جاسکتی ہیں۔ استعارسے وجود پا سکتے ہیں ۔ غالبؔ نے’’نہیں سے‘‘ کی تمثیل پیش کر دی ہے ۔بلا شبہ اسے کمال(تماشا) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ آئینے میں موجود شبیہ بالکل ویسی ہی ہوتی ہے ۔ غالبؔ کی یہ امیجری ندرت رکھتی ہے۔
* وحشتِ آتشِ دل سے شب تنہائی میں
صورتِ دودرہا سایہ گریزاں مجھ سے
احساس تنہائی کی شدت کے لئے ’’دود‘‘ کا تصویری بہروپ فکری زاویوں کو متاثر کرتا ہے۔ جس طرح دھواں آگ سے جنم لے کر آگ سے دور ہٹ جاتاہے۔ بالکل اسی طرح ’’آتشِ دل‘‘ سے گھبرا کر انسان کا سایہ تک اس سے گریز کرنے لگتا ہے۔ غالبؔ نے ایک نفسیاتی کیفیت کی اِس شعر کے ذریعے نشاندہی کی ہے۔ دھوائیں کا آگ سے دور رہنا عام مشاہدے کی چیز ہے۔ احساسِ تنہائی میں خود اپنی ذات کا خوف ایک تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالبؔ نے ایک عام مشاہدے سے ایک نفسیاتی کیفیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ بھی عام مشاہدے کی بات ہے کہ آگ میں کود کر بچانے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ بُرے وقت میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتاہے۔ غالبؔ کے اِس شعر میں یہ ضرب المثل ، تمثیلی انداز میں وارد ہوتی ہے۔
* معلوم ہوا حالِ شہیداںِ گزشتہ
تیغ ستم آئینہ تصویر نما ہے
محبوب کی عاشق سے لاتعلقی ، اس پر ستم جوئی اور آزار پہچانے کی عادت تیغ سے مماثلت رکھتی ہے۔ غالبؔ نے محبوب کے جور و ستم کو تیغ
سے مماثل قرار دے کر اسے تصویری انداز دے دیا ہے۔
* لطفِ خرام ساقی وذوقِ صدائے چنگ
یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے
اِس شعر میں سماعی و بصری امیجزکا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ساقی کے لہرالہرا کے چلنے کو ’’جنت نگاہ‘‘جبکہ صدائے چنگ کو ’’فردوس‘‘ قرار دے رہے ہیں ۔ موسیقی سے شغف رکھنے والے صدائے چنگ کے سماعی حسن کو محسوس کرسکتے ہیں۔ غالبؔ کا یہ سماعی امیج اپنے اثرات ضرور چھوڑتا ہے جبکہ خرامِ ساقی کا لطف میخوار ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں اِس امیج کے حوالہ سے حسن نمودار ہو جاتا ہے۔
* پُر ہوں شکوے سے یوں راگ سے جیسے
اک ذرا چھیڑیئے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے
باجا راگ الاپتا ہے۔ اس کے باطن میں خوشگوار اور نا خوشگور راگ موجود ہوتے ہیں ۔ ان کے اثرات سماعت پر مرتب ہوتے ہیں ۔بس باجے کو ارتعاش دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ راگ کے حوالہ سے ایک سماعی امیج ترکیب پاتا ہے۔ یہاں شخص کو باجا جبکہ اس کے باطن میں موجود احساسات (شکوہ)کو راگ کہاگیا ہے۔ بات شروع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے پھر وہ کہتا چلا جاتا ہے بالکل باجے کی مانند۔ غالبؔ نے ’’باجے ‘‘کے حوالے سے بصری جبکہ’’ راگ‘‘ کے توسط سے سماعی امیج تخلیق کیا ہے۔ جو حقیقت سے تعلق رکھتا ہے۔
* وہ گل جس گلستان میں جلوہ فرمائی کرے
غالبؔ چٹکنا غنچہ و گل کا صدائے خندۂ دل ہے
’’صدائے خندۂ دل‘‘ متعلقہ شخص تک محدود رہتی ہے ۔یہ آواز کیسی ہوتی ہے کبھی کسی نے نہیں سنی ۔ غالبؔ نے اِس آواز کو غنچے کے چٹکنے کی آواز سے مما ثل قرار دیا ہے۔ یہ آوازیں نہیں سنی گئیں۔لیکن ان کا وجود ضرور ہے۔ ہردو آوازوں کا تعلق عدم وجودکے قریب ہے ۔اس کے باوجودان کا تعلق سماعت کے حساس گوشوں سے ہے۔ یہ سماعی امیج نا قابلِ تردید جمالیاتی حسن کا حامل ہے۔ باریک بین‘ غنچے کی آواز کے حوالہ سے‘ اس امیج کی نزاکت سمجھ سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ’’ نوائے خندۂ دل‘‘ کی آہٹوں کو چہرے کے تغیرو تبدل کے حوالہ سے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔
* ایماں مجھے روکے ہے جو کھنچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلسیا مرے آگے
کمٹ منٹ کا کرب بُری بلا ہوتا ہے۔ کیا چھوڑا جائے اور کیا ترک کیا جائے۔ غالبؔ مغلیہ حکومت کے زوال اور انگریزی حکومت کے عروج کے عہدسے تعلق رکھتے ہیں۔ حالات انگریزی حکومت کی طرف جانے کو کہہ رہے ہیں جبکہ برسوں کا تعلق مغل دربار سے غداری کی اجازت نہیں دے رہا ۔ ایسے حالات اور من کی جنگ میں فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا۔ کمٹ منٹ کے کرب کو غالبؔ نے نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ حرف’’ک‘‘ کی تکرار سے جوامیج تخلیق کیاہے بڑا نمایاں اور واضح ہے۔ حرف’’ک‘‘ کی جڑیں کرب سے جڑی ہوئی ہیں۔غالبؔ کی ایک غزل جس کا پہلا مصرع یہ ہے
مدت ہوئی ہے یا ر کو مہماں کئے ہوئے
سماعی امیج کی لاجواب مثال ہے۔ اِس غزل میں بعض لفظوں کی تکرار سے یعنی سماعی امیج کی مدد سے عہد رفتہ کے بہت سے مناظر اور معاملات کا رشتہ حال سے جوڑدیا گیا ہے۔ پہلے شعر میں ’’مدت ہوئی‘‘ دوسرے میں’’ عرصہ ہوا‘‘تیسرے میں ’’برسوں ہوئے‘‘ جبکہ چوتھے شعر میں ’’مدت ہوئی‘‘ لفطوں کا استعمال ہوا ہے گویا یہ بات آج سے متعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق گزرے کل سے ہے۔ اِسی طرح لفظ ’’پھر ‘‘کی تکرار سماعت کو گدگداتی ہے۔ یہ لفظ ماضی کو حال میں لے آتا ہے۔ ’’پھر‘‘ سے ایک خاص قسم کا روحانی اثر وابستہ ہے۔ اس’’پھر‘‘ کے توسط سے بہت سے سماعی امیجزتشکیل پاتے چلے جاتے ہیں۔
* مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سراُڑ جائے
جلا د کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
اس شعر میں لفظ’’اور‘‘ ایک خاص قسم کا امیج دے رہا ہے۔ مارنے والا جلا د سے کہے جارہا ہے’’’اورمارواور مارو‘‘۔
اِس آواز کا جادوتوجہ چاہتا ہے غالبؔ اس کی جانب تو جہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ توجہ مذکور ہونے کی صورت میں حکم دینے والے کی سنگدلی کھل جائے گی۔
* میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے
دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غمخوار کے پاس
غالبؔ لفظ ’’زبان ‘‘ کے حوالہ سے محبوب /چارہ گرکی زبان درازی اور دشنام طرازی واضح کرنا چاہتے ہیں۔ا نھوں نے بظاہریہ نہیں کہا کہ محبوب/چارہ گر کی زبان درازی قطرہ قطرہ خون نچوڑ رہی ہے لیکن لفظوں کے ہیر پھیر سے یہی تو کہہ رہے ہیں۔ اِس سے اچھا تھا اُس پاس دشنہ ہوتا اور ایک ہی وار سے کام تمام کر دیتا۔ لفظ ’’زبان‘‘ ایک مخصوص امیج بنارہا ہے۔ اس امیج کے حوالے سے ’’غمخوار‘‘ کی شخصیت کے حساس گوشے کھل گئے ہیں۔ مثل مشہور ہے لٹھ کی چوٹ کا گھاؤ بھر جاتا ہے لیکن زبان کا گھاؤ کبھی نہیں بھرتا۔ اِس مثل کا بڑی عمدگی سے غالبؔ کے ہاں محاکاتی استعمال ہوا ہے۔
* زبانِ اہل زباں میں سے مرگ خاموشی
یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
اِس شعر میں صرف’’ش‘‘ کی تکرار خاموشی کا امیج ترکیب دے رہی ہے ۔ شعر میں بات بھی خاموشی ہی کی ہو رہی ہے۔ اپنے کہنے کو غالبؔ صوتی تاثیر سے جاندار بنا دینا چاہتے ہیں۔
* ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
کیا بیتا ب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو
اِس شعر میں لفظ’’چرچا‘‘سے سماعی امیج تشکیل پارہا ہے۔ میرے پاؤں کی زنجیر سے متعلق باتیں ہوئیں تو یہ باتیں سن کر آہن کا جوہر بے تاب ہوگیا ہے۔ باتیں سننے کا تعلق سماعت سے ہے۔ زنجیردیوانے/وحشی کے لئے تیار کی جاتی ہے۔ اس بات کا شعر میں ذکر موجود نہیں لیکن یہ بات ازخود سمجھ میں آجاتی ہے۔ وحشت و دیوانگی کی صورت میں ہی زنجیر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شعر میں زنجیر کا چرچا سماعی امیج بنا رہا ہے۔ تاسف کے ساتھ ضرورت بھی اُجاگر ہو رہی ہے۔
* آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیورکی
بلبل کی نغمہ سنجی کا تعلق سماعت سے ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ بہار کی آمد ہے۔ اس سماعی امیج کے حوالے سے غالبؔ نے بہار کی آمد کے آثار وا ضح کئے ہیں۔ بلبل کے چہچے سن کر فوراً بہار کا حسن آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی اچھی خبر آدمی کومسرور کر دیتی ہے۔ ایک ریشمی سا تصور آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتا ہے۔

حوا شی
۱۔ نوائے سروش ،ص۱۷۶
۲- نوائے سروش ،ص۱۹۰
۳۔ نوائے سروش ،ص۲۲۱
۴۔ مغرب کے تنقیدی اصول، ص۳۰۳
۵۔ نوائے سروش ، ص۲۲۸
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 116918 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Feb, 2017 Views: 483

Comments

آپ کی رائے