تم کو کہیں جو غالب آشفتہ سر ملے

(Saleem Sarmad, )
دبیر الملک ،نجم الدولہ ،مرزانوشہ اسداﷲ بیگ المعروف غالبؔ 27دسمبر 1797ء میں کالا محل (آگرا)مرزا عبداﷲ خان عرف مرزا دولہ نبیرہ کے ہاں میں پیدا ہوئے ،71 برس عمر پائی، 15فروری 1869ء گلی قاسم جان ،چاندنی چوک(دہلی ) میں فوت ہوئے ۔ دس بارہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور ابتدائی ایام میں ہی علمی و ادبی اور شعری حلقوں میں اپنی شناخت بنا لی ۔انگریز سرکار کی وفاداری اور مغلیہ حکام کی مہربانیوں کے باوجودمرزا غالب نے بڑا پر آشوب دور دیکھا ،مغلیہ سلطنت کا زوال اور انگریزں کا تسلط مجموعی طور پر بر صغیر اورخاص کردہلی پر بڑا اثرانداز ہوا جس کے برے اثرات ہر طبقہء فکر اور غالب جیسی نابغہء روزگار شخصیات پر بھی پڑے ۔ان کی زندگی صعوبتوں سے بھر پور تھی ۔غدر کے بعد حالات انتہائی کشیدہ اور ناساز تھے،حیات ِ معاشرت ابتری، انتشار اوربد حالی کا شکار رہی ،دیگر شعبہ ء جات کی طرح علم و ادب کے فروغ میں بھی تعطل اور آیا اسی پر آشوب دور میں مرزا غالب پروان چڑھے اور انکی شاعری اور ان کے حالاتِ زندگی اور اس وقت کے مجموعی حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔مرزاکے عہد میں انسان اور معاشرے نے جو دکھ اور سختیاں جھیلیں اس کا ادراک اور بیانیہ مرزا کی شاعری میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔انہوں نے جہاں اپنے حالاتِ زندگی کے کرب ، سختیوں اور تلخیوں کا اظہار فرمایاوہیں مرزا نے آدمیت اور انسانیت کے دکھوں کے نشاندہی بھی کی ۔

گو یہ سچ ہے کہ مرزا غالب بہت بڑے فارسی دان اور فارسی کے کامل شاعر تھے مگر انہیں جوبلند مرتبہ اور نام و مقا م اردو شاعری نے دیا وہ غالب کے امر ہونے میں کافی ممد ومعاون ثابت ہوا۔اور یہ حقیقت ہے کہ دیگرشعراء کی طرح غالب نے ناصرف اردو کو زندہ رکھا بلکہ اپنے خون جگر سے آبیاری کر کے اس کے پھلنے پھولنے میں جوئے شیر لانے کے مترادف عملی کام کیا ۔

غالب مولوی محمد معظم (استادِ غالب ،شاعر ہندی و فارسی ) کے مکتب میں پڑھتے تھے کہ دس بارہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا میرؔ پہلے غالب شناس بن کر سامنے آئے اور میر کے بعد غالب کو متعارف کرانے میں نواب ضیاالدین نے اہم کردار ادا کیا ۔نواب ضیا الدین نے غالب کو ’’سرخیل ِانجمن نکتہ داں ‘‘ قرار دیتے ہوئے غالب پر ایک تقریظ لکھی ۔تنقیدی حیثیت کی یہ تقریظ سر سید احمد خان نے اپنی تصنیف ’’ آثارالصنادید ‘‘میں شامل کی ۔غالب کا اردودیوان پہلی بار سر سید احمد خان کے بڑے بھائی سید محمد خان کے قائم کردہ مطبع ’’سید المطابع ‘‘ دہلی سے 1841ء میں شائع ہوا۔

غالب اپنی مشکل پسندی کی وجہ سے کافی مشہور اور متنازع رہے ۔مصطفی خان شیفتہ کے تذکرے ’’گلشنِ بے خار ‘‘کے ذریعے محققین یہ بات سامنے لائے کہ مرزا غالب نے اپنے بہت سے اشعار حذف کر کے موجودہ اردو دیوان مرتب کیا تھا ۔

’’آثارالصنادید ‘‘ سر سید احمد خان کی معروف کتاب ہے جو کہ 1848ء میں ’’مطبع سید الاخبار ‘‘ سے شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں سر سید احمد خان نے غالب کے تعارف کے ساتھ دیوانِ غالب کے بارے میں جو تنقیدی جائزہ پیش کیا ،درج ذیل ہے :
’’ہاں ہاں امید و بیم کی کیفیت دل میں لے کر میں کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ تحریر کیا ہے بالیقین اردو زبان کے اس منتخب اردو دیوان کے متعلق ہے جو اعجازِ مسیحائی رکھنے والی کلک کا پاکیزہ ترشح ہے اور اس قلم کو چلانے والا عقل کے لئے ترازوئے عدل ہے اور بصیرت کے لئے اصطرلاب ہے جس سے وہ اجرامِ فلکی کے احکام معلوم کرتی ہے۔

اسے جوہرِ آئینہ آفرینش،میعار ِنقدِ گرانما ئگی اور بلند پائیگی کے نرد بان کا معراج کہیے تو بجا ہے، فی ا لواقعہ یہ شاعرِ گرامی منزلت قلم رومعنی پروری پر متصرف ہے ، سخن وری کی ولایت کا فرمانروا ہے ۔نو آئین نگاری کے جہاں کا مالک ہے تازہ گفتاری کے جہان کا سالارسخن گستری کے وجود کو حیاتِ نو بخشنے والا ،دیدہ وری کی آنکھ کو بینائی بخشنے والا، جس کی وجہ سے قلم کی شان و شوکت بلند ہوئی اور دوات کے خانوادے کا چراغ روشن ہوا ان اوراق کے ایک ایک صفحہ کو وید مقدس پڑھنے برہمن سمجھے ۔اس کتاب کا ہر ورق ایک معبد ہے ۔ایک جہان نما آئینہ خانہ ایک مصفا مقام ،جس میں مریم کردار پردہ نشین خیموں میں بیٹھے ہوئے ہیں اس میں ایسے شوخ چشم بھی ہیں جو شاید ان بازاری سے بھی زیادہ پردہ دری کرتے ہیں ‘‘

غالب کی شاعری کی طرح ان کے خطوط بھی اردو ادب کا بہت بڑا سرمایا ہیں ۔ان کی تصنیفات میں ’’کلیاتِ فارسی ۔دیوان اردو، قاطع برہان اور ایک رسالے ،دستنبو ‘‘کا بھی حوالہ ملتا ہے ۔غالب کے کلام میں وسعتِ معانی، بلندیِ خیال ،معنویت کے لحاظ سے گہرائی و گیرائی ، تصورِ حیات وتصورِ حسن و جمال، تصوف اور فلسفہ کے انفرادی اور امتیازی رنگ ہیں جو کہ دیگر قدماء میں دیکھنے کوکم ملتے ہیں ۔ان کا اسلوب نہایت جاندار اور معنویت کی مختلف جہتوں پرمشتمل ہے ۔گو کہ غالب بادہ خوارتھے مگر ان کی شاعری میں صوفیانہ عناصر بھی نمایاں ہیں غالب مجازی بات کو حقیقی انداز میں کہنے کی صوفیانہ قدرت رکھتے تھے ۔غالب کے کلام میں شعریت ہے ،شیرینی ہے ،تسکین و تمکنت ہے ۔ان کے زبان ِزد عام کے بجائے چند لا زوال اشعار دیکھئے جو کم کم پڑھنے سننے کو ملتے ہیں :

گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
سرِ خوش خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز
٭
حسن غمزے کی کشا کش سے چھٹا میرے بعد
بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد
٭
باغ تجھ بن ،گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
چاہوں گر سیرِ چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
٭
دیکھتا ہوں اسے ،تھی جس کی تمنا مجھ کو
آج بیداری میں ہے خوابِ زلیخا مجھ کو
٭
آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسد ؔ
حسبِ حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں

غالب ایک گنجینہء معنی تھے ، شعریت و معنویت کا بحرِ بیکراں ،وسعتِ خیال میں لاثانی،رنگِ سخن میں بے باک،خزینہ ء اردو اور ہر عہد پہ غالب ؛

آخر میں اس بابِ سخن کا یہ شعر جو ان کے حوادثِ زمانہ کی زد میں رہنے کے باوجود عشق و سر مستی کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کا مظہر اور دیوانگی و فریفتگی کا اظہارہے :
اے ساکنانِ کوچہء دلدار دیکھنا
تم کو کہیں جو غالب آشفتہ سر ملے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Sarmad

Read More Articles by Saleem Sarmad: 14 Articles with 13425 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Feb, 2017 Views: 540

Comments

آپ کی رائے