حضرت سیداحمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ کے رُخ حیات کی چند جھلکیاں

(Ata Ur Rehman Noori, India)
وصال سلطان سیداحمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ کے موقع پر
کرامات ،شخصی فضائل کے تذکرے اور بات بات پرنعرے بازی سے عقیدت کوتسکین توپہنچاسکتے ہیں مگراپنی عملی زندگی کی اصلاح نہیں کر سکتے
آپ کا مبارک نام’’ سیداحمدکبیر‘‘ہے،’’ابوالعباس‘‘ کنیت ہے اور’’ محی الدین‘‘ لقب ہے۔آپ کے اجدادمیں ایک صاحب کا نام ’’رفاعہ‘‘ تھا،ان کی طرف نسبت کے سبب ’’رفاعی‘‘مشہورہیں اور حضرت امام شافعی رضی اﷲ عنہ کی تقلید کے سبب شافعی کہے جاتے ہیں ۔
۔آپ کی ولادت باسعادت ملک عراق کے مشہورشہرواسط،اُم عبیدہ کے قریب مقامِ حسن میں پیداہوئے،اس علاقے کو 83ھ میں حجاج ثقفی نے آبادکیاتھاجو بصرہ علاقے میں ہے۔آپ نسبًاحسنی حسینی موسوی کاظمی رفاعی سید ہیں۔آپ انتہائی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔امیر وغریب،ادنیٰ واعلیٰ،ذات پات اور چھوٹوں بڑوں سب سے آپ یکساں سلوک کرتے تھے۔اکثرآپ مجذوبوں، اپاہجوں، نابیناؤں اور کوڑھیوں کے پاس جاتے، انھیں نہلاتے، ان کے کپڑے دھوتے،سراور داڑھیوں میں کنگھی کرتے،ان کے لیے کھانالے جاتے اور خود ساتھ تناول فرماتے،ان سے دعاؤں کی گزارش کرتے اور فرماتے ایسے لوگوں کی زیارت مستحب بلکہ واجب ہے۔
٭اخلاق:سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ کا اخلاق کس قدر بلندتھا اس روایت سے اندازہ لگائیں :’’ایک مرتبہ ایک بلی آپ کے دامن پر سوگئی،نماز کا وقت ہوگیا،آپ نے ایک بلی کی نیند کی خاطر اپنا باقی کادامن کترلیااور بلی کو اسی طرح سونے دیا،نماز سے فراغت کے بعد جب بلی کپڑے سے اٹھ کرچلی گئی تو آپ نے اس کپڑے کو دامن سے دوبارہ سی لیا ۔ (معدن الاسرار،ص104)ایک مرتبہ آپ کو خارشی کتاملا،جس کو اُم عبیدہ والے دور چھوڑآئے تھے، آپ اس کتے کے لیے بیابا ن میں گئے،اس کے لئے سائبان بنایا،اس کو تیل لگایا،اس کے کھانے کا انتظام کیا،اس کی خارش کو کپڑے سے صاف کرتے رہے اور جب وہ بالکل اچھا ہو گیاتو اس کوگرم پانی سے غسل دیا۔(معدن الاسرار،ص104)
٭خدمت خلق:آپ انتہائی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔امیر وغریب،ادنیٰ واعلیٰ،ذات پات اور چھوٹوں بڑوں سب سے آپ یکساں سلوک کرتے تھے۔اکثرآپ مجذوبوں، اپاہجوں، نابیناؤں اور کوڑھیوں کے پاس جاتے، انھیں نہلاتے، ان کے کپڑے دھوتے،سراور داڑھیوں میں کنگھی کرتے،ان کے لیے کھانالے جاتے اور خود ساتھ تناول فرماتے،ان سے دعاؤں کی گزارش کرتے اور فرماتے ایسے لوگوں کی زیارت مستحب بلکہ واجب ہے۔(معدن الاسرار،ص 95)
اُم عبیدہ کے دوردراز دیہاتوں میں کوئی علیل ہوتاتو اس کی تیمارداری کے لیے آپ ضرور تشریف لے جاتے،بوقت ضرورت کچھ دن ان کے پاس قیام کرتے،واپسی میں جنگل سے لکڑیاں اُٹھا لاتے اوربیواؤں،یتیموں،مسکینوں،اپاہجوں،نابیناؤں اور کبھی مشائخ وعلما کے گھروں میں تقسیم کرتے۔آپ کو ایساکرتے دیکھ کر آپ کی اتباع میں کثیر افراد نے اس فعل پر عمل شروع کردیاتھا۔آپ کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ آپ سڑک پر نابیناؤں کا انتظار فرماتے تاکہ وہ اپنی منزل تک بخیروعافیت پہنچ جائیں۔آپ جب کسی ضعیف کودیکھتے تو اس کے محلہ میں تشریف لے جاتے اور اہل محلہ سے اس کی سفارش کرتے اور فرماتے کہ شاہکار دست قدرت مصطفی جان رحمتﷺنے فرمایاہے کہ جوسفید بالوں والے یعنی بوڑھے آدمی کی تعظیم کرتاہے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے ایسے شخص کوپیداکردے گاجو اس کی ضعیفی میں اس کی تعظیم کرے گا۔(معدن الاسرار،ص 96)
٭تربیت کاانداز: ایک دن آپ وضو کے لیے کھجور کے باغ میں تشریف لے گئے ،جو دریاکے کنارے تھا،آپ نے دیکھاکہ ایک کشتی جارہی ہے جس میں کوتوال اور دیوان کے ملازم سوارتھے،ان کے ہمراہ بیگاریوں کی ایک جماعت تھی ۔سپاہی نے آپ کو دیکھ کر ساتھ چلنے کو کہا،آپ ساتھ ہوگئے،سپاہی نے آپ کو بھی بیگار میں داخل کردیا،گاؤں پہنچنے پر کام کرتے ہوئے ایک فقیر نے آپ کو دیکھ لیا،فقیر کے کہنے پر بہت سے فقراوہاں جمع ہوگئے اور شوروغل مچانے لگے۔ جب کشتی والوں کومعلوم ہواکہ آپ سید احمد کبیر رفاعی ہیں تو اپنے کئے پر بہت نادم ہوئے اور معذرت کرنے لگے۔آپ نے فرمایا:’’صاحبو!جوکچھ ہوا، اچھا ہوا، تمھاری حاجت پوری ہوئی اور ہمیں نیکی ملی اور نقصان بھی نہیں ہوا،تم بیکار ضعیفوں یاکاروباری لوگوں کوپکڑتے ہو، ان کے کاموں سے ان بے چاروں کو روک کر گنہگار بنتے ہو۔اگر آئندہ تمہیں ضرورت ہوتو مجھے خبر کرنا،میں تمہاراکام کردوں گا۔‘‘(معدن الاسرار،ص 96)اثرورسوخ اور شان و شوکت کے مالک ہونے کے باوجودآپ نے جس طرح سے ان کی تربیت فرمائی اس اندازِ کریمانہ سے متاثرہوکر اس فعل سے نہ صرف سپاہیوں نے توبہ کی بلکہ ان کاسردار بھی اس عمل سے تائب ہوا۔آپ نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی تربیت واصلاح فرمائی۔اپنے خطبات و ارشادات اور مواعظ حسنہ کے ذریعے آپ نے ہر طرح کے لوگوں کی اصلاح کافریضہ انجام دیااور دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔
٭غفلت اور گناہوں سے بچو:آج اسلامی تعلیمات کو چند چیزوں کا مجموعہ بنا دیاگیاہے،حقوق العباد سے صرفِ نظر کرتے ہوئے پوراتبلیغی زور نماز اور روزے پر لگایاجا رہا ہے، جب کہ اسلام زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنما اصول فراہم کرتا ہے،اسلام میں سر جھکانا بھی عبادت ہے اور حلال رزق کا حصول بھی۔شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ کامل اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’میرے عزیز!میں یہ نہیں کہتا کہ تم تجارت اور صنعت وحرفت وغیرہ جملہ اسباب سے الگ ہوجاؤ بلکہ میں یہ کہتاہوں کہ ان کاموں میں غفلت اور ارتکاب حرام سے بچتے رہو۔ میں یہ نہیں کہتاکہ تم بیویوں کو چھوڑ دو اور اچھے کپڑے نہ پہنوبلکہ میں کہتاہوں کہ خبردار!بیوی بچوں میں ایسے مشغول نہ ہوکہ خداکوبھول جاؤ اور قیمتی کپڑے پہن کر غریبوں کے سامنے نہ اتراؤ۔اور میں کہتا ہوں کہ ضرورت سے زیادہ اس طرح زینت وآرائش کا اظہار نہ کروکہ غریبوں کادل ٹوٹ جائے۔مجھے اندیشہ ہے کہ ایسی زینت سے تمہارے دلوں میں تکبراور غفلت پیوستہ ہوجائے گی۔البتہ میں کہتاہوں کہ اپنالباس صاف ستھرارکھومگر میں اس کے ساتھ یہ بھی کہتاہوں کہ اپنے دلوں کوبھی پاک وصاف رکھو،اس لیے کہ یہ کپڑوں کی صفائی سے مقدم ہے۔اﷲ تعالیٰ تمہارے کپڑوں کو نہیں دیکھتابلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتاہے‘‘۔ (البرہان الموید ، ص81 ، بحوالہ : سید الا و لیا ،از:فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی، ص46)
٭وقت اور قلب کی حفاظت:وقت کی اہمیت وافادیت کو پیش کرتے ہوئے سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:’’اپنے قلوب اور اوقات کی نگہداشت کروکیوں کہ تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی یہی دو چیزیں ہیں،وقت اور قلب۔اگر تم نے وقت کو فضول ضائع کیااور دل( کی جمعیت)کو برباد کیاتو تم فوائد سے محروم رہ گئے ،اور (وقت اور قلب کا برباد کرنایہ ہے کہ انسان گناہ اورغفلت میں مبتلاہوجائے ،اﷲ کی یاد اور اطاعت وعبادت سے کسی وقت خالی ہوجائے)خوب سمجھ لو کہ گناہ دل کواندھااور سیاہ کردیتے ہیں،اس کو بیمار اور خراب کردیتے ہیں۔تورات میں لکھاہے کہ ہر مومن کے دل میں ایک نوحہ کرنے والارہتاہے جو اس کی حالت پر نالہ وفریاد کرتا رہتا ہے اور منافق کے دل میں ایک گانے والارہتاہے جو ہروقت گاتا بجاتا رہتا ہے ، عارف کے دل میں ایک جگہ ہے جوکسی وقت اس کو خو ش نہیں ہونے دیتی اور منافق کے دل میں ایک جگہ ہے جو اس کوکسی وقت غمگین نہیں ہونے دیتی۔‘‘(البنیان المشیدالبرہان المؤید، ص112)
٭لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤ:حضرت رفاعی علیہ الرحمہ اخلاق حسنہ کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:’’لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤکیوں کہ خلق حسن تمام اعمال (نافلہ)سے افضل ہے۔مثل مشہور ہے:اگر تم اپنے مال سے لوگوں کو آرام نہ دے سکوتواپنے اخلاق ہی سے آرام پہنچاؤ،سب سے بہتر حسن اچھے اخلاق ہیں،اچھے اخلاق والابستر پر پڑاپڑاروزہ دار اورتہجدگزار کے مرتبے پر پہنچ جاتاہے،کیوں کہ فرائض کے بعد اﷲ تعالیٰ کے قرب کا بہترین ذریعہ یہی ہے،جب (لوگوں سے ملنے کے وقت)تیرادل گھٹاہوارہے تو عبادت سے تجھ کو کیا نفع؟ کیوں کہ تم اپنے کو دوسروں سے افضل سمجھتے ہو،جب ہی تو ہر شخص سے دل کھول کر نہیں ملتے‘‘۔(البنیان المشیدالبرہان المؤید،ص157)
٭زبان کی حفاظت کرو:’’اپنی زبان کو بے فائدہ باتوں میں ملوث کرنے سے پاک رکھ،تاکہ تیرا کلام اﷲ تعالیٰ کے مقدس دربار میں یعنی آسمانی عرش کے دربار میں جس کو اﷲ تعالیٰ نے طلب کی جہت بنایاہے جیساکعبہ کو عبادت کی جہت بنایاہے،پہنچایاجاسکے۔․․․․․․․․پس اپنے کلام کوایسابنانے کی کوشش کروکہ اس دربار میں پیش ہونے کے قابل ہو۔تاکہ تم پر اﷲ تعالیٰ کاحکم اور لطف و کرم اوپرسے آوے‘‘۔(البنیان المشیدالبرہان المؤید،ص159)
٭حرص سے بچو:’’عزیزمن!کیاتم نہیں دیکھتے کہ بچہ جب دنیامیں آتاہے تو حرص کے مارے مٹھی بند کئے ہوئے ہوتاہے اور جب یہاں سے جاتاہے ،ہاتھ پھیلائے ہوئے نکلتااور(گویازبانِ حال سے)اقرارکرتاہے کہ جس عارضی سامان پر اس نے حرص کی تھی اس سے خالی ہاتھ (جارہا)ہے،نصیحت کے لیے موت بہت کافی ہے،عبرت حاصل کرنے کو موت بہت ہے ۔ (البنیان المشیدالبرہان المؤید،ص169)
٭فضول باتیں اور فضول کام چھوڑدو:فضول باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت سیداحمد رفاعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’برخوردارمن!فضول باتوں اور فضول کاموں میں مشغول ہونے سے بچو،اپنے نفس کو غفلت کے راستے سے ہٹاؤاور بیداری کے دروازے سے پہنچو،ذلت وانکسار کے میدان میں جمع ہوجاؤ،بڑائی اورتکبر کے میدان سے نکل آؤ کیوں کہ تمہاری ابتداء خون کی ایک بوٹی اور انجام ایک بے جان لاشہ ہے۔پس اپنی ابتداء اورانجام کے درمیانی زمانہ میں اس طرح رہوکہ جیساان کے درجہ کے مناسب ہے‘‘۔(البنیان المشیدالبرہان المؤید،ص192)
٭حسد وتکبر کی مذمت:اس فعل قبیح سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے حضرت رفاعی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں:’’برخوردارمن!حسد سے بچو،کیوں کہ حسد تمام گناہوں کی جڑ ہے،شیطان نے جب آدم علیہ السلام سے حسد کیاتو ان کے مقابلے میں تکبر اختیار کیا،ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولاکہ میں تم دونوں کا پوراخیرخواہ ہوں۔آخر کار اﷲ کی رحمت سے دور کیاگیا۔پس جھوٹ ، تکبرا ورحسدبندے کو اﷲ کے دروازے سے دور کرنے کے اسبا ب ہیں۔تم اپنے نفس کو ان خصلتوں کا ہرگز عادی نہ بنانا،اپنے کو سب سے الگ کر کے اﷲ کی طرف متوجہ ہوجاؤ،اور خوب جان لو کہ رزق مقدر ہوچکاہے،جب اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو گے تو کسی سے حسد نہ کروگے۔خوب جان لو کہ تم مرنے والے ہو،جب اس بات کو پیش نظر رکھو گے تو کسی پر تکبرنہ کروگے۔اور خوب سمجھ لو کہ تم سے حساب لیاجائے گا ، جب اس مضمون کو دل میں جمالوگے تو جھوٹ کبھی نہ بولوگے‘‘۔(البنیان المشیدالبرہان المؤید،ص192)
٭عفوودرگزر:حضرت رفاعی علیہ الرحمہ کا مزاج انتہائی حلیم تھا،دوست ودشمن سے ملنے والی ہر تکلیف برداشت کرتے،یعنی صرف قولاًاخلاق کی تعلیم نہیں دیتے بلکہ عمل سے اپنی تعلیمات کو مزین فرماتے۔اچھائی کے جواب میں اچھائی اور برائی کے جواب میں بھی اچھائی سے پیش آتے اور یہی حقیقی صلہ رحمی ہے۔ایک بار حضرت سیداحمد کبیر رفاعی رحمۃ اﷲ علیہ کی فقراکے ایک گروہ سے ملاقات ہوئی،ان سب نے آپ کی شان میں نازیبا کلمات استعمال کیے،اخلاق حسنہ کامظاہرہ کرتے ہوئے آپ نے زمین بوسی کی اور کہا:’’اے میرے سردارو!مجھ سے راضی ہوجاؤمجھے تمھارے حلم سے یہی امیدہے‘‘۔اور ان سب کی دست بوسی کی،اس عاجزی کودیکھنے کے بعد انہوں نے کہاکہ ہم نے آپ سے زیادہ کسی فقیر کومتحمل نہیں دیکھا،اتنا سب کچھ سن لینے کے بعد بھی آپ نے ہماری باتیں برداشت کیں اور برہم نہیں ہوئے۔(معدن الاسرار،ص101)
٭حاصل کلام:آپ نے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی تربیت واصلاح فرمائی۔اپنے خطبات و ارشادات اور مواعظ حسنہ کے ذریعے آپ نے ہر طرح کے لوگوں کی اصلاح کافریضہ انجام دیااور دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔اس سلسلے میں آپ کے مواعظ وارشادات و نصائح پر مبنی راقم کاکتابچہ ’’حضرت سیداحمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ کی چندناصحانہ باتیں‘‘کافی مفید ہے جس میں البیلے اور سادہ سادہ انداز میں حضرت رفاعی کے اقوال نقل کیے گئے۔مشتے نمونے ازخروارے کے تحت یہاں حضرت موصوف کی چندنصیحتوں کا ذکر کیا گیا ۔یہ نصائح عملی زندگی کی کلیدہیں اوردنیوی واخروی زندگی کے ارتقاکی ضامن۔یہ ہمارا بھولا ہواسبق ہے جوہمیں یادکرناہے اورصرف یادنہیں کرنابلکہ ان پرعمل کرکے دکھانا ہے ۔بزرگوں سے عقیدت ومحبت کاسب سے اچھاطریقہ یہ ہوتاہے کہ ان کی باتوں پرعمل کیا جائے اوران کی حیات کوخضرراہ بنایاجائے۔صرف کرامات اورشخصی فضائل کے تذکرے اور بات بات پرنعرے بازی سے ہم اپنی عقیدت کوتسکین توپہنچاسکتے ہیں مگراپنی عملی زندگی کی اصلاح نہیں کر سکتے ۔ہماری کم نصیبی کہ ہم اپنے اسلاف کاتذکرہ توبڑے اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں مگران کی تعلیمات پرعمل کی توفیق چندہی خوش نصیبوں کوہوتی ہے ۔ہمیں یہ بات گرہ باندھ لینی چاہیے کہ اگرہم اپنے بزرگوں کی نصیحتوں پرعمل کرتے ہیں توواقعتاہم سچے ہیں اوران سے سچی محبت کرتے ہیں ورنہ یقین کرلیجیے کہ ہماری محبت جھوٹی ہے ،ہماری عقیدت بے جاہے اورہماری وابستگی کمزور۔آئیے! ہم سب تنہائی میں اپنے ضمیرسے ملاقات کرکے پوچھیں کہ ہماراتعلق کس زمرے سے ہے۔اﷲ پاک ہم سب کو علم وعمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 402555 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
14 Feb, 2017 Views: 1185

Comments

آپ کی رائے