میں سلمان ہوں ( قسط 9)

(hukhan, karachi)
ماں اگر وہ مر گیا تو پولیس نے آپ کو نہیں چھوڑنا-----
ندا نے آخری پتا کھیلا-----
ارے کلمو میں نے اس کو فائرنگ کر کے مار دینا ہے کیا----
ماں کے سارے طوطے اڑ گئے تھے---
تو بیٹی ہے یا دشمن اور پولیس کوئی اندھی ہے اور تجھے بڑی خوش فہمی ہے کہ وہ ڈیٹ مر بھی سکتا ہے---- اور اس کو میرا ہی گھر ملا ہے مرنے کو------ سڑک پر کسی گاڑی کے نیچے کیوں نہیں آجاتا----
سلمان نے جب یہ سب سنا تو واپس بیڈ پر لیٹ گیا---
یہ عورت تو مجھے مارنے پر ہی تلی ہوئی ہے---Blanket اپنے اوپر لپیٹنے کے باوجود بھی ٹھنڈ اس سے لپٹی جا رہی تھی--
ماں پورے محلے نے سن رکھا ہے ہم جو اس کو دھمکیاں دیتے ہیں بچا بچا گواہی دے گا--- جب پولیس پوچھی گی نا سب ڈر کے مارے طوطے کی طرح فر فر بولیں گے--- پولیس پہلے ڈراتے ہیں پھر پیسے نلکواتے ہے--- کورٹ کچہری کے چکر میں یہ تمہارا تاج محل بھی بک جائے گا--- پھر بھی کیس چلتا رہے گا---
ندا نے اب ماں کو گھیر لیا تھا--
ماں نے کھا جانے والی نظروں سے اپنی کو دیکھا---
جا کوئی دوا لا اور اس کلموہی منحوس کے منہ میں ڈال اور کہہ جا کے کہے اور مرے--- آج تیرا باپ آجائے کہتی ہوں اس بلا سے جان چھڑائے ہماری--- زمانے بھر کے کنگلے فقیر سیدھا ہمارے گھر آکے ڈھیرا ڈالتے ہیں--
ماں نے سر پکڑ لیا اور بڑبڑاتی ہوئی کمرے میں چلی گئی---
ندا نے چائے اور دوائی لی اور سلمان کے کمرے کی طرف جانے لگی---
ارے وہ کیا ولیمے مٰیں آیا ہے کیا جو تو چائے کھانا سب لے جا رہے ہوں ---
اف ماں پیٹ میں کچھ ہوگا تو ہی دوائی اثر کرے گی نا--- ورنہ پڑا رہے گا کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوگا---
ماں نے غصے سے زرلب کوئی گالی دی اور واپس مڑ گئی---
جلدی سے دوائی دے کے آنا بہت کام پڑے ہیں گھر کے----
ندا نے سلمان کو آواز دی اور کمرے میں داخل ہوگئی--
جاکے کولی کر لیجئے میں آپ کے لیے دوائی اور چائے لائی ہوں---
سلمان نے کہا اتنی ساری باتیں سن کر بھوک ختم ہوگئی ہے---
اچھا تم پر بھی باتوں کا اثر ہوتا ہے رئیلی---- ندا نے مصنوئی حیرت سے سلمان کو دیکھا--
شاید بیماری میں ہی اثر ہوگا ہے نا---
سلمان نے کوئی جواب نہ دیا--- دونوں ماں بیٹی باتوں میں یکتا ہے کون ان سے مقابلہ کرے---
ان ہی خیالوں میں اس نے چہرے پر پانی کا چینٹا مارا--- آنکھوں میں پانی ڈالا شاید اس سے جلن کم ہوجائے--
کچھ بھی ہے لڑکی ہے بہت نرم دل--- باپ پر گئی ہے آخری جملا اس کے زہن سے نکلا---- جاری ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hukhan

Read More Articles by hukhan: 28 Articles with 26181 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Feb, 2017 Views: 779

Comments

آپ کی رائے
niceeeeeee epi hero ko jaldi thek karooooooooooooo
By: Zeena, Lahore on Feb, 11 2017
Reply Reply
0 Like
always remember hero by birth theek hutay,,,,,thx for like
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 12 2017
0 Like
best episode
By: umama khan, kohat on Feb, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 11 2017
0 Like
Very nice epi,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 11 2017
0 Like