ما ھی بے آب(٢٦)

(Mini, mandi bhauddin)
وہ بھی وہی تھا‘‘لوگ بھی وہی تھے‘‘بس اب لوگوں کے رویے بدل چکے تھے‘‘شاید اس لیے کہ اب اس کی حیثیت بھی بدل چکی تھی‘‘اب وہ کوئی عام معمولی کم سن لڑکا نہیں ریا تھا‘‘بلکہ امریکن نیشنلٹی والا ایک بھر پور نو جوان تھا‘‘ لوگ اسے نہیں اس کے بینک بیلنس کو سلام کرتے ہیں‘‘اور یہ صرف وہی جانتا تھا کہ کتنی محنت کی ہے اس نے یہاں تک پہنچنے کے لیے‘‘
صبح آنے والی کال پر وہ خاصا الجھا ہوا تھا‘‘ پاکستان سے پھوپھو کی کال تھی‘‘ بڑی یاد آرہی تھی انہیں اس کی‘‘
سوچ کر اسے ہنسی بھی آئی‘‘پاس تھا تو کبھی پیارنہ آیا‘‘اب ٹوٹ کر پیار آرہا تھا‘‘عجیب باتیں‘‘عجیب لوگ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر وقت آہ و بکاہ تھی‘‘بلکل ویسی جیسی عموماَان گھروں میں ہوتی ہے‘‘جہاں موت آکر گزر جائے‘‘
ایک کونے میں بیٹھی مایا نے گھٹنوں سے سر اوپر اٹھایا‘‘ اسے لگا شاید یہ بھی اس خواب کا حصہ ہو‘‘جو کل رات اسکی آنکھوں نے دیکھا‘‘
اگر مجھے پتا ہوتا‘‘کہ رات کے اندھیرے میں دیکھےگئے خواب کی تعبیر دن کے اجالے میں اتنا درد ناک ہو گی‘‘تو شاید میں اس رات سوتی ہی نا‘‘جڑنے ہی نہ دیتی‘‘پلکوں کو‘‘کہ وہ خواب بن سکے‘‘
زارو قطار روتی ہوئی وہ خود کو کوس رہی تھی‘‘
مایا‘‘آؤ بیٹا‘‘آخری بار دیکھ لو پاپا کو‘‘بڑی اماں کی آواز پر اس نے چونک کران کی طرف دیکھا‘‘ اور ان سے لپٹ کر رونے لگی‘‘ چلو بیٹا اٹھ جاؤ‘‘ تدفین کا وقت ہو رہا ہے‘‘بڑی امی نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا‘‘
نہں بڑی امی‘‘اتنا حو صلہ نہیں میں‘‘ کہ اپنے سب سے انمول رشتے کو اپنے سامنے رخصت ہوتا دیکھ سکوں‘‘پاپا تو یہ جانتے بھی تھے‘‘کہ انکی بیٹی کتنی کمزور ہے‘‘بلکل بھی ہمت نہیں اس میں‘‘پھر بھی کیسے چلے گئے وہ اتنی بے فکری سے‘‘پاس بیٹھے سبھی لوگ اسے بلکتا دیکھ رونے لگے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو یار آج باہر سے کچھ کھا آتے ہیں‘‘موڈ نہیں گھرپر کچہ بنانے کا‘‘شفیق نے سستی سے کہا‘‘
اچھا!میں پہلے نماز پڑھ لوں‘‘پھر چلتے ہیں‘‘باسط نے اٹھتے ہوئے کہا‘‘
کبھی کبھی مجھے تجھے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے‘‘وہ جائےنماز سے اٹھاتو شفیق نے کہا‘‘
جتنا بھی کام ہو‘‘تھکاوٹ ہو‘‘کبھی تجھے نماز چھوڑتے نہیں دیکھا‘‘شفیق نے کہا تو وہ بس مسکرا دیا‘‘کیسے بتاتا اسےکہ نماز ہی تو اس کی تھکن اتارتی ہے‘‘
دونوں چلتے ہوئے باہر آ گئے‘‘ شفیق ارد گرد گزرتی لڑکیوں کو دیکھنے کے شغل میں تھا‘‘اسے شفیق کی یہ عادت بہت بری لگتی تھی‘‘ایک دو بار منع بھی کیا‘‘پر اس پر کوئی اثر نہیں‘‘(جاری ہے)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mini

Read More Articles by Mini: 57 Articles with 35455 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Feb, 2017 Views: 841

Comments

آپ کی رائے
osaam
By: abrish anmol, sargodha on Feb, 19 2017
Reply Reply
0 Like
thx again...
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 20 2017
0 Like
Excellent Episode
By: Abdul Kabeer, Okara on Feb, 17 2017
Reply Reply
0 Like
thanks,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 17 2017
0 Like
bohaaaaaaaaaaaaat acha epi tha ,,,,sis ap din ba din bohat acha likhte ja rahi hai ma shaa ALLAH bohat nice epi tha parh kar maza ayaaaaaaaaaa :)
By: Zeena, Lahore on Feb, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thank u sooo much sis,,,,ye tu ap ka piar hai,,,jo ap jo novel acha lag rha hai,,,thanks ance again
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 16 2017
0 Like
nice
By: abrish anmol, sargodha on Feb, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thx sis....apka novel qn nhi aa rha aj kal?
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 16 2017
0 Like
so good so nice,,,,put some colors in it
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thx for like,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 16 2017
0 Like
bht acha episode ta welldone sis
By: umama khan, kohat on Feb, 16 2017
Reply Reply
0 Like
thanks umama,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 16 2017
0 Like