سوپرپاور امریکہ کے صدر ٹرمپ کی عالمی سطح پررسوائی ۰۰۰

(Dr M A Rasheed Junaid, India)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے25؍ جنوری کو سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر صدارتی حکمنامے کے ذریعہ لگائی گئی پابندی کو امریکی ریاست واشنگٹن کے ضلع سیئیٹل کے ایک جج مسٹر جیمز رابرٹ نے صدر کی جانب سے لگائی گئی اس پابندی کو ملک بھر میں عارضی طور پر معطل کردیاتھا۔جس کے بعد سوپر پاور امریکی صدر نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بناء ملک میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا ذمہ دار اس جج کو سمجھاجائے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی حکمنامہ پر دستخط کئے جانے کے بعد امریکہ کے علاوہ عالمی سطح پر احتجاج کا آغاز ہوگیا تھا ۔ امریکہ میں خود کئی بڑے بڑے سیاسی قائدین اور عہدیدار اور ٹکنالوجی کمپنیوں کے انتظامیہ کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور اسے امریکی معیشت کے لئے نقصاندہ قرار دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے حکم نامے کے بعد تقریباً 60ہزار ویزے منسوخ کردیئے گئے تھے لیکن جج جیمز رابرٹ کے عبوری فیصلے کی روسے فوری طور پر ملک گیر سطح پر اس حکم نامے کو معطل کردیاگیا۔ دوسری جانب حکومتی اپیل کوامریکی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر عائد سفری پابندیاں بحال کرنے کی اپیل کومسترد کردیا اس فیصلے کی رو سے صدر ٹرمپ کا سفری پابندیوں والا انتظامی حکم نامہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا۔نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کا کہنا ہے کہ وہ لوئر کورٹ کی جانب سے کئے گئے صدارتی حکم نامے کی معطلی کے فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکتی اس طرح اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ نے سوال کیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی سفیری پابندی صرف مسلمانوں کے خلاف ہے؟ 7؍ فبروری کو عدالت نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں تین رکنی بنچ کے ممبر جج رچرڈ کلفٹن نے عدالتی کارروائی کے دوران سوال کیا کہ اگر اس پابندی سے پوری دنیا میں موجود صرف 15فیصد مسلمان متاثر ہورہے ہوں تو کیا یہ پابندی امتیازی سلوک کہلائی جاسکتی ہے یا نہیں؟اپیل کورٹ کی جانب سے محکمہ انصاف کے وکیل آگسٹ فلینٹجے سے سوال کیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام ، یمن اور سوڈان کے شہری امریکہ کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں موجود کئی صومالی شہری دہشت گرد گروپ الشباب کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ دوسری جانب ریاست واشنگٹن کے وکیل نوح پرسل نے کہا کہ اس پابندی سے ریاست واشنگٹن کے ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں جن میں طلبہ بھی شامل ہیں اور وہ لوگ جو اپنے خاندان والوں سے ملنا چاہتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالتی کارروائی کے آخری لمحات میں اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا یہ پابندی مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنارہی ہے یا نہیں۔ محکمہ انصاف کے جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق سفری پابندی میں کسی مذہب کو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن عدالت میں وکیل نوح پُر سل نے صدر ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیا جس سے اشارہ ملتا تھا کہ یہ پابندی مسلمانوں کے خلاف ہے۔امریکی ٹکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھی سفری پابندی کی بڑے پیمانے پر مخالفت دیکھنے میں آرہی ہے۔ امریکہ میں ٹکنالوجی کے شعبہ کی تقریباً ایک سو کمپنیوں نے ایک قانونی دستاویز جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کے حکم نامے سے نہ صرف ان کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ یہ پابندی ان کے لئے نقصان کا باعث بھی ہے۔یہ دستاویز جو 6؍ فبروری کو واشنگٹن میں جمع کروائی گئی ہے یہ قانونی دستاویز کسی مقدمے میں فریق نہ ہونے کے باوجود اس سے متاثر ہونے والے افراد یا اداروں کو اس معاملے میں اپنی رائے دینے کا حق دیتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم دشمنی کے خلاف احتجاج دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دشمنانِ اسلام بھی اسلام کی عظمت اور اسے عظیم الشان مذہب کو نا ماننے کے باوجود اسلام کی حقانیت اور سلامتی والے مذہب ہونے کے قائل ہیں یہی وجہ ہے کہ سات مسلم ممالک کے شہریوں پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف برطانیہ جیسے ملک میں بھی احتجاج جس پیمانے پر کیا جارہا ہے مستحسن اقدام ہے۔

برطانیہ میں ٹرمپ ناپسندیدہ شخص
امریکی صدر کو عالمی سطح پر جو مقام و مرتبہ دیا جاتا رہا ہے،نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سات مسلم ممالک کے خلاف عائد سفری پابندیوں کے حکمنامے پر دستخط کے بعد حالات کچھ اور رخ اختیار کررتے جارہے ہیں ٹرمپ کے حکمنامے کے عارضی طور پر امریکی وفاقی عدالت نے معطل کردیا ہے اس کے باوجود ٹرمپ کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج جاری ہے ، برطانیہ میں دیوانِ عام ( ہاؤس آف کامنز) کے اسپیکر جان برکاؤ کا کہنا ہیکہ وہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ پر انہیں پارلیمنٹ سے خطاب کی اجازت نہیں دیں گے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر جان برکاؤ نے کہا کہ دیوانِ عام کی نظر میں قانون کی پاسداری، عدالتوں کا احترام اور نسل پرستی اور جنس کی بنیاد پر امتیازات کی مخالفت غیرمعمولی طور پر اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرنا کوئی خودکار عمل نہیں بلکہ وہ عزت ہے جسے حاصل کرنا پڑتا ہے لیکن وہ ٹرمپ کے ویسٹ منسٹر میں خطاب کی ’’شدید مخالف‘‘ کریں گے۔اسپیکر نے مزید کہا کہ وہ تارکینِ وطن پر پابندی کے حکم نامے سے پہلے بھی ٹرمپ کے برطانوی ایوان سے خطاب کے مخالف تھے تاہم اس پابندی کے بعد اس کے شدید مخالف ہوگئے ہیں اس لیے ٹرمپ کو رائل گیلری کا دعوت نامہ بھی بھیجنا نہیں چاہتے۔دوسری جانب برطانیہ میں 18 لاکھ افراد ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی مخالفت کی آن لائن پٹیشن پر دستخط کرچکے ہیں جس پر 20 فروری کو بحث ہونے والی ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی برطانیہ کا دورہ کرنے والے ہیں اور دورے کی مناسبت سے برطانوی ایوانوں سے ان کا خطاب ان کے دورے کا حصہ ہے۔اب دیکھنا ہے کہ ٹرمپ برطانیہ میں عزت و احترام حاصل کرپاتے ہیں یا نہیں۰۰۰

بشارالاسد کی ظالمانہ کارروائیاں اور جنگ بندی معاملہ
شام کے ظالم حکمراں بشارالاسد کے اقتدار کوبچائے رکھنے کے لئے روس اور ایران کی کوششیں لگاتار جاری ہیں گذشتہ دنوں ترکی ، روس اور ایران پر مشتمل اہم اجلاس قزاستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوا جس میں اردن اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں جنگ بندی کی طرف بڑھتے قدم اور نگرانی کا لائحہ عمل 90فیصد مکمل کرلئے جانے کا اشارہ دیا گیا ہے۔اس اجلاس میں شام میں جنگ بندی کی خلاف وزریوں کی روک تھام کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کیا گیا ہے کیونکہ اس سے قبل روس اور امریکہ کے درمیان بھی شام میں جنگ بندی کیلئے بات چیت ہوچکی اور فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد کے لئے تیقن بھی دیا تھا لیکن بشارالاسد اور ولایمیر پوتین کی فوج جنگ بندی کے دوران متاثرہ افراد اورمظلومین کے لئے لیجائے جانے والے سازو سامان اور اشیاء ضروریہ کے ٹرکوں ، ہاسپتلوں پر حملے کرکے جنگ بندی کے معاہدہ کو ناکام بنادیا اور الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ اب تینوں ضامن ممالک یعنی ایران، روس اور ترکی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ ماضی کے حالات کو مدّنظر رکھکر مستقبل میں کوئی بہتر امید وابستہ نہیں کی جاسکتی۔ ایک طرف شام ، ایران اور روسی فوج کی ظلم و بربریت تو دوسری جانب شدت پسند تنظیموں کی جانب سے عام بے قصورشامی شہریوں پر ظلم و بربریت کو بھولا نہیں جاسکتا۔عرب ٹی وی کے مطابق آستانہ میں شام میں جنگ بندی کو موثر بنانے کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کا مقصد ضامن ملکوں کے درمیان جنگ بندی کی مانیٹرنگ کا متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ شام کے حوالے سے ہونے والا آستانہ اجلاس کامیاب رہا اور تمام فریقین جنگ بندی کی مانیٹرنگ کا 90 فی صد لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ مزید دس فی صد شرائط طے کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا ۔

بشارالاسد کی ظلم و بربریت کا ایک نیا انکشاف
یوں تو بشارالاسد کی ظلم و بربریت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آوازیں اٹھتی رہی ہیں سعودی عرب و دیگر عالم اسلام کے ممالک کی جانب سے بشارالاسد کے اقتدار کو ظالمانہ قرار دے کر اسے اقتدار سے محروم کرنے کی کوششیں ہوئیں ، امریکہ پر عالمِ اسلام کی جانب سے دباؤ ڈالا گیاکے بشارالاسد کو اقتدار سے محروم کردیا جائے لیکن روس اور ایران کی جانب سے بشارالاسد مکمل طریقے سے فوجی تعاون حاصل ہونے کی وجہ سے اس کے ظلم و بربریت میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ بشارالاسد اور روس کی ظالم فوج نے شام کے عام بے قصور شہریوں ہی کو نہیں بلکہ معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ گذشتہ دنوں حقوق انسان کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو انکشاف کیا ہے اس سے بشارالاسد کی سفاکیت اور ظلم و بربریت پر مشتمل ایک نئی مثال قائم کی ہے۔حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شام کی ایک جیل میں خفیہ طور پر 13 ہزار افراد کو پھانسی دی گئی۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ پھانسی پانے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔اس رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدنایا نامی جیل میں ستمبر 2011 ء سے ڈسمبر 2015 ء تک ہر ہفتے اجتماعی پھانسی دی جاتی رہی۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر یہ سزائیں شامی حکومت میں اعلیٰ سطح پر ملنے والی منظوری کے بعد دی گئیں تاہم شامی حکومت ماضی میں قیدیوں کو ہلاک کرنے یا ان سے برا سلوک برتنے کی تردید کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ماہرین نے ایک برس قبل عینی شاہدین اور دیگر شواہد کی مدد سے رپورٹ کیا تھا کہ شام میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور دوران حراست بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں 84 افراد کے انٹرویو کیے جن میں جیل کے سابق محافظ، حراست میں لیے گئے افراد اور جیل کے عملے کے ارکان شامل تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع جیل میں ہفتے میں ایک بار اور کئی بار ہفتے میں دو بار 20 سے 50 لوگوں کو پھانسی دی جاتی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو پھانسی دینے سے قبل دمشق کے ضلع القابون میں واقع فوجی عدالت میں پیش کیا جاتا جہاں ایک سے تین منٹ کی مختصر سماعت ہوتی تھی۔فوجی عدالت کے سابق جج نے تنظیم کو بتایا ہے کہ زیر حراست افراد سے پوچھا گیا کہ وہ مبینہ جرائم میں ملوث ہیں کہ نہیں اور اس پر اگر جواب ہاں کے علاوہ نہیں بھی ہوتا تو ان کو مجرم قرار دے دیا جاتا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ زیر حراست افراد کو پھانسی والے دن ہی اس کے بارے میں آگاہ کیا جاتا تھا اور انھیں وہاں سے سویلین جیل میں منتقل کیا جاتا جہاں ایک سیل میں ان پر دو سے تین گھنٹے تشدد کیا جاتا تھا۔اس کے بعد درمیانی شب میں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں جیل کے ایک دوسرے حصے میں منتقل کیا جاتا تھا اور جہاں ایک کمرے میں ان کی گردن میں پھندا ڈالنے سے چند منٹ پہلے انھیں پھانسی دینے کے بارے میں بتایا جاتا۔اس کے بعد لاشوں کو ٹرکوں کے ذریعے دمشق کے ایک فوجی ہسپتال میں بھیجا جاتا جہاں کاغذی کارروائی کے بعد فوج کی زمین پر واقع قبرستان میں اجتماجی قبر میں دفنا دیا جاتا تھا۔ایمنسٹی نے عینی شاہدین کی مدد سے حاصل کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگایا ہے کہ پانچ برس کے دوران 5 ہزار سے 13 ہزار افراد کو پھانسی دی گئی۔ان رپورٹس کے منظرعام پر آنے کے باوجود بشارالاسد کا اقتدار پر فائز رہنا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی قائدین بشار الاسد جسے سفاک اور ظالم حکمرانوں کو سزا دینا نہیں چاہتے بلکہ عام مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والوں کو چھوٹ دینا چاہتے ہیں جس کی کھلی مثال خود بشارالاسد ہے۔

ایران کو دہشتگرد ریاست کہنے پر روس کا ٹرمپ سے عدم اتفاق
ایران کے خلاف امریکی نظریہ کو روس قبول نہیں کرتا اس سلسلہ میں روس کا کہاہے کہ روس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تجزیہ سے اتفاق نہیں کرتا کہ ایران دہشت گرد ریاست ہے، یہ تجزیہ اس سے بہتر شکل میں بھی سامنے آسکتا تھا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی ترجمان نے کہا کہ روس کے ایران سے دوستانہ تعلقات ہیں،ہم وسیع معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ روس کا کہنا ہیکہ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی قابل تشویش ہے اور اس سے خطے کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔روسی ترجمان نے واضح کیا کہ یہ بات خفیہ نہیں کہ کئی عالمی مسائل پر ماسکو اور واشنگٹن کی رائے ایک دوسرے سے متصادم ہے۔صدرٹرمپ نے امریکی چینل کے ساتھ انٹرویو میں ایران کو دنیا میں نمبر ایک دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بہت سے مقامات پر اسلحہ اور مال بھیج رہا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr M A Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr M A Rasheed Junaid: 255 Articles with 95564 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Feb, 2017 Views: 431

Comments

آپ کی رائے