ہم چاہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Shaukat Ali Khan, Sawabi)
ہم چاہتے ہیں کہ ہم تعلیم حاصل کریں۔تعلیم یافتہ کہلائیں ۔ڈگری مل جائے۔چاہے نقل سے ہی کیوں نه ھو۔ہم چاہتے ہیں که نوکری مل جائے اس کے لیے جعلی ڈگری حاصل کریں یا سفارش کریں یا رشوت دیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری کمائی حلال کی ھو لیکن رشوت چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے کیا کھا ئینگے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ہماری عزت ھو۔لیکن دوسروں کی عزت سر عام اچھالنے میں کوئ حرج نہیں سمجھتے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھوں کسی کو تکلیف نه ھو۔لیکن جھوٹ بولنے،غیبت کرنے،الزامات لگانے اور نفرت کی آگ بھڑکانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن ہم جیتے اور ہماری حکومت ھو تا کہ ہمارا خاندان اور جاننے والے مزے کی ذندگی گزارےاور ووٹ دینے والے کو اگلے الیکشن میں پھر بیوقوف بنانے کی منصوبہ بندی کریں ۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں دیانتدار سمجھیں،باکردار سمجھیں،عزتدار سمجھیں لیکن جونہی انتخابات قریب آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ہم ہوا کے رخ چلنا شروع کر دیتے ہیں۔جس پارٹی کی برسر اقتدار آنے کی امید روشن ھو اسی میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔اگلے الیکشن میں پھر یہی طریقہ واردات استمال کرتے ہیں۔مقصد صرف اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور سرکاری خزانے کا مفت استمال ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کریں اور حاجی صاحب یا الحاج کہلائیں ۔لیکن یہ سب کچھ سرکاری خرچے پر ھو۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رزق میں برکت ھو لیکن فجر کی نماز کو نیند کی غفلت میں ضائع کر دیتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ موت کے بعد قبر کے عذاب سے بچ جائیں لیکن کاروبار کی مصروفیت اور لہو و لعب میں تمام نمازیں قضا ھو جاتی ہیں۔اور پھر کہتے ہیں کہ الله پاک غفور و رحیم ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں لوگ ہمارے ماں باپ کی عزت کریں جبکہ دوسروں کے والدین کو گالیاں دینا ہماری عا دت بن چکی ہے۔۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کی ماں بہن بیٹی ،بیوی اور بہو کوکوئی بری نگاہ سے نہ دیکھیں جبکہ دوسروں کی خواتین کو گھورتے ھوۓ ہمیں اپنی بہن،بیٹی،بیوی اور بہو یاد نہیں رہتیں۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں پارسا ولی اور مومن سمجھیں لیکن بہن کو وراثت میں حصّہ نہ دینے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں کہ کس طرح اس کا حصّہ بھی میرے پاس رہے۔اگر وراثتی حصّے کو بچانے کے لیے بہن کی شادی قرآن سے بھی کرنا پڑجائے تو وہ بھی کرلیتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ عاشق رسول کہلائیں۔لیکن ڈاڑھیوں میں فرنچ کٹ،ہالی ووڈ کٹ اور طرح طرح کے نقش و نگار بنانے سے باز نہیں آتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے عالم مفتی اور حافظ قرآن بن جائیں ۔لیکن مدرسے میں ہم وہ بچے داخل کرتے ہیں جو اسکول کی تعلیم میں کمزور ہوں،جو انجنیئر پائلٹ اور ڈاکٹر نہ بن سکتا ھو۔یا جسمانی لحاظ سے کچھ عذر رکھتا ھو۔ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر افغانستان شام عراق وغیرہ مسلمان ملک آزاد ہوجائیں۔لیکن یہود و ہنود کے ورلڈ بینک اور ائی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لیے ہی بات چیت کرتے ہیں۔بعد میں ان کی شرائط پر عمل در آمد کرتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری شادی بیاہ سادگی سے ھو لیکن لوگوں کے ڈر سے ہم ایسا نہیں کر پاتے کیوں کیوں کہ لوگ طعنے دینگے۔اللہ پاک سے ڈرنے کی پرواہ نہیں ہوتی۔ہم چاہتے ہیں کہ کھیلوں ہاکی کرکٹ وغیرہ میں اپنے ملک کا نام روشن کریں۔قوم کے ہم ہیرو ہوتے ہیں۔لیکن چند پیسوں کی خاطر ملک دشمن بکیوں اور جواریوں کو اپنی کار کر دگی بیچ کر میچوں کے نتائج بدل دیتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ قرآن سیکھیں پڑھیں،مسجد میں درس میں شرکت کریں۔علما اور نیک لوگوں کی وعظ و نصیحت سنیں۔مگر فیس بک ، یو ٹیوب ،انسٹاگرام،موبائل،کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور سلفیاں یہ سب بھی بہت اہم کام ہیں۔سوشل میڈیا میں دوستوں کا ساتھ نہ دیں تو وہ ناراض ھو جا ئینگے اور ملامت کرینگے۔اس کے علاوہ جو وقت ملتا ہے وه کھیلوں اور فلمیں دیکھنے میں گزر جاتا ہے۔اب تو راتوں کا سکون بھی برباد ھو گیا ہے۔کیوں کہ سوشل میڈیا اور ان سارے کاموں کو وقت دینا بھی بہت ضروری ہے۔ساتھ بیٹھے ماں باپ ،بہن بھائی کیلئے وقت نکالنا اور بات چیت کرنا بہت مشکل ہورہا ہے۔لیکن سیکڑوں ہزاروں میل دور سوشل میڈیا پر ہر وقت آن لائن لوگوں کے لیے ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے۔فواحش دیکھنے کے لیے وقت ہی وقت ہے۔۔بہت بہت معذرت کے ساتھ لیکن یہ سب کچھ ہم کر رہے ہیں اور ہم سے ہورہا ہے۔کیا ساری ذندگی شتر بے مہار کی طرح یونہی بے مقصد ذندگی گزارینگے ؟۔ اللہ پاک چاہتا ہے،محمّد ص چاہتا ہےاور قرآن چاہتا ہے۔کہ ہم اپنی چاہت کو ان کی چاہت کے مطابق کر دیں۔اپنی آخرت اور روز محشر کی فکر کریں۔جنّت کو حاصل کرنے اور دوزخ سے بچنے کی فکر کریں۔قبر کے عذاب سے بچنے کی فکر کریں۔اور یہ سب تب ممکن ہیں جب ہم اللہ پاک،نبی پاک ص اور قرآن پاک کی چاہت کے مطابق اپنے ایمان کی فکر کرینگے۔اور جب ایمان کی فکر کرینگے۔تو دنیا وآخرت کے سارے معاملات ٹھیک ہوجائینگے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shaukat Ali khan

Read More Articles by Shaukat Ali khan: 6 Articles with 2953 views »
I am interested in reading books,writing articles,simple life,gentle men and acting upon "do respect have respect"... View More
21 Feb, 2017 Views: 450

Comments

آپ کی رائے