دل کے پھول

(Afsana Mehar, )
خاندان میں شادی ہو یا موت ،افراد جمع ہوتے ہیں ۔ایک دوسرے کی غمی وخوشی میں سہارا بنتے ہیں ۔ سماجیات کے پیرائے میں یہ معاشرہ بندی کے مظاہر کہلاتے ہیں ۔اور انسانی زندگی میں روح کی تسکین کے لمحات فراہم کرتے ہیں ۔لیکن آج ہمارا معاشرہ اس جمع تفریق کے حاصل سے محروم نظر آ نے لگا ہے ۔۔۔۔ افراد کی زندگی میں موبائل ایسا نشہ بن کر ابھر رہا ہے جس کے سائے میں دوسرے کی خوشی اور دوسرے کے غم کی اہمیت بس ایک اسٹیٹس ڈالکر لائکس جمع کرنے کی دھن میں کہیں کھو گئ ہے ۔ دلجوئ کے پیرائے نہیں بدل رہے بلکہ خلوص و ہمدردی ، قربت و محبت کے موتی جیسے جزبے بکھر رہے ہیں ۔۔ اجنبیت ایک آسیب کی طرح انسانی جزبوں کی جڑوں تک کو اپنی گرفت میں لیتی جارہی ہے۔۔ اجنبیت کا یہ حملہ گھروں کو ہی نہیں معاشرتی اداروں کو بھی گرفت میں لے چکا ہے ۔استاد اور شاگرد کی دلی وابستگی میں جو فاصلے نظر آ رہے ہیں وہی مریض و معالج کے درمیان کود آئے ہیں ۔۔ ہسپتال اب شفا خانے نہیں بلکہ تجارت کی منڈی کی مانند مریضوں کے دام لگاتے نظر آ رہے ہیں ۔۔اسکول تعلیم کے بجائے اسٹیٹس بیچنے والی منڈی بن گئے ہیں ۔اتمام امراض اور محرومیوں کا زکر تو سب خاص و عام کی زبان پر نظر آ تا ہے مگر علاج ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماضی میں بھی معاشرتی اور معاشی برائیوں میں جکڑے معاشرے کی اصلاح ،ترتیب و تنظیم کرنے والی دوا بس ایک تھی ۔۔۔ وہ تھی ۔ دل کی خوشی فراہم کرنے والی دوا ۔۔ یعنی قرآن ۔۔۔ اوراس طرح قرآن کی تلاوت کہ جو دل کا سکون اور خوشی بنے ۔۔ یہ جب ہی ہوگا جب قرآن کے منہ سے نکلنےوالے تمام حرف اپنی معنویت کے ساتھ دل تک بہنچیں اور دل میں بسی انسانی معاشرتی امراض حرص ، لالچ ، بے ایمانی کو اخرت میں جواب دہی کے احساس کے مرہم سے مندمل کر دیں پھر اس پاک دل میں پھوٹنے والی رضائے رب کے حصول کی بوٹی میں کھلنے والےشگفتہ خلوص و محبت کے پھول دل کو گلشن ہی نہیں بلکہ دنیا کو جنت نظیر بنادیں گے ۔۔۔۔ اور پھر دل سے اٹھنے والی صدا دل کو ہی نہیں بلکہ دنیا کو خوشی سے لبریز پھو لوں کی سیج بنا دےگی دیر بس تمہاری طرف سے ہے ۔۔۔ ۔۔افسانہ مہر
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afsana Mehar

Read More Articles by Afsana Mehar: 12 Articles with 6212 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Feb, 2017 Views: 717

Comments

آپ کی رائے
very nice,,,,,,
By: umama khan, kohat on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like
So Nice Thinking
By: Abdul Kabeer, Okara on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Nice
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 13 2017
Reply Reply
0 Like