حافظ ملت علیہ الرحمہ کے انقلاب آفریں اقوالِ زرّیں

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
(عرس حافظ ملت پر خصوصی تحریر)
از: مولانا محمد عبدالمبین نعمانی منجانب: نوری مشن مالیگاؤں
حافظ ملت استاذالعلما جلالۃالعلم علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان (متوفی۱۳۹۶ھ/ ۱۹۷۶ء) بانی الجامعۃالاشرفیہ مبارک پور، اﷲ کے ان برگزیدہ بندوں میں گزرے ہیں جن کے قلوب علم و حکمت کے گنجِ گراں مایہ ہوتے ہیں، اور جن کے سینوں سے موعظت و حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔

جن لوگوں نے حضور حافظ ملت کی زیارت کی ہے، ان کی صحبت اختیار کی ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃوالرضوان کس قدر خاموش طبع تھے، اور جب کبھی بولتے تو کیسی جچی تلی بات بولتے۔ بے کار باتوں کا تو ان کے وہاں گزر ہی نہ تھا، نہ کسی کی غیبت، نہ چغلی، نہ بلاو جہ کسی کی شکایت۔ جو لوگ حضرت کے کسی وجہ سے مخالف مانے جاتے ان کا نام بھی ادب ہی سے لیتے، تو، تیرا، اِس کا، اُس کا وغیرہ تحقیر آمیز انداز اور لب و لہجہ سے بھی آپ ہمیشہ پرہیز ہی کرتے…… ذیل میں حافظ ملت علیہ الرحمہ کے چند وہ اقوال زرّیں پیش کیے جاتے ہیں جو بڑے بامعنی اور زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے والے ہیں:
٭ زندگی نام ہے کام کا اور بے کاری موت ہے۔
٭ زمین کے اوپر کام، زمین کے نیچے آرام۔
٭ میرے نزدیک ہر مخالفت کا جواب کام ہے۔
٭ دولت خدا کی نعمت ہے، لیکن اس سے بڑی نعمت راہِ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ ہے۔
٭عقل مند وہ ہے جو دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ خود تجربہ کرنا عمر ضایع کرنا ہے۔
٭ قابلِ قدر وہ ہے جس کا لباس خستہ اور سینہ علم سے معمور ہے۔
٭ تضییعِ اوقات (وقت کی بربادی) سب سے بڑی محرومی ہے۔
٭ جس سے کام لیا جاتا ہے، اسے نا خوش نہیں کیا جاتا۔
٭ احساسِ ذمہ داری سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
٭نام کے لیے کام نہیں کرنا چاہیے، کام کرو گے تو نام ہو ہی جائے گا۔
٭ دنیا کا علم بھی عزت و وقار کا سبب ہے، چہ جاے کہ ’’علم دین‘‘
٭ لمبی چوڑی عمارتیں ہوں، تعلیم نہ ہو تو سب بے کار ہے۔
٭ طالب علمی کا زمانہ نہایت پابندی کا زمانہ ہے، اس وقت جس چیز کی عادت پڑ جائے وہ ہمیشہ باقی رہے گی۔
٭ کامیاب شخصیتوں کی تقلید(پیروی) کرنے سے آدمی کامیاب ہوتا ہے۔
٭اﷲ پر توکل کرنے والا دونوں جہان میں سر بلند رہتا ہے۔
٭ زندگی وہ ہے جو کسی دوسرے کے کام آ سکے۔
٭ زیادہ ہنسنا اور قہقہہ لگانا مومن کی شان نہیں۔ (معارف حدیث)
٭محبت رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی محبت خدا (عزوجل) ہے۔(معارف حدیث)
٭مدرسہ چلانا آسان کام نہیں، اس کے لیے روح اور جسم دونوں گھلانا پڑتا ہے۔ (بہ حوالہ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی رحمۃاﷲ علیہ)
٭عبادت کے ساتھ محرمات سے بچنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کے بغیر عبادت کے ثمرات حاصل نہیں ہوتے۔
٭کام کے آدمی بنو، کام ہی آدمی کو معزز بناتا ہے۔
٭آدمی کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، جو بے کار ہے وہ مُردوں سے بدتر ہے۔
٭تقریر سب سے آسان ہے، اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل ’’تصنیف‘‘
٭خدا سے ڈرنے والا کسی سے نہیں ڈرتا۔
٭ اتفاق زندگی ہے، اختلاف موت۔
٭جس کی نظر مقصد پر ہو گی کامیابی اس کے قدم چومے گی۔
٭ کام دنیا کا ہو یا دین کا صحت پر موقوف ہے۔
٭ ایسی جگہ نہیں بیٹھنا چاہیے جہاں سے اٹھنا پڑے۔
٭کامیاب طالب علم وہ ہے جو استاذ سے علم کے ساتھ عمل بھی سیکھتا ہے۔
٭مسلمان وہی ہے جو اﷲ و رسول کا فرماں بردار ہے۔
٭مدرسے کے مدرسین کو چاہیے کہ اپنے کو مدرسہ کا ملازم نہیں خادم سمجھیں۔
٭ وقت بہت قیمتی چیز ہے اور وقت کو ضایع کرنا بہت بڑی بے وقوفی ہے۔
٭ حقیقت میں نماز تو جماعت ہی کی نماز ہے، ورنہ صرف فرض کی ادائیگی۔
٭ آرام طلبی زندگی کی بربادی ہے۔
٭ مسلمانوں کی فلاح و کامیابی ’’خوفِ الٰہی‘‘ پر موقوف ہے۔
٭دین کے لیے گردن کٹانے کی ضرورت پڑے تو کٹا دینا چاہیے، مگر پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
٭ قلب کی زندگی ذکر و فکر ہے۔ (معارف حدیث)
٭ توکل ہی تو’’ کُل‘‘ ہے۔
٭ جو خدا سے ڈرنا چھوڑ دیتا ہے وہ ساری دنیا سے ڈرتا ہے۔
٭ آدمی کو ایسا استاذ اپنانا چاہیے جو علم و عمل کا پیکر ہو۔
٭ دوسروں کی خوبیاں دیکھنی چاہئیں اور اپنی خامیاں۔
٭جس سے اخلاق میں گراوٹ پیدا ہو اس صحبت کو جلد از جلد چھوڑ دینا چاہیے۔ (مختصر سوانح حافظ ملت ص۷۵)
٭ میری تمنا ہے کہ آخری دم تک خدمتِ اسلام کرتا رہوں۔ (ایضاً ص۷۶)
٭ وہ زمانہ اور تھا جب لوگ گناہ کے لیے چل کر جاتے تھے آج تو گناہ اور برائیاں خود چل کر آتی ہیں۔ (ایضاً)
٭مومن کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ (ایضاً)
٭ مشیت ایزدی میں صبر ہی شانِ بندگی ہے۔ (ایضاً ص۷۴)
٭ میں نے کبھی مخالف کو اس کی مخالفت کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنے کام کی رفتار اور تیز کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کام مکمل ہوا اور میرے مخالفین کام کی وجہ سے میرے موافق بن گئے۔ (ایضاً)
٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 148908 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2017 Views: 2934

Comments

آپ کی رائے