طلاق یافتہ

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 (۲۰۱۷؁ء۔۰۲۔۱۲)
شک خوش گوار انسانی تعلقات پر پژمردگی طاری کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔شک کی ہوا مسکراتے پھولوں کو چمکتے کانٹوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔شک کا سایہ آسیب کے سائے سے بھی زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔خوش گوار ازدواجی زندگی کا انحصار تین باتوں پر ہے: دوستی،برداشت اور پاس داری۔ دوستی، خوش نصیب میاں بیوی میں ہوتی ہے، برداشت کامیاب میاں بیوی میں ہوتی ہے ، اور پاسداری اکٹھے رہنے کی خواہش رکھنے والے میاں بیوی میں ہوتی ہے۔دوستی اور پاس داری کے شیشے اکثر ٹوٹ جاتے ہیں کیوں کہ یہ آئیڈئیل کے مظہر ہوتے ہیں ، اور برداشت کا آئینہ اگر ٹوٹنے سے بچ جائے تو یہ رشتہ باقی رہ سکتا ہے اور اگر معاملہ ،برداشت سے باہر چلا جائے تو علیحدگی ہی بہتر رستہ سمجھا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فریحہ کا پھول سا بدن پھول چکا تھا، لیکن اس کا چہرہ ابھی ایک کھِلے گلاب کی شام کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ کسی ندی کے کنارے لہراتے ایسے صنوبر کا احساس دلاتی جسے صدیوں سے یہ تمنا ہو کہ کاش کوئی اس کے قریب بھی آئے چاہے وہ کوئی کانٹے دار جھاڑی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کسی ندی میں اترتے چاند کا عکس محسوس ہوتی جو یہ چاہ رہا ہو کہ کاش پانی کے دھارے اسے اپنے دامن میں، کچھ دیرکے لئے ہی سہی، سمیٹ لیں تا کہ وہ تنہائیوں کے صحرا سے کچھ لمحوں کے لئے پیچھا چھڑا سکے۔

فریحہ کی بوڑھی والدہ کے دل کے دو روگ تھے : ایک بیرونی درد اور ایک اندرونی درد۔ ایک تو وہ ہارٹ پیشنٹ تھی ، دوسرا بیٹی طلاق یافتہ ہو کر گھر کی دہلیز پر لگنے والا ناپسندیدہ دھبہ بن گئی تھی۔ دونوں صدمے جان لیوا تھے لیکن وہ کئی سالوں سے چارپائی کی زینت بنی ہوئی تھی اور نا جانے مذید کتنے برسوں نے اسے ایسی حالت میں رکھناتھا۔وہ مرنے کی خواہش کرتی لیکن بیٹی کا اکلاپا اس کی زبان روک لیتا ، بلکہ وہ اپنی مصیبت کو تا دیر برداشت کر لینے کا ارمان کرنے لگتی ۔ وہ بیٹی کو دوسری شادی کا، دبے الفاظ میں، مشورہ دیتی تو فریحہ اپنی ہتھیلی اس کے دونوں ہونٹوں پر رکھ کر اس کے لبوں کی جنبش روک لیتی۔ دونوں ماں ، بیٹی کی آنکھوں میں شفاف پانی کا سمندر تیرنے لگتا۔ اس سمندر میں الفاظ کی کشتیاں ڈوب کر اپنے بادبان سطح پر چھوڑ جاتیں تا کہ کوئی انکا سراغ پانے نکلے تو اسے مل سکے۔

فریحہ کی والدہ ایک ریٹائرڈ ٹیچر تھی جس کی ساری زندگی جدو جہد سے آراستہ تھی۔اس کا شوہر ایک حادثے کا شکار ہو کر اسے اکیلے تلاطم ہائے بحرو بر سے نبرد آزما ہونے کے لئے چھوڑ گیا۔اسے اکیلے زندگی سے لڑتے دیکھ دیکھ کے فریحہ کی تنہائی حوصلہ مند ہو چکی تھی اور اکیلے پن سے گھبراہٹ کافی کم ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں اکیلے رہنے کا لطف بھی اس کے لا شعور کا حصہ بن چکا تھا۔ وہ اکیلے پن کی آزادی اور کسی دوسرے کی ماتحتی میں کافی زیادہ فرق محسوس کر رہی تھی۔ ہر انسان کے شعور کے پیچھے اس کا لاشعور کھڑا ہوتا ہے اور اسے گائیڈ کر رہا ہوتا ہے۔ اس لا شعور کو بہت سے ان پڑھ، پڑھے لکھوں سے زیادہ سمجھتے ہیں۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ انسان ہر بات اپنے لا شعور کی مانے کیوں کہ شعور میں اتنی طاقت ہے کہ لاشعور کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔لیکن لاشعور وہاں سے وار کرتا ہے جہاں سے توقع نہیں ہوتی۔ یہ اکثر شبخون مارتا ہے اور شعور کو مار دیتا ہے جسے عرفِ عام میں ’ مت ‘ماری جانا کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ کی شادی اس کے خالہ زاد کزن سے بڑی دھوم دھام سے ہوئی ، جوڑا اتنا سجا کہ ہر کسی نے کہا کہ ایسا جوڑا تو ہنسوں کا بھی نہیں بنتا۔ یہاں تک کہ لوگ اس کی مثالیں دیتے رہے کہ شادی ہو تو ایسی ۔ قدرتی طور پر دونوں کے قد کاٹھ، رنگت اور خدوخال میں بلا کا امتزاج اور اشتراک تھا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ تو ان کے ،ہونے والے، بچوں کے متعلق بھی بات کرنے لگے کہ وہ بھی بے مثال ہوں گے۔ فریحہ کی والدہ اور اس کی ساس بننے والی خالہ میں بھی بچپن سے محبت تھی لیکن شادی کے بعد کی زندگی شادی سے پہلے کی زندگی سے یکسر نہیں تو بہت زیادہ مختلف ضرور ہوتی ہے۔بعض اوقات یہ فرق اتنا بڑھتا ہے کہ بہن، بھائیوں میں بھی پہلے والی نہیں رہتی۔فریحہ کی خالہ بھی اسی انداز کے ماحول کی بدلی ہوئی چیز تھی۔ اس کا بیٹا بھی اپنی مرضی کرنے والا اڑیل نوجوان تھا۔ ادھر فریحہ، ماں کے لاڈ کی، بگڑی ہوئی مخلوق تھی۔بدلتے ماحول نے نوجوانوں کے ذہنوں کو مثبت اور منفی دونوں انداز میں کچھ زیادہ ہی بدل دیا تھا۔ خیر اچھے برے لوگ اور واقعات تو ہر دور میں ہوتے ہی رہتے ہیں۔قسمت کا انسانی معاملات میں کچھ زیادہ ہی ہاتھ یا ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرا شخص کیسا ملتا ہے یا کیسا رہتا ہے، اس کا انسان اتنا حتمی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ جب قسمت ساتھ نہ دے رہی ہو تب اکثر اندازے غلط ہی ثابت ہوتے ہیں۔

فریحہ کو عادت تھی کہ پیکج کروا کے اپنی دوستوں کے ساتھ لگاتار باتیں کرتی رہتی۔ اکثر اوقات باتیں چلتے چلتے گھنٹوں کی مسافت طے کر لیتیں، اور پتہ بھی نہ چلتا کی اتنا وقت گزر گیا ہے۔اس کے اندر کوئی غلط خیالات تو نہیں تھے لیکن یہ عادت اپنے طور پر بھی اتنی پائیدار یا قابلِ ستائش نہ تھی۔ اور اگر کسی کو شک پڑ جائے جیسا کہ میاں، بیوی کے رشتے کے لئے شک زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے اور تعلق کو نہ صرف خراب بلکہ برباد کر دیتا ہے۔ یہ بربادی پھر ایک شخص سے بڑھ کر ایک خاندان اور پھر کئی اور زندگیوں کو بھی ، وبائی مرض کی طرح، اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

فریحہ کی یہ عادت سسرال جا کے بھی نہ چھوٹی۔ گھر میں کرنے کو کام کوئی تھا نہیں، بات کرنے کے لئے بھی اسے صرف تنہائی دستیاب ہوتی۔ اس کی خالہ زیادہ باتیں پسند نہیں کرتی تھی۔ ویسے بھی زیادہ باتیں تو صرف دوستوں یا ہم عصروں سے ہی کی جاتیں ہیں یا پھر جن کا ایک جیسا مزاج ہو ۔ مصیبت یہ ہے کہ مزاج ہر کسی سے ملتا نہیں اور شادی کے معاملے میں اور سب کچھ تو دیکھا جاتا ہے ، مزاج نہیں دیکھا جاتا کہ شادی کے بندھن میں بندھے جانے والوں کا مزاج بھی مشترک ہے یا مختلف ہے۔ یہ بات قسمت پر چھوڑ کر مستقبل کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے ۔ جس طرح رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں ایسے ہی مزاج بھی زمیں پر نہیں بنتے ، کہیں اور بنتے ہیں اور پھر انہیں زمین پر ڈھالا یا بدلا بھی نہیں جا سکتا۔

فریحہ کے شوہر مسعودجاوید کا مزاج بھی اپنی ماں کے زیرِ اثر سکوت پسند تھا۔ وہ بھی صبح کے ناشتے کے بعد شام تک نہ گھر واپس آتا اور نہ ہی فون پر کوئی بات کیا کرتا۔ وہ فطرت کا برا نہیں تھا اور نہ ہی اس کی والدہ کا کوئی خیال اپنے بیٹے کے بنے بنائے آشیانے کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دینے کا تھا لیکن قدرت جو چاہے کرتی ہے مگرکرواتی انسان ہی سے ہے۔کچھ مدت بعد فریحہ کی حرکات و سکنات کی نگرانی شروع ہو گئی۔ روزانہ کی رپورٹ تیار ہونے لگی۔ اور ایک ایک بات کی اطلاع مسعود کو دکان پر بیٹھے بٹھائے ملنے لگی۔

فریحہ ان باتوں سے با لکل بے فکر اور آزاد خیال ۔ وہ کئی کئی گھنٹے اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتے ہوئے گزار دیتی۔ اس کی خالہ جو اب ساس تھی، اسے بار بار مختلف کاموں میں لگا نے اور کمرے سے بار بار باہر بلانے کی کوشش کرنے لگی۔ فریحہ کو اندازہ ہونے لگا کہ کچھ تبدیلی کے بادل چھانے لگے ہیں۔ موسم پہلے جیسا نہیں رہا ، اونٹ اپنی کروٹ بدلنے لگا ہے۔اس کے دل میں چور نہیں تھا اس لئے اسے زیادہ فکر بھی نہیں تھی لیکن دوسری طرف شکوک و شبہات کے سائے آہنی مجسموں کی شکل اختیار کر چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن جب مسعود گھر واپس آیا تو اس نے اپنی ماں کو روتے ہوئے پایا۔رونے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کچھ بتانے کی بجائے کہا کہ’ بہو جو اپنی بھانجی لے آئی ہوں ، اب ساری عمر رونا ہی پڑے گا۔ مجھے کیا پتا تھا کہ یہ ایسی ہے۔‘ کچھ تو اسے پہلے ہی دکان کے معاملات کی کچھ پریشانی تھی ، کچھ ماں نے آتے ساتھ ہی ایسی بات کہہ دی ۔ وہ ایک پھٹتے آتش فشاں کی سی شدت سے فریحہ کے کمرے کی طرف لپکا۔ وہ فون پے اپنی دوست انیلا سے بات کر رہی تھی۔ مسعود کو دیکھتے ہی اس نے بات روک کر فون بند کر دیا۔ مسعود کو اس پر بہت غصہ آیا۔ اس نے چلاتے ہوئے کہا : تم کس سے بات کر رہی تھی۔ کون تھا یہ؟ اور ساتھ ہی آپے سے باہر ہوتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کر دیا۔ وہ دم بخود رہ گئی۔ اسے کبھی اس رویئے کا سامنا نہیں کر نا پڑا تھا اور نہ ہی توقع تھی کہ بغیر کسی غلطی کے اسے ایسی سزا مل سکتی ہے۔ پھر بھی حوصلہ کرتے ہوئے، اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے پوچھ لیا: کیا ہوا، میں نے ایسی کون سی غلطی کی ہے؟
’تم ہر وقت اپنے یاروں سے بات کرتی رہتی ہو۔ اگر تمہیں یہی کرنا تھا تو شادی ہی کیوں کی تھی۔ مجھے پکڑاؤ اپنا فون۔‘ مسعود نے کہا۔
یہ کہہ کر اس نے فریحہ کے ہاتھ سے فون چھین لیا ۔ اور اسی نمبر پر کال کر دی ۔ جیسے ہی فون رسیو ہوا اس نے انتہائی غصے سے کہا :
کون ہو تم؟ تمھارا نام کیا ہے؟
فریحۃ کی دوست انیلا نے ایسا غصے والا لہجہ سنتے ہی فون بند کر دیا۔ اس سے مسعود کے غصے کی آگ پر مذید تیل چھڑک گیا۔ اس نے فون ری ڈائیل کر دیا ۔ انیلا کا فون بجنے لگا۔ اسی لمحے اس کا بھائی پاس کھڑا تھا۔ اس نے فون اٹنڈ کر لیا۔ اس نے جیسے ہی ہیلو کہا۔ مسعود نے اسے گالیاں دینی شروع کر دی۔ انیلا کے بھائی نے فون بند کر دیا۔
مسعود نے ایک بار پھر فریحہ پر ہاتھ اٹھایا اور اس کی کمر اور چہرے پر اپنے مکوں اور تھپڑوں کی بارش کر دی۔ اور پھر زور سے دھکا دے کر بیڈ پر پھینک کر باہر چلا گیا۔
فریحہ کا دل و دماغ اس کے اختیار سے باہر جا چکا تھا۔ وہ فوراً مر جانا چاہتی تھی۔ وہ موت کی اذیت سے بھی بڑی اذیت میں مبتلا تھی۔ اس کے لئے اس گھر میں ایک سیکنڈ کے لئے رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس نے سسکیاں بھرتے بھرتے اپنی ماں کو فون کیا ۔ اس میں ماں سے بات کرنے کا حوصلہ نہیں ہو رہا تھا۔اس کی ماں کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہو گیا ہے۔
ماما مجھے اس گھر میں کیوں بیاہا تھا؟ میں نے آپ کا کیا بگاڑا تھا؟
ما ما مجھے ابھی اس گھر سے لے جاؤ ، میں یہاں ایک لمحہ بھی نہیں رہنا چاہتی۔
مجھے مسعود نے بہت پیٹا ہے۔ ما ما میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔
بیٹا بات کیا ہوئی ہے۔ مجھے کچھ تو بتاؤ نا۔
فریحہ کی والدہ نے ضبط و طیش کی ملی جلی کیفیت میں اپنی بہن کو فون کیا۔ فون اس کی بہن کی بجائے مسعود نے اٹھایا اور بغیر کوئی بات سنے اپنی طیش سے بھری باتیں اپنی خالہ کو کہہ دیں۔ اس نے اسے صاف صاف کہہ دیا :
اپنی بیٹی کو لے جاؤ ۔
ہم نے اس بازاری کو اپنے گھر نہیں رکھنا۔
یہ میرے کسی کام کی نہیں۔
مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
یہ باتیں مسعود اتنا چیخ چیخ کر کر رہا تھا۔ کہ فریحہ کو اپنے کمرے میں یہ ساری باتیں صاف صاف سنائی دے رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ کو اپنی ماں کے گھر واپس آئے دس سال بیت چکے تھے۔وہ ایک بیٹے کی ماں بن چکی تھی۔ وہ اپنا خرچہ خود چلانے لگی ۔ وہ پہلے ٹائم ایک سکول میں ٹیچنگ کرتی اور سیکنڈ ٹائم گھر میں ٹیوشن پڑھاتی ۔اس کی بوڑھی والدہ دل کی مریضہ ، لیکن اپنی بیٹی کے لئے ساری کائنات تھی۔فریحہ نے دوبارہ شادی کا نہیں سوچا۔ وہ اپنے بیٹے کے لئے اپنا سب کچھ وقف کر چکی ۔ اس کی آزاد طبیعت کسی کا بوجھ برداشت نہیں کرتی۔ وہ کسی کا احسان اٹھانا نہیں چاہتی۔ وہ تنہائی کی زندگی سے مطمئن ہو چکی تھی۔وہ لوگوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا کرتی۔ اسے ہر شادی شدہ جوڑے میں اپنے ماضی کی جھلک نظر آتی۔اپنے سسرال میں گزارے چند مہینے اس کی زندگی کا ایسا باب تھے جسے وہ کسی دن بھی کھولنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ باب ہر وقت خود ہی کھل کر اس کی نظروں میں آ جاتا ۔ اور کتاب کے سفید صفحے اس کی سفید سفید آنکھوں میں پانی بھر جاتے۔ وہ اکثر اکیلی رہتی۔ اپنے خیالوں میں گم۔ اس کا تیز طرار لہجہ جو کبھی ایک منہ زور لہر کی طرح تھا اب ایک تھکے ہوئے ساحل کا سنا ٹا اپنے اوپر طاری کر چکا تھا۔ کبھی اسے ہر ہر بات پر ہنسی آیا کرتی۔ یہاں تک کہ کسی مرگ والے گھر روتی عورتوں کے بین سن کر بھی اسے اپنی ہنسی پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو جاتا ۔ لیکن اب ہنتے چہروں کو دیکھ کر بھی ہنسی کی بے معنویت اسے ان چہروں سے نظریں ہٹا لینے کا مشورہ دیتی۔ وہ انتہائی شرارتی لڑکی سے انتہائی سنجیدہ خاتون بن چکی تھی۔ اسے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع کچھ مدت کے لئے ہی ملا تھا لیکن اس کا سبق ساری زندگی کے لئے اس کا ہمرکاب بن چکا تھا۔وہ اپنے بیٹے اور اپنی ماں کے خیال کے لنگر سے ہی اپنے زندگی کی کشتی باندھ چکی تھی۔
وہ اپنے دل کو تسلی دیتی کہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ اس لئے ہوا ہے کہ وہ اپنی ضعیف ماں کی خدمت کر سکے۔اگر وہ اپنی ماں کے پاس نہ آتی تو ماں کی خدمت کون کرتا۔ ماں اس کے لئے چھوٹے چھوٹے کام کر دیتی۔ اس سے اس کا دل بہل جاتا۔ اور وقت بھی کٹ جاتا۔ ماں کے ساتھ ساتھ اس کا دوسرا کھلونا اس کا بیٹا تھا۔ جسے وہ دنیا کا بہترین انسان بنا دینا چاہتی تھی جیسا کہ ہر ماں ہی چاہتی ہے۔جیسے اس کی ماں کی پوری دنیا وہ خود ہی تھی ایسے ہی اس کی ساری خدائی ماں کے بعد اس کا بیٹا ہی تھا۔ ویسے ماں تو اب کچھ دنوں کی مہمان لگ رہی تھی۔ اس کی کمزوری اور بیماری میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ویسے بھی دنیا ہمیشہ رہنے کے لئے تو بنائی ہی نہیں گئی۔ یہاں کے ہر مقامی نے سیلانی بننا ہے۔ لیکن جب دنیا ہو ہی ایک دو افراد تک محدود پھر تو کسی کا بچھڑنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ فریحہ کو سکول میں بھی اپنی ماں کا خیال بہت آتا وہ کبھی کبھی فون بھی کر لیا کرتی۔ لیکن سکول انتظامیہ کلاس کے دوران فون کرنے کو اچھا نہیں سمجھتی تھی۔ اس لئے وہ فون کرنے میں بہت محتاط تھی۔اچھے سکولوں کے بچے بھی بہت شکائیتی ہو تے ہیں فوراً ہیڈ آفس کو اطلاع کر دیتے ہیں اور ٹیچر کی جواب طلبی اور کبھی کبھی چھٹی بھی ہو جاتی ہے۔
اس کا بیٹا تو اس کے سائے کی طرح ہر وقت اس کے ساتھ لپٹا رہتا۔ سکول میں بھی تفریح کے وقت ماں بیٹا اکٹھے کھانا وغیرہ کھا لیتے۔ وہ اسے ادھر ادھر آتے جاتے دیکھتی بھی رہتی۔ اس کی ٹیچروں سے بھی رپورٹ ملتی رہتی۔ یقیناًوہ اس کی آنکھ کا تا را اور دل کا سکون تھا۔ چھٹی کے بعد فوراً گھر پہنچ کر ماں کا حال احوال پوچھا کرتی۔ اس کی دوائی اور خوراک کا خاص خیال رکھا کرتی۔ ماں تو جیسے اس کا سینہ ہی تھی۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو اپنی زندگی کا ایک حصہ کاٹ کر ماں کے نام لگا دیتی لیکن وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج فریحہ کا دل اسے فکر مندی کے سمندر میں دھکیلے جا رہا تھا۔ اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے دل پر مکا مار دیا ہو۔ اسے دل میں ہلکا سا درد کا احساس ہوا۔ ایسی صورت اس کے ساتھ پہلے بھی کبھی کبھی ہو جایا کرتی تھی۔ اس کے بعد پتہ چلا کرتا کہ اس کا کوئی نقصان ہو گیا ہے۔ کچھ دن پہلے جب ایسا ہوا تھا تو سکول سے گھر واپس پہنچ کر پتہ چلا تھا کہ اس کی ماں فرش پر گر گئی ہے۔ اور اس کی ٹانگ پر زخم بھی آیا ہے۔ پھر ایک دن اس کے دل کی ایسی ہی حالت ہوئی تو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے کو کسی لڑکے نے مارا ہے۔ اس طرح کا ایک انٹر نیٹ ایک انسان کے دل سے دوسرے انسان کے دل تک ہوتا ہے۔ جسے چھٹی حس یا لاشعوری اطلاع کہی جاسکتی ہے۔ لیکن اصل میں پتہ نہیں چلتا ہوا کیا ہے۔ آج بھی جب اس کی یہ حالت ہوئی تو اسے اپنی ماں کا خیال آیا۔ اس نے فوراً اپنی ماں کو فون کرنے کا ارادہ کیا ۔ لیکن اس وقت پتہ چلا کہ ہیڈ مسٹرس راؤنڈ پے ہے اس نے فون بند کر دیا اور کلاس کے کام میں محو ہوگئی۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنے بچے کا پتہ کروایا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ اسے اپنی ماں کی فکر لگ گئی۔ یہ فکر اسے اندر سے بے سکون کئے ہوئے تھی لیکن باہر سے وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ چھٹی لے کر وہ گھر چلی جائے لیکن اب چھٹی ہونے میں کچھ منٹ ہی رہ گئے تھے۔ اس نے سوچا کہ یہ وقت بھی کسی نہ کسی طرح سے گزار ہی لے۔بڑی بے تابی سے چھٹی کی گھنٹی کا انتظار ہوتا رہا۔ آخر ٹن ٹن ٹن کی آواز نے اسے اس قید سے رہائی دلائی۔ وہ جلدی جلدی اپنے کام نمٹا کر گھر کو روانہ ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے دل کی بے قراری بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ آخر اس نے اپنے گھر کے دروازے پر لگی پر انگلی رکھی۔ جیسا کہ وہ ہر روز رکھا کرتی تھی۔ اندر سے اس کی والدہ آ کر دروازہ کھول دیا کرتی۔ لیکن آج اندر سے کوئی نہ آیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے اس بے چینی میں دروازے پر ہاتھ مارا تو وہ کھل گیا۔ وہ خوف زدہ ہو گئی ۔ کہ دروازہ آج کیوں کھلا ہوا تھا۔’ دہشت گردی کا زمانہ ہے ، اﷲ خیر کرے۔ ‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ وہ اب چوکس ہوئی۔ اندر داخل ہوئی۔ کچھ سوچتے اور کچھ دیکھتے ہوئے۔ پھر اس کی چیخ نکل گئی۔ اس کی والدہ اپنی چار پائی پر تھی لیکن وہ اس دنیا میں نہیں تھی ۔
ماں! ماں !ماں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ! آہ! آہ! آہ۔۔۔۔ماں !ماں! ماں ۔۔۔۔۔۔
آپ بھی میرا ساتھ چھوڑ گئی۔۔۔ماں !ماں! ماں۔۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔ میں اب کس سے باتیں کیا کروں گی۔ میری باتیں اب کون سنا کرے گا۔۔۔۔ ماں !ماں! ماں۔۔ ۔۔ تم کہاں چلی گئی ، مجھے بھی ساتھ لے جائے، میں اکیلی کیا کروں گی ، کیسے جیوں گی۔ کہاں جاؤں گی۔۔۔۔۔ماں !ماں! ماں ۔۔۔۔آہ! آہ! آہ۔۔۔۔
اس کے آنسو شمع کی پگلی موم کی طرح بہتے چلے جا رہے تھے۔ ان کا کوئی اختتام نہ تھا۔ اس کے بال اس کے اور اس کی ماں کے چہرے کا خیمہ بن چکے تھے۔ وہ اپنی ماں کے لبوں کو بار بار چومے جا رہی تھی۔۔۔ کبھی اپنی ماں کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنے لگتی۔ کبھی اپنے ماں کے رخساروں پر اپنے نرم نرم ہاتھوں کی ہتھیلیاں رکھ دیتی، کبھی اس کا سر اپنی گود میں رکھتی ، کبھی اس کے سر پر اپنا سر رکھ کر دحاڑیں مانے لگتی۔۔۔اسے زندگی کا سب سے برا صدمہ ملا تھا۔ آج وہ دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی۔ اس کی راتیں تنہا ئیوں کی وادیوں میں ڈھل چکی تھیں۔ اس کے دن اپنے تمام رنگوں کے ساتھ بے رنگ ہو چکے تھے۔ اس کی وجود آسمان کی فضاؤں میں بکھرنے کی دعائیں مانگ رہا تھا !!!!
اس کا بیٹا اپنی ماں کی پریشانی میں محو تھا۔ وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ رو ئے جارہا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا ، زور سے دبایا اور پھر سے زارو قطار رونا شروع کر دیا ۔ آج سارا جہاں رو رہا تھا، گھر کے درو دیوار رو رہے۔ تھے۔ آسمان رو رہا تھا، زمیں رو رہی تھی۔ آج کا
دن بنا ہی رونے کے لئے تھا۔ آج کے دن کا ہر لمحہ رو رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گھر میں محلے دار عورتوں کا مجمع لگ چکا تھا۔ گھر سے باہر بھی کچھ آدمی چٹائی بچھا کر بیٹھ گئے تھے۔ مسجد سے فوتگی اور جنازے کے وقت کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ فریحہ اپنی ماں کی چارپائی پر اپنا سر ٹکائے آنسو بہانے میں مصروف تھی اور ہمسائی عورتیں اسے دلاسہ اور تسلی دینے کے لئے اﷲ کا حکم سنا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 176916 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
22 Feb, 2017 Views: 804

Comments

آپ کی رائے
Misuse or excess use of mobile & internet is ruining many married & single lives..... ratio of divorce is increasing due to misunderstanding........ ghalti larki ki zyada hai jis ny susraal k mahol mein khud ko nahi dhaala or dosto k chakkar mein rishta tabah kr lia or dosti b wo jis ny sath na dia jb usko zarurat thi........... tragic end of characters..... khuda hidayat dy (ameen)
By: Faiza Umair, Lahore on Feb, 23 2017
Reply Reply
0 Like
Very nice,,,,Bhot sad story thi,,,,qasoor us tu tha hi,,,par zyada us ki dost ka tha,,,,usy bola chaye tha,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 22 2017
Reply Reply
0 Like