میں سلمان ہوں ( قسط 10)

(hukhan, karachi)
ندا نے کسی سگے رشتے کی طرح اسے دوائی اور ناشتہ دیا--
سلمان سر جھکائے اس کی مہربانی اور اپنے ماں سے کیئے گئے جنگ کا سوچنے لگا-- ایک ہی گھر میں بہت سے الگ الگ سوچ اور فطرت کے افراد رہتے ہیں--- دنیا کی طرح ہر طرح کے لوگ، چنگیز خان، سکندر اعظم جیسے خون آلودہ سوچ کے لوگ جنہے اپنی خاسیت یا جنون کی تکمیل کے لیے انسانوں کی کھوپڑیوں سے بنے ہوئے منار چایئے تھیں--- پر اس دنیا میں Mother Taressa Abdul Satar Edhi جیسے لوگ بھی تھیں--- جن کے آنکھیں ہمیشہ دوسروں کے غم اور دکھوں پر بھیک جاتی ہیں--- اس میں کیا شک ہر طرح کے رنگ موجود ہیں ، بالک ہر موسم کی طرح انسانی زندگی بھی ہر طرح کے موسم ،رنگ ،اور موڈ سے بھری ہوئی تھی--- زندگی کبھی جاڑے کی نرم اور اجلی دھوپ کی طرح ہو جاتی ہیں --- کبھی پیار مٰیں سرمائی شام جیسی کبھی ماں کی پیار کی طرح نرم اور خالص، ہاں مگر جب یہ سیاہ رات اور تپتے ہوئے ریگستان، کی دھوپ کی طرح جلسا دینے والی بن جاتی ہیں--- تو انسان کو صرف اللہ سے پناہ مل سکتی ہے پھر یہ کسی انسان کی بس کی بات نہیں ہوتی--- کہ وہ آپ کو بچا سکے --- انسان بیماری میں بہت کمزور اورSensitive ہو جاتا ہے--- وہ ان ہی خیالات میں گم تھا کہ ندا کی آواز نے اس کو چونکایا---
کیا میں بہت بد صورت ہوں؟-----
سلمان نے حیرت اور دکھ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا---
دنیا جہان کا درد اس لڑکی کی آنکھوں میں تھا--- گزرتے عمر کے ساتھ ساتھ سفیدی اس کے سر کے بالوں میں جھانک رہی تھی---شاید اب وہ خود سے بے پرواہ سے رہنے لگی تھی---
سلمان کے پاس جواب میں کچھ نہ تھا مگر کچھ تو کہنا ہی تھا---
آپ نے ایسا کیوں کہا---
میں کافی دیر سے آپ کے سامنے بیٹھی ہوں ایک دفعہ تو میرا حق بنتا ہے -
سلمان بالک انجان سا بن گیا---
میں سمجھا نہیں ---
سلمان نے بات میں سچائی پیدا کرنے کی بھر پور ایکٹنگ کی---
جو انسان زندگی سے لڑتا ہو ، پوئٹری کرتا ہو---- جیسے قلم کے استعمال کی تمیز ہوں --- جو الفاظ کو تولنے اور بولنے کا فن جانتا ہوں وہ اس قدر بے وقوف نہیں ہو سکتا--- یا جھوٹ بولنے کا کوئی ٹائم لے رہے ہوں --- جب تک میں اپنی بات کی وضاحت کرونگی تب تک سلمان صاحب اچھا سا جھوٹ تراش چکے ہوگے---
اس کا دکھ طنز میں بدل رہا تھا---
لیجئے میں آپ کی مشکل آسان کر دیتی ہوں میں کافی دیر سے آپ کے سامنے بیٹھی ہوں آپ نے ایک دفعہ بھی مجھے نہیں دیکھا-- کیونکہ میں ایک بد صورت لڑکی ہوں ہے نا-----
ندا جی بالک بھی ایسی بات نہیں ہے میں بس شریف بن جانے کیActing کر رہا ہوں--- آپ میں کیا کمی ہے کچھ بھی تو نہیں---- ہر چیز مکمل ہے--- قبول صورت ، نیک ہمدرد میری مالکن بھی ہے آپ،،،،،، مگر By Heart آپ میں کوئی کمی نہیں ہے--- آپ میری نگاہ سے کہے زیادہ انمول سی لک Deserve کرتے ہیں--- میں کیا میری نگاہ کی کیا اوقات ----
ندا نے اس کی باتوں کو زرا بھی لفٹ نہیں دی وہ اٹھ کر دروازے کی جانب جانے لگی پھر یکدم رک گئی۔۔۔۔۔ جاری ہے
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hukhan

Read More Articles by hukhan: 28 Articles with 26736 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Feb, 2017 Views: 1399

Comments

آپ کی رائے
nice epi :)
By: Zeena, Lahore on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like
niceeeeee epi :)
By: Zeena, Lahore on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 15 2017
0 Like
very very nice,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 14 2017
0 Like
Very nice episode
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 14 2017
0 Like