تم سبھی کچھ ہوبتاؤ تو مسلماں بھی ہو

(Nusrat Aziz, Attock)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

آج میں جب اپنے آس پاس حالات کا تقابلی جائزہ لیتاہوں تو مجھے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ دور یاد آجاتا ہے جب سماج پستیوں میں اتنا گھِرا ہوا تھا کہ آسمان اور آسمان پر اڑنے والے پرندے ، زمین اور زمین پر بسنے والے حیوانات، زمین کے کے اندر چھپے خزانے اور اس خزانوں کے ساتھ بسے حشرات۔۔۔زمین پر بسنے والی اشرف مخلوق سے ڈرتے تھے ۔۔۔ہاں یہ وہی دور تھا کہ جس کے بارے میں ہم پڑھ پڑھ اور سن سن کر عمر کے اس حصے میں پہنچے ہیں کہ اب یہ نقوش، جو تاریخ کی کتابوں سے ہمارے ذہنوں پر منتقل ہوئے ہیں ،پختہ ہو چکے ہیں اور تاریخ کا وہ بھیانک دور کتابوں میں تب تک محفوظ رہے گا جب تک یہ دنیا قائم ہے ۔۔۔ہاں میں اسی دور کی بات کر رہا ہوں کہ جب نہ بیٹی کی کوئی عزت تھی تو نہ ماں کی ، نہ ہی بہن کی اور نہ ہی بیوی کی ۔۔۔معاشرہ بے راہ روی کا ایسا شاہ کار تھا کہ نہ امن تھا اور نہ ہی امن کی بھاشا۔۔۔جی ہاں میں زمانۂ جاہلیت کی بات کر رہاہوں جس کا نقشہ مسدس حالی میں کچھ یوں کھینچا گیا:

قبیلے قبیلے کا بُت اِک جدا تھا
کسی کا ہُبل تھا ، کسی کا صفا تھا
یہ عزا پہ، وہ نائلہ پر فدا تھا
اسی طرح گھر گھر نیااِک خدا تھا
نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر ِ انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر
چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
ہر اِک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
نہ ٹلتے تھے ہرگز جو اڑ بیٹھتے تھے
سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے
جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے
تو صدہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے
بلند ایک ہوتا تھا گرواں شرارہ
تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا
وہ بکر او رتغلب کی باہم لڑائی
صدی جس میں آدھی انھوں نے گنوائی
قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی
تھی اک آگ ہر سو عرب میں لگائی
نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھاوہ
کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
لب جو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں
جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
تو خوف شماتت سے بے رحم مادر
پھرے دیکھتی جب تھے شوہر کے تیور
کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جاکر
وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی
جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی
جو ان کی دن رات کی دل لگی تھی
شراب ان کی گھٹی میں گویا پڑی تھی
تعیش تھا ، غفلت تھی ، دیوانگی تھی
غرض ہر طرح ان کی حالت بری تھی
بہت اس طرح ان کو گزری تھیں صدیاں
کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھیں بدیاں

پھر اسی آسمان اوراس آسمان کے نیچے چرند و پرند نے دیکھا کہ زمانہ جاہلیت کا بھیانک دور گزرا اور امن کا دور شروع ہوا ، اندھیرا چھٹا اور روشنی نمودار ہوئی اور رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے سراپا نے دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیا اور لفظ ’’مسلمان‘‘ سلامتی اور امن کی علامت بن گیا۔لیکن آج میں جب اپنے آس پاس مسلمانوں کے سماج میں مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے مسلمانوں کے ہاتھوں ہی نہ گزر گاہیں محفوظ دکھتی ہیں تو نہ ہی مساجد ، نہ درگاہیں اور نہ ہی درس گاہیں ۔۔۔تو کیا میں اپنے آپ کو زمانہ جاہلیت میں شمار کروں گی یا ابھی کچھ رمق باقی ہے؟

جب ایک بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے کان میں دی جانے والی اذان اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ مسلمان ہے پھر وہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو اس کی توتلی زبان سے جب کلمہ ادا ہوتا ہے تو گھر روشن و منور ہوجاتا ہے پھر وہ جب پہلی بار نماز کے لیے والد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو والد کا سینہ فخر سے پھول جاتا ہے کیوں کہ وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں کے اطوار اپنانا شروع کردیتا ہے مگر ستم ظریفی اس سے بڑی اور کیا ہو گی کہ وہ ایک مسجد میں جب مسلسل جانا شروع ہوجاتا ہے تو وہ مسلکی فرقوں میں بٹ کر کافر کافر کی صداؤں میں اپنی صدا کو شامل کر کے اس کو ثواب سمجھتا ہے ۔

یہ وہ موڑ ہے جس کو بھانپتے ہوئے دشمن ہم سے کبھی خود کش حملے کرواتا ہے تو کبھی چھریاں چاقوچلواتا ہے کبھی گولیوں کی بھنبھناہٹ ماحول کے سکون کو غارت کرتی ہے تو کبھی ڈنڈے خون خون کر دیتے ہیں ۔۔۔سڑکیں مسلمانو ں کے خون سے سرخ ہوجاتی ہیں درگاہیں درسگاہیں مسجدیں اور عبادت گاہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ہی مسلمانوں کے خون سے رنگی جاتی ہیں ۔۔۔شاید کے اس ستم ظریفی کی انتہا دیکھتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ اقبال ؒنے 1913میں جواب شکوہ میں اس اندیشے کا اظہار کر کے امت مسلمہ کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی :
شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہوبتاؤ تو مسلمان بھی ہو

موجودہ حالات کے تناظر میں جب میں مسلمانوں کے حالات دیکھتاہوں تو مجھے مسلمان کہیں ممالک میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں صوبوں میں، کہیں علاقوں میں کہیں شہروں میں،کہیں ذات پات میں تو کہیں خاندانوں میں، کہیں بریلوی نظر آتے ہیں تو کہیں دیوبندی ، کہیں اہل حدیث تو کہیں اہل تشیع،کہیں کچھ تو کہیں کچھ مگر افسوس صد افسوس کہ مسلمان کہیں نظر نہیں آتا ہے ۔کیوں کہ اگر مسلمان کہیں ہوتے تو آج فلسطین خون خون نہ ہوتا، اگر مسلمان ہوتے تو شام میں خون کی شامیں نہ ڈھلتی ، اگر مسلمان مٹھی بھر بھی ہوتے تو کشمیر میں ماؤں بہنوں کی عزتوں کے محافظ محمد بن قاسم گلی گلی سے نکلتے، اگر مسلمان زندہ ہوتے تو آج چیچنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر چیخیں روحوں میں سرایت نہ کرتی ، اگر مسلمان زندہ ہوتے تو برما میں مسلمانوں پر ظلم کرنے کی کسی نفس کوہمت نہ ہوتی مگر افسوس ۔۔۔کہ ہم سبھی کچھ ہیں مگر مسلمان نہیں۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کو چند منٹ کے لیے پس پشت ڈالیے اور اپنے اردگرد دیکھیے اور سوالیہ نگاہ سے ڈھونڈیں کہ کہیں مسلمان ہیں ۔۔۔مساجد جوکسی دور میں اتحاد و اتفاق کا نمونہ ہوتی تھی آج وہاں کافر کافر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ، نہ تو ہماری زبانیں اپنے مسلمانوں کے لیے محفوظ ہیں تو نہ ہی ہمارے ہاتھ ، نہ ہمارے قلم اور نہ ہمارے اجسام ، حتیٰ کہ ہمارے ارادے بھی اپنے مسلمانوں کے لیے ایسے نہیں کہ جن پر فخر بھی کیا جائے اور مالک کائنات رحمت و سلامتی بھی عنایت فرمائے۔

دشمن جب وار کرتا ہے تو اسے صرف مسلمان دکھائی دیتے ہیں وہ وار کرتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ یہ دیوبندی ہے یہ بریلوی ہے یہ اہل حدیث ہے اور یہ اہل تشیع ہے یہ پاکستانی ہے تو یہ کشمیری ہے یہ فلسطینی ہے تو یہ برمی ہے ۔۔۔ وہ وار کرتا ہے تو مسلمانوں پر وار کرتا ہے اور ہماری مساجد ، ہماری درسگاہوں ، ہماری درگاہوں ، ہمارے مدرسوں ، ہماری گلیوں ، ہمارے بازاروں ، ہمارے پارکوں اور ہمارے شہروں کومسلمانوں کے خون سے لال لال کرتا ہے اوراس کے مقابلے میں ہم اپنے ہی مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دے کر تہس نہس کرنے کے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر جنت کے حق داروں میں اپنا نام لکھوا لیتے ہیں ۔دشمن مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تہس نہس کرنے کے ارادے کرتا ہے اور ان ارادوں کو مکمل کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈے کو استعمال کرتا ہے اور ہم ابھی تک مسلمان ہی ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔جی ہاں ہم ابھی تک مسلمان ہی ڈھونڈ رہے ہیں ۔

ان حالات میں اب کرنا کیا ہے ؟اس کا جواب اسی نظم جواب شکوہ کے آخری شعر میں علامہ اقبال نے بیان کرکے رہتی دنیا تک کے لیے اس مسئلہ کا حل بتا دیا ہے اور ساتھ ہی اعزاز و اکرام بھی بتا دیا ہے :
کی محمد ؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nusrat Aziz

Read More Articles by Nusrat Aziz: 98 Articles with 49418 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Feb, 2017 Views: 743

Comments

آپ کی رائے