دہشت گردی کی شاخیں اورتنے

(Wisal Khan, Karachi)

ویسے تووطن عزیزکے باشندے تب سے سکون کی سانس کوترس گئے ہیں جب سے سوویت یونین افغانستان پرحملہ آورہوا1979سے لیکرتاحال پاکستان میں بم دھماکوں کاایک نہ رکنے والاسلسلہ چل رہاہے ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ دھماکے اب تک ایک لاکھ افرادکی جان لے چکے ہیں مساجد، مدرسوں،بازاروں، امام بارگاہوں،چرچوں اوردیگرعبادتگاہوں سمیت سکول کالجز اوریونیورسٹیاں تک بارودکی گونج گرج سے محفوظ نہ رہ سکیں اورجن درودیوارنے بچوں کے قہقہوں سے گونجنا تھا انہی بچوں کے خون سے رنگین ہوگئے ہزاروں بوڑھے کندھوں نے اپنے جوان بچوں کے جنازے اٹھائے اورلاتعدادمائیں اپنے جگرگوشوں کی راہیں تکتی رہ گئیں اوربے وقت موت کایہ مجنونانہ رقص ابھی جاری ہے دنیاکی تقریباًتمام جنگوں میں بیگناہ اورمعصوم شہری ہی نشانہ بنتے ہیں یہی پاکستانی باشندوں کے ساتھ بھی ہورہاہے سوویت یونین کے افغانستان پرحملے سے قبل اگرچہ پاکستان بھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑچکاتھامگران جنگوں میں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہوتی تھیں اوراگرہندوبنیااپنی سازشوں کے ذریعے عوام کوان جنگوں کاایندھن نہ بناتاتوان روایتی جنگوں سے عوام کاکوئی جانی نقصان نہ ہوتادنیاکی تقریباًہرسازشی اورطاغوتی قوت کانشانہ عام لوگ ہی ہوتے ہیں سوویت یونین کے افغانستان پرحملہ آورہونے کے بعدجب پاکستان اس جنگ میں چاروناچارکودپڑاتوہندونے اپنے آقاسوویت یونین کی خوشنودی اورجھوٹی اناکی تسکین کیلئے پاکستان کے اندرپرامن شہریوں کوبم دھماکوں کانشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی 80کی دہائی میں پاکستان کے اندرجتنے بم دھماکے ہوئے ان میں افغان اورپاکستانی باشندے بلاامتیازمارے گئے ان سب کی منصوبہ بندی رااورکے جی بی کرتے رہے جن کے جواب میں پاکستان نے خالصتان تحریک کی حمایت کی اوریہاں ہونے والے دھماکوں کاجواب بھارت کے اندرملتارہاسردجنگ کے اس زمانے میں بھارت اسقدرشیرنہیں تھااوراسے کسی کارروائی کاجواب اسی اندازمیں مل جانے پروہ کافی عرصے تک اپنی چھوکڑی بھول جاتاتھاامریکہ کے افغانستان پرچڑھ دوڑنے کے بعدجب پاکستان خودکش دھماکوں کی زدمیں آیاتوابتدامیں یہ حملے طالبان کے کھاتے میں ڈالے جاتے رہے مگرآہستہ آہستہ جب امریکہ نے افغانستان سے واپسی کی راہ لینی شروع کی افغانستان میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی اوراس کٹھ پتلی کے دھاگے بھارت کے ہاتھ میں تھمادئے توبھارت کوافغانستان اورپاکستان میں کھل کرکھیلنے کاموقع میسرآیاآج پاکستان کے اندرہونے والے ہردھماکے اوردہشت گردی کی کارروائی کواگرچہ سابقہ جہادی تنظیمیں اپناتی ہیں مگرساری دنیاکومعلوم ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے بھارت کاہاتھ ہے بھارت ان نام نہادجہادی تنظیموں کوفنڈزفراہم کرتاہے اس نے افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت کے توسط سے جہادی تنظیموں کے ساتھ روابط استوارکئے ہیں جسکے نتیجے میں بھارت کوافغانستان اورپاکستان میں کھل کرکھیلنے کے مواقع مل رہے ہیں پاکستان کے مفرورسابقہ جہادیوں کی ضروریات بھارت کی جانب سے پوری ہورہی ہیں جن کے بدلے وہ پاکستان میں بے گناہ اورنہتے عوام کاخونِ ناحق بہارہے ہیں پاکستانی عوام کے گرنے والے خون کاہرقطرہ بھارت ،امریکہ اورنام نہادجہادی تنظیموں کے سرہے ان جہادی تنظیموں کی پیٹھ پراگرامریکہ اوربھارت نہ ہوتے توانہیں پاکستانی فوج کے سامنے ٹھہرنے کی جرات نہ ہوتی آج پاکستان میں دہشت گردی کی جس لہرنے سراٹھایاہے اسکے پیچھے بڑی طاقتیں نہ ہوتیں تو اکیلے جہادی تنظیموں میں یہ دم خم نہیں کہ وہ پاک فوج کوللکارسکے اس کامظاہرہ ہم ملاکنڈ ڈویژن ،شمالی اورجنوبی وزیرستان ،خیبرایجنسی اوردیگرعلاقوں میں ملاحظہ کرچکے ہیں جہاں پاک فوج کی ہلکی سی ضرب سے قابض دہشت گردبھاگنے کی راہیں تلاش کرتے رہے پاکستان کی موجودہ بدامنی جن قوتوں کے مفادمیں ہے ان میں بھارت اسرائیل اورامریکہ شامل ہے حالیہ حملوں کی ٹائمنگ اورمنصوبہ بندی چیخ چیخ کریہ اعلان کررہی ہے کہ ان میں امریکہ کی نئی انتظامیہ کاعمل دخل موجودہے اسرائیل اورامریکہ کی گٹھ جوڑنے مشرق وسطیٰ کے متعددہنستے بستے ممالک کوتاخت وتاراج کیاجوباقی بچتے ہیں ان پربھی ان کانظرکرم ہے مگرکچھ ممالک ایسے ہیں جنہیں اگرعدم استحکام کاشکاربنایاجاتاہے توپاکستان کاخاموش رہناممکن نہیں اسی لئے اسرائیل اورامریکہ کی نئی انتظامیہ پاکستان کواندرسے توڑپھوڑکرمشرق وسطیٰ کے باقی ممالک کوبھی عراق،شام،لبنان اورلیبیاکے طرزپر ملیامیٹ کرناچاہتے ہیں اس سے ایک توانکے اسلحے کی ٹیسٹنگ ہوتی رہے گی دوسرے اسرائیل اورامریکہ کے اسلحے کے جوانبارگوداموں میں پڑکرگل سڑرہے ہیں اسکی اچھی قیمت بھی مل رہی ہے امریکہ جس نے حقانی نیٹ ورک کے نام پر پاکستان کی زندگی اجیرن کررکھی ہے اپنے زیرکنٹرول افغانستان میں بیس سے زائدتنظیموں کابال بھی بیکانہیں کرسکتاافغانستان کے اندرحملے افغانستان کی ہی سرزمین سے ہورہے ہیں جہادی تنظیموں کے تمام سرخیل افغانستان میں محفوظ بیٹھے ہوئے ہیں وہ جیسے ہی پاکستان میں داخل ہوتے ہیں مارے جاتے ہیں اسامہ بن لادن سے لیکرملامنصورتک افغانستان میں زندہ وسلامت رہے مگرپاکستان کی سرزمین انکے لئے موت کاپیغام بن گئی پاکستان نے اپنی سرزمین سے جن دہشت گردتنظیموں کاصفایاکیاوہ امریکہ کے زیرتسلط افغانستان میں دوبارہ جمع ہوئے امریکہ نے اگرافغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلئے ہیں توبیس سے زائددہشت گردتنظیموں کے ہیڈکوارٹروہاں کیوں موجودہیں؟ کیاامریکہ کے یہی اہداف تھے کہ افغانستان میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے اور تمام دہشت گردوں کوافغانستان میں جمع کرکے انکی کمان بھارت کے حوالے کی جائے اگرامریکہ کے یہی اہداف تھے تووہ اس کے حصول میں واقعی کامیاب رہاہے پاکستان کواب امریکہ سے کسی بھلائی یاخیرکی توقع نہیں رکھنی چاہئے ریاست پاکستان نے اگرخودکومحفوظ رکھناہے توافغانستان سے سعودی عرب ،ترکی یاچین کی طرح خلوص کی توقع نہ رکھے افغانیوں کواپنی روایات کے مطابق ایک ’’تربور‘‘ کی ضرورت ہے جووہ پاکستان کوسمجھتے ہیں پاکستان نے ابھی اس کیلئے اپنے ایک لاکھ لوگ قربان کئے ہیں اگرپوراپاکستان بھی قربان ہوجائے توافغانستان کوپاکستان کے خلوص کایقین دلاناممکن نہیں افغانستان پاکستان کے ساتھ روزاول سے کینہ رکھتاہے اوریہ تاقیامت رہے گامگرافغانستان پاکستان پربراہ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اورجب بھی افغانستان پربراوقت آئے اس نے اپنے تربوریعنی پاکستان کی جانب ہی دیکھناہے پاکستان کوافغانستان کے ساتھ لگنے والی طویل سرحدپرکڑی نگرانی رکھنے کاانتظام کرناہوگااب یہ مشکل ہے یاناممکن مگرکرناضروری ہے بھارت کی پراکسی وارکامقابلہ 80کی دہائی کی طرح پراکسی وارسے ہی کرناہوگااسرائیل اورامریکہ جس زبان کوسمجھتے ہیں اسی میں بات کرنی ہوگی پاکستان اگرچہ ان ممالک کے مقابلے میں بظاہر کافی کمزورنظرآرہاہے مگرمحل وقوع،مضبوط دفاع اورسی پیک نے اسکی اہمیت کودوچندکردیاہے پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کامنہ توڑجواب دینے کی صلاحیت سے مالامال ہے بس اسکے کرتادھرتاؤں کواپنامقام پہچان کرقدم اٹھانے ہونگے اسے دہشت گردی کی شاخوں کے ساتھ ساتھ ان تناوردرختوں کے تنے کاٹنے اورہواپانی وآکسیجن کے راستے بندکرنے ہونگے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 32062 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Feb, 2017 Views: 291

Comments

آپ کی رائے